Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 17
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/03/2026
0 Views
Episode No 17
"فائزہ کہاں ہے؟؟"سیف ڈورکر ہوسٹل کی انتظامیہ کے نزدیک آیا تھا۔ "سر وہ۔۔۔"ہوسٹل وارڈن ذرا سہم گئی تھی۔ "جلدی بولیں۔فائزہ شاہنواز کہاں ہے؟؟"سیف اپنی وردی کا خیال کرتا چنگھاڑ کر رہ گیا تھا ورنہ بس نہیں چل رہا تھا۔ان سب کا حال بُرا کر دے۔ "سر ہم کچھ نہیں جانتے۔وہ لڑکی۔آدھی رات کو کہاں غائب ہوگئی۔میں تو رات کو سب کو چیک کر کے ہی سوئی تھی۔سب لڑکیاں اپنے اپنے کمروں میں موجود تھیں۔نا جانے وہ کیسے غائب ہوگئی۔"سیف کو طیش میں دیکھ،وہ جلدی سے رٹو طوطے کی طرح بولی۔ "انسپکٹر!!!رات کو ہاسٹل میں جتنے لوگ موجودتھے۔سب کو میرے سامنے لے کر اؤ جلدی۔۔"سیف کا دماغ سوچ سوچ کر پاگل ہوا جا رہا تھا۔ "یس سر۔۔"وہ اندر کی جانب بڑھا۔جبکہ ہاسٹل میں موجود تمام لڑکیاں کل رات ہونے والی واردات کے باعث خوف سے کپکپا رہی تھیں۔۔ "سر!!!یہ فائزہ بی بی کی روم میٹ ہے۔"ایک پولیس اہلکار ڈری سہمی سی لڑکی کو اس کے سامنے لے آیا تھا۔وہ دوپٹہ کی اوٹ میں اپنا منہ چھپاۓ ہراساں نظروں سے پولیس کی وردی میں موجود سیف کی ہمراہی میں موجود نفری کو دیکھ رہی تھی۔۔ "بی بی۔۔۔کل رات تمہاری روم میٹ فائزہ تمہارے سونے سے پہلے کہاں تھی؟؟"سیف نے اسے مشکوک نظروں کے حصار میں لے کر کڑے تیوروں سے پوچھا۔۔ "میں۔۔۔میں جب۔۔۔"وہ ہکلا کر رہ گئی ۔۔ "جلدی بولو لڑکی۔۔"اے ایس پی نے دبے دبے لہجے میں کہا۔یہ معملہ جتنا گھمبیر تھا وہ اچھے سے جانتے تھے۔ایس پی اتنے غصّہ میں تھا۔ضلع کے تمام تھانوں کی پولیس میں پُھرتی در آئی تھی۔۔۔ "میں کچھ نہیں جانتی سر!!!میں جب سوئی تھی۔تو فائزہ اپنے بیڈ پر ہی موجود تھی۔مگر جب میں فجر میں جاگی تو وہ وہاں موجود نہیں تھی۔مجھے لگا۔باہر ہوگی۔مگر جب کافی دیر تک واپس نہیں آئی تو میں نے وارڈن کو اطلع دی۔جب سے ہی سب اسے تلاش کر رہے ہیں۔"وہ لڑکی ڈری سہمی سی ایک ہی سانس میں سب بول گئی تھی۔سیف کی زِیرک نگاہیں اسی پر مرکوز تھیں۔وہ مُسلسل اپنا چہرہ چھپانے میں کوشاں تھی۔۔ "جاؤ تم۔"سیف نے اسے کپکپاتا دیکھ۔وہاں سے چلتا کیا۔جبکہ ساتھ کھڑی لیڈیز پولیس کو اشارہ دیا۔جو "یس سر" کہتی۔اس کے پیچھے گئی تھی۔۔ "کڑی نگرانی رکھو یہاں کی۔جب تک کوئی سرا ہاتھ نہیں آجاتا کوئی بھی بغیر اجازت یہاں سے باہر نہیں جانا چاہیے۔۔"وہ ابھی بول ہی رہا تھا۔کہ رات کو ہاسٹل میں موجود تمام ہی لوگ وہاں لائن سے آکھڑے ہوۓ تھے۔۔ "رات کو کون کون رات دیر تک جاگتا ہے۔"سیف سب پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر سخت لہجے میں دریافت کرنے لگا۔ "سر!!!کوئی بھی نہیں۔سب لڑ کیاں جلدی سونے کی عادی ہیں۔"وارڈن نے بیچ میں مداخلت کی۔ "بی بی صاحب نے تم سے سوال کیا ہے کیا؟؟"انسپکٹر کی دھاڑ پر وارڈن اُچھل کر رہ گئی۔۔ "اچھا تو آپ سب جلدی سو جاتی ہیں۔فائزہ کی آپ میں سے کس کے ساتھ دوستی تھی؟"سیف نے ان سب کی خاموشی پر کڑے تیوروں سے پوچھا۔ "سر!!!فائزہ کو ہاسٹل آۓ چند ماہ ہی ہوۓ ہیں۔وہ اپنی روم میٹ کے علاوہ کسی سے کوئی بات نہیں کرتی۔اور میں نے تو اسے ایک دو بار ہی دیکھا ہے۔"ایک لڑ کی کے جواب پر سیف پیشانی مسل کر رہ گیا۔کیونکہ ایسا کرنے کی تاقید اسے سیف نے ہی کی تھی۔خاص کر فائزہ کی شخصیت کی وجہ سے وہ اسے کم ہی مخاطب کرتی تھیں۔ ہاسٹل کے باہر سیف نے سیول ڈریس میں خاص طور پر فائزہ کی نگرانی کے لئے گارڈز تعینات کر رکھے تھے۔مگر وہ جو کوئی بھی تھا۔بہت چالاکی سے فائزہ کو غائب کر چکا تھا۔پہلا شک وہاب پر جاتا تھا۔جو سیف کے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچنے کے لئے کافی تھا۔اور دوسرا شک۔۔۔۔۔۔۔۔ "مگر نہیں زین زندہ بھی تھا یا نہیں۔یا وہ اپنی بہن کی زندگی سے باخبر تھا بھی یا نہیں۔۔۔اس بات کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔۔۔وہ محض شک کی بنا پر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ سُن پڑتے دماغ سے سیف انہیں ہدایات کرتا۔وہاں سے نكلتا چلا گیا۔اس کا دماغ وہاب خٹک کو ہی مجرم ٹھرا رہا تھا۔زوہان خٹک اب تک پولیس کی تحویل میں تھا۔مگر بغیر کسی ثبوت کے وہ فائزہ کو کیسے ڈھونڈتا۔۔۔ ____ "اٹھو یہاں سے۔۔۔"آج دو دن بعد اقصیٰ کا سامنہ ٹائیگر سے ہوا تھا۔اس بیچ وہ نا جانے کہاں غائب رہا تھا۔مگر چھوٹا ہر پل اس کی پہراداری پر معمور تھا۔ "کیوں؟؟؟"اقصیٰ نے آنکھیں چڑھا کر پھاڑکھاتے لہجے میں ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔۔ ٹائیگر نے غصّہ سے دانت پیسے تھے۔اس رپورٹر کی شاید ہی کوئی کَل سیدھی تھی۔ "میں نے کہا اٹھو یہاں سے۔تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے یہ۔جو سوال جواب کر رہی ہو۔"ٹائیگر اسکی گُھورتی نگاہوں میں اپنی سخت نگاہیں گاڑ کر غصّہ سے سے بولا۔۔ "تو میں بھی تمہارے باپ کی نوکر نہیں ہوں۔جو تمہارے حکم کی پابندی کروں۔"مقابل بھی اقصیٰ جمشید تھی۔کسی کے مقابل ڈرنا دبنا تو شاید ہی اس نے سیکھا ہو۔۔ "آخری بار بول رہا ہوں رپورٹر۔اٹھو یہاں سے اور میرے ساتھ چلو۔اپنی بات دہرانے کا عادی نہیں ہوں میں۔میرا صبر مت آزمایا کرو۔"گزرے چند سالوں میں اقصیٰ وہ پہلی بندی تھی۔جو اسے کے آگے منہ کُھولنے کی جراّت کرتی تھی۔ورنہ جتنا سفاک اور سخت دل شاہ زین شاہنواز شائنہ قتل کیس میں جیل جانے کے بعد ہو چلا تھا۔شاید ہی اس دل پر جمی سرد پن کی تہ کوئی پِگھلاسکتا تھا۔۔ "اور میں بھی آخری بار بول رہی ہوں۔بار بار میرے منہ مت لگا کرو۔۔"اقصیٰ ایک جھٹکے سے اس کے مقابل آتی لفظ چبا چبا کر پُھنکاری۔۔ "رپورٹرر ۔۔رپورٹر!!تم میرا ضبط آزما رہی ہو۔اگر تمھیں میں نے اپنے نکاح میں لیا ہے تو کسی وجہ سے لیا ہے۔اس بات کا ناجائز فائدہ مت اٹھاؤ۔مت بھولو تم اس شہر کے بدنام زمانہ گینگسٹر ٹائیگر کی بیوی ہو۔"شاہ زین اقصیٰ کے بازو میں اپنی کُھردری انگلیاں گاڑ کر سرخ نگاہوں میں بے پناہ وحشت لئے سرد لہجے میں گویا ہوا۔۔ "اور میں نے بھی اگر تمہارے ساتھ نکاح پر حامی بھری ہے تو اس کی وجہ تم سے اپنا انتقام لینا ہے۔اپنی اُوقات مت بھولا کرو تم۔۔"اقصیٰ جمشید تو پھر اقصیٰ تھی۔ٹائیگر کی شرارتی رگ اقصیٰ کی ہڈ دھرمی پر ایک بار پھر پھڑک اٹھی تھی۔۔ "اؤہ ہاں!!رپورٹر تو اقصیٰ جمشید ہے۔واقعی ہڈ دهرم،ضدی،جنگلی بلی۔۔ہے نا۔۔"اس کے طنزیہ تبصرے پر اقصیٰ نے آنکھیں گھمائیں۔ "میں تمہاری بکواس سننے کے موڈ میں نہیں ہوں۔"اقصیٰ نے نخوت بھرے لہجے میں ناگواری سے کہا۔ "مگر میں تو اپنی مکمل بکواس تمہارے گوشہ گزار کرنے کا متمنی ہوں۔"ٹائیگر نے ایک بار پھر اِسے سُلگایا تھا۔اقصیٰ جمشید سے بحث میں نا جانے کیوں،مگر اب اسے بھی اِس جنگلی بلی کو چھیڑ کر مزہ انے لگا تھا۔۔ "تم غنڈے موالی فرصت سے فارغ ہو۔مگر میں فارغ نہیں ہوں۔"اقصیٰ بے زاری سے جھڑکتی۔ٹیبل پر رکھی بُک اٹھانے لگی تھی۔جسے ٹائیگر جھپٹ کر پہلے ہی اٹھا چکا تھا۔۔ "اوہ!!!تو مس پڑھی لکھی نے غنڈے موالی کے آڈے پر بھی انگلش بُک کھوج نکالی۔"ٹائیگر نے مصنوعی تعریف کرتے آئی برو اچکاۓ۔ "ہاں تو اس میں کونسی بڑی بات ہے۔یہ ہٹ کونسا تمہارا ذاتی ہوگا۔کسی مظلوم سے بندوق کی نوک پر قبضے میں لے لیا ہوگا۔۔"اقصیٰ نے اپنی سوچ کو الفاظ دیے تھے۔جبکہ اُس نے توصیفی انداز میں سرہایا۔۔ "واہ بھائی چھوٹے تمہاری اقصیٰ باجی تو بڑے ہی کم دنوں میں مجھے اچھے سے جاننے لگی ہیں۔۔"ٹائیگر نے اونچی آواز میں ہانک لگائی۔اقصیٰ نا گواری سے نظریں گھما کر رہ گئی۔۔ "یہ بُک واپس کرو مجھے۔"اقصیٰ نے ایک قدم لے کر اس کا ہاتھ پکڑنا
