Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 18
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/03/2026
1 Views
Episode No 18
#محبت_بازیِ_آخر #ہما_قریشی #قسط_نمبر18 "یہ کہاں لے کر آگئے ہو تم مجھے؟"ڈارک بلیو رنگ کے جوڑے میں ملبوس اقصیٰ کا چہرہ دھوپ کی تمازت سے تمتما رہا تھا۔ماتھے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔آنکھوں میں تحیر سمیٹ کر وہ قبرستان کے باہر کے وحشت زدہ سن سان سے علاقے پر نظر دُوڑا کر حیرانگی سے گویا ہوئی۔ "میرے ساتھ چلو۔"اِس نے سنجیدگی سے اقصیٰ کو خالی خالی نگِاہوں سے خود کو تکتا دیکھ کہا۔ بلیک جینز کی شرٹ کے ساتھ ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔جس کی آستینے کہنیوں تک فولڈ تھیں۔آنکھوں میں ہم وقت رہنے والی سرخی موجود تھی۔جو اقصیٰ کے حیران چہرے پر ہی مَرکوز تھیں۔بالوں کی پُونی باندھ رکھی تھی۔پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنسا کر کھڑا وہ وہ اقصیٰ کے جواب کا منتظر تھا۔۔ "مگر کیوں؟میں اندر نہیں جاؤنگی ۔"اقصیٰ بدک کر دور ہوئی تھی۔اگر اِسے ذرا بھی اس بات کا گُمان ہوتا کہ وہ اِیسے یہاں لانے والا ہے تو شاید وہ کبھی اس کے ساتھ آنے کی ہامی نا بھرتی۔۔ "یہاں تمہارے والدین کی قبر ہے۔"وہ سنجیدگی سے بول کر خاموشی سے اِسے روتا ہوا دیکھتا رہ گیا تھا۔۔ "جب تم نے مجھے ان کی زندگی میں ان کے پاس نہیں جانے دیا تو اب یہاں لا کر کیا ثابت کرنا چاہتا ہو تم؟"وہ گالوں پر بہتے آنسو پُونچھ کر سپاٹ انداز میں بولی۔۔ "میں نے ایسا کبھی نہیں چاہا تھا۔میں شرمنده۔۔۔"ٹائیگر کے ابھی الفاظ بھی پورے نہیں ہوۓ تھے۔جبھی اقصیٰ نے ُزور دار انداز میں اس کے سینے پر ہاتھ مار کر پیچھے دھکیلا۔ وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہوا۔۔۔۔۔جو آپنا غصہ نکال رہی تھی۔۔ "شرمنده ہو تم؟؟؟صرف شرمندہ۔۔۔"وہ روتی ہنستی کیفیت میں ازیت سے بولی۔اتنے دنوں سے وہ جو خود کو سنبھالے ہوۓ تھی۔اب اس کا ضبط جواب دینے لگا تھا۔ شاہ زین نے خاموشی سے اِسے دیکھا تھا۔جو رخ موڑے اس کی جانب پشت کیۓ باآواز رونے لگی تھی۔یہ قبرستان سے نکلنے والی ایک سن سان سڑک تھی۔جہاں وہ دونوں عام حُلیہ میں کھڑۓ تھے۔۔تاکہ کوئی جان ناسکے کہ وہ ٹائیگر جبکہ اس کے مُقابل کھڑی لڑکی میڈیا رپورٹر اقصیٰ جمشید ہے۔۔ "واپسی جانا ہے مجھے ابھی۔"سرخ آنکھوں سے وہ سنجیدہ کھڑے ٹائیگر کے مقابل آئی۔ "کیا تم یہاں تک آکر ان کی قبر پر ایک بار فاتح نہیں پڑھوں گی۔"اٌس کے لہجے میں افسوس تھا۔ "ان کی بخشش کے لئے میں دعائیں گھر بیٹھے بھی کر سکتی ہوں۔تمھیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔اور شاید تمھیں علِم نہیں۔عورت کا قبرستان آنا منع ہے۔"وہ مزید اس کے سامنے آنسو نہیں بہانا چاہتی تھی۔انداز بالکل سپاٹ تھا۔ "تو شاید تم واقف نہیں جن کا کوئی نا ہو۔وہ اپنے لواحقین کی قبروں پر آسکتی ہیں۔"وہ استہزایہ مسکرائی۔۔ "مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔تم اس فکر سے آزاد ہو جاؤ۔" "اور ہاں اگر زیادہ ہی نیک بننے کا شوق ہو رہا ہے،تو تم جاکر ان کی قبر پر فاتحہ پڑھ اؤ۔"وہ نفرت آمیز لہجے میں بول کر قدموں کی مُسافت طے کرتی گاڑی میں جابیٹھی۔جبکہ شاہ زین کتنی ہی دیر وہاں کھڑا اس کی پشت کو دیکھ کر رہ گیا۔۔ دس منٹ بیت چکے تھے۔ٹائیگر کتنی ہی دیر تک قبرستان کے دروازہ کے سامنے سر جُھکا کر کھڑا تھا۔۔۔ ایک کرب زدہ نظر دور گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اقصیٰ پر ڈالی۔اور پھر قبرستان پر نظر دُوڑائی۔جہاں ہمیشہ کی طرح سناٹا سا تھا۔قدم اٹھا کر قبرستان میں داخل ہوتا۔مخصوص قبر کے عین سامنے آیا جہاں کُتبے پر شاہ نواز اور بیگم شاہ نواز کا نام درج تھا۔کچھ دیر دعا کرنے کے بعد وہ اقصیٰ کے ماں باپ کی قبروں پر آیا تھا۔جو ذرا فاصلے پر بنی ہوئی تھی۔ٹائیگر کو اپنے ماں باپ کے چلے جانے کے بعد آج اقصیٰ کا درد بھی دل سے محسوس ہوا تھا۔ماں باپ کو کھونے کا درد کیا ہوتا ہے۔وہ اچھے سے واقف تھا۔مگر وقت کبھی بھی پلٹا نہیں جا سکتا تھا۔۔ وہ واپس آیا تو اقصیٰ ونڈو سے باہر دیکھتی خاموش بیٹھی اپنے آنسو ضبط کر رہی تھی۔آج اس کا غم ایک بار پھر تازہ ہوگیا تھا۔ٹائیگر سے نفرت ایک بار پھر شدّت اختیار کر گئی تھی۔۔تیز رفتاری سے دُوڑتی گاڑی نے وہاں پھر سناٹا سا کردیا تھا۔جو دو انسانوں کی موجودگی میں آباد سا لگ رہا تھا۔ درد ناک ماضی کی یاد میں ڈرائیو کرتے ٹائیگر کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر پھسلا تھا۔دونوں ہی فریق اپنے دکھوں کے محِور میں غم غلط کرنے میں کوشاں ایک دوسرے کی دِلی كیفيت سے انجان،الگ الگ راہوں کے مسافر فی الحال ایک ہی منزل کی جانب گامزن تھے۔۔۔۔ کسی کی یاد میں آنکھوں کو لال کیا کرنا جسے بچھڑنا تھا اس کا ملال کیا کرنا ہمیں تو اس کی جدائی عزیز رکھنی ہے یہ جاہ و حشمت و مال و منال کیا کرنا محبتیں تو فقط انتہائیں مانگتی ہیں محبتوں میں بھلا اعتدال کیا کرنا یہ کار عشق تو بچوں کا کھیل ٹھہرا ہے سو کار عشق میں کوئی کمال کیا کرنا وہ رابطے جو کیے خود ہی کالعدم ہم نے نئے سرے سے پھر ان کو بحال کیا کرنا (حسن عباس رضا) ___ وہ ابھی ادھے راستے میں ہی تھا۔کہ کچھ دِیر سے انہیں فالو کرتی گاڑی جو پہلے ہی ٹائیگر کی نِگاہ میں آگئی تھی۔وہ کب سے انجان راستوں پر گاڑی ڈوڑاتا وہاں سے خاموشی سے نكلنا چاہتا تھا۔مگر وہ جو کوئی بھی لوگ تھے۔ٹائیگر کی گاڑی کی رفتار تیز دیکھ یک دم اس پر حملہ آور ہو گئے تھے۔ وہ اقصیٰ کی ہمراہی میں کسی قسم کا کوئی رقص مول لینے کا ارادہ نہیں رکھتا مگر یہ شاید نہیں یقیناً نادر کے بندے تھے۔جو قبرستان کے باہر اس کی تاک میں تھے۔انہیں علم تھا کہ وہ کہیں جاۓ یا نا جائے یہاں ضرور آتا ہے۔ اقصیٰ اور ٹائیگر کو وہ پہلی ہی نظر میں بھانپ گئے تھے۔مگر دوسری جانب سے نادر کے حکم کے انتظار میں تھے۔جس نے صرف خاموشی سے انہیں فالو کرنے کا حکم دیا تھا۔پیچھلے دو گھنٹوں سے وہ اسکے چکر میں گرفتار اندھا دھند گاڑی ڈورا رہے تھے۔جو اب انہیں چکما دینے کے چکر میں تھا۔۔ "اقصیٰ سر نیچے کرو۔۔جلدی!!!!"گاڑی پر پیچھے سے ہوتی گولیوں کی بوچھاڑ پر وہ تیز آواز میں چلایا۔فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اقصیٰ کی خوف سے چیخ ُبلند ہوئی۔۔ "یہ یہ کون لوگ ہیں۔۔ہمارے پیچھے کیوں آرہے ہیں؟"سڑک پر پنڈولم کی طرح ڈُولتی گاڑی میں بامشکل خود کو سنبھالے حواس باختگی کے عالم میں پیچھے دیکھ کر بڑبڑآتی وہ ہراساں سی نظر آرہی تھی۔ "جتنا کہا ہے بس اتنا کرو۔آگے سے زبان ناں چلاؤ۔سر نیچے جھکاؤ ورنہ ایک ہی گولی میں تمہارا یہ مشینی بھیجا باہر آجاۓ گا۔"بیک ویو مرر میں پیچھے دیکھ دشمن کو چکما دینے کی بھرپور کوشش کرتا،وہ دانت پر دانت رکھ کر چبا چبا کر پُھنکارا۔۔ "مگر یہ ہیں کون!!اور ہم پر کیوں گولیاں برسا رہیے ہیں؟"ٹائیگر کا سارا دھیان پیچھے نادر کے آدمیوں پر تھا۔جو مُسلسل ٹائر پر فائر کر رہے تھے۔مگر ٹائیگر کی جانب سے بار بار گاڑی کو ڈولنے کے انداز میں چلانے کے باعث نشان چُوک رہا تھا۔ "میرے سُسرالی ہیں۔آج مہینوں بعد اپنے سُسرال والوں کو اپنا دیدار کروایا ہے نا، تو مُکمل جوش و خروش میں ہوائی فائر کی جگہ الُٹا مجھ پر ہی فائرنگ کر کے گرم جوشی سے استقبال کر رہے ہیں۔تاکہ آج کی شام کا مزہ دُوبالا ہو سکے۔"اس قدر گھمبیر صورتحال میں بھی وہ طنزیہ انداز میں اقصیٰ کو جواب دینے سے باز نہیں آیا تھا۔ "تو اس انوکھے
