Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 18
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/03/2026
1 Views
Episode No 18
تبدیل کرنے کے لئے جُھکنے ہی لگا تھا کہ پیچھے سے آتی اقصیٰ کی چیخوں پر وہ بوُکھلا کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ "بچاؤ مجھے۔بزدل ٹائیگر بچاؤ مجھے۔ "سامنے سے ہی حواس باختہ سی اقصیٰ بھاگتی ہوئی اس کی جانب آرہی تھی۔جبکہ اس کے عین پیچھے ایک زخمی بھیڑیا تھا۔ ٹائیگر نے پُھرتی سے کمر پر لگی گن نکال کر اس کا نشانہ لیا۔جو تین چار گولیاں کھانے کے بعد زمین پر ڈھیر ہوتا عجیب آوازیں نکال رہا تھا۔۔۔ بھاگتے بھاگتے گرتی پڑتی اقصیٰ گولیاں چلنے پر لڑکھڑا کر اٌوندھے مُنہ گر پڑی۔۔۔ "رپورٹر!!!"وہ غصّہ سے جبڑے بھینچ کر اِسی جانب بھاگا تھا۔جو زخمی بھیڑے کے پاس ہی زمین بوس ہوگئی۔۔ "اٹھو یہاں سے بہت شوق تھا جانے کا۔۔ہوگیا اب شوق پورا؟؟"وہ یک دم اس کے قریب آتا تیز آواز میں اس کے منہ پر غُرایا۔جو شدّت سے رو رہی تھی۔خوف کے باعث جسم کپکپا رہا تھا۔۔اس سے پہلے کے وہ پھر گر پڑتی ٹائیگر نے اس کا بازو پکڑ کر سیدھا کیا۔جبکہ وہ ابھی بھی اس کی شرٹ پکڑے ہراساں نگاہوں سے بھیڑے کو دیکھ رہی تھی۔ "چل۔۔چلو یہاں سے۔۔"وہ فورا ڈر کر اس کے پیچھے ہوئی تھی۔ٹائیگر نے گن چیک کی جس میں آخری گولی بچی تھی۔اب اس نے ایک آنکھ میچ کر اب قریب سے سیدھا نشانہ بھیڑے کے سر کا لیا تھا۔ "آ ہ ہ ہ!!!"خون کی چھینٹے منہ پر آنے سے پہلے ہی وہ ٹائیگر کی پشت پر چھپتی چیخ اٹھی تھی۔ "رپورٹر کان کے پردے پھاڑوں گی کیا؟؟"ٹائیگر نے اچانک رُخ مڑ کر غصہ سے ڈپٹا۔ اقصیٰ نے ڈری سہمی نگاہ اٹھا معصومیت کر اسکی جانب دیکھا۔جیسے اس مصیبت کو پیچھے لگانے والا وہ تھا۔۔ "چلو میرے ساتھ کام کرواؤ۔شام ہونے سے پہلے نكلنا ہے یہاں سے۔۔"ٹائیگر نے اب ذرا نرم لہجے میں کہا۔ خوفزدہ نظروں سے دیکھتی اقصیٰ اب فرمابرداری سے سر ہلاتی اس کی شرٹ پکڑ کر پیچھے آنے لگی۔ "شکر ہے اب کچھ دیر تک بد دماغ رپورٹر کا دماغ ٹھکانے پر رہے گا۔"اقصیٰ کو اپنے پیچھے پیچھے آتا محسوس کر وہ دل ہی دل میں بڑبڑآیا۔جو چھوٹے بچوں کی طرح اس کی شرٹ ہاتھوں کی مٹھی میں تھام کر اسکی پیروی میں آرہی تھی۔۔۔ ____ جنگل سے واپس لوٹتے لوٹتے انہیں کافی دیر ہوگئی تھی۔رات کا اندھیرا چاروں اور اپنے پنکھ پھیلا چکا تھا۔گاڑی کے چارو ٹائر کمزور ہونے کی وجہ سے وہ بہت آہستہ رفتار میں گاڑی چلا رہا تھا۔بس اب وہ اپنی منزل کے قریب ہی تھے۔۔ اقصیٰ تو تھک ہار کر اس کے برابر میں بیٹھی کب کی سو گئی تھی۔مگر پچھلے چھ سات گھنٹوں سے ٹائیگر مُسلسل ڈرائیو کر رہا تھا۔۔ "اقصیٰ اٹھو۔۔گھر اگیا۔۔"ہٹ کے عین سامنے گاڑی رُوک کر اس نے مدہوش پڑی اقصیٰ کو ہلآیا۔۔ "ہاں!!"وہ مُندی مُندی آنکھیں کھول چونک کر بڑبڑائی۔۔ "اٹھو گھر اگیا!!!"اقصیٰ چونک کر اٹھتی گاڑی سے باہر آئی۔جبکہ وہ اندر جا چکا تھا۔ "مجھے تو لے لو۔۔۔"اقصیٰ ہڑبڑا کر دور دور تک پھیلے آیندھیرے کو دیکھ چلا کر پیچھے بھاگی۔ "منحوس ٹائیگر!!"اقصیٰ دوڑ کر اندر آتی۔کچن میں موجود ٹائیگر کو کھڑا دیکھ بڑبڑائی۔۔جس نے اس کا یہ انداز دیکھ ایک آئی برو اٹھائی۔۔"کہ بس اتنی ہی بہادر ہے رپورٹر!!!!" اقصیٰ غصّہ سے ناک کے نتھنے پھولاتی رخ موڑ گئی۔وہ اپنی مسکراہٹ ضبط کرگیا۔جو آج اچھا خاصہ ڈر گئی تھی۔۔ "کچھ کھانا ہے۔تو فریج میں تمام کھانے پینے کا سامان موجود ہے۔باقی میں تو چلا سونے۔"وہ جمائیاں روکتا،سستی سے فریج کی جانب اشارہ کر، انگڑائیاں بھرتا یہ جا اور وہ جا۔۔ اقصیٰ کے تن بدن میں اگ لگ گئی تھی۔ایسے شدّت کی بھوک لگ رہی تھی۔مگر ہل کر پانی بھی پینے کی ہمّت باقی نہیں رہی تھی۔۔ "آگئے آپ لوگ۔۔میں کب سے انتظار کر رہا تھا۔"نیند سے بوجهل ہوتی آنکھیں مسلتا عادل ان کی آواز پر باہر آیا۔ "ہاں!!تمہارا پاگل دوست اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کرنے گیا تھا۔۔۔"اقصیٰ نے کمرے کے دروازہ میں استاذہ ٹائیگر کو دیکھ بڑبڑا کر کہا۔جو چھوٹے کی آواز سُن پلٹ آیا تھا۔ "اور تم بھی تو یہ بتاؤ کہ لگے ہاتھوں آج اپنے برادری والوں کو دیکھ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں۔روبرو انے کی خوشی ہی اتنی تھی۔۔"ایک آئی برو اٹھا کر وہ طنزیہ بڑبڑ آیا ۔ "ہونہہ !!!"اقصیٰ منہ باسور کر اپنے کمرے میں چل گئی۔جبکہ اپنی جمائیاں روکتا ٹائیگر بھی اپنے کمرے میں غائب ہوگیا۔ چھوٹا منہ کھولے ان دونوں کے مزآج ملاختہ کرتاکندھے اُچکا کر وہاں سے چلتا بنا تھا۔۔ورنہ وہ بیچارہ تو ان کے انتظار میں کب سے جاگ رہا تھا۔ ___ آج عدالت میں فائزہ کیس کی شنوائی تھی۔پولیس کی حراست میں زوہان خٹک کو سیشین جج کے سامنے عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔عدالت کی کروائی کے دوران جب فائزہ کی جانب سے وکیل استغاثہ کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے تو عدالت نے فائزہ کی گُمشدگی کی بنا پر فیصلہ دس دنوں پر مُلتوی کرتے ہوۓ زوہان خٹک کو ضمانت پر رہا کردیا تھا۔۔۔۔ "سر!!!کیا عدالت نے زوہان خٹک کو اِس کیس سے باعزت طور پر بری کردیا ہے۔"میڈیا رپورٹر زوہان خٹک کے بعد باہر آتے سیف کی جانب متوجہ ہوۓ۔ "ملزم کو ابھی عدالت نے صرف ضمانت پر رہا کیا ہے۔جلد اس کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔اور مجرم سلاخوں کے پیچھے ہوگا۔"ایس پی سیف نے سپاٹ انداز میں جواب دیا تھا۔ موبائل سکرین پر نظر آتے مناظر دیکھ ٹائیگر کے جبڑے غصّہ سے تن گئے تھے۔بس نہیں چل رہا تھا۔زوہان خٹک کی گر دن موڑوڑ دے۔جو اب میڈیا والوں کو مُسکرا مُسکرا کر جواب دے رہا تھا۔۔۔۔ "سر میڈم فائزہ کا کچھ پتہ لگا۔آپ کو کیا لگتا ہے فائزہ شاہنواز کی گُمشدگی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟؟"میڈیا رپورٹر کے سوال پر سیف کے تاثرات سپاٹ ہوگئے۔ "فائزہ کو ہم جلد ڈھونڈ نکالیں گے۔اس کے پیچھے جس کسی کا بھی ہاتھ ہے۔اسے سزا ضرور ملے گی۔ابھی کیس ختم نہیں ہوا۔عدالت کا فیصلہ بہت جلد آپ کے سامنے ہوگا۔"وہ سرد انداز میں بولتا عدالت کی سیڑھیاں اتر گیا۔۔ ........................... جاری ہے آج کی قسط کیسی لگی؟
