Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 08(Last Episode)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/10/2025
164 Views
Episode No 08(Last Episode)
کل؟‘‘وہ بہت دنوں سے اس کی غیر موجوددگی محسوس کر رہے تھے۔۔جیسمین بھی دو روز سے اُداس سی لگ رہی تھی۔ ’’ یہیں ہوتا ہے۔۔بس آج کل میں آجائے گا۔‘‘وہ سر ہلا گئے۔ ’’میں دراصل کچھ بات کرنا چاہتا تھا۔‘‘انہونے تہمید باندھی۔ ’’جی جی کہیے۔‘‘وہ ہمہ تن گوش ہوئے۔ ’’میں چاہ رہا تھا کہ جیسمین کو کچھ دنوں کے لئے اپنے ساتھ آنڈیا لے جاؤں۔تاکہ وہ اپنے گھر خاندان سے مل لے۔‘‘جمیل صاحب نے سلمان کی جانب دیکھا۔ ’’آپ کو کوئی اعتراض۔۔‘‘ ’’نہیں ۔نہیں۔آپ کی بیٹی ہے۔۔ضرور لے جائیں۔۔۔پھر بہزاد بھی کچھ دنوں میں شاید پاکستان جائے تو جسمین کو ساتھ ہی لے آئے گا۔‘‘انہونے بیچ کی راہ نکالی تھی۔ ’’بہتر۔‘‘وہ مسکرائے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس وقت شہروز کی ہمراہی میں پلین میں بیٹھی ہوئی اُداس تھی۔جو پیچھلے پندرہ دن سے نکاح کی تقریب سے جو غائب ہوا تھا پتہ نہیں کہاں چلا گیا تھا۔ ’’بیٹا آپ خوش تو ہیں؟‘‘پلین ٹیک آف میں بس کچھ ہی دیر باقی تھی۔اسے اُداس دیکھ وہ محبت سے بولے تھے۔ ’’یس ڈیڈ !میں خوش ہوں۔‘‘وہ جب انہیں بابا بولتی تھی ان کے دل میں ٹھنڈک سی پڑ جاتی تھی۔ ’’رومیلہ آپ کی چھوٹی بہن وہ آپ سے ملنے کے لئے بہت پرجوش ہے۔‘‘وہ کئی بار اُن کے لبوں سے رومیلہ کا ذکر سن چکی تھی۔ویڈیو پر بات کر چکی تھی۔اور ہر بار دل میں ہوک سی اُٹھی تھی۔کاش کہ اس کا بچپن بھی ایسا ہی ہوتا۔ ’’جی میں بھی ملنا چاہتی ہوں۔‘‘ ’’خیر آپ اداس تو نہیں ہو؟‘‘وہ مزید بولے۔ ’’بالکل نہیں!اس نے مطمئن کرنا چاہا۔ ’’پھر ٹھیک ہے۔۔بیٹا فلائٹ لمبی ہے تو آپ بھی ریسٹ کرو۔۔میں بھی کر رہا۔‘‘انہیں ہوا میں پرواز کرتے کافی دیر ہوگئی تھی۔ آنکھوں پر آئی ماسک چڑھاتے وہ آنکھیں موند گئے تھے۔۔جبکہ وہ سفر ختم ہونے کی منتظر تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایمرے اپنے مخصوص آنداز میں اپنی ریولنگ چئیر پر براجمان آتش دان کے عین سامنے بیٹھی تھیں۔جبکہ دیوار سے کندھا ٹیکا کر کھڑا بہزاد طنزیہ نظروں سے انہیں کی جانب دیکھ رہا تھا۔ ’’آپ جانتی ہیں۔۔جیسا آپ نے سوچا تھا بالکل ویسا ہی ہوا ہے۔میں نے آپ کی نواسی کو ڈیت کیا اور اب چھوڑ بھی دیا۔جیسے آپ کی بیٹی کے ساتھ ہوا تھا۔‘‘وہ مزے سے بولا۔۔جبکہ ان کی ڈھڑکوں کی رفتار تھم گئی تھی۔ ’’خوش ہیں ناں اب تو آپ۔۔ویل میری یہ شامیں آپ کی گرینڈ ڈاٹر کی سنگت میں بڑی خوبصورت گزری ہیں۔‘‘وہ معنی خیزی سے مزید بولا۔ ’’آگر آپ چاہیں تو میں آپ کو مزید رقم دے سکتا ہوں۔‘‘وہ چپ رہیں۔ ’’خیر آپ کو بتانے آیا تھا۔۔کہ اب اپنی بیٹی کی سر کش محبت کا گناہ بخش دیجئے گا۔وہ دنیا سے جا چکی اور آپ ُاس کی بیٹی کو برباد کر کے اپنا بدلہ بھی لے چکی ہیں۔ اُمید ہے اب آپ کی بقیہ زندگی پُرسکون گزرے گی۔۔۔۔‘‘ ’’پتہ ہے کیا مسز ایمرے کچھ پریم کہانیاں امر نہیں بلکہ دفن ہونے کے لئے ہوتی ہیں۔اور انہی میں سے ایک پریم کہانی تھی بہزاد رضوی اور جیسمین وکٹوریہ کی۔۔‘‘وہ طنزیہ جملے ادا کرتا وہاں سے جاچکا تھا۔۔جبکہ اب انہونے مزید اپنے آنسوؤں پر ضبط نہیں کیا تھا۔۔جو پچھتاوے کے آنسو تھے۔۔۔۔اور کچھ لوگوں کے مقدر میں محض پچھتاوا ہی نصیب میں آتا ہے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ہیلو!‘‘وہ ابھی ایمرے کے گھر سے نکلا تھا کہ اس کے نمبر پر امریکا سے کال آنے لگی تھی۔اس نے فوری پک کی تھی۔ ’’یار!مطلب۔۔کس کی اجازت سے بھیج دیا آپ لوگوں نے۔‘‘وہ اپنی کزن کی بات سُن زچ ہوا تھا۔جو جیسمین کی روانگی کے حوالے سے اب آگاہ کر رہی تھی۔ ’’ مطلب بندے کی کوئی سمجھ بوجھ بھی تو ہوتی ہے۔۔یا بس یونہی چل پڑیں وہ میڈم۔‘‘اسے اب جیسمین کی حرکت پر غصہٰ آیا تھا۔ ’’اور کس نے کہا کہ میں پاکستان جانے والا ہوں؟‘‘وہ استہزائیہ مسکرایا۔ ’’اوہ اچھا! بابا صاحب کی تو کیا ہی بات ہے۔‘‘وہ زچ ہوا تھا۔ ’’نہیں تو میری بیوی ہے میں اسے ایمازون کا جنگل گھماؤں یا کہیں بھی تم کیوں اپنا دماغ چلا رہی ہو۔‘‘وہ جھلبلا اُٹھا تھا۔ ’’ویسے آگرتم پاکستانیوں کا دماغ ایمازون مارکیٹ پر فور سیل لسٹ کردیا جائے تو خاصے اچھے داموں میں بِک جائیں گا۔‘‘وہ زرا طنزیہ لہجے میں بولا تھا۔ ’’وہ کیوں بھلا؟‘‘دوسری جانب سے ناسمجھی سے پوچھا گیا۔ ’’یوز ہی نہیں کیا ہوتا ناں،بالکل فریش پیس ہوتے ہیں۔‘‘دوسری جانب سے چھت پھاڑ قہقہہ بلند ہوا تھا۔۔جبکہ وہ تاسفی لہجے میں ناراضگی کا اظہار کرتا رابطہ منقطع کر گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اُس کی آنکھ سماعتوں میں رس گھُولتی وائلن کی آواز سے کھُلی تھی۔جو ایک مسحور کُن ارتعاش تھا۔ وہ کسی آندھیری جگہ پر موجود تھی۔اِرد گرد میں ہاتھ مارا تو آندازہ ہوا کہ وہ کوئی روم تھا،اور وہ نرم بستر پر موجود تھی۔۔ابھی وہ زہن پر زور ڈالتی سمجھنے کی تک و دو میں تھی کہ کمرے کی لائٹس اچانک سے روشن ہوئی تھی۔۔اور ِارد گرد کے مناظر پر نگاہ پڑتے ہی اس کی آنکھیں کھُلی کی کھُلی رہ گئیں تھیں۔پورا روم خوبصورتی سے ڈيكوریٹڈ تھا۔جبکہ کمرے کا ایک حصّہ ابھی بھی اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔ ’’سرپرائز!‘‘اس نے گڑبڑا کر دیوار سے ٹیک لگائے کھڑے بہزاد کو دیکھا جو آنکھوں میں آنو کھی سی چمک لئے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔اور ہاتھ میں پکڑا وائلن دیوار سے لگاتا ایک کونے میں رکھ چکا تھا۔۔ ’’میں یہاں کیسے۔۔۔۔بابا۔۔۔‘‘اسے یاد آیا کہ وہ تو فلائٹ میں سو گئی تھی۔اس کے بعد پلین میں کسی خرابی کی وجہ سے نزدیک ترین ایئرپورٹ پر ان کی ایمرجنسی لینڈنگ ہوئی تھی۔۔وہ اپنے بابا کے ساتھ آئیر پورٹ پر ہی تھی۔۔تو یہاں کیسے۔۔ذہن پر زور ڈالا تو وہ یکدم اُس کے قریب آتا نچلا لب چوم گیا۔ ’’ششش! تمہاری ان چند دنوں کی دوری نے مجھے بہت ٹرپا لیا۔۔۔اب بس۔۔‘‘وہ دھیرے سے اس کا چہرہ چومتا پل میں اپنے جنونی آنداز میں لوٹا تھا۔ ’’تم مجھ سے پوچھے بغیر مجھے چھوڑ کر جارہی تھیں۔‘‘کمر کے گرد حصار قائم کرتا وہ سبز آنکھوں میں ناراضگی لئے سردگی سے بولا تھا۔۔۔ ’’نہ۔۔نہیں۔۔وہ بہزاد ،تمہارے پاپا،آئی مین ٹو سے کہ میں۔۔۔تم تھے ہی نہیں ناں۔‘‘وہ گڑبڑا کر وضاحت پیش کرنے لگی تھی۔ ’’آہمم!خیر اب میں پورا ایک مہینہ ہنی مون پر صرف تمہارے ساتھ ہی ہوں۔تو اب تم اپنی خیر مناؤں۔‘‘وہ معنی خیز لہجے میں بولتا اس کے حسین نقوش کی خوبصورتی میں کُھونے لگا تھا۔ ’’کیا ہم ہنی مون پر ہیں۔‘‘دھیرے سے فاصلہ قائم کرتی وہ حیرت سے بولی تھی۔ ’’یس مائی لو۔ اور ہنی مون پریڈ کے بعد ہم تمہارے بابا سے ملنے بھی جائیں گے۔‘‘وہ اس کے معصوم آنداز کو اپنی محبت سے سرہاتا نرمی سے بولا۔۔جبھی اس کی نظر وال کلاک پر گئی تھی۔ جہاں بارہ بجنے میں محض ایک سیکنڈ تھا۔ ’’ہیپی برتھڈے مائی لو۔‘‘پورے بارہ بجتے ہی وہ اسے وش کرتا ایک بار پھر حیرت میں مبتلہ کر گیا۔۔اور کمرے کا دوسرا حصہٰ خود بخود روشن ہوگیا تھا۔۔جہاں بلونز،اور ایک ٹیبل پر بیچ میں کیک رکھا تھا۔کمرے میں تفصلی نگاہ گھمائی تو ہر سو الیکٹرک کینڈلز روشن تھے۔کمرے کا منظر فسوں خیز تھا۔۔ایک طرف رکھے ریڈ ویلویٹ کیک کے ساتھ ،ریڈ بلونز ،اور سرخ ہی لائٹس نے ماحول بنا دیا تھا۔۔اور پھر بہزاد کی سحر آنگیز قربت،وہ خود کو فضاؤں میں محسوس کر رہی تھی۔ ’’یہ سب میرے لئے۔‘‘وہ چل کر ٹیبل تک آئی تھی۔جس نے ہاتھ پکڑ کر کیک حلال کروایا تھا۔ ’’مینی مینی رٹزرنز آف دا ڈے۔۔‘‘کیک کا ایک چھوٹا ٹکڑا اس کے منہ میں ڈالنے کے ساتھ ہی بچا ہوا اپنے منہ میں رکھتا وہ اسے گلاس
