Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode no 14
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/03/2026
0 Views
Episode no 14
کر نظروں کا رخ پھیرا تو نظر سیدھی سامنے سرخ آنکھوں والے آدم خور کتّے سے جاملی تھی۔جس کی صرف آنکھیں ہی رات کی تاریکی میں چمک رہی تھیں۔ سامنے زبان باہر نکال کر خود کو للچائی شکاری نظروں سے گھورتے کتے کو دیکھ اقصیٰ کا اُپر کا سانس اپُر اور نیچے کا نیچے ہی رہ گیا تھا۔وہ گھبرا کر تیزی سے اٹھی تھی۔کتا ایک دم اس پر جھپٹنے کو تھا۔مگر اقصیٰ اپنے جسم کا کوئی حصّہ اس کہ منہ سے لگنے سے پہلے ہی پوری رفتار سے مخالف سمت میں ڈور پڑی تھی۔گنجان جنگل میں وہ جتنی تیز رفتاری سے ڈورئی تھی شاید ہی وہ کبھی عام حالات میں اتنی رفتار سے ڈور سکتی۔موت کا خوف انسان سے سب کرواگزرتا ہے۔ایک کی جگہ اب بہت سے کتوں کی آوازیں ِآرہی تھیں۔اسے محسوس ہو رہا تھا۔جیسے شکاری کتوں کا پورا جُھنڈ اس کے پیچھے آرہا ہو۔سنسان سی آبادی والے حصّہ سے کافی مسافت پر جنگل میں اب صرف کتوں کی غرانے کی آوازیں تھیں۔جبکہ اقصیٰ کی تو خوف سے آواز ہی حلق میں دب کر رہ گئی تھی۔ ہانپتی کانپتی وہ ناجانے کہاں سے کہاں نکل آئی تھی۔پھولے تنفس کو بحال کرنے کی خاطر وہ ڈر سے کپکپاتی ایک پیڑ کی آڑ میں سانس روک کر کھڑی ہوگئی تھی۔مگر بگڑے تنفس پر قابوں کرنا اتنا بھی آسان نہیں تھا۔تیز سانس اور دھک دھک کرتے دل کی آواز اسے اپنے کانوں میں محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ آدم خور کتوں کی غو غو قریب ہی محسوس ہو رہی تھی۔جو اُسے سُونگھ کر تلاش کرنے میں مصروف تھے۔اقصیٰ کی آنکھیں وحشت سے پھیل گئی تھیں۔سمجھ نہیں آرہا تھا آخر کرے تو کیا کرے۔ آنکھیں میچ کر دھڑکتے دل اور لرزتے پاؤں پر قابوں کر وہ اللّه کا نام لے کر آہستہ سے قدم اٹھاتی دوسری سمت کی جھاڑیوں کی جانب بڑھنے لگی تھی۔ بنا موڑے وہ وہاں سے بہت اگے نکل آئی تھی۔مگر کتوں کے جُھنڈ کی آواز ابھی بھی قریب ہی لگ رہی تھی۔۔۔اب اس میں ہمّت نہیں تھی کہ وہ ایک قدم بھی اٹھا سکتی۔بے بسی سے لرزتی کانپتی وہ وہیں سمٹ کر اپنی گُھٹی گُھٹی سسکیوں کا گلا گھونٹے لگی تھی۔چارو جانب صرف موت ہی موت نظر آرہی تھی۔زندگی کا باب ختم ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ "اقصیٰ۔۔۔"تھکے اعصابوں کے باعث آنکھیں بند ہونے لگی تھی۔جب کہیں دور سے اسے اپنے نام کی پُکار سنائی دی تھی۔۔ اقصیٰ کا حلق خشک پڑگیا تھا۔ایک لمحے کو آواز لگانی چاہی تھی۔مگر لفظ لبو سے آزاد ہونے قبل ہی دم توڑ گئے تھے۔۔ آواز جانی پہچانی سے محسوس ہو رہی تھی۔اور کوئی مُسلسل اس کہ نام کی گردان پر شدّت سے اِسے پُکار رہا تھا۔ اقصیٰ نے پیڑ کے سہارے کھڑا ہونا چاہا۔مگر لڑکھڑا کر واپس وہیں گرپڑی۔۔۔ ایک بار پھر ہمّت پکڑی مگر ناکام ہوگئی۔جبھی کتّوں کی غو غو کی آواز بہت قریب سے اُبھرتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس سے پہلے کے آدم خور بلڈوگ کتے مزید اس کے قریب پہنچتے وہ گهبرا کر کھڑی ہوتی ہمّت جٹا کر ایک بار پھر ڈور پڑی تھی۔کتوں کا جھنڈ جنگل میں پیدا ہوتی آواز پر اس کے پیچھے ڈورا تھا۔اقصیٰ بھاگتی بھاگتی جھاڑیوں سے باہر نکلنے کے قریب ہی تھی۔۔کہ ایک شکاری کتا اس کہ قریب اگیا تھا۔اقصیٰ کی ہمّت اب یہاں آکر ہوا ہوئی تھی اور وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ ایک زور دار چیخ سے وہیں گر پڑی۔سامنے کی جانب سے اسی کی جانب آتے ٹائیگر اور عادل نے کتوں کے جُھنڈ کو اقصیٰ کی جانب لپکتا دیکھ جلدی سے ہاتھ میں پکڑی گن سے ہوا میں فائر کئے تھے۔ٹائیگر بھاگ کر بہوش پڑی اقصیٰ کی جانب بڑھا تھا۔جو آخری لمحوں میں حواس گنوا گئی تھی۔۔ عادل نے کتنے ہی کتوں کو گولیوں سے چھلنی کردیا تھا جو زخمی حالت میں ہونے کے باوجود جهپٹنے کو تیار تھے۔ٹائیگر نے جلدی سے اقصیٰ کو بازو میں بھر کر قدم الُٹی جانب اٹھاۓ تھے۔عادل مُسلسل ان پر فائر کرتا راستہ صاف کر ٹائیگر کی ہمراہی میں ہی جھاڑیوں سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔اقصیٰ بہوش سی اپنے وجود سے غافل گہرے صدمے میں ہونے کے باعث بلکل ہی ٹائیگر کے رحم و کرم پر آگئی تھی۔۔۔ وہ غصّہ سے جبڑے بھینچے اقصیٰ کو اٹھاۓ بڑے بڑے قدم لیتا ہٹ کے جانب آیا تھا۔ایک گھنٹہ پیدل چلنے کے بعد وہ کافی مشکلوں سے اسے بازؤں میں اٹھاۓ ہٹ میں داخل ہوا۔اقصیٰ کا نڈھال وجود صوفے پر ایک جھٹکے سے ڈال کر کمرے کی جانب بڑھا۔کمرے میں آکر اپنے کپڑوں میں سے ایک مفلر تلاش کرنے کے بعد ایک چادر اور مفلر وہ باہر صوفے پر پڑی اقصیٰ پر پھینکتا خود پر ضبط کرتا ہٹ سے باہر اگیا تھا۔جہاں عادل پہلے ہی اس کے انتظار میں کھڑا تھا۔ "کیا ہوا؟تو باہر کیوں اگیا۔۔ بھابھی کو ہوش اگیا؟؟"اس کے لہجے میں فکر واضح جھلک رہی تھی۔ "کچھ نہیں ہوا۔۔کچھ دیر میں ہوش آجاۓ گا۔"وہ ضبط سے سر جھٹک کر رہ گیا۔ "وہ تو اللّه کا شکر ہے۔زیادہ دور نہیں نکلی تھیں۔ورنہ اگر کتوں کہ علاوہ کسی جنگلی جانور کے حملے کا شکار ہو جاتیں تو شاید۔۔۔"لفظ ادھورے چھوڑ کر اس نے ایک جُھرجُھری لی۔ ٹائیگر نے اس کی بکواس پر خشمگیں نظروں سے گھورا۔جو شاید شکاری کتوں کے جهنڈ کو ہلکے میں گردان رہا تھا۔یا پھر اتنی دور سے پیدل چل کر واپس انے کے باوجود اسے راستہ چھوٹا ہی لگ رہا تھا۔ "اچھا بھئی تو بیٹھ یہاں۔۔اب صبح ہونے والی ہے۔۔میں تو چلا سونے۔۔"کھسیا کر مسکراتا۔وہ انگڑائیاں بھرکر ہٹ میں داخل ہو کر اقصیٰ کہ وجود پر ایک آچٹتی سی نگاہ ڈالتا۔اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔ جبکہ گہری تاریک سیاہ رات میں ٹائیگر لبو میں سیگریٹ دباۓ لمبے لمبے کش لگانے میں مصروف تھا۔دل کی بے چینی دن با دن بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی۔ایک طرف اقصیٰ کی آوٹ پٹانگ حرکتیں تھیں تو دوسری جانب نادر جو پاگلوں کی طرح اس کی تلاش میں تھا۔اور اب ایک اور نیا مسٔلہ آکھڑا ہوا تھا۔اس سے پہلے کے قانون کے ہاتھ اس کا گلا دبوچتے وہ اقصیٰ کو محفوظ ہاتھوں میں دینا چاہتا تھا۔مگر قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔ _________ اس وقت صبح کے پانچ بج رہے تھے۔گنجان وادیِ میں صبح کی کرن پھوٹتے ہی سورج کی تیز کرنیں وادی پر اپنے پنکھ پھیلانے لگی تھیں۔ایسے میں ڈبل سیٹر صوفے پر بے سود سوئی اقصیٰ کہ جسم میں جمبش سی ہوئی تھی۔وہ ایک عجیب سی کیفیت سے دوچار ایک آنکھ کھول کر ماحول سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔آہستہ آہستہ ذہن بيدار ہونے لگا تو گزری رات کے تمام مناظر نظرکے پردے پر لہرانے لگے تھے۔۔۔رات کا خوفناک منظر یاد کر اقصیٰ کا چہرہ فق ہوا تھا۔بے ساختہ ہاتھ اپنے ہاتھ پیروں پر گیا تھا۔جو بلکل سہی سلامت تھے۔تسلی کرنے کے بعد اقصیٰ نے ایک سرد آہ فضا کے سپرد کی۔مگر وہ یہاں آئی کیسے تھی۔اسی سوچ میں گُم ذرا اٹھ کر بیٹھی تو گلے میں ایک موٹا سا کپڑا محسوس ہوا تھا جبکہ سینے تک چادر تھی۔جیسے اس نے اب نوٹس کیا تھا۔بوکھلا کر دوپٹہ کی تلاش میں ہاتھ مارا جو وہاں سے غائب تھا۔پھر یاد آیا کہ وہ تو بھاگنے ڈورنے میں ہی کہیں گر گیا تھا۔تو کیا کل رات اس نے اسے ان شکاری کتوں سے بچا لیا تھا۔بے ساختہ سوچ تھی۔جس پر بلا ارادہ ہی سکون کا سانس خارج کر شکر کیا۔انڈے کی طرح ہلتے سر کو تھام کر قدم زمین پر جما کر نگاہ جیسے ہی اٹھائی تو نظر سیدھی
