Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 08(Last Episode)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/10/2025
164 Views
Episode No 08(Last Episode)
Rebellious Love By Huma Qureshi Episode No 08(Last Episode) وسیع رقبے پر پھیلا یہ بڑا سا مینشن دیکھ جیسمین کی آنکھیں خیرا ہوگئیں تھیں۔ہیلی کوپٹر آہستہ روی سے نیچے جاتا زمین پر دھمک سے ٹھرا تھا۔بہزاد اس کا ہاتھ تھامتا کسی شہزادی کی مانند زمین پہ نیچے لایا تھا،جو حیران و پریشان سی گول کیاری کے پار وسط میں بنی سفید سنگِ مرر کی عالیشان عمارت کی دہليز پر کھڑے کچھ استقبالیہ لوگوں کو دیکھ اس کی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں۔۔ ’’ہنی چلیں!‘‘کوپٹر ہونہی ہوا میں پرواز بھر گیا تھا۔۔جبکہ ہوا میں لہراتے اس کے ُسنہری بالوں کو کان کے پیچھے اُڑستا وہ محبت بھرے لہجے میں بولا تھا۔وہ جو حیرت سے گنگ مجسمہ بنی کھڑی تھی،گڑبڑا کر ہوش میں لوٹی تھی۔ ’’آہاں!بہزاد یہ ہم کہاں آئے ہیں؟‘‘وہ جیسے جیسے قدم اُٹھا رہے تھے،فاصلہ سمٹتا جارہا تھا۔۔جبکہ اجنبی چہروں کو دیکھ وہ اُس کے ہاتھ پر اپنی گرفت سخت کرتی،خوف میں مبتلہ ہوگئی تھیں۔۔۔ تمہارے سُسرال!وہ ایک بار پھر شرارتی لہجے میں بولا تھا۔۔جبکہ وہ اس کے بے معنی سے لفظ بولنے پر خفا ہوئی تھی۔ ’’مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘وہ روہانسو ہوگئی تھی،جبکہ وہ اس کاہاتھ تھامتا تیزی سے قدم اُٹھاتا اپنے گھر والوں کےنزدیک آیا تھا۔۔۔ ’’السلام علیکم!ویلکم بچے ویلکم! بہزاد کے چچا صاحب محبت سے بولتے آگے بڑھ کر اس کا ماتھا چوم چکے تھے۔جبکہ وہ بوکھلا کر دو قدم دور ہوئی تھی۔ ’’سلمان یار شرم کرو،تم تو بچی کو ڈرا رہے ہو۔‘‘بہزاد کے بابا صاحب جمیل رضوی نے مزاحیہ آنداز میں گھورکر جسمین کے سر پر ہاتھ رکھا جو سہمی سہمی سی بہزاد کی جانب دیکھتی خوفزدہ تھی، جو اب اپنے گھر والوں سے ملنے ملانے میں مصروف تھا۔ ’’بہزاد یار اپنی بیوی کا تعارف تو کرؤاہم سے، بچی کیسے سہمے سہمے سے آنداز میں ہمیں دیکھ رہی ہے۔‘‘ جمیل صاحب کے آنداز پر وہ سب مسکرائے ،جبکہ یہ کوئی نورانی چہرے والی خاتون تھیں،جن کا چہرہ کائی رنگ دوپٹے کے ہالے میں دمک رہا تھا۔آنکھوں سے روشنی پھوٹ رہی تھی۔۔وہ بہت محبت اور اپنائیت سے ملتی اُس پر کچھ دعائیں پڑھ کر پھونک رہی تھیں۔وہ ان طلسماتی لمحوں کے حصار میں جکڑی یہ آندازہ ہی نہ لگا سکی تھی کہ کسی کہ شوخ جملے پر بہزاد اسے پل میں اپنے حصار میں ُاٹھا چکا تھا۔ ’’مائی لیڈی تھوڑا خیال کرو یار!ہم مشرقی لوگوں کی بیویاں اتنی بے باک نہیں ہوتیں۔‘‘وہ اسسے ٹرانس میں پہلے اپنی ماں کو اور پھر خود کو تکتا پاکر شرارتی آنداز میں بولا تو وہ چونک کر ہوش آئی تھی۔ ’’بہزاد یہ تمہاری فیملی ہے۔‘‘وہ سب کو نظر آنداز کئے اس کے گردن میں بانہیں ڈالتی اشتیاق بھرے لہجے میں بولی تھی۔۔ ’’بھئی ہمارے یہاں کی رسم ہے کہ جب پہلی بار لڑکی اپنے سسرال میں قدم رکھتی ہے تو شوہر اُسے گود میں اٹُھا کر گھر میں لاتا ہے۔۔۔‘‘یہ آواز چچی کی تھی۔۔جسمین نے اچھنبے سے بہزاد کی جانب دیکھا تھا۔۔کیا اس نے اپنے گھر والوں کو ان کے ریلیشن کا نہیں بتایا تھا۔۔دماغ میں کھٹکا ہوا تھا۔۔ ’’یہ میری فیملی ہے ہنی!اور اب سے تمہاری بھی۔‘‘وہ آنکھ کا کونا دباتا گھر کے آندرونی حصےٰ کی جانب بڑھا تھا۔اور وہاں ایک الگ ہی رنگ چھڑا دیکھ اس کا منہ حیرت کی زیادتی سے کُھل گیا تھا۔ وہاں رنگا رنگ لوگوں کا ایک ہجوم لگا ہوا تھا۔رنگ برنگے قیمتی ملبوسات میں لپٹے لوگ ہاتھوں میں ڈرنکس تھامے انہی کی جانب متوجہ تھے،جسمین کو یکدم گھبراہٹ سی ہوئی تھی۔۔شاید وہاں کوئی ہائی کلاس پارٹی چل رہی تھی۔۔۔اور اس کے کپڑے،اس نے پریشانی سے بہزاد کی جانب دیکھا تھا۔ ’’ ویلکم ٹو ہوم ہنی! ‘‘وہ اسے زمین پر کھڑا کرتا محبت سے اس کے گرد اپنا حصار قائم کرتا پیار بھرے لہجے میں بولا تھا۔ ’’تم مجھ سے بار بار پوچھ رہی تھیں ناں کہ میں تمہیں ڈیٹ کرنے کے بعد چھوڑ تو نہیں دونگا تو دیکھو یہ سب لوگ آج ہماری شادی کی تقریب کی خوشی میں یہاں موجود ہیں۔ ‘‘جسمین نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا تھا۔ ’’کیا کہ رہے ہو بہزاد۔۔‘‘وہ حیران پریشان سی لب چبا گئی۔۔اس سے قبل کے بہزاد اسے کچھ کہ پاتا کچھ لڑکیاں اس کے قریب آئیں تھیں اور اپنی ہمراہی میں لیجانے لگی تھیں۔۔وہ ڈر گئی تھیں،مگر بہزاد کے اشارے پر وہ سہمی سہمی سی ان کی ہمراہی میں ایک روم میں آگئی تھی۔ ’’ڈئیر جیسمین میں بہزاد بھائی کی چھوٹی اور اکلوتی بہن زنیرہ ہوں۔اور ہم یہاں تمہیں دلہن بنانے کے لئے لائیں ہیں۔۔آج تمہاری شادی ہے ناں۔‘‘وہ محبت سے اس کے گال پر بوسہ دیتی بوکھلا گئی۔جسمین کو یکدم بہزاد کی یاد آئی تھی۔۔وہ بھی تو ہونہی اچانک سے اس کا گال چھوتا اسے بوکھلاہٹ میں مبتلہ کر جاتا تھا۔ ’’کیا آپ کو برو کی یاد آرہی ہے؟‘‘وہ شرارتی لہجے میں بولی تھی۔جیسمین نے گڑ بڑا کر نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔ ’’ہاہاہا!نہیں مگر کیا بہزاد نے پہلے بھی میرے بارے میں آپ لوگوں کو بتایا تھا؟کیا آپ لوگ مجھے پہلے سے جانتے ہیں؟‘‘وہ اپنی سمندری آنکھوں میں حیرانگی سموئے اشتیاق آمیز لہجے میں گویا ہوئی تھی۔ ’’ڈئیر بھابھی جان ہم آپ کو بچپن سے جانتے ہیں۔‘‘وہ شرارتی لہجے میں بولتی اس کا برائیڈل ڈریس تھما گئی تھی۔۔جو سفید رنگ تھا اور سونے کے تار سے اس قدر خوبصورت ورک کیا گیا تھا کہ وہ اس پر ہاتھ پھیرتی خوشی سے پھولے نہیں سما سک رہی تھی۔ ’’کیا یہ میرے لئے ہے؟‘‘وہ بے یقین لہجے میں بولی جو ٹریڈیشنل ٹچ سے مزئین ایک بیش قیمت لہنگا تھا۔جیسا پُرانے دور کی مغلیہ شہزادیاں پہنا کرتی تھیں۔ ’’جی بھابھی یہ آپ کے لئے ہے۔۔اور میرے بھائی کی پسند بھی۔اور اب آپ کوئی سوال نہیں کریں گی۔بلکہ جلدی سے تیار ہوجائیں سب دلہن کے دیدار کے لئے آپ کے منتظر ہیں۔‘‘وہ مزید گویا ہوتی اسے واشروم کی جانب دھکیل گئی تھی۔جو سُوچوں میں گمُ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔مگر بہزاد کی سَنگت میں جو کچھ تھا سب سحر آنگیز تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیلی آنکھوں میں سے انوکھی سی چمک پھوٹ رہی تھی۔ُسنہری بالوں میں خوبصورت سا بُرج لگا کر مہارت سے بن بنایا گیا تھا۔۔جبکہ لہنگا زیب تن کئے وہ ایکسائیٹڈ سی خود کو دیکھنا چاہ رہی تھی۔مگر فی الحال لڑکیوں نے اسے پکڑ رکھا تھا۔ ’’اب آپ خود کو دیکھ سکتی ہیں۔‘‘ الویرا آئینے کے سامنے سے ہٹتی مسکرائی تھی۔اور آئینے میں نظرآتے اپنے عکس کو دیکھ جسمین مبہوت سی ہوگئی تھی۔۔وہ سفید شرارہ اُس پر خوب جچ رہا تھا۔۔جس کے ساتھ ڈائمنڈ کی نازک سی نوزپن اور اور ٹوپس کانوں میں ڈالے وہ ایلگینٹ ُلک میں انتہا کی دلکش آسمان سے اُتری کسی آپسرا کی مانند لگ رہی تھی۔ ’’چلیں بھابھی باہر سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘وہ دونوں کی ہمراہی میں کسی کہانی کی مغرور شہزادی کی مانند سہج سہج کر قدم اُٹھاتی بہزادکے نزدیک آئی تھی۔نظر وں کا ملنا تھا اور چند لمحوں کے لئے وہ دونوں ہی سحر میں جکڑے ایک دوجے کو نہارنے میں مصروف تھے۔بلیک ٹیکسڈوں میں ملبوس وہ دلکش شہزادوں کی سی آن بان والا شخص اس کی حسین خوابوں کی جیتی جاگتی تصویر تھا۔۔بند آنکھوں سے دیکھے گئے خواب کبھی حقیقت کا روپ بھی دھار سکتے ہیں ایسی کسی سوچ کا تصور بھی محال تھا کجاکہ وہ ہاتھ بھر کے فاصلے پر کھڑا اسے اپنی دنیا میں لے جانے کا منتظر تھا۔ ’’جسمین شہروز ولد شہروز آ پ کا نکاح بہزاد رضوی ولد جمیل رضوی کے ساتھ گواہان کی موجودگی میں حق مہر سکہ رائج
