Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 18
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/03/2026
1 Views
Episode No 18
انداز میں صرف تمہارا سواگت کریں نا!!! ساتھ مجھےکیوں لپیٹ رہے ہیں۔"وہ سر نیچے جُھکاۓ بیٹھی کانوں پر ہاتھ رکھے۔اسی کے انداز میں بڑبڑآئی۔ جبکہ ٹائیگر نے ایک آئی برو اٹھا کر محض ایک غصیلی نگاہ جُھکا کر اِسے دیکھا تھا۔جس کی زبان کے آگے شاید نہیں یقیناً خندق آباد تھی۔مطلب وہ اس کی جان بچا رہا تھا۔جبکہ محترمہ کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا۔وہ جائے بھاڑ میں۔۔ "تم دو منٹ کے لئے اپنی چونچ بند نہیں رکھ سکتیں۔"ٹائیگر گاڑی کا آوٹ ہوتا بیلنس سنبھال کر غصّہ سے بولا۔۔ "میری چونچ تو تم ہر بار ہی بند کروادیتے ہو۔اب وقت ہے اصلی ٹائیگر بننے کا۔اگر دم ہے تو ذرا اپنے برادری والوں کی بندوقیں بھی بند کرواؤ۔"اقصیٰ سیٹ پر نیچے جُھکے جُھکے ہی ہلکی آواز میں اسے چیلنج کرتی سُلگا چکی تھی۔اقصیٰ کی چپڑ چپڑ پر ، اِسے ایک تیز نظر سے نوازتا اپنے ہی کان بند کرتا،وہ سیٹ کے نیچے رکھی گن اٹھا کر ونڈو سے ہاتھ نکال کر فائر کرنے لگا۔جبھی گاڑی کا توازن ایک دم بگڑا تھا۔شاید اس بار گولی سیدھی ٹائیر پر لگی تھی۔یقیناً یہ نشانہ خالی ہرگز نہیں گیا تھا۔گاڑی اس کے کنٹرول سے باہر نكلتی پکی سڑک پر پھسلتی چلی گئی تھی۔جبکہ جُھکا ہوا سر اٹھاتی اقصیٰ کی سامنے نظر پڑتے ہی خوف سے چیخیں بُلند ہوئیں تھیں۔ ____ "ہم زندہ ہیں کیا؟؟"جُھکے سر کو دونوں ہاتھوں سے کور کرنے کی انداز میں بیٹھی اقصیٰ بے یقینی سے بولی تھی۔ "نہیں گھر پہنچ کر آپ کے قُل کا انتظام کروانا ہے۔"ٹائیگر دانت کچکچا کر بولا۔۔ "اوہ!!!ہم سچ میں زندہ ہیں۔ہم اس ٹرالر سے نہیں ٹکراۓ۔ ۔"اقصیٰ بے یقینی کی سی کیفیت میں سختی سے گھورتے ٹائیگر کو دیکھ گویا ہوئی۔ "رپورٹر کو تو صدمہ لگ گیا ہے۔"ٹائیگر منہ پر مٌٹھی جما کر ونڈو سے باہر دیکھ کر بڑبڑآیا۔۔ "صدمے سے باہر آجاؤ۔اور ذرا نظر گُھما کر دیکھو۔خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔"وہ اسے خود ہی زِیر لب مسکراتا دیکھ جھنجھلا کر گویا ہوا۔ "کیا واقعی؟؟"اقصیٰ چونک کر موڑی۔ گاڑی کی ونڈو سے باہر دیکھتے ہی ایک بار پھر اقصیٰ کی چیخیں عروج پر گئی تھیں۔ "آہ ہ ہ۔۔۔"غنڈے موالی۔بزدل ٹائیگر یہ کہاں لے کر آگے ہو تم مجھے۔۔" اقصیٰ نے سامنے دیکھا جہاں دور دور تک نیلا اکاش پھیلا ہوا تھا۔آسمان پر سفید روئی جیسے بدل ہوا کے دوش پر آسمان پر تیرتے ہوۓ نظر آرہے تھے۔جبکہ وہ کسی پہاڑ نما راستے کی بالکل نوک پر تھے۔اگر گاڑی کو ذرا سی بھی ریس دی جاتی تو شاید گاڑی سیدھی آسمان پر پرواز کر جاتی۔۔ "زیادہ ڈرامے نہیں کرو۔اتنی جلدی جان چھوڑنے والی شے نہیں ہو تم۔جلدی نکلو گاڑی سے۔"ٹائیگر بڑبڑا کر گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ اقصیٰ نے آنسو سے لبا لب آنکھوں سے سامنے ناچتی موت کو دیکھ۔دل ہی دل میں ٹائیگر کو صلاوتیں سنائی تھیں۔پھر ڈرتے ڈرتے گاڑی کا دروازہ کھول کر قدم باہر رکھا۔تیز ہوا کے جھونکے نے اچانک اسے ڈگمگانے پر مجبور کردیا۔ "ادھر اؤ رپورٹر!!!اتنی موٹی تازی ڈنگ ڈونگ کی بلّی جیسی ہو۔پھر بھی ذرا ّسی ہوا پر جھنڈے کی طرح اُڑی جا رہی ہو۔"ٹائیگر نے جلدی سے قریب آتے اِسے کھینچ کر پیچھے کیا۔ "میں بلّی جیسی موٹی تازی؟؟؟"لہرا کر خود کو سنبھالتی اقصیٰ حیرت سے منُہ کُھول کر غصّہ سے بولی۔ "اور نہیں تو کیا؟؟"اس نے اس کی نوٹنکیوں پر نظریں گُھمائیں۔ "تو پھر تمھیں نہیں پتہ بلّی شیر کی ہے خالہ!!"اقصیٰ نے کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر سخت نگاہوں سے گھورا تھا۔۔ "ہاہاہاہا!!!!رپورٹر کو دماغ پر چوٹ لگ گئی ہے۔۔"اُس جنگل نُما علاقے کی کُھلی فضا میں ٹائیگر کا بلند بانگ قہقاہ گونج اٹھا تھا۔ اقصیٰ کو اپنے لفظوں کا احساس ہوا تو وہ خود بھی خجل سی ہوتی نظریں پھیر گئی۔ "چلو رپورٹر!!!اس بارے میں بعد میں ڈسکس کریں گے۔ویسے اب تو تم نے خود اقرار کیا ہے کہ تم بھی میری برادری میں سے ہو۔"پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر اِس کے ساتھ پیچھے کو قدم لیتا وہ شرارت سے بولا۔ اقصیٰ غصّہ سے دانت کچکچا کر رہ گئی۔ "اب چلو یہاں سے۔کیا رات اسی جنگل میں گزارنی ہے۔"اپنے منہ پر آتی لٹوں کو کان کے پیچھے اُڑستی چڑگئی تھی۔ "ویسے خیال اچھا ہے۔ہم کونسا غیر ہیں۔ہم ان کے رشتہ دار ہی تو ہیں۔ببر شیر،بھالو،وغیرہ لگے ہاتھوں پورے خاندان سے ملاقات ہوجاۓ گی۔"شاہ زین کی شرارتی رگ پھڑک چکی تھی۔اقصیٰ کے چڑے چڑے انداز پر وہ خوب حظ اٹھا رہا تھا۔۔ "تمہارا تو شاید دماغ خراب ہے۔تم موآلی انسان یہیں رہو۔میں تو جارہی ہوں۔"وہ تنفر سے بولتی قدم آگے بڑھا چکی تھی۔جبکہ تیز ہوا کے باعث ایک ایک قدم من من بھر کا لگ رہا تھا۔ "اچھا جاؤ!!اور اگر زندہ سلامت منزل پر پہنچنے میں کامیاب ہو جاؤ تو مجھے بھی ساتھ لے جانا۔"وہ پیچھے سے ہانک لگانا ہر گز نہیں بُھولا تھا۔۔ "ہاں ہاں!!!تم رہو یہاں بلکہ تم بے فکر ہو جاؤ۔تمہارے قُل کا انتظام میں کروادونگی۔"اس سے ذرا فاصلے پر وہ چیخ کر بُولتی آگے بڑھ گئی تھی۔ جبکہ پیچھے کھڑا ٹائیگر اسے بھاگنے کے سے انداز میں پہاڑی کی چڑھائی اُترتا دیکھ رہا تھا۔رپورٹر کو بس کسی بھی طرح ٹائیگر کی قید سے آزاد ہونے کی جلدی تھی۔یہاں سے کچھ فاصلے پر ہی راستہ تھا۔جہاں سے فی الحال وہ واپس جانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔ سامنے سے آتے ٹرالر کو دیکھ ٹائیگر نے اچانک گاڑی کا رُخ موڑ کر جنگل میں کھائی کی جانب کر دیا تھا۔جبکہ پیچھے آتے نادر کے بندے یقیناً اسی ٹرالر سے ٹکرا گئے تھے۔بیس منٹ تک مُسلسل گاڑی کو قابوں میں کرنے کی کُوشش میں وہ ناکام سا پہاڑ کے بالکل کونے پر اگیا تھا۔جہاں آکَر گاڑی کا پنکچر ٹائیر ایک بلاسٹ کے ساتھ مکمل پھٹ کر رک گیا تھا۔گاڑی کو ٹھرتا دیکھ۔کتنے ہی لمحے تو وہ خود بے یقین سا خاموش رہ گیا تھا۔ورنہ آج تو اِسے اس رپورٹر کے ساتھ اپنا آخری دن ہی لگا تھا۔۔ "رپورٹر آخری بار بول رہا ہوں!!!!واپس آجاؤ۔ورنہ میری برادری والے رات کا ڈنر تمہاری تکّہ بوٹی بنا کر تناول فرمائیں گے۔"ٹائیگر نے پیچھے سے منہ پر گول دائرے کے انداز میں ہاتھ رکھ کر چیخ کر آگاہ کرنا ضروری سمجھا۔مگر جو سُن لے وہ اقصیٰ ہی کیا۔۔۔ اقصیٰ کو سُنا انسنا کرتا دیکھ وہ کندھے اُچکا کر رہ گیا تھا۔۔ پھر ایک گہری سانس بھر کر گاڑی کے پاس آیا۔پیچھے کا ٹائر بالکل ختم ہو چکا تھا۔باقی تینوں ٹائر بھی پنکچر تھے۔۔ گاڑی کی ڈگی کھول کر دیکھی جس میں تین ٹائیر موجود تھے۔جو وہ ہمیشہ اسے ہی وقت کے لئے اپنے ساتھ رکھتا تھا۔۔ کہنیوں تک آستین موڑ کر گاڑی کو پیچھے کھینچا چاہا۔جو پہاڑ کی کُھردری زمین پر جم کر رہ گیا تھا۔۔پچیس منٹ کی بھرپور محنت مُشقت کے بعد وہ گاڑی کو پیچھے کھینچنے میں کامیاب رہا تھا۔جو اپنی جگہ سےایک میٹر جتنے فاصلے پر پیچھے آتی پھر رُک گئی تھی۔ جبکہ اس کا پورا وجود پسینے سے شرابور تھا۔سانس کا تنفس بُری طرح پھول چکا تھا۔ "اففف!!!رپورٹر بجاۓ میری ہیلپ کرنے کے خود بزدلوں کی طرح بھاگ گئی۔احسان فراموش رپورٹر!!!"ماتھے پر سے پسینہ صاف کر وہ سر جھٹک کر بڑبڑآیا۔۔ وہ خود ہی گاڑی کے پنکچر ٹائرز تبدیل کرنے پر جُت گیا تھا۔تین ٹائروں میں سے دو پرانے ریپیر ٹائر تھے۔جن میں باریک پنکچر تھے۔صرف ایک ٹائر تھا جو بالکل نیا تھا۔کچھ دیر تو وہ اسی کش مکش میں رہا کہ اس ڈامرا کو یہیں چھوڑ دے یا پھر تبدیل کرے۔ کچھ دیر ہی گزری تھی۔ابھی وہ آخری ٹائر
