Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 15
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/03/2026
0 Views
Episode No 15
ہیں۔اور یہ رہا ثبوت۔"صفدر محمود ایک بار پھر کھڑا ہوا۔ "جج صاحب یہ میڈیکل رپورٹ زوہان خٹک کی ہے۔اس رات کی جس روز یہ حادثہ پیش آیا۔۔"اسسٹینٹ نے فائل لے کر جج کے سامنے پیش کی۔جبکہ فائزہ نے سیف کی جانب دیکھا۔جو اسے اطمینان رکھنے کا حوصلہ دے رہا تھا۔ "یور آنر!!جیسے کہ میرے فاضل دوست نے ابھی ثبوت پیش کیا کہ ملزم بے قصور ہے۔تواب میں ملزم زوہان خٹک کے خلاف آپ کے سامنے کچھ ثبوت پیش کرنا چاہوں گا۔" "اجازت ہے۔" "سر!!یہ آج سے تین سال قبل ہونے والے حادثے کی رپورٹ ہے۔ جس میں صاف الفاظ میں یہ بات واضح ہے کہ اس روز اگ شارٹ سرکٹ سے خود بخود نہیں لگی تھی۔بلکہ لگائی گئی تھی۔" "ابجیکشن یور آنر۔۔میرے فاضل دوست ناجانے کونسی دنیا میں جی رہے ہیں۔آج کل جھوٹی رپورٹ تیار کرنا کونسی بڑی بات ہے۔اور آپ کے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ یہ اگ میرے موکِل نے ہی لگوائی تھی۔یور آنر!!!یہ کام کسی تیسرے کا بھی تو ہو سکتا ہے۔"صفدر محمود نے طنزیہ مسکرا کر کوٹ جھٹکا۔اِن کا اعترض قابل غور تھا۔ "ابجیکشن سسٹینڈ۔" تھینکس یور آنر۔۔" "جج صاحب میں نے یہ کیس بَطور وکیلِ دو دن پہلے ہی لیا ہے۔میں اس کیس کے لئے مزید ثبوت اکھٹے کرنے کے لئے معزز عدالت سے مزید وقت دینے کی گزارش کرتا ہوں۔۔"شہروز ہمدانی نے جج صاحب کے عین سامنے آتے درخواست کی۔جو فائل کی نظر گردانی کر رہے تھے۔چند لمحے یونہی سرک گئے۔جب جج صاحب کی سپاٹ سی آواز کمرے عدالت میں گونجی۔۔ "یہ عدالت وکیل شہروز ہمدانی کی درخواست کو مدِنظر رکھتے ہوۓ۔انہیں مزید ثبوت اِکھٹے کرنے کے لئے پندرہ دن کا وقت فراہم کرتے ہوۓ مقدمے کی مزید کارروائی اگلی سماعت تک کے لئے ملتوی کرتی ہے۔۔ملزم کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوۓ۔ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ میں پولیس کی تحویل میں دیتی ہے۔" "عدالت برخواست ۔۔۔" جج صاحب سماعت کا اختتام کرتے ہوۓ کاغذات پر کچھ درج کر اٹھ کھڑے ہوۓ۔ ۔۔ جبکہ سیف نے سُکھ کا سانس لیا تھا۔جبکہ وہاب خٹک لب بھینچ کر رہ گیا۔زوہان کو پولیس کی حراست میں پھر ساتھ لے جایا گیا تھا۔۔ ________ عدالت کے باہر کھڑے سیف کے ساتھ کھڑی فائزہ کافی خوفزدہ نظر آرہی تھی۔آج عدالت کی کروائی میں فی الحال ان کا وکیل کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا تھا۔ "انہیں دیکھ چند میڈیا نمائندے ڈور کر ان کی جانب آۓ۔۔ "سر کیا آپ ہمیں بتائیں گے۔کہ عدالت نے زوہان خٹک پر لگاۓ گئے قتل کے مقدمے کا کیا فیصلہ کیا ہے۔کیا اس الزام کے مطابق اس گھر کو اگ لگانے میں واقعی زوہان خٹک کا ہاتھ تھا؟؟"ہاتھوں میں مائیک پکڑے،ان دونوں کو کیمرے کی آنکھ میں فوکس کئے۔وہ دھڑادھڑ سوالوں کی بارش کر چکے تھے۔ "فی الحال زوہان خٹک کو جوڈیشل ریمانڈ میں پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔جبکہ عدالت کی کروائی اگلی سماعت میں پندرہ روز تک کے لئے ملتوی کردی گئی ہے۔"سیف نے جواب دے کر قدم ایک جانب بڑھاۓ۔جبکہ وہاب خٹک سے چند مزید سوالات کرنے کے بعد اب سب سے پہلے خبر سے باخبر کرنے میں مصروف تھے۔۔۔ "ایس پی صاحب۔۔"عدالت کی سیڑھیاں اترتے سیف کے پاس قدم قدم چلتا وہ نزدیک آیا۔ "خاصے نامعقول ثابت ہوۓ ویسے لگتے تو نہیں۔اس کل کی لڑکی کی باتوں میں آکر۔ہم سے ٹکر لینے چلے ہو۔"وہ مسرور سا قہقاہ لگا اٹھا۔۔ "وہاب صاحب مت بھولیں۔ابھی آپ کا بیٹا پولیس کی حراست میں ہے۔آزاد نہیں ہوا۔اور فکر ناکریں۔ان شاءاللہ اس بار جلد سلاخوں کے پیچھے ہوگا۔"سیف کا مسکراتا لہجہ اسے اگ لگا گیا۔ "ایک بار میرا بیٹا۔اس چکر سے آزاد ہوجاۓ۔ دیکھ لونگا۔تم سب کو دیکھ لونگا۔۔"غصّہ اور طیش میں دھمکاتا وہ اپنی سیاہ چمچماتی ہوئی کار میں بیٹھتا وہاں سے نكلتا چلا گیا۔۔ _______ سیف ساتھ کھڑی فائزہ کی جانب پلٹا۔جو اچھا خاصا ڈسٹرب دیکھائی دے رہی تھی۔ "فائزہ آئے میں آپ کو ہاسٹل چھوڑ دوں۔"وہ فائزہ کو اپنے ساتھ لئے پولیس موبائل میں بیٹھا۔ "ایک بات پوچھوں۔"چادر کے ہالے میں لپٹے چہرے کا رخ موڑ کر اجازت چاہی۔ "هممم!!!وہ دوسری سوچوں میں ہی گُم تھا۔وہ اتنی جلدی فائزہ کو عدالت میں پیش کرنا نہیں چاہتا تھا۔مگر حالات ہی ایسے تھے۔کہ اِسے گواہ کے طور پر عدالت میں پیش کرنا پڑا تھا۔جو خود بھی ذہنی طور پر تیار نہیں تھی۔۔ "آپ میرا ساتھ کیوں دے رہے ہیں۔جبکہ آپ جانتے ہیں نا۔اس کیس میں آپ کی جان کو بھی خطرہ ہے۔"دماغ میں چلتے سوال کو لفظوں میں ڈھال کر پیش کیا۔ "ایک پولیس والے کو جان کا خطرہ کب نہیں ہوتا؟؟"اس نے ذرا سا رخ اس کی جانب کر واپس نگاہ روڈ پر مرکوز کی۔ "آپ کو کیا لگتا ہے۔اس بار یہ عدالت حق کا فیصلہ کرے گی۔یا ایک بار پھر ہم سسٹم کو برُا بھلا کہتے رہ جائیں گے۔"وہ تلخی سے بولی۔ ان شاءاللہ اللّه سے اچھے کی امید رکھو۔!!وہ مختصر سا جواب دے کر خاموش ہوگیا۔۔ فائزہ نے اس کے لہجے کا سرد پن محسوس کر پھر مزید کوئی سوال کرنے سے اجتناب ہی برتا۔۔ _______ یہ منظر ہے یونیورسٹی کے مین گیٹ کے باہر کا۔جہاں یونیورسٹی کی بلند و بالا عمارت کے عین نیچے شائنہ اور زہرا پریشان صورت بناۓ کھڑی تھیں۔ "یار ہمارے علاقے میں تو کوئی گاڑی جانے کو تیار ہی نہیں ہو رہی۔اُپر سے شہر کے حالات۔۔"زہرا بوکھلا کر اِرد گِرد میں نظر ڈالتی ہونٹ چباتی پریشانی سے بولی۔۔ "یار فکر نہیں کرو۔تھوڑا آگے چلتے ہیں۔کوئی نا کوئی مل ہی جائے گی۔۔"شائنہ نے تسلی بخش انداز میں جواب دے کر قدم آگے بڑھاۓ۔ "اچھا چلو۔"وہ بھی ہم قدم ہوئی۔۔ "یار اس رکشہ والے سے پوچھوں۔۔"شائنہ جو اُس کی جانب بڑھ ہی رہی تھی کہ زہرا نے ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا تھا۔۔ "کیوں کیا ہوا؟؟اس سے پوچھتے ہیں نا۔"وہ اس کے اچانک عمل پر حیران ہوئی۔ "نہیں یہ نہیں کوئی اور۔"وہ رکشے والے کا چرسیوں والا حُلیہ دیکھ منہ بنا کر بولی۔۔ "اوہ بھائی !!!تو اب تجھے کیا رکشہ والا بھی ہینڈسم چاہیے۔۔"شائنہ کا مُنہ حیرت کی زیادتی سے مزید کھُل گیا تھا۔جبکہ رکشے والا ابھی تک وہیں کھڑا حسرت بھری نگاہوں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ "نہیں!!مطلب یار پتہ نہیں مشکوک سا لگ رہا ہے۔"اس کے اپنے ہی تحفظات تھے۔ "چلو پھر پُل پار کر کے کسی ہینڈ سم سے رکشہ والے کو ڈھونڈتے ہیں۔۔"وہ شرارت سے ٹھنڈی آہ بھر کر بولی۔ وہ دونوں ابھی چل ہی رہی تھیں۔کہ ایک تیز رفتار کار عین ان کے پاؤں میں آکر چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ ٹھر گئی تھی۔۔ "آہ ہ ۔۔"وہ دونوں ہی حواس باختہ سی چیخ کر دو قدم پیچھے ہوئیں۔ "ارے میڈم کیا ہوا۔اس طرح چلا کیوں رہی ہیں۔"سامنے ہی آنکھوں پر سے سن گلاسز اتارتا وہ ہینڈسم سا لڑکا شوخی سے مسکراتا ان دونوں کے نزدیک آیا۔ "اففف!!!مسٹر یہ کیا طریقہ ہے۔آپ کا ہمیں اپنی گاڑی سے اڑانے کا ارادہ تھا کیا؟"شائنہ عادت کے مطابق کمر پر ہاتھ ٹکا کر خفگی سے بولی۔ "ہر گز نہیں۔میرا ارادہ تو آپ لوگوں کو آپ کی منزلِ مقصود تک پہنچانے کا تھا۔"موتیوں جیسے چمکتے دانتوں میں عنابی لب دبا کر وہ مخصوص انداز میں بولا۔۔ "بہت شکریہ!!ہم باز آۓ آپ کی دریا دلی سے۔"وہ رُخ پھیر گئیں۔۔ "سوچ لیں جناب۔۔ہم ہر کسی کو ایسی آفرز نہیں کرتے۔آپ ذرا خاص ہیں بس اسی لئے۔۔۔۔"وہ دو قدم نزدیک آتا سرگوشی میں بولا۔ "دور رہ کر بات کریں جناب۔۔ہمیں نہیں چاہیے آپ سے لفٹ۔چلو شائنہ!!!"زہرا ناگواری سے جواب
