Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 15
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/03/2026
0 Views
Episode No 15
دار قہقاہ لگا اٹھا۔۔ "جمال۔۔"اس نے شیطانی مسکراہٹ سے پُکارا۔۔ "یس باس۔۔"پاس کھڑا جمال پوری توجہ سے وہ ہم تن گوش ہوا۔۔ "ٹائیگر کی کمزوری کو ہمارے پاس لے اؤ۔۔جانتے ہو نا ٹائیگر کی کمزوری۔۔"وہ خباثت سے مسکراتا۔داڑھی سہلانے کے انداز میں سوالیہ آئی برو اٹھا کر بولا۔۔ "حکم۔۔"وہ حکم بجالانے والے انداز میں گویا ہوا۔۔ "اب دیکھتا ہوں ٹائیگر۔تو کب تک بل میں چھپ کر بیٹھتا ہے۔اب تو منظِر عام پر آنا ہی پڑے گا۔"شراب کا گلاس منہ سے لگاتا۔وہ سخت طیش میں تھا۔ٹائیگر کی غداری اِسے کسی صورت ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی۔۔ __________ کمرہِ عدالت میں خاصی گہما گہمی تھی۔جج کے عین سامنے کی صفت کی چند نشستوں پر ایک جانب فائزہ ،جبکہ دوسری جانب ملزم کی جانب سے وہاب خٹک اور چند ایک گواہاں موجود تھے۔ وہاب خٹک کی جانب سے کیا گیا وکیل "صفدر محمود" اور فائزہ کی جانب سے مقدمہ لڑنے کے لئے ہائر کیا گیا وکیل "شہروز ہمدانی" کمرہ عدالت میں وکلاء کے لئے موجود مخصوص نشستوں پر برآجمان مقدمہ لڑنے کے لئے مکمل تیار تھے۔جبکہ سینئر وکیل "صفدر محمود" خاصہ پرجوش نظر آرہا تھا۔ "عدالت کی کروائی شروع کی جائے۔"سیشین جج نے اپنے مخصوص پروٹوکول میں کمرے عدالت میں اپنی نِشست سنبھالنے کے بعد باآواز اجازت دی۔۔ "یور آنر!!میں عدالت کا وقت برباد کئے بغیر مدعا بیان کرنا چاہوں گا۔کہ جن دو لوگوں کے قتل کا الزام میرے موکِل پر لگایا جا رہا ہے۔وہ اپنے گھر میں پیش آنے والے ایک حادثے کے باعث جان کی بازی ہار گئے تھے۔مگر اب اچانک ناجانے کیوں "مرحومین" کی اُس حادثے کا شکار ہونے والی بیٹی تین سال بعد میرے موکل پر بے بنیاد قتل کا الزام لگا رہی ہیں۔۔جبکہ سچائی یہ ہے کہ میرے موکِل اس دوران لندن کے ہسپتال میں کومہ میں ہونے کے باعث زیِر علاج تھے۔تو اس حادثے کے پیچھے میرے موکل کی انولومنٹ ہونا ناممکن سی بات ہے۔۔"وکیل "صفدر محمود"نے دلائل کی روشنی میں اپنا مدعہ بیان کیا۔ "جج صاحب جیسے کے میرے فاضل دوست نے بتایا کہ اگ لگ جانے کا حادثہ پیش آیا تھا۔مگر زِیر غور بات یہ ہے کہ وہ اگ گھر میں شارٹ سرکٹ کے باعث خود نہیں لگی تھی۔بلکہ زوہان خٹک نے لگوائی گئی تھی۔ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت۔تاکہ اس میں میری موِکلہ کا پورا خاندان جل کر ختم ہوجاۓ۔"شہروز ہمدانی نے دلائل رد کیے۔ "جج صاحب شاید میرے فاضل دوست بھول رہے ہیں۔کہ یہ عدالت باتوں پر نہیں بلکہ ثبوتوں اور گواہوں پر چلتی ہے۔میں اپنے ساتھی وکیل سے اپنے موکِل کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش کرنے کی درخواست کرونگا۔"صفدر محمود نے تیز لہجے میں کہا۔جیسے یہ مقدمہ ایک ہی پیشی میں بھگتآنا چاہ رہا ہو۔ "جج صاحب اگر اجازت ہو ۔تو میں کٹہرے میں "مقتولین" کی بیٹی فائزہ کو گواہ کے طور پر کٹہرے میں بُلانا چاہوں گا۔جو خود اس "سوچی سمجھی سازش " کا شکار ہوئیں تھیں۔"وکیل شہروز ہمدانی نے کر اجازت چاہی۔ "اجازت ہے۔" اگلی نشستوں میں برآجمان فائزہ لرزتے قدموں سے جالی دار لکڑی کے بنے کٹہرے میں دو سیڑھیاں چڑھ کر آئی۔پولیس کی وردی میں موجود سیف مضطرب دکھائی دے رہا تھا۔کٹہرے میں کھڑا زوہان خٹک شولا بار نگاہوں سے اِسے دیکھ رہا تھا۔ "نام۔۔" "فائزہ۔" "پورا نام" "فائزہ شاہنواز" "کیا آپ عدالت کو بتا سکتی ہیں۔کہ جس روز آپ کے گھر میں اگ لگا کر ماں،باپ کو قتل کیا گیا ۔اس روز آپ کہاں تھیں۔"شہروز ہمدانی نے متوازن لہجے میں سوال کیا۔ "گھر میں تھی۔۔" "گھر میں کہاں پر تھیں؟"سوال بدل کر دہرآیا گیا۔ "آبجیکشن یورر آنر۔" " میرے فاضل دوست فضول کے سوال کر کے عدالت کا قیمتی وقت خراب کر رہے ہیں۔" "ابجیکشن اور رولڈ۔۔"ہٹھوڑا دیسک پر بجا کر اعترض مسترد کیا گیا۔ تھینکس مائی لارڈ۔" "جی مس فائزہ۔اس رات آپ کہاں تھیں۔" "اپنے کمرے میں موجود تھی۔صبح میرا کالج کا امتحان تھا اس کی تیاری کر رہی تھی۔" آپ اپنے کمرے میں تھیں۔پھر کیا ہوا۔کیا آپ کے گھر پر کسی نے حملہ کیا تھا۔آپ کو اگ لگ جانے کی خبر کیسے ہوئی۔اگ کیسے لگی تھی۔"اس رات کا منظر سوچ ریلنگ پر رکھے فائزہ کے ہاتھ کپکپانے لگے تھے۔نظروں کے سامنے وہ نقاب پوش گھوم گئے۔۔۔ "پتہ۔۔پتہ نہیں۔۔"اس کے جواب پر وکیل گڑبڑآیا۔ "ابجیکشن یور آنرر۔۔" جج صاحب یہاں بات ہی ختم ہوگئی۔جب ان محترمہ کو علم ہی نہیں کہ اس رات گھر میں اگ کیسے لگی تھی۔تو صاف ظاہر ہے۔یہ میرے موکِل پر جھوٹا الزام لگا رہی ہیں۔انہیں علم ہی نہیں کہ اس روز اگ کیسے لگی تھی۔مگر میں آپ کو بتاتا چلوں۔وہ اگ گھر میں ہو جانے والے ایک شارٹ سرکٹ کے باعث لگی تھی۔جس کا ہمیں بے حد افسوس ہے۔"صفدر محمود نے نشست چھوڑ کر تیز لہجے میں مداخلت کی۔ "ابجیکشن سسٹینڈ۔" اعترض بحال رکھا گیا۔شہروز فائزہ کو دیکھ کر رہ گیا۔ "جج صاحب اگر اجازت ہو تو میں محترمہ فائزہ سے کچھ سوالات کرنا چاہوں گا۔۔"صفدر صاحب نے اپنا کالا کوٹ جھٹک کر اجازت چاہی۔ "اجازت ہے۔" "جی محترمہ فائزہ۔۔۔میں آپ سے کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں۔جن کا جواب آپ مجھے بغیر کسی کے دباؤ میں آۓ بالکل درست دیں گی۔"صفدر محمود نے اس کی کپکپآتی حالت دیکھ شہروز ہمدانی پر طنزیہ نظر ڈال کر کہا۔اس نے محض سر ہلانے پر اتفاق کیا۔ "آپ کا کہنا ہے کہ آپ کے گھر میں جو تین سال قبل اگ لگی تھی۔وہ زوہان خٹک نے لگوائی تھی۔آخر آپ کس بنا پر میرے موکِل پر یہ الزام لگا رہی ہیں۔کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہے آپ کے پاس؟جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ وہ اگ واقعی زوہان خٹک نے لگوائی تھی۔"فائزہ نے ایک دم گڑبڑا کر نفی میں سر ہلایا۔عدالت کی سیڑھیاں چڑھنا جتنا آسان تھا۔سوالات کا جوابات دینا اتنا ہی مشکل۔۔ "جب آپ کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہی موجود نہیں ہے۔اور ناہی کوئی گواہ۔تو آخر آپ کس بنا پر آپ میرے موکِل پر قتل کا الزام لگا رہی ہیں۔"وہ سخت لہجے میں بولا۔۔ "ابجیکشین یور آنر!! میرے فاضل دوست میری موکلِہ سے سوالات کی آڑ میں انہیں ذہنی دباؤ کا شکار کر رہے ہیں۔" "ابجیکشین اوررولڈ۔"شہروز لب بھینچ کر رہ گیا۔ "تھینکس یور آنرر۔" "جج صاحب جیسے کے میں پہلے ہی کہ چکا ہوں۔کہ یہاں صرف عدالت کا قیمتی وقت برباد کیا جارہا ہے۔اور کچھ نہیں۔میں معزز عدالت سے گزارش کرونگا۔کہ میرے موکِل پر کوئی بھی الزام مکمل ثبوت کی بنا پر سچ ثابت نا ہونے کی صورت میں،زوہان خٹک کوضمانت پر رہا کیا جائے۔"صفدر محمود ایک قابل سینئر وکیل تھا۔جو بڑے بڑے سیاستدانوں یا پھر بزنس مینز کے ہی مقدمات لڑا کرتا تھا۔۔ "جج صاحب عدالت کی کروائی مزید آگے بڑھنے سے پہلے میں ملزم زوہان خٹک سے کچھ سوالات کرنا چاہوں گا۔"شہروز فوری اپنی نشست چھوڑ کر کھڑا ہوا۔ "اجازت ہے۔" "زوہان خٹک۔" کیا آپ انہیں جانتے ہیں؟" شہروز نے نے کٹہرے کے قریب آکر فائزہ کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ سوال کیا۔ "نہیں۔"اس نے یک لفظی جواب دیا۔ "فائزہ کیا آپ انہیں جانتی ہیں۔"اب کے اس نے فائزہ کو مخاطب کیا۔ "جی یہ میرے خاندان کا قاتل ہے۔"اب کے فائزہ نے مضبوط لہجے میں دانت کچکچا کر نفرت سے کہا۔ "جج صاحب مجھ پر لگایا گیا الزام سراسر غلط ہے۔جھوٹا ہے۔میں تو ان محترمہ کو جانتا بھی نہیں۔اور اس روز تو میں کومہ میں لندن کے ہسپتال میں زِیر علاج تھا۔تو بھلا اس قتل کے پیچھے میرا ہاتھ کیسے ہوسکتا ہے۔۔"زوہان نے مزید کچھ بھی سننے بغیر فوری اپنی صفائی پیش کی۔ "جج صاحب میرے موکِل بالکل درست فرمارہے
