Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 15
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/03/2026
0 Views
Episode No 15
دیتی اس کی ہمراہی میں قدم آگے بڑھا گئی۔ جبکہ پیچھے کھڑا زوہان ان دونوں کے نخرے پر ایک گہری سانس بھر کر کندھے آچکا کر گلاسز کالر میں آڑستا واپس ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان ہوگیا۔۔ "وہ دونوں ہاتھ پکڑے ہینڈ سم رکشے والے کی تلاش میں بہت آگے نکل آئی تھیں۔مگر شہر کے حالیہ حالات کے باعث تمام پبلک ٹرانسپورٹ شاید بند تھی۔ تیز چلتے ٹریفک میں وہ اب روڈ پار کرنے کے لئے کھڑی تھیں۔جبکہ شہر کی مین شاہرا پر بڑی گاڑیوں کا ایک حجوم آمڈ آیا تھا۔۔ "چل یار چلتے ہیں۔یہ ٹریفک نہیں تھمے گا۔ہمیں یونہی روڈ کراس کرنا پڑے گا۔۔"شائنہ نے پریشانی سے کہ کر قدم اٹھاۓ۔اب منظر کچھ یوں تھا کہ وہ دونوں روڈ کے بیچ و بیچ حواس باختہ سی کھڑی تھیں۔جبکہ تیز رفتار گاڑیاں اِرد گِرد سے بھاگتی چلی جا رہی تھیں۔۔ "اففف!!!وہ سامنے کی جانب قدم بڑھا ہی رہی تھیں۔کہ لیفٹ سائیڈ سے فراٹے بھرتی گاڑی اپنی جانب آتی دیکھ ان دونوں کی چیخیں فضا میں بلند ہوگئی۔منہ پر ہاتھ رکھ اپنی جانب سے بچاؤ کرتیں وہ وہیں ٹھرگئیں تھیں۔ مُقابل نے ایک جھٹکے سے گاڑی کو بریک مارا تھا۔جس کے باعث اس کا سر ڈیش بورڈ سے لگتے لگتے بچا تھا۔۔ " کون بیوقوف لوگ ہیں۔جنہیں سڑک پر چلنے کی تمیز نہیں مگر روڈوں پر نکل اتے ہیں۔۔"شاہزین غصّہ سے بڑبڑاتا ایک جھٹکے سے دروازہ کُھولتا۔ گاڑی سے باہر نکلا۔تیز ہوا کے باعث بال اور کپڑے دونوں ہی آڑنے سے لگے۔۔ "کیا بدتمیزی ہے یہ۔آپ لوگوں کو تمیز نہیں ہے روڈ پر چلنے کی۔"وہ ہوا کے باعث پھٹتی ہوئی تیز آواز میں گرجا۔۔ مقابل کھڑی زہرا اور شائنہ نے ایک جھٹکے سے رُخ اس کی جانب موڑکر،منہ پر سے دونوں ہاتھ ہٹاۓ۔ "شاہزین!!شاہزین پلیز ہمیں گھر چھوڑ دو۔۔"شائنہ زہرا کو نظر انداز کرتی۔اس کے نزدیک آئی۔جو اب پریشانی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ان دونوں کی ڈری سہمی شکلیں دیکھ غصّہ جھاگ کی مانند بیٹھ گیا تھا۔ "آپ دونوں ان حالات میں آج یونیورسٹی آئی ہی کیوں تھیں۔۔شہر کے حالات کس قدر خراب ہیں۔کچھ اندازہ بھی ہے۔آگے والے روڈ پر ٹرانسپورٹ مافیہ کے لوگ ہنگاما آرائی کر رہے ہیں۔یہ جگہ بالکل بھی سیف نہیں۔آپ دونوں جلدی سے گاڑی میں بیٹھیں۔۔"وہ اِرد گرد میں رش بڑھتا دیکھ۔تیز لہجے میں بولا۔۔ شائنہ زبردستی اس کا ہاتھ گھسیٹ کر لیجانے لگی۔جو مُسلسل نفی میں سر ہلاتی اسے باز رہنے کے لئے التجا کر رہی تھی۔۔ "محترمہ یہ نخرے بعد میں دکھالینا۔شام ہو رہی ہے۔یہاں کوئی گاڑی نہیں ملنے والی۔اور اگر کوئی گاڑی مل بھی گئی تو وہ بیچ راستے میں ہی چھوڑ کر چلا جائے گا۔"وہ مزاحمت کرتی زہرا کا ہاتھ زبردستی اپنے ہاتھ میں جکڑ کر ایک جھٹکے سے اپنی جانب کھینچتا گاڑی میں بیٹھا چکا تھا۔جو اچانک ہونے والی کروائی پر بوکھلا گئی تھی۔شاہزین نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر بیک ویو مرر سے اسے گھورا جو اب شرمنده سی ایک کونے میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔ "جلدی چلو شاہزین!!پہلے میرا گھر پڑے گا پھر زہرا کا۔۔۔"شائنہ موبائل پر انگلی پھیرتی پریشانی سے بول کر اطلاع دینے والے انداز میں بولی۔۔۔ _________ "چلو جی محترمہ تمہاری منزل تو آگئی۔"شاہزین نے شہر کی اولڈ بلڈنگ کے فلیٹ کے سامنے کار روک کر ٹہرے ہوۓ لہجے میں کہا۔۔ "اوہ تھنک یو سو مچ۔۔۔اگر آج تم ہمیں نا ملتے تو شاید ہم نے وہیں کہیں گاڑی سے ٹکرا کر مر جانا تھا۔"گاڑی سے اترنے سے پہلے وہ شرارت سے بولی۔جبکہ زہرا پریشانی سے اب بوکھلائی سی تھی۔۔ "میں بھی چلتی ہوں تمہارے ساتھ۔"وہ گڑبڑا کر بولی۔ "کیوں تمہارا گھر ابھی اتنی دور ہے۔میں نہیں جانے والی تمھیں گھر چھوڑنے۔"زین نے بیک ویو مرر سے اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھا۔ "لیکن میں۔" بیٹھ جاؤ یار۔زین کھا نہیں رہا تمھیں ۔باحفاظت گھر چھوڑ دو گے نا زین اس کو۔"اس نے کھڑی سے اندر سر ڈال کر استفسار کیا۔ "بالکل مجھے کوئی مسٔلہ نہیں۔"وہ مسکرا کر بولا۔۔ "اوکے۔۔۔اللّه حافظ۔۔۔وہ تیز ایکسپریس اپنے نام کے عین مطابق بھاگتی ڈورتی غائب ہوگئی۔۔ "معصوم تیز گام آگے جاؤ۔میں تمہارا ڈرائیور نہیں ہوں۔"وہ اپنی مخصوص ٹیون میں مزے سے بولا ۔۔ زہرا تذبذب کا شکار ہونٹ چباتی چارو نچار کار سے اُتر کر فرنٹ سیٹ کر آئی۔۔ "چلیں۔"ٹائیگر نے اُس کی شکل پر ہوائیآں آڑتی دیکھ بہت مشکل سے اپنی مسکراہٹ روکی۔۔ "ہا۔۔ہاں چلو۔"وہ مسُلسل گهبراہٹ کا شکار تھی۔ "ویسے اپنے گھر کا اڈریس تو بتا دو۔عینک والے جن کا بھوت تھوڑی ہوں میں۔جو جادو سے تمھیں گھر پہنچادوں گا۔"ونڈو پر کہنی ٹکاۓ۔ مٹھی بند کر کے لبو پر رکھتے وہ شرآرت سے گویا ہوا۔۔ "ہاں۔۔ہاں۔یہاں سے سیدھے جاکر لفٹ پھر رائٹ آپ مجھے بس وہیں اتار دینا باقی کا راستہ میں خود طے کرلوں گی۔"وہ ہچکچا کر بولی۔تو شاہزین نے کندھے اچکاۓ۔۔ "بس بس۔۔یہیں۔۔گاڑی روک دیں۔"اس نے رفتار آہستہ کی۔ "مگر ابھی تو تمہارا گھر دور ہے۔"زین نے تعجب سے پوچھا۔ "نہیں بس یہیں ٹھیک ہے۔"وہ جلدی سے اُترنے کے لئے پر طولنے لگی۔ "آرام سے بیٹھی رہو معصوم تیز گام ۔بھوت نہیں ہوں میں۔صبر کرو۔تمہاری بتائی گئی جگہ پر ہی اتاروں گا۔زین نے گاڑی ضرور سلو کی تھی۔مگر روکی نہیں۔جبکہ وہ دل ہی دل میں شائنہ پر لعنت بھیج رہی تھی۔جو اسے پھنسا کر خود چلی گئی تھی۔۔مطلب زہرا صاحبہ کو نیکی بھی بُری لگ رہی تھی۔ "بس اب جاؤ۔"کچھ دیر بعد اس کی بتائی جگہ پر کار روک گاڑی کر دروازہ ان لاک کرتے اسے اجازت دی۔زہرا جس تیزی سے گاڑی سے اتُری تھی۔اُس کی رفتار دیکھنے لائق تھی۔ "ویسے تم تیز ہونے کے ساتھ ساتھ خاصی بے مروت بھی ہو۔بندہ جھوٹے منہ شکریہ ہی بول دیتا ہے۔"زین کی تیز آواز پر اس کے بھاگتے قدموں کو بریک لگا۔۔ "اوہ سوری۔۔وہ میں بھول گئی۔بہت بہت شکریہ۔۔"سر پر ہاتھ مارکر لٹھ مارنے والے انداز میں گویا کاندھوں پر آجانے والا بوجھ پرے کیا۔ "شکریہ نہیں چاہیے میڈم۔۔اب میں اتنی دور سے تمھیں سہی سلامت گھر لے کر آیا ہوں تو اپنا نام تو بتاتی جاؤ۔۔"" زین نے آنکھوں میں شرارت سموۓ کہا۔جس کے ماتھے پر بل پڑگئے۔ "آپ نے مجھے گھر چھوڑا بہت شکریہ آپ کا۔میں ہر ایرے غیرے کو اپنا نام نہیں بتاتی پھرتی۔"انداز تخاطب خاصہ رُوکھا تھا۔۔ "ارے لڑکی کتنی مطلب پرست، احسان فراموش ہو تم۔اپنا مطلب نکلتے ہی آنکھیں ایسے پھیر رہی ہو۔جیسے کعبے پر سے بُت پھر گئے ہوں۔۔"وہ حیرت سے مُنہ کھولے تیز گام کی تیزیاں دیکھ رہا تھا۔۔ "اللّه حافظ!!"وہ مزید کچھ بھی سنے یا کہے بغیر تیزی سے چلتی بنی تھی۔جبکہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا شاہزین ہقا بقا رہ گیا تھا۔۔ ________ جاری ہے۔۔
