Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 15
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/03/2026
0 Views
Episode No 15
#محبت_بازیِ_آخر #ہما_قریشی #قسط_نمبر_15 _______ فوری گرفتاری کے بعد ملزم زوہان خٹک کو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔جس میں عدالت نے ملزم سے مکمل تفشیش کرنے کے لئے اسے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا تھا۔زوہان پچھلے تین دن سے پولیس کی حراست میں تھا۔مگر تفشیش کے دوران اس کا ایک ہی جواب تھا کہ اس پر لگایا گیا قتل کا الزام جھوٹا ہے۔وہ بے قصور ہے۔جبکہ وہاب خٹک نے آیڑھی چوٹی کا زور لگا ڈالا تھا۔کہ کسی بھی طرح ضمانت منظور ہو جائے۔مگر قتل کے کیس میں گرفتار کئے جانے والے ملزمان کی ضمانت کی منظوری ذرا مشکل ہوتی ہے۔۔۔ "زوہان خٹک۔کیا حال ہیں۔"تفشیشی کمرے میں داخل ہوتا سیف زوہان کے سامنے کرسی ڈال کر بیٹھتا،بہت ہی اطمینان سے بولا۔ "ایس پی پھر آگے۔کیوں اپنا اور میرا وقت خراب کر رہے ہو۔"تین دن سے تفشیش کے لئے پوچھے گئے سوالوں سے تنگ وہ ناگوار لہجے میں پُھنکارا۔۔ "بالکل سہی۔زوہان خٹک تم میرا اور اپنا وقت برباد کر رہے ہو۔سچ بول دو۔اور قصّہ ختم کرو۔ اس روز شائنہ پر گولی تم نے چلائی تھی؟؟اپنا سچّا بیان ریکارڈ کروادو۔اور کھیل ختم۔"سیف کی برجستہ کہی جانے والی بات پر زوہان ایک زور دار قہقاہ لگا اٹھا۔۔ "ایک منٹ۔۔۔ایک منٹ ایس پی۔مجھ پر شائنہ کے قتل کا الزام نہیں ہے۔اس کیس سے میں کئی سال پہلے باعزّت طور پر بری الزم ہو چکا ہوں۔مجھ پر مقدمہ کسی بڑھیااور بڈھّے کو جلا کر مارنے کاہے۔"وہ مُسلسل مسکراتا۔سیف کا ضبط آزما رہا تھا۔ "بالکل صحیح کہا تم نے۔مگر چلو کوئی بات نہیں۔اس بار شائنہ قتل کیس بھی کھلوالیں گے۔۔"سیف نے مشکل سے خود پر ضبط کیا۔ "ہواؤں میں آڑنے کی ضرورت نہیں ایس پی۔صرف ایک دن اور پھر میں یہاں سے باہر۔اور تم وردی والے ہمیشہ کی طرح ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے۔۔"وہ معنی خیزی سے مسکرایا۔۔سیف نے بے ساختہ کھڑے ہو کر،اس کے بالوں کو مٹھّی میں جکڑ کر ٹیبل پر مارا تھا۔ "جو کچھ پچھلی بار ہوا تھا نا۔یاد رکھنا اب ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔کیونکہ اس بار یہ کیس حالات کا مارا شخص نہیں۔بلکہ ایس پی سیف لڑرہا ہے۔اور مجرم کو سلاخوں کے پیچھے کیسے ڈالنا ہے۔یہ میں خوب جانتا ہوں۔"وہ اس کہ چہرے کے قریب منہ لاتا۔تیز آواز میں دهاڑا۔۔ "زوہان خٹک بتاؤ۔اس رات گھر میں اگ تم نے لگوائی تھی یا نہیں؟؟"وہ خود پر کنٹرول کرتا مدعے پر آیا۔ "کتنی بار بتاؤں ایس پی۔۔جس روز کا تم حوالہ دے رہے ہو۔میں اس روز لندن کے ہسپتال میں زِیر علاج تھا۔۔"اس نے اپنا مخصوص جواب دہرآیا۔۔ "مطلب تم منہ نہیں کھولو گے۔"سیف کادماغ گُھوم رہا تھا۔ "بتا تو دیا ایس پی!!!یہ ایک سازش ہے۔زوہان خٹک جیسے باعزت شہری کو اس جھوٹے قتل کے مقدمے میں پھنسایا جارہا ہے۔۔" "تو اپنی نا نا کی گردان جاری رکھ۔اس مرتبہ منہ تو کیا تیرا باپ بھی کھولے گا۔چل کوئی بات نہیں۔۔۔۔میں بھی دیکھتا ہوں۔اس بار تیرا باپ کب تک اور کہاں تک اپنی سورس لڑاتا ہے۔۔"وہ تنفر میں اس کا سر ایک بار پھر سے ٹیبل پر مارتا ہوا وہاں سے نكلتا چلا گیا۔اگلے دن عدالت میں اس کیس کی شنوآئی تھی۔جس میں عدالت میں اِیسے بھی پیش کرنا تھا۔۔ ________ "ٹائیگر!!"عادل پھولے تنفس کے ساتھ اِسے ڈھونڈتا ہوا وہاں آیا تھا۔ٹائیگر جو دریا کہ کنارے پتھر پر بیٹھا سيگرٹ پھونکنے میں مصروف تھا۔چونک کر متوجہ ہوا۔ "آج اس کیس کی شنوائی ہے۔اور وہ کیس کوئی لڑکی لڑرہی ہے۔مگر کون؟؟"چھوٹا دھونکی کی طرح بجتی سانسوں پر قابوں کرتا حیرانگی سے بولا۔۔ "ٹائیگر کی آنکھیں ضبط سے سرخ پڑگئیں تھیں۔دل چاہ رہا تھا۔دنیا کو اگ لگا ڈالے یا پھر اس سالے ایس پی کو جہنم رسید کر ڈالے۔جو فضول میں گڑھّے مردے اُکھیڑ رہا تھا۔۔ "تو کچھ بول کیوں نہیں رہا۔تو نے کہا تھا کہ میں ساری تفصیل نکال لوں۔کام ہوگیا۔مگر فائزہ نامی لڑکی کے پیچھے وہاب خٹک کے ساتھ ساتھ اب نادر کی بھی نظریں ہیں۔"سوچ سوچ کر عادل کا دماغ گھوم رہا تھا۔ "رپورٹر کہاں ہے؟؟"وہ پتھر پر سے چھلانگ لگانے والے انداز میں اُترتا۔نارمل انداز میں بولا۔۔ "ہٹ میں ہی ہے یار وہ۔میں نے سمجھا دیا ہے۔اب کہیں نہیں جائے گی۔"وہ اپنی بات نظر اندز کرجانے پر بے زاری سے بولا۔۔ "تمیز سے بات کر،اگر میں تجھ سے نرمی برت رہا ہوں۔تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے۔تو میرے سر پر چڑھ جائے۔۔"وہ ناگواری سے سرد لہجے میں بولا۔۔۔ "مرضی ہے تیری۔۔۔"عادل رُوکھے سے لہجے میں بول کر واپس پلٹ گیا۔جبکہ وہ اس کی پشت تکتا رہ گیا۔اب ناجانے آونٹ کس کروٹ بیٹھنا تھا۔۔ ______ آج عدالت میں زوہان خٹک کے خلاف دائر ہونے والے مقدمے کی شنوائی تھی۔وہاب خٹک کی جان توڑ کوششوں کے بعد بھی فی الحال وہ ضمانت کروانے میں ناکام رہا تھا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے چار دن گزر گئے تھے۔۔ عدالت کے باہر سینکڑوں میڈیا کے نمائندے اور وکلاء کے گھیرے کو چیرتا سیف ، پولیس کی وردی ملبوس فائزہ کی ہمرآہی میں عدالت کی سیڑھیاں چڑھاتھا۔ "سر!!کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں۔کہ زوہان خٹک پر قتل کا الزام کیوں لگایا جا رہا ہے؟کیا واقعی اس حادثے کے پیچھے زوہان خٹک کا ہاتھ ہے۔آخر مقتولین کے گھر والوں کا مقصد کیا ہے۔کیا یہ وہاب خٹک کے بیٹے کے خلاف کوئی نئی سازش ہے یا پھر یہ قتل کا الزام سچّا ہے۔"سیف کے ہمراہی میں ایک خوبصورت سی باحجاب لڑکی کو عدالت کی سیڑھیاں چڑھتا دیکھ،چند رپورٹر ڈور کر اس کی جانب آۓ تھے۔جبکہ فائزہ نامحسوس انداز میں پیچھے ہوگئی تھی۔۔ "آج اس کیس کی شنوائی ہے۔زوہان خٹک کے خلاف دائر ہونے والا مقدمہ جھوٹا ہے یا سچّا اس کا فیصلہ جلد آپ کے سامنے ہوگا۔"سیف سامنے سے پولیس کی حراست میں ساتھ آتے زوہان خٹک کو نفرت بھری نگاہوں سے دیکھتا۔سخت لہجے میں بولا۔۔ "سر!!سر کیا ہمیں بتا سکتے ہیں کہ آپ کا مقتولین سے کیا رشتہ ہے۔جہاں تک ہمیں خبر ملی ہے۔اس کیس میں مقتولین کی بیٹی فائزہ کو آپ کی ذاتی مدد میسر ہے۔۔"ایک میل رپورٹر نے مزید سوال کیا۔جبکہ سیف کی سپاٹ نظریں سامنے سے قریب آتے زوہان پر تھیں۔جو اس نہج پر ہوجانے کے بعد ہی فتح مندی سے مسکرا رہا تھا۔۔ جبکہ اس بار سیف مزید کوئی بھی سوال کا جواب دے۔آگے بڑھ گیا۔فائزہ نے ایک نظر اٹھا کر سامنے ڈالی۔اور بس یہیں اس کا سانس خشک ہوگیا تھا۔انصاف کی خاطر وہ عدالت کی سیڑھیاں چڑھ تو گئی تھی۔مگر پاؤں ہزار بار ڈگمگاۓ ضرور۔ عدالت کی سیڑھیاں چڑھنے سے پہلے عزت دار خاندان کی لڑکی قدم رکھنے سے پہلے ہزار بار سوچتی ہے۔چونکہ یہاں انصاف کی بھیک مانگتے مانگتے عمریں بیت جاتی ہیں ۔مگر انصاف کی کشکول خالی ہی رہ جاتی ہے۔۔ ________ "یہاں آپ کو ایک بار پھر اہم خبر سے باخبر کرتے چلیں کہ آج زوہان خٹک کے خلاف درج ہونے والے کیس کی شنوائی ہے۔۔کیا قاتل مشہور بزنس مین کا بیٹا وہاب خٹک ہی ہے یا پھر کوئی اور۔"جاننے کے لئے ہمارے ساتھ ہی جڑے رہیے۔ملتے ہیں ایک۔۔۔۔۔۔"ٹائیگر نے ہاتھ میں پکڑا ریموٹ طیش میں آکر خود سے دور پھینک دیا تھا۔جبکہ چہرہ ذلّت اور رسوائی کے باعث لال انگارا ہو رہا تھا۔۔۔ "تمہارا کچھ تو انتظام کرنا پڑے گا ایس پی۔۔"وہ جبڑے بھینچ کر اپنا ماتھا بجا کر خود ساختہ بڑبڑآیا۔مگر ٹائیگر کو جو نام سب سے زیادہ کھٹک رہا تھا۔وہ تھا فائزہ۔۔۔۔۔۔۔ _______ "ٹائیگر کی کمزوری۔۔۔ ٹائیگر کی ایک اور کمزوری۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔" اپنے گھر کے ٹی لاؤنج میں کروفر سے برآجمان نادر میڈیا پر گردش کرتیں۔تازہ ترین خبریں دیکھ۔ایک زور
