Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 01/06/2025
23 Views
Episode No 01
#وہ_اک_گماں_سا #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_۱ انتباہ! اس ناول میں پیش آنے والے تمام واقعات فرضی اور کردار افسانوی ہیں۔۔حقیقت سے کسی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ ہے۔۔ پیش الفاظ! آپ سب ہی جانتے ہیں کہ یہ کہانی میں نے آج سےتین سال قبل فیس ُبک پر َلکھنا شروع کی تھی۔۔جو ٹائیگرگینگسٹر اور رپورٹر کی کہانی ہے مگر ساتھ ہی کچھ اضافی کردار بھی ہیں،جو اب اس کہانی کا لازمی جُز ہیں۔کہانی کی شروعات وہیں سے کی گئی ہے جہاں پہلے سیزن کا اینڈ کیا گیا تھا۔۔۔بہت ساری وجوہات کی بنا ء پر میں یہ کہانی وقت پر مکمل نہیں کر سکی،مگر اب سے یہ ناول روزانہ پوسٹ ہوگا۔۔۔اس لئے ۔۔اب پڑھیے۔ ہیپی ریڈنگ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا آندھیرہ ہر سو چھایا ہوا تھا۔ایسے میں سیاہ رنگ پینٹ، سفید ٹی شرٹ اور سیاہ رنگ ہی ہٹ سر پر لگائیں دو نوجوان جنہوں نے چہرے پر ماسک لگایا ہوا تھا۔ ہاتھوں میں کرنٹ پروف دستانے پہنے ہوئے تھے۔سیاہ رنگ کا بریف کیس سختی سے تھام رکھا تھا۔وہ دونوں ہی ناروے کی دارولحکومت اوسلو میں واقع بلند و بالا عمارت میں خفیہ طریقے سے داخل ہونےمیں کامیاب رہے تھے۔ان کا مقصد عمارت کے آفس سے نئے پروجیکٹس کی فائل اور ڈیزائنگز چرانے کے علاوہ کمپیوٹر سےسارا ڈیٹا چرانے کے بعد اس ڈیٹا کو ضائع کرنا تھا۔جس کے عوض نارویجن شہری نے انہیں ڈالرز میں ماوضہ دینے کا عہد کیا تھا۔یہ ناروے کی ایک کنسٹرکشن کمپنی تھی۔جن کا حالیہ پروجیکٹ آنڈر کنسٹرکشن تھا۔وہ آج کل وہ جس پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے۔وہ کوئی معمولی پروجیکٹ ہر گز نہیں تھا،بلند و بالا عمارتوں کے درمیان سے نکلنے والے پُل کا ڈیزائنگ چائنہ سے بن کر آیا تھا۔اور ساتھ ہی چائنیز انجینئرز بھی۔جبکہ مخالف کمپنی وہ پروجیکٹ چائنیز کمپنی کی ہمراہی میں اپنے آنڈر پائے تکمیل تک پہنچانے کی متمنی تھی۔وجہ دونوں کمپنیز کے مالکان ایک وقت میں ناصرف بہت اچھے دوست بلکہ بزنس پارٹنرز بھی رہے تھے۔اب یہ صرف ایک ذاتی دشمنی کے عوض یہ کام کرایا جا رہا تھا۔جس کے لیے خاص الخاص طور پر اُسے ہی چنا گیا تھا۔۔ ’’نیم اندھیرے میں ڈوبی عمارت میں سفید چمچاتے ٹائلز پر بھاری جوتوں میں مقید پاؤں کی دھمک چھوڑتے وہ بہت پھوک پھوک کر قدم رکھ رہے تھے۔ایک مخالف سمت گیا تھا جبکہ چوکنی سی نگاہوں والا شخص آنکھوں میں وحشت لیے عمارت کے نقشے کے مطابق مخصوص آفس کے دروازے کے عین سامنے آکڑ ٹھرا تھا۔ٹیکنیک سے لاک توڑ کر وہ آندر داخل ہواتھا۔جہاں ایک سے زأئد کمپیوٹرز موجود تھے۔دوسرا شخص بھی اچھے سے تسلی کر اس کے ساتھ ہی آگیا تھا۔۔ مکمل بلیک ڈریسنگ میں ملبوس وہ شخص جلد از جلد سارا ڈیٹا نکالنا چاہتا تھا۔۔مختلف فولڈرز میں ڈھونڈنے کے بعد فائل تو ہاتھ لگ گئی تھی مگر فائل پر پاس وارڈ لگا ہوا تھا۔مطلب اکسسز کرنا اتنا آسان کام ہر گز نہیں تھا۔جتنا وہ سمجھ بیٹھا تھا۔اسے ساری تفصیلات کے ساتھ ساتھ ہر چیز کا پاسورڈ معلوم تھا۔کہاں کون سا کیمرہ ہے۔کہاں جانا ہے وہ ایک ایک چیز سے واقفيت رکھتا تھا۔اس کا کام بہت آسان کر دیا گیا تھا۔وہ لب بھینچ کر رہ گیا مگر ابھی ہمت نہیں ہاری تھی۔۔۔۔ اپنے آنداز و اطوار سے ہی اناڑی معلوم دے رہا تھا۔وقت گواہ بن رہا تھا۔۔۔کہ یہ اس کے خلاف سراسر سازش رچی جا رہی تھی۔جس کا خمیازہ وہ بہت جلد بھگتنے والا تھا۔۔۔ ’’واٹ ہیپنڈ؟!!دوسرا شخص ایسے مسلسل کی بارڈ پر انگلیاں پھیرتا دیکھ زچ ہوتا نزدیک آیا۔۔ "فائل پر اکسسز کرنے کے لئے پاس ورڈ درکار ہے۔‘‘ماسک کے پیچھے موجود چہرے پر پسینے سا محسوس ہورہا تھا۔وہ دونوں انگلش میں دھیمی آواز میں ہی گفتگو کر رہے تھے۔ ’’تو ؟؟ٹرائے کرو۔۔ہو جائے گا۔۔ ۔۔‘‘دوسرا غراکر رہ گیا تھا۔اس نے بہت سے جرائم کئے تھے۔جبکہ دیار غیر میں ایسا کام رسکی تھا۔خود پر ضبط کر لینے کے باوجود ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ’’آئی کانٹ۔۔فائل اکسز از ناٹ ایزی۔۔‘‘اس کی گھبرائی سی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ’’اوہ مین!!کام ڈاؤن ٹیک آ ڈیپ بریتھ۔۔۔ اینڈ کیپ ٹرائینگ۔۔۔‘‘وہ بہت نرم آنداز میں ہدایات دیتا وہاں سے غائب ہوگیا تھا۔جبکہ وہ مسلسل سوچ بچار کے بعد مختلف پاس ورڈز ڈالتا فائل اپن کرنے کی تک و دو میں الجھا ہوا تھا۔کہ شاید کوئی میچ کر جائے۔جو معاوضہ وہ اس کام کے عوض لے چکا تھا اسے چکانا ناممنکنات میں سے تھا۔۔ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے۔۔ بلڈنگ کے باہر چوری کی اطلاعات موصول ہوتے ہی نارویجن پولیس کی گاڑیاں بہت خاموشی سے وہاں آئی تھیں۔کمپیوٹر ان تو آسانی سے ہوگیا تھا۔مگر فائل پر جیسے ہی اکسسز کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ریکوئسٹ اصل اونر کے پاس الرٹ کی صورت میں پہنچتے ہی انہیں وارننگ دے گئی تھی۔نوٹیفیکشن موصول ہوتے ہی عملہ حرکت میں آیا تھا۔جو پہلے ہی اس کے عمل کے منتظر تھے۔جبکہ بلڈنگ کے آفس میں موجود شخص فائل کا دیٹا یو اس بی میں منتقل کرنے کے چکر میں مشغول اس سارے قصہ سے لاعلم ہی تھا۔جبکہ اس پی۔سی میں یو ایس بی ناٹ اکسسزايبل تھی۔ ہاتھوں میں گن تھامے پولیس کی وردی میں موجود پولیس اہلکار آہستہ روی سے قدم آٹھاتےُاپر ہی آرہے تھے.۔ ’’اسٹیفن!!!اس نےگھبرائی سی آواز میں دوسرے شخص کو پکارا مگر جواب ندار رہا۔۔۔۔دوسرا شخص بھاگ چکا تھا۔۔۔وہ ہڑبڑا کر کھڑا ہوا۔حواس بحال ہوئے تو کچھ غلط ہونے کا احساس شدت سے ہوا تھا۔وہ سارا سیسٹم یونہی چھوڑ یو ۔ایس۔ بی نکال کر ونڈوکلوز کرتا ابھی فرار ہونے کا راستہ ڈھونڈہی رہا تھا کہ سامنے والا ڈور اچانک سے دھڑام کی آواز کے ساتھ ُکھلا تھا۔ ’’ہینڈزاپ!!نارویجن پولیس اہلکار نے جیسے ہی دروازہ ایک جھٹک سے کھولا تو مجرم فرار ہوچکا تھا۔آفس خالی پڑا تھا۔جبکہ سارا سیسٹم آن تھا۔جو بھی تھا یہی کہیں پاس میں تھا۔فورا ًہی بلڈنگ میں ایمرجنسی سائرن بجنے لگا تھا۔۔۔پوری بلڈنگ کو گھیرے میں لے لیا گیا تھا۔۔۔سی سی ٹی وی کیمرہ بحال ہوتے ہی ریکارڈنگ چیک کی گئی مگر کوئی سراغ ہاتھ نہیں لگا تھا۔۔مجرم کو ڈھونڈا جا رہا تھا مگر وہ آندھیرے میں کہیں غائب ہوگیا تھا۔مگر جو بھی تھا وہ آس پاس ہی تھا۔ ’’بلکونی پر سائیڈ پر لگے پائپ کی آڑ میں کھڑے ہوکر خوف زدہ نگاہوں سے نیچے دیکھا جہاں پولیس کی سرچ لائٹ کی روشنی کبھی بھی اس پر پڑ سکتی تھی۔وہ اونچائیوں سے کودنے میں ماہر تھا۔اس نے آؤ دیکھا نا تاؤ بس ڈائریکٹ چھلانگ لگا کر وہ آندھیری والی سائیڈ پر کودا تھا۔۔اور بس یہی اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی تھی۔بلیک بریف کیس کو سنبھالتا وہ روڈ پر قدم جما کر بھگتا بھگتا قریب ہی جھاڑیوں میں گُم ہوگیا تھا ۔۔۔جبکہ پولیس ایسے چاروں جانب سے گھیر چکی تھی۔۔ وہ شدت سے اس بات کو فراموش کر چکا تھا۔۔۔یہ ناروے تھا دنیا کا وہ خطہ جہاں مجرم کی سفارش نہیں لگتی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لندن کا ایک ٹائینی ہاؤس تھا۔جس میں وہ پچھلے چار ماہ سے قیام کیے ہوئے تھی۔لندن جیسے ملک میں اپنا گھر لینا ایک حسین خواب کو حقیقت دینے کے مترادف ہے ۔اپنی رہائش دنیا کے ہر شخص کا خواب ہوتی ہے۔مگر لندن میں رہتے ہوئے یہ خواہش کرنا مطلب لاکھوں پاؤنڈز کا ہونا بھی لازمی ہے۔ایسے میں ٹائینی ہاؤس کا فارمولہ نہایت ہی آزموزہ کار ہے۔جو کم خرچ بالا نشین جیسا ہے۔اس ٹائینی ہاؤس میں ٹوٹل چار بیڈ رومز تشکیل دئیے گے ہیں جن کی بناوٹ میں لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے۔اپنے روم کی ونڈو کی جانب چہرہ کر نیم دراز ہوئی ہانیہ آسمان تکنے میں مصروف تھی۔جو شدید
