Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode no 14
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/03/2026
0 Views
Episode no 14
دروازہ میں استاذہ کھڑے ٹائیگر سے جا ملی تھی۔جو دو گھنٹے باہر سيگرٹ پھونکنے کے بعد صبح کے دلفریب منظر سے نظریں چراتاہٹ کے اندر داخل ہوا تھا۔اور اب غصّہ سے اسے ہی گھور رہا تھا۔جو اس کا سکون غارت کر مزے آرام فرما رہی تھی۔ "مجھے یقین ہے کہ اب تمہارا یہاں سے بھاگ جانے کا شوق ضرور پورا ہوگیا ہوگا کیوں رپورٹر؟؟"ٹائیگر سرد سپاٹ انداز میں آئی برو اٹھا کر سوالیہ انداز میں پوچھتا اس کے مقابل آیا تھا۔ٹائیگر کی تیز آواز پر کچی نیند سے بیدار ہوتا عادل بھی اٹھ بیٹھا تھا۔۔ اقصیٰ تھوک نگل کر کھڑی ہوگئی تھی۔اسے ڈر تھا کہ شاید اس کی اس غلطی کے بعد ٹائیگر اس کی جان نہیں بخشے گا۔ "وہ میں۔۔۔"سہمی سی اقصیٰ سے اگئے کچھ بولا ہی نہیں گیا تھا۔جبکہ وہ جو اتنی دیر سے خود پر ضبط کئے کھڑا تھا۔اس کا دماغ ایک دم گُھوما تھا۔ "منع کیاتھا نا کہ اس گھر سے قدم باہر مت نکالنا۔ایک سیدھی سی بات تمہارے دماغ میں بیٹھتی کیوں نہیں ہے۔۔"وہ اس کا نازک سا بازو اپنی مضبوط انگلیوں کی پکڑ میں جکڑ کر غصہ کی زیادتی سے شدّت سے منہ پر غرایا تھا۔چھوٹا ڈور کر باہر آیا تھا۔۔ "ٹائیگر یار چھوڑ دے۔وہ ڈری ہوئی ہے۔۔۔"چھوٹے نے اقصیٰ کو خوف سے کپکپاتا دیکھ،مداخلت کی جو کچھ دیر قبل پیش آنے والے حادثے کے باعث اب تک خوفزدہ سی تھی۔۔ "یہ دیکھو۔میرے جوڑے ہوۓ ہاتھ۔جانے دو مجھے یہاں سے۔"آنکھوں میں آنسو لئے۔وہ پہلی بار خود کو اس قدر ازیت میں محسوس کر رہی تھی۔۔ "بات سنو رپورٹر!!!مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمھیں اپنے پاس رکھنے کا۔اور ناہی مجھے تمہاری ان کُھوکھلی دھمکیوں کا ڈر ہے۔مگر ایک بات بتاؤ۔ جاؤگی کہاں؟؟ہاں؟ایسا کونسا گھر ہے تمہارا دنیا میں جہاں کوئی تمھیں عزت سے ایک رات کی بھی پناہ دے سکے۔"وہ آنکھیں میچ کر اپنے غصّیلے جذبات پر قابوں کر ٹھنڈے سرد لہجے میں بولا۔۔ کپکپاتے لبو پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہچکیوں کا گلا گھونٹتی اقصیٰ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر سسک اٹھی تھی۔۔ "کیوں برباد کی تم نے میری زندگی؟آخر میں نے تمہارا بگاڑا کیا تھا؟تمہاری وجہ سے میرے"ماں "باپ"اس دنیا سے چلے گئے۔کیا تمھیں میرے نقصان کا ذرا بھی اندازہ ہے۔کیا واپس لا سکتے ہو میرے والدین کو۔۔"وہ بے ساختہ ہی اس کا گریبان اپنے ہاتھوں کی مٹھی میں جکڑتی تکلیف سے سرخ پڑتی آنکھوں میں بے بسی لئے چیخی تھی۔۔ "ہاں!!!!!نہیں لا سکتا تمہارے والدین کو واپس۔کچھ نہیں کر سکتامیں،کیونکہ میں ایک بہت بُرا آدمی ہوں۔اور مجھ سے بھی زیادہ بُری یہ دنیا ہے جو اب تمھیں چین کی سانسیں نہیں لینے دے گی۔اکیلا سمجھ کر روند ڈالیں گے تمھیں۔جو عزت تم میری وجہ سے اس معاشرے میں گنوا چکی ہو۔وہ واپس نہیں دلا سکتا۔مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ طیش اور جذبات میں بولتا بولتا۔چونک کر ٹھر گیا تھا۔جبکہ چند لمحوں کہ لئے ٹھر تو اقصیٰ بھی گئی تھی۔۔وہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔جبکہ چھوٹا بلکل خاموش کھڑا تھا۔۔ "یہیں۔۔یہیں رہو۔۔۔۔میں تمھیں آزاد نہیں کر سکتا۔۔۔"وہ گهبراہٹ میں الٹے سیدھے الفاظ بول کر وہاں سے نكلتا چلا گیا۔۔ اقصیٰ جو لمحوں کے لئے ٹھر گئی تھی۔اپنی بے بسی پر زمین پر بیٹھتی اونچی اونچی آواز میں بین کرنے لگی تھی۔سہی تو کہ رہا تھا وہ آخر اس کا کوئی گھر رہا کہاں تھا اب جہاں وہ عزت سے اپنا سر چھپا سکتی۔جبکہ عادل اس کی حالت پر افسوس کرتا خاموش کھڑا تھا۔اپنے مفاد کے چکر میں وہ برائی میں اس قدر دھنستے چلے جائیں گے۔اس بات کا تو انہیں ذرا بھی اندازہ نہیں تھا۔اس کا دل چاہا اپنے بال نوچ ڈالے یا پھر ٹائیگر کے جس نے بگڑی صورتحال مزید بگاڑ کر رکھ دی تھیں۔۔ ________ بزنس ڈیپارٹمنٹ کے پاس زوہان کے ساتھ کھڑے شاہزین کی نظریں سامنے بیٹھی لڑکی پر ہی تھیں۔جو شاید نہیں یقیناً وہ تیز گام ہی تھی۔جواپنی جیسی کسی لڑکی کے ساتھ نظریں نیچے کئے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی سیکنڈ فلور پر جا رہی تھی۔۔۔ "یار شاہزین۔۔۔بھائی اِدھر اِدھر ہوں میں کہاں دیکھ رہا ہے۔۔"زوہان نے اس کی توجہ کہیں اور مرکوز دیکھ توجہ دلوائی۔۔ "ہاں ہاں!!بول یار سن رہا ہوں میں۔۔"وہ چونک کر سنبھلا۔۔ "ہاں دیکھ رہا ہوں میں بیٹا۔یہ آج کل تیرے کان اور آنکھیں کہاں چل رہی ہیں۔۔"وہ شرارت سے آنکھیں گُھما کر بولا۔تو وہ کھسیا کر مسکرایا۔ "ایسا کچھ نہیں جیسا تو سمجھ رہا ہے۔"اس نے زوہان کی گردن دبوچ کر کہا۔ "کیسا سمجھ رہا ہوں میں ۔میں نے تو کچھ کہا ہی نہیں۔"اس نے معنی خیزی سے آنکھیں گھمائیں۔۔ "اچھی بات ہے۔خیر تو بیٹھ میں بس یوں گیا اور یوں واپس آیا۔"وہ مسکرا کر اپنا بیگ سنبھالتا وہاں سے اٹھ کر بزنس ڈیپارٹمنٹ کے سیکنڈ فلور پر سیڑھیوں سے جانے کے بجاۓ لفٹ سے اُپر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ پیچھے کھڑا زوہان محض مسکرا کر رہ گیا تھا۔ "ہیلو!!!تیز گام کہاں بھاگی چلی جا رہی ہو۔۔"وہ ڈور کر آتا ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔وہ بوکھلا کر سیدھی ہوئی۔ "آپ کی تعریف؟"شائنہ نظریں سمیٹ کر سوالیہ انداز میں بولی۔ "اب بندا نا چیز اپنی کیا تعریف کرے۔تعریف تو اس خدا کی جس نے مجھے جیسے ہینڈسم اور آپ جیسی حسیناؤں کو تخليق کیا۔"وہ عادت کے مطابق باتوں کو طول دیتا شرآرت سے گویا ہوا۔ "ہاہاہا بہت خوب۔"وہ طنزیہ تعریفی اندز میں کہ کر مسکرائی۔۔ "ارے جناب خوب اور خواب کو گولی مارئیے۔اپنی تیز گام دوست سے بولیں کہ ذرا اپنے تعارف وغیرہ کے مراحل طے کر ہمارے ساتھ دوستی کرلیجیے۔یقین کیجئے شاہزین کی دوستی پر آپ پر پوری یونیورسٹی ناز کرئے گی۔"وہ ساتھ ساتھ قدم ملاتا مزید شوخی سے بولا۔جبکہ ساتھ چلتی معصوم تیز گام بلکل خاموش تھی۔ "ہیلو مسٹر اپنے منہ میاں مٹھو۔بہت ہوگئیں تعریفیں۔جائیے اپنا راستے لیجئے۔"شائنہ نے دو باتوں میں اس کی طبیعت صاف کی۔ "اوہ ہیلو مس آپ سے کون اپنا تعارف کروانے کا خواہش مند ہے۔میں تو اس پیاری سی لڑکی کا نام جاننا چاہتا ہوں۔جو خود تو معصوم تیز گام ہے مگر ساتھ تم جیسی پٹاخہ ایکسپریس کو ساتھ لئے گھوم رہی ہے۔"شاہزین کم تھا کیا اسی کے انداز میں اس کی خوش فہمی دور کی۔ "کیا کیا کہا تم نے۔"اس کا منہ اپنے لئے ادا ہونے والے تعریفی کلمات پر حیرت کی زیادتی سے کھل گیا تھا۔ "کچھ نہیں کہا۔منہ بندھ کرلو کرونہ وائرس منہ میں چلا جائے گا۔"وہ مسکراہٹ لبو میں دبا کر شرآرت سے بولتا،مکمل طور پر اُس کی جانب متوجہ ہوا۔ "معصوم تیز گام اتنی معصوم ہوکر اتنی تیز طرار دوست۔غلط بات!!تم جیسی معصوم کی دوستی میرے جیسے معصوم بی با بچے کے ساتھ ہی جچے گی۔۔"وہ مخصوص انداز میں بالوں میں ہاتھ پھیر کر سٹائل مار کر بولا۔ "دیکھیں۔میں یہاں پڑھنے آئی ہوں۔دوستیاں کرنے نہیں۔بہتر یہی ہے کہ آپ مجھ سے فاصلے پر رہیں۔"کافی دیر سے خاموشی سے ساتھ چلتی وہ سخت لہجے میں بولتی اپنی مطلوبہ کلاس میں چلی گئی۔جبکہ وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔۔ "باۓ باۓ ہینڈسم۔۔"شائنہ شرارت سے مسکراتی اس کے پیچھے ہی کلاس میں چلی گئی۔جبکہ شاہزین نے پٹاخہ ایکسپریس کی تیز طراریوں پر آنکھیں گُھمائیں۔۔ "کوئی بات نہیں معصوم تیز گام۔اگلے چار سال تک تم نے یہیں رہنا ہے۔تم سے دوستی پھر کبھی۔۔"وہ مُسکرا کر بالوں میں ہاتھ پھیر کر خود کو تسلی دلواتا زوہان کی جانب بڑھا۔جو اس کی تلاش میں وہیں اگیا تھا۔۔ _______ جاری ہے بہت ہی مودبانہ انداز میں خاموش عوام سے خاموشی توڑنے کی اپیل کی جاتی ہے🤭😛
