Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 17
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/03/2026
0 Views
Episode No 17
چاہا۔ "اہاں!!!اتنی بھی کیا جلدی ہے ڈئیر رپورٹر۔۔ذرا میں بھی تو دیکھو ٹائیگر کو حوالات کے پیچھے کروانے کے کونسے ایک سو ایک طریقوں کی کھوج لگا رہی ہو۔۔"ٹائیگر نے بٌک کے ٹائیٹل کور پر نظر ڈورا کر،الٹ پلٹ کر دیکھا۔۔ وہ کسی انگلش مصنف کی کرائم اور سنسنی خیز واقعات پر مبنی کتاب تھی۔جو یقیناً جاسوس دماغ رپورٹر کی پسند پر پورا پورا اُتر رہی تھی۔۔ "اوہ!!تو دو دن میرے پیچھے میں میرے ہی خلاف سازشیں جاری ہیں۔۔واہ رپورٹر داد دینی پڑے گی بھئی تمہارے دماغ کو۔اب کیا یہ کتابوں کے زریعے زِیر کرنا چاہ رہی ہو ٹائیگر کو۔"وہ کتاب اپنی کمر کے پیچھے لگاتا، اقصیٰ کو مٹھیاں بھینچنے پر مجبور کرگیا۔۔ "اتنے برے دن نہیں آۓ ابھی مجھ پر۔کہ تمھیں مارنے کے طریقے کتابوں میں تلاش کروں۔اور نا ہی ابھی اِن کتابوں کے صفحات پر اتنی گرد چڑھی ہے۔کہ یہ تم جیسے کرمنل کا نام خود پر درج کرنا پسند کریں۔تمہارے اس جنگل نُما گھر میں وقت گزارنے کے لئے کچھ نا کچھ تو کرنا ہی تھا نا۔تو یہ بُک ہی سہی۔۔"اقصیٰ نے ناگوار لہجے میں سرے سے اس کی غلط فہمی دور کی۔ٹائیگر اقصیٰ کی حاضر جوابی پر شرارت سے چمکتی آنکھیں گُھما کر رہ گیا۔۔ "بُک واپس کرو مجھے۔"اقصیٰ جزبز سی رہ گئی تھی۔ "پہلے میرے ساتھ چلو۔"ٹائیگر نے اِسے اِرد گرد سے کتاب لینے کی کوشش میں اچھلتا دیکھ اس کو بازو سے پکڑ لیا۔۔ "کہاں؟؟؟؟؟؟"وہ اس کی گردان پر جھنجھلا کر رہ گئی۔۔ "جہاں ٹائیگر لے چلے وہاں۔۔"آج اس کا مزاج ہی نرالا تھا۔اقصیٰ کو اپنے اِرد گِرد خطرے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہوئیں تھیں۔۔ "میں نہیں۔۔۔" "میں نے پوچھا نہیں ہے تمھیں اگاہ کیا ہے۔اب شرافت سے چلو۔بہت ہوگیا مذاق۔۔"ہمیشہ کی طرح ٹائیگر کا شوخ لہجہ یکا یک تبدیل ہوا۔۔ "چلو۔۔"اقصیٰ تھک ہار کر تنفر سے بولتی اُس کے ہم قدم ہوئی۔۔ ___ "سیف میرے بچے۔۔اتنے پریشان کیوں ہو۔۔"سیف کے بابا اسے مُسلسُل پریشان دیکھ۔خود بھی پریشان ہو اُٹھے تھے۔۔ "بابا کچھ ہی دنوں میں کیس کی شنوائی ہے۔اور میں اب تک زوہان خٹک کے خلاف کوئی بھی ٹھوس ثبوت اکھٹا نہیں کر سکا۔ایک واحد امید فائزہ تھی۔وہ بھی چار دنوں سے لاپتہ ہے۔ایسے میں تو عدالت اپنا فیصلہ سنا دے گی۔"وہ سر ہاتھوں میں گراۓ بے بسی سے گویا ہوا۔۔ "مت بھولو سیف کے تم اس ضلع کے ایس ایس پی ہو۔اور ایک ایس پی یوں ہمّت ہارتا ہوا اچھا نہیں لگتا۔اپنی کروائی جاری رکھوں کہیں نا کہیں کوئی تو ثبوت ضرور ملے گا۔مجرم کتنا ہی سمجھدار کیوں نا ہو۔کوئی نا کوئی ایسی غلطی ضرور کرتا ہے۔جس سے وہ پکڑ میں آتا ہے۔یوں مایوس ہونے کے بجاۓ اس ثبوت کی کھوج لگاؤ جو تمہارا کیس مضبوط کرنے میں مدد دے گی۔۔"انہوں نے اپنے خوبروں جوان بیٹے کو ہمّت دلائی تھی۔ وہ ہنوز سر جھکاۓ بیٹھا تھا۔فائزہ کا سوچ سوچ کر اس کا سر پھٹا جا رہا تھا۔وہ اپنی ساری سورز لڑ چکا تھا۔یہاں تک کے شک کی بنا پر وہاب خٹک کے بنگلے تک کی تلاشی لے چکا تھا۔کہ شاید کوئی سراغ ہاتھ لگ جائے۔مگر نتیجہ صفر کا صفر تھا۔۔۔۔ "ناامید نا ہو۔بے شک اندھیرے کے بعد اُجالا ہے۔۔"اپنے سر سے ہاتھ ہٹاتا وہ دھیمے سے مسکرایا۔جب معملہ اپنے سے جڑے رشتوں کا آجاۓ تو انسان یونہی جذباتی ہو جاتا ہے۔ "چلو آجاؤ۔۔شاباش کھڑے ہوجاؤ۔۔"وہ بھی چار و نچار اٹھ کھڑا ہوا۔۔ اب جو بھی فیصلہ ہونا تھا۔وہ سب اللّه کے سپرد کر گیا تھا۔بے شک وہ خوب انصاف کرنے والا ہے۔۔ ___ " کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے؟؟"اقصیٰ نے گاڑی کو مسلسل دو گھنٹوں سے گنجان راستوں پر گامزن دیکھ بے زاری سے دريافت کیا۔ "تمھیں اغوا کر کے لے جا رہا ہوں۔"ٹائیگر زِیر لب مسکرایا۔ "بکواس بند کرو اور سیدھی طرح بتاؤ۔کہاں لے جا رہے ہو مجھے؟؟"اقصیٰ نے نخوت سے آنکھیں بھنویں سمیٹ کر پوچھا تھا۔۔ "اگر تم واقعی صحیح سلامت میرے ساتھ واپس آنا چاہتی ہو تو منہ بند رکھو۔ورنہ اس دن تو بھوکے کتّوں سے بچا لیا تھا۔اس بار سیدھا شیر کا کا نوالا بنوا دونگا۔۔"ٹائیگر کی بکواس پر اقصیٰ نے آنکھیں گھمائیں۔۔ "خیر سے میں تو ابھی بھی بزدل چیتے کی قید میں ہوں۔وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکا تو یہ تمہاری برادری والے کیا کرلیں گے۔۔"اقصیٰ کا کہنا تھا اور دوسری جانب ڈرائیونگ سیٹ پر برآجمان ٹائیگر کا ایک جاندار قہقاہ گاڑی میں بلند ہوا تھا۔۔ "سچ بتاؤ رپورٹر تم میں یہ بدمزاجی رپورٹر بننے کے بعد آئی تھی۔یا پیدائشی ایسی ہو۔"وہ اپنے ہوا کے دوش پر اُڑتے ہوۓ بالوں کو پونی کر مسکرا کر بولا۔۔ "یہ بدمزاجی صرف تمہاری شکل دیکھ کر اُمڈ اُمڈ کر باہر آتی ہے۔"اقصیٰ سر جھٹک کر رہ گئی۔۔ "اہاں!!!!یہ بھی سہی ہے رپورٹر!!!ٹائیگر کے لئے مزاج بھی اعلٰی ہونا چاہیے۔"وہ جیسے محظوظ ہوا۔ "اب بتا بھی دو۔کہاں لے کر جا رہے ہومجھے؟؟"اقصیٰ گاڑی کو شہر کی حدود میں داخل ہوتا دیکھ ذرا حیرانی سے بولی۔ "تمھیں آزاد کرنے۔"ٹائیگر کے بے ساختہ الفاظ پر اقصیٰ نے بے یقین نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔جو اب روڈ پر نگاہیں مرکوز کئے بالکل سنجیدگی سےڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔ ____ "وقتِ پیدائش تو سبھی اشرف المخلوقات کی رو حیں نیک ہوتی ہیں۔مگر جلد ہی دنیا کی گرد اَلود ہوا انہیں اپنے حصار میں جکڑ لیتی ہے۔ایک اچھا اور نیک انسان وہی ہے۔جو ہر طرح کی صورتحال میں اپنی ہم رنگ مخلوق کے ساتھ نرمی برتے۔ گو کہ حاكم ہو یا ہاری اپنے اندر انسانيت کا درد رکھے۔اچھی قومیں بھی اچھے انسانوں پر ہی مشتمل ہوتی ہیں۔"سیف کی نظریں سامنے موجود لڑکی پر ہی تھیں۔جو آنکھوں میں ڈھیروں آنسو لئے شرمندگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔وہ خود میں اتنی ہمّت ہی نہیں جُٹا سک رہی تھی کہ سامنے کھڑے شخص سے نظریں ملا سکتی۔ اس کے دماغ میں الگ ہی قسم کی سوچیں چل رہی تھیں۔جو سامنے بیٹھی لڑکی پر رحم نا کرنے کی جنگ لڑ رہی تھیں۔وہ جب حق کے لئے بول نہیں سکتی تھی۔ انصاف نہیں دلا سکتی تھی۔تو آخر اتنے سال گزر جانے کے بعد سامنے ہی کیوں آئی تھی۔ "میری بات۔۔۔۔"اس نے کچھ کہنا چاہا تھا۔ "خاموش۔۔چپ بالکل چپ۔۔۔ایک الفاظ نا نکلے تمہارے منہ سے۔خاموش ہوجاؤ بالکل۔۔۔"چکراتے ہوۓ دماغ کو تھام کر وہ وہاں سے نكلتا چلا گیا تھا۔جبکہ کُرسی پر بیٹھی لڑکی ہچکیوں سے رو دی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ ____ جاری ہے
