Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 08(Last Episode)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/10/2025
164 Views
Episode No 08(Last Episode)
الوقت ہونا قرار پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟‘‘وہ بہزاد کی سبز مقنطیسی آنکھوں کی کھوئی تھی۔جبھی سماعتوں سے کچھ لفظ ٹکرائے تھے جو شاید اس کی رضامندی چاہ رہے تھے۔ بقول الویرا کے نکاح کی رضامندی ۔جس کا جواب اسے’’ یس‘‘ کہ کر دینا ہے۔۔ ’’یس (قبول ہے) نکاح اُن کے خاندانی مولوی صاحب نے ہی پڑھایا تھا۔جو پاکستان سے تھے۔اور خاص الخاص نکاح کے لئے امریکا بلوایا گیا تھا۔۔۔ ’’بیٹے اب سے آپ جیسمین وکٹوریہ نہیں بلکہ ایک مسلمان کی بیوی مسز جیسمین بہزاد ہیں۔آپ ہماری بہو ہیں بیٹی ہیں۔۔اس گھر کی فرد ہیں۔‘وہ پوری آنکھیں کھولے کسی نولود بچے کی مانند ٹکر ٹکر سب کو دیکھ رہی تھی۔۔جو ایک ایک کر کے اسے پیار کرتے دعاؤں سے نوازتے جا رہے تھے۔جبکہ بہزاد یکدم منظر سے غائب ہوگیا تھا۔جیسمین کی تشنہ نگاہیں اُسے ہی ڈھونڈ رہی تھیں۔جبھی داخلی دروازے سے کوئی داخل ہوا تھا۔وہ شخص تیز آواز میں غصےٰ سے بول رہا تھا۔۔نجانے وہ کس زبان میں بات کر رہا تھا۔مگر ہال میں ایک گہرا سکوت سا چھا گیا تھا۔ ’’یہ میری بیٹی ہے جمیل صاحب آپ نے کس کی اجازت سے میری بیٹی کا نکاح پڑھوایا ہے اپنے بیٹے کے ساتھ۔۔‘‘ شہروز صاحب غصےٰ سے استفساریہ پھنکارے تھے۔ ’’اس بچی کی ماں کی اجازت سے۔۔ان دونوں بچوں کے ہوش و حواس میں ہم نے یہ نیک عمل بہتر آنداز میں دوبارہ کیا ہے۔‘‘جمیل صاحب کی جانب سے تحمل مزاجی کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔جبکہ شہروز صاحب کی نظر جب سامنے دلہن بنی کھڑی لڑکی پر گئی تو وہ تڑپ کر آگے آئے تھے۔ ’’جیسمین میری بچی!‘‘ وہ اپنی جان سے عزیز،اپنی پہلی اُولاد کو سینے سے لگائے کھڑے برسوں کی جدائی کی تشنگی مٹا رہے تھے۔۔۔جبکہ جسمین بوکھلاہٹ میں مبتلہ سامنے کھڑے شخص کو دیکھ صدمے سے دوچار تھی۔۔۔وہ اپنے باپ سے ناآشنا ہر گز نہ تھی۔۔یہی تو وہ ایک مرد کا چہرہ تھا جو اس نے بچپن سے دیکھ رکھا تھا۔۔ ’’جسمین میری چندہ۔۔۔اپنے باپ کو معاف کردد۔میں تمہارے فرض سے اتنے سال غافل رہا۔۔مجھے معاف کردو میری جان۔۔۔معاف کردو۔۔‘‘وہ اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے سے بھرتے اس کی پیشانی پر پیارے کرتے ماتھا سینے سے ٹکرا گئے۔۔جو دلہن سے روپ میں کھڑی ہوبہو ایوا کی کاپی تھی۔ ’’میں۔۔۔۔‘‘وہ مجسمہ سوال تھی۔۔۔اتنے سالوں بعد اس کے باپ کا واپس آنا۔اسے دہری ازیت میں مبتلہ کر گیا تھا۔ ’’اپنے باپ کو معاف کردو میری جان۔۔‘‘وہ بار بار اس کے چہرے پر پیار کرتے معافیاں مانگ رہے تھے۔۔ہال میں موجود تمام تر لوگ ہی باپ اور بیٹی کی اتنے سالوں بعد کی جدائی کا یہ منظر دیکھ آبدیدہ ہوگئے تھے۔ ’’بہزاد!‘‘اُس کے لبوں نے بے نام سی سر گوشی کی تھی۔مگر وہ کہیں نہیں تھا۔۔ ’’شہروز صاحب تحمل رکھئے۔یہ نکاح ایوا کی زندگی میں بچی کی نانی کی موجودگی میں ہوا ہے۔۔اور اب سے کچھ دیر قبل ان تمام تر لوگوں کی موجودگی میں بھی۔‘‘شمیم بیگم آگئے آئی تھیں۔جو برما سے تھیں اور رضوی خاندان کی بڑی بہو بھی۔ ’’بھابھی میں جانتا ہوں مگر جیسمین اتنے دنوں سے کس شخص کے ساتھ تھی۔ایمرے آنٹی نے مجھے بتایا کہ جیسمین اپنے کسی۔۔دوست کے ساتھ اپنی مرضی سے گئی تھی۔‘‘وہ ارد گرد لوگوں کا ہجوم دیکھ زرا ہچکچا کر بولے تھے۔ ’’سر آپ کی بیٹی پیچھلے پندرہ روز سے اپنے شوہر یعنی میرے ساتھ تھی۔اور ایمرے آنٹی نے آپ سے جو کچھ بھی کہا وہ سراسر جھوٹ ہے۔ایک بات اور آپ کو مجھے تک پہنچنے میں بھی میں نے ہی آپ کی مدد کی ہے۔‘‘پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنسائے قدم قدم چلتا بہزاد نزدیک آیا تھا۔۔جیسمین تیزی سے بھاگ کر اس کی جانب گئی تھی۔جو ہلکا سا مسکرا کر اسے اپنے حصار میں لے گیا تھا اور شہروز کے دل پر مانو منوں بوجھ آن سمایا تھا۔۔۔ ’’بھابھی یہ مجھ سے۔۔۔اپنے باپ سے ڈر رہی ہے۔۔۔یہ۔۔‘‘وہ سب کچھ فراموش کئے جیسمین کی حرکت دیکھ شدید دل برداشتہ ہوئے۔ ’’شہروز بھائی بچی ہے کچھ وقت دیں اسے۔‘‘انہوں نے رسان سے سمجھانا چاہا تھا۔۔۔ ’’بیٹا جانتا ہوں کہ بہت بد نصیب باپ ہوں میں۔۔کیا تم اس کے شوہر ہونے کے ناطے اس باپ کو اتنا حق دو گے کہ میں اپنی بچی کہ ساتھ چند دن گزار سکوں۔‘‘وہ لمحوں میں جان گئے تھے کہ ہمیشہ کی طرح انہوں نے بہت دیر کردی تھی۔ ’’آگر جیسمین جانا چاہے تو ضرور۔‘‘وہ لمحوں میں اُس کا ہاتھ شہروز کے ہاتھ میں تھما گیا تھا۔ ’’بہزاد ۔۔۔۔۔‘‘وہ بے یقین سی تھی۔۔جبکہ اس نے ہولے سے اس کا گال تھپتھپایا تھا۔۔ ’’میں یہیں ہوں جیسمین۔۔یہ تمہارے فادر ہیں۔۔سالوں سے تمہاری نانی نے تمہارے بابا سے تمہاری حقیقت چھپا کر رکھی تھی۔۔اور مجھ سے نکاح کا بھی۔۔ ایوا آنٹی کی حیات میں تمہارا نکاح مجھ سے ہوا تھا۔۔مگر تم گھبراؤں نہیں اب سب ٹھیک ہے۔‘‘وہ دو باتوں میں اس کی پریشانی دور کر گیا تھا۔۔جس نے آنکھ بھر کر اپنے باپ کو دیکھا تھا جو اس کی جانب شفقت بھری نگاہوں سے دیکھتے نگاہوں میں پشيمانی لئے اس کی ہاں کے منتظر تھے۔ ’’کیا تم زندگی کے چند دن اپنے بابا کے ساتھ گزارنا چاہتی ہو۔‘‘ وہ مخمصے کا شکار بہزاد پر ٹرسٹ کرتی اثبات میں سر ہلا گئی تھی۔جس نے ہولے سے مسکرا کر شہروز کو دیکھا تھا جو چند لمحون قبل بھڑک رہے تھے مگر اب ان کا غصہٰ جھاگ کی مانند بیٹھ گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ امریکا کے آسمان پر اُتری ستاروں بھری رات تھی۔ شہروز صاحب رضوی خاندان میں مہمان کی حثیت سے ہی رہ رہے تھے۔۔بہرام اپنے کسی کام سے آوٹ آف اسٹیشن تھا در حقیقت وہ باپ بیٹی کو اسپیس دینا چاہتا تھا۔ شہروز صاحب نے جیسمین کو ساری حقیقت بتا کر اس سے معافی مانگی تھی۔۔اور وہ معصوم بھلا کیا شکوہ کرتی بہرام کی صورت میں اسے اس قدر پیار کرنے والے انمول رشتے مل چکے تھے کہ وہ اپنے بچپن کی تلخیوں کو بھول گئی تھی۔اور بہرام کی حقیقت جان کر اسے بے حد خوشی ہوئی تھی۔جو خاص الخاص محض اسی کی تلاش میں لندن آیا تھا۔۔اور گرینڈ مام۔۔۔۔انہوں نے ایک بار بھی بہزاد کی حقیقت جاننا تو دور کی بات بلکہ اپنی بیٹی سے کئے وعدہ کا مان بھی نہیں رکھا تھا۔۔بلکہ اس کے باپ سے بدلہ لینے کے چکر میں وہ اسے لندن شہر میں رہنے والے ایک بگڑے امیر زادے کے ہاتھوں میں دے چکی تھیں۔جیسے بہزاد کو دیکھ ان کی برسوں کی تلاش ختم ہوگئی تھی۔۔زہنی طور پر وہ جیسمین کو بھی یونہی روتا بلکتا دیکھنا چاہتی تھیں جتنا ان کی بیٹی شہروز کی محبت میں ٹرپی تھی۔۔مگر شاید ایوا کی دعائیں تھیں جو جیسمین زمانے کے سرد گرم سے محفوظ رہی تھی۔ رضوی خاندان کے تمام بڑے اس وقت مینشن کے بڑے سے ہال میں موجود تھے،جبکہ شہروز تو جیسے اپنے سامنے اپنی اولاد کو ہنستا مسکراتا دیکھ ہر غم بھول گئے تھے۔ جس کے چہرے کی دلکش مسکراہٹ انہیں ہر پل ایوا کی یاد دلاتی تھی۔۔جو نہ صرف ایک بہترین بیوی بلکہ ماں بھی ثابت ہوئی تھی۔۔۔ ’’آپ لوگ فیملی سمیت لندن چھوڑ کر یہاں پیرو میں کیوں آ کر بس گئے؟‘‘وہ کافی کا ماگ ہاتھ میں تھامے بیٹھےویسے ہی پوچھ بیٹھے تھے۔ ’’بس کام کی سیٹنگ یہیں بن گئی تو ہم امریکا شفٹ ہوگئے۔دس سال سے یہیں ہیں۔اب بس مستقل طور پر پاکستان شفٹ ہونے کا ارادہ ہے۔۔اپنا ملک اپنا ملک ہوتا ہے۔‘‘جمیل صاحب ایک گہری سانس بھر کر بولے تھے۔ ’’سو تو ہے۔۔بہزاد کہاں ہوتا ہے آج
