Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 17
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/03/2026
0 Views
Episode No 17
محبت بازیِ آخر ہما قریشی قسط نمبر17 "اقصیٰ جی ایسے کیوں رو رہی ہیں؟؟"چھوٹا اقصیٰ کو ہچکیوں سے روتا دیکھ،ڈور کر اسکی جانب آیا تھا۔۔ "دور رہو مجھ سے۔خبردار جو میرے قریب بھی آۓ۔ "چھوٹے کو پریشانی سے اپنی جانب بڑھتا دیکھ،اقصیٰ زخمی شیرنی کی مانند دھاڑی تھی۔۔ "مگر آپ رو کیوں رہی ہیں۔"وہ پریشان سا گویا ہوا۔ "ہٹوں یہاں سے۔"اقصیٰ غصّہ سے اِسے جھڑکتی اٹھ کر وہاں سے غائب ہوگئی۔جبکہ وہ تاسف سے ٹائیگر کے کمرے کا بند دروازہ دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ __ "کون۔۔۔۔کون ہے وہاں؟؟‘‘فائزہ آنکھوں میں خوف سموئے،تھوک نگل کر سرگوشی میں بولی تھی۔خوف کے مارے الفاظ منہ میں ہی کہیں رہ گئے تھے۔ آگے پیچھے نظر دوڑائی پورے ہاسٹل میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔وہ اپنے نام کی پُکار پر کمرے سے باہر تو آگئی تھی۔مگر اب یہاں آکر پتہ چلا تھا کہ وہ کمرے سے باہر آکر غلطی کر چُکی تھی۔۔آندھیری راہداری میں موجود وہ ڈرتے ڈرتے قدموں سے کمرے سے باہر آئی تھی۔پیچھے سے دھیرے دھیرے اُبھرتی قدموں کی چاپ پر وہ لرز کر رہ گئی تھی۔ خوفزدہ نظروں سے رُخ پھیر کر پیچھے کی جانب دیکھا پورے ہاسٹل میں اس وقت آندھیرا چھایا ہوا تھا۔آدھی رات کا وقت تھا۔پہلے تو اسے لگا تھا کہ شاید کوئی ہوسٹل کی لڑکی اس سے مذاق کر رہی تھی۔مگر آدھی رات کے وقت کون اپنے کمرے سے باہر آئے گا۔یہی سوچ تھی جو اِیسے لرزا دے رہی تھی۔ "کہیں زوہان خٹک کے آدمی تو اس تک نہیں پہنچ گئے تھے۔"فائزہ نے ہراساں نگاہوں سے سن سان پڑی راہداری کو دیکھا۔جبکہ قدم قدم قریب آتی بوٹ کی دھمک اب دماغ پر ہتھوڑے کی مانند ضرب لگا رہی تھی۔خوف سے فائزہ کا حلق خشک پڑنے لگا تھا۔ حواس باختگی میں جلدی سے واپسی کے قدم اپنے کمرے کی جانب آٹھائے۔اگرچہ کسی اجنبی کا ہوسٹل میں داخل ہونا اتنا آسان نہیں تھا۔مگر یہاں تو لوگ چند روپوں کی خاطر ضمیر تک بیچنے کو راضی ہوجاتے ہیں،تو یہ تو پھر دشمن کی ایک چھوٹی سی مدد تھی۔یقیناً ہاسٹل کی انتظامیہ چند روپوں کے عوض بک چکی تھی۔۔۔ دماغ میں آتی سوچوں کے حصار میں فائزہ بھاگتے قدموں سے اپنے کمرے کی جانب ڈورئی تھی۔اپنی بیوقوفی میں وہ کمرے سے باہر تو نکل آئی تھی ۔مگر اب سمجھ نہیں آرہا تھا۔کہ آخر کرے تو کیا کرے؟ جبکہ وہ جو کوئی بھی شخصیت تھی۔اپنے وحشت ناک برتاؤ سے محض اسے ڈرانے کا کام کر رہی تھی۔وہ جیسے جیسے راہداری عبور کر رہی تھی۔قدموں کی آواز مزید نزدیک سے نزدیک تر آتی چلی جارہی تھی۔ فائزہ نے بھاگتے قدموں سے کمرے کے نزدیک پہنچ کر اپنی روم میٹ کو پُکارنا چاہا مگر وہ جو کوئی بھی تھا۔اس کے منہ پر کپڑہ رکھ کر اسے منٹوں میں ہوش و خرد سے بیگانا کر چکا تھا۔فائزہ کے نازک سے وجود کا بوجھ ایک دم ہی اس پر ڈھے سا گیا تھا۔ ’’اب دیکھتا ہوں ایس پی تم کیس کیسے ری اُوپن کرو گے۔اب بیچارہ ایس پی اپنی باقی کی عمر ثبوت ڈھونڈنے میں ہی گنوا دے گا۔۔چچچ۔‘‘سرخ رنگ آنکھوں میں شیطانیت لئےوہ وحشت سے مسکرایا۔کُھردری انگلیوں سے چہرے پر ہاتھ پھیر کر هلكی بڑھی ہوئی داڑھی کُھجانے کے انداز میں سہلائی تھی۔ایک نظر اپنے ہاتھ میں موجود بیہوش وجود پر ڈال کر سن سان پڑی طویل راہداری پر ایک نظر دوڑا کر نازک سے وجود کو پیٹھ پر آٹھاتا وہ جس طرح دیوار کے راستے وہاں آیا تھا۔اسی خاموشی سے اسی راستے سے فائزھ کو اپنے ساتھ لیے واپس لوٹ گیا تھا۔یقیناًصبح سویرے ملنے والی خبر ایس پی کے ہوش آڑادینے کے لیئے کافی تھی۔۔ ٍ____ ’کیا بکواس کر رہے ہو کتوں!!تم لوگوں کے وہاں پہنچنے سے پہلے اس لڑکی کو وہاں سے کس نے غائب کر دیا۔‘‘نادر سر جھکا کر کھڑے اپنے بندوں پر بُری طرح سے چنگھاڑا تھا۔ ’’باس ہمیں نہیں پتہ مگر!!!جب ہم ہاسٹل پہنچے وہ لڑکی پہلے ہی وہاں سے غائب تھی۔‘‘وہ سرجُھکا کر مودّب انداز میں دھیمی ندامت بھری آواز میں گویا ہوا۔ "ہوسٹل کی انتظامیہ ہمارے ساتھ ملی ہوئی تھی۔۔مگر پھر بھی نا جانے کیسے۔۔۔"وہ حیرانگی کے باعث لفظ آدھورے چھوڑ گیا تھا۔۔ "ناں ناں!!!!تم جیسے حرام خور۔ٹائیگر کے شاطر دماغ تک نہیں پہنچ سکتے۔اتنی خاموشی،اور دلیری سے یہ کام صرف ٹائیگر ہی کر سکتا ہے۔میرا پالتوں ٹائیگر۔۔۔آخر پروان کہاں چڑھا ہے۔۔۔نادر کے آڈے پر "وہ اپنی سوچ سے خود ہی محظوظ ہو کر خباثت سے مسکرایا تھا۔ "جہاں بڑے بڑے طرم خان،شاطر دماغ جنم لیتے ہیں۔یہ تو پھر میرا پالتوں ٹائیگر ہے۔نادر کی ملكيت۔۔۔میری مراث۔جس کی آتی جاتی سانسوں تک پر میری حکومت ہے۔"وہ دو انگلیوں کے بیچ دبے سگار سے ایک گہرا کش لگاتا۔مُسلسل مُسکرا رہا تھا۔۔ "کوئی بات نہیں ٹائیگر لے لے جتنی سانسیں اس کُھلی فضا میں لے سکتا ہے۔پھر تو تجھے میری ہی قید میں آنا ہے۔"وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ پاؤں ہوا میں جُھلاتا مُسرور کن مسکراہٹ سے بڑبڑآیا۔جبکہ وہاں موجود اس کے آدمیوں نے ناگواری سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔۔ یکا یک اچانک دماغ میں ایک شیطانیت سوچ در اتے ہی وہ مسکرایا۔۔ ’’آہاں !!!ٹائیگر چند دن اور تو اپنی محبوب کی ہمراہی میں یہ آنکھ مچولی کھیل لے۔پھر تو اور تیری محبوبہ دونوں ہی نادر کی قید میں ہونگی آنا تو میرے پاس ہی ہے نا۔ ‘‘سگار کا ایک مزید گہرا کش لگا کر وہ جیسے خوش ہوا تھا۔ٹائیگر کا یہ آنداز جانے کیوں اسے لطف دے رہا تھا۔جو وہ اب تک خاموشی سادھے بیٹھا تھا۔ورنہ ٹائیگر کی جو کمزوری اس کے ہاتھ میں تھی۔اس کا استعمال کرتے ہوئے تو وہ ایک منٹ میں اسے دنیا کے سامنے لانے کی دھمکی پر بلیک میل کر سکتا تھا۔مگر فی الحال وہ ٹائیگر کے پلٹ کے آجانے کے انتطار میں تھا۔۔کیونکہ اسی میں ہی اس کی بھلائی تھی۔۔ "چلو شکل گم کرو تم سب اپنی۔۔‘‘وہ ان بزدلوں کو ناکام مایوس لوٹ جانے کے باعث ان سب پر ڈھاڑا تھا۔وہ سارے لمحوں مین غائب ہوئے تھے۔۔ "بھاگ لے چیتے جتنا بھاگ سکتا۔۔منزل تو تیری پھر بھی نادر کا ہی آڈا ہے۔۔۔‘‘سگار کو جھاڑتا نادر اقصیٰ کے حسن کے آگے ٹائیگر کو گھٹنے ٹیک دینے پر شیطانیت سے مسکرایا۔۔ ___ اس وقت صبح کے سات بج رہے تھے۔جب وہ جوگنگ پر سے لوٹا تھا۔وہ ہشابشاش سا ابھی ناشتہ کے لئے بیٹھا ہی تھا۔کہ صبح سیف کو ملنے والی نیوز نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔سامنے چلتی ہیڈلائن سن ایک زبردست جھٹکا ہی تو لگا تھا۔موبائل چیک کیا۔جہاں کالز کا ایک انبار لگا ہوا تھا۔وہ کچھ پل تو بے یقینی سے کچھ بول ہی نہیں سکا تھا۔۔ لمحوں کے ہزارویں حصّہ میں وہ تن پر وردی ڈالتا ہوسٹل کے لئے کے لئے نکلا تھا۔پورے راستے ایک الگ ہی پریشانی نے اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔منہ پر ہاتھ کی مٹّھی جماۓ انجانے سے خدشوں میں گھیرا وہ فائزہ کے لئے پریشان تھا۔موبائل پر مختلف میسجز کی بھر مار ہوئی تھی۔جن میں فائزہ کے مطابق سوالات سے انباکس بھرا ہوا تھا۔کیس کی شنوائی قریب تھی۔ایسے میں فائزہ کے غائب ہو جانے کی خبر پر شک صرف ایک ہی جانب جا رہا تھا۔اور وہ تھا زوہان خٹک کا باپ۔یقیناً یہ کام اسی کا تھا۔۔ وہ ایک جھٹکے سے گاڑی روکتا ہاسٹل کی جانب بڑھا۔ہوسٹل کے باہر کھڑے میڈیا رپورٹر چیخ چیخ کر اس کی گُمشدگی کا اعلان کر رہے تھے۔وہ اپنی جانب بڑھتے تمام اینکرز کو نظر انداز کر گیا۔۔وہاں تفشیش کے لئے پہلے سے موجود اہلکار چوکس ہو کر سلوٹ مار کر اس کی جانب متوجہ ہوۓ۔۔۔
