Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode no 14
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/03/2026
0 Views
Episode no 14
#محبت_بازیِ_آخر #ہما_قریشی #قسط_نمبر_14 _______ رات کا دوسرا پہر چل رہا تھا۔ایسے میں آسمان پر پھیلی سیاہی کے ساۓ میں ہر چیز ڈھک سی گئی تھی۔ ہٹ میں موجود ٹائیگر اور عادل آقصی کہ وجود سے بے نیاز اپنی منصوبہ بندیاں کرنے میں میں مصروف تھے۔اور ان کی یہی غفلت کچھ ہی دیر میں ان کے لئے مصیبت کھڑی کرنے والی تھی۔جس سے فی الحال وہ لاعلم ہی تھے۔ جبکہ اقصیٰ کاالُٹا دماغ ایک بار پھر اپنی ڈگر پر غلط راستے پر چل نکلا تھا۔جو مسُلسل اسے یہاں سے فرار ہونے کے لئے اکسا رہا تھا۔نت نئی تراکیبیں سوچوں پر دستک دیتیں اس کا ذہن بھٹکا رہی تھیں۔ بل آخر ایک فیصلے پر پہنچتی اقصیٰ ہمّت کر سر پر دوپٹہ ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ایک چور نگاہ اِرد گرِد میں دوڑائی ،جہاں مکمل سناٹا چھایا ہوا تھا۔آہستہ سے بنا چاپ کے دبے قدموں رخ بیرونی دروازے کی جانب کیا تھا۔بہت ہی سنبھل کر لاک کھولا۔خوفزدہ نظروں سے رخ پیچھے موڑ کر دیکھا ،جہاں کوئی نہیں تھا۔ٹائیگر اور عادل دونوں ہی مصروف تھے۔اللہ کا نام لے کر قدم باہر رکھا۔قدم پہلی سیڑھی پر رکھتے ہی ایک سرد فضا کہ تیز جھونکے نے اسے اپنی لیپٹ میں لیا تھا۔ ہر طرف سرخی مائل رات کی گہری سیاہ تاریکی چھائی ہوئی تھی۔صبح میں جو دلفریب منظر آنکھون کو تازگی بخش رہا تھا۔مگر اب ایک الگ ہی خوفناک منظر پیش کر رہاتھا۔ آقصیٰ کہ دل کیا یہیں سے واپس لوٹ جائے۔مگر پھر بھی ہمت کر کے قدم اگے بڑھائے تھے۔چھوٹے چھوٹے قدموں سے وہ بہت ڈری سہمی ہیرنی کی مانند آگے بڑھ رہی تھی۔جو اپنا راستہ بھول گئی تھی۔ آندھیری رات میں انجانی منزل کی جانب قدم بڑھاتی وہ اس ہٹ سے کافی دور نکل آئی تھی۔آونچے ہیبت ناک پہاڑوں کی بلندی دیکھ عجیب وحشت سی طاری ہورہی تھی۔جو کیسی بھی زی روح کو خود میں سالم نگلنے کی طاقت رکھتے تھے۔مگر آج آقصیٰ کو ہر حال ٹائیگر کی قید سے رہائی حاصل کرنے کا ارادہ تھا۔اونچے نیچے راستوں پر گامزن وہ اپنی ہاتھ کی تکلیف تک نظر انداز کر گئی تھی۔پاؤں میں شدّت کی تکلیف ہورہی تھی۔ اب تو درد سے ٹیسں اٹھنے لگی تھیں۔سر سے سرکتے دوپٹہ کو تھام کر وہ آندھیری رات میں ہی ایک پتھر کے سہارے سانس لینے کے لیے ٹک کر بیٹھ گئی تھی۔دل سوکھے پتہ کی مانند لرز رہاتھا۔کتنی ہی دعاوں کے ورد لبوں پر جاری تھے۔مگراس قدر وحشت سے جان نکلی جارہی تھی۔وہ کتنی ہی نڈر سہی مگر تھی تو ایک لڑکی ہی جو اندھیروں سے خوفزده ہوجاتی ہیں۔جو ہر پل محرم کی چھاؤں کی تلاش میں ہوتی ہیں۔مگر جب سر سے دسِت شفقت چھن جائے تو زندگی ایسے ہی امتحان لیتی ہے۔۔۔ بے بسی ہی بے بسی تھی۔لبوں سے بے ساختہ اللّه نکلا تھا۔اور جب ہر منزل تاریک نظر آۓ تو ایک وہ واحد زات ہے جو انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک قریب تر ہوتا ہے۔ چند منٹ یونہی بیت گئےتھے۔بہت ہمت مجتمع کرتی آقصیٰ ایک بار پھر آٹھ کھڑی ہوئی تھی۔انجان راستوں پر چلتی وہ اپنی زات سے جوڑے ہر نفع نقصان سے مکمل غافل ہو چکی تھی۔دل میں خوف سا بیٹھ گیا تھا۔ٹائیگر کہ ارادوں سے اب پہلے سے زیادہ ڈر لگنے لگا تھا۔چلتے چلتے وہ ایک ایسے راستے پر نکل آئی تھی۔جہاں ایک جانب گہری کھائی تھی تو دوسری جانب تیز رفتار سے دریا چل رہاتھا۔جبکہ مخالف سمت میں گھنا جنگل آباد تھا۔رات کے آندھیرے میں دریا کے چلتے پانی کی آواز ایک خوفناک جانور کے جیسی معلوم دے رہی تھی۔بے بسی سے آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے تھے۔دور دور تک محض جنگل ہی جنگل پھیلا ہوا تھا۔وہ شاید آبادی والے راستے کے بجائے کیسی غلط راستے پر نکل آئی تھی۔ ڈری سہمی آنکھوں سے اِرد گرد میں تکتے۔کھائی والے راستے کی جانب سے قدم مخالف سمت میں اٹھانے کے ارادے سے ایک قدم پیچھے لے کر ،ابھی دایاں قدم آٹھایا ہی تھا،کہ آچانک کسی ملائی پتھر جیسی چیز سے سے ٹکرا کر وہ اگے کی جانب گری پڑی تھی۔۔۔۔۔ ’’آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔‘‘رات کی تاریکی کوچیرتی ایک درد ناک آواز گونجی ۔جو آس پاس کے جانداروں کو مزید چوکنا کر گئی۔۔ ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ ’’رپورٹر۔لڑکی کہاں ہو تم ۔۔‘‘ضبط سے سُرخ پڑتی آنکھوں میں بے پناہ غصّہ لئے وہ مسٗلسل اُسے پُکار رہا تھا۔ ’’یار ٹائیگر میں نے ہٹ کے ساتھ ساتھ اِرد گِرد میں سب چھان مارا مگر بھابھی کہیں بھی نہیں ہے۔‘‘ چھوٹا پُھولی سانسوں کے درمیان پریشانی سے گویا ہوا۔ ’’سہی سے دیکھا تو نے۔‘‘غصہ کی زیادتی سے اس کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔ ’’ہاں!! ہر جگہ چھان ماری ہے ۔مگر وہ کہیں بھی نہیں ہے یار۔مجھے ڈر ہے اگر وہ اس رات کی تاریکی میں کہیں غلط راہ پر نکل گئی تو۔۔۔۔‘‘وہ خوفزدہ لہجے میں فکرمندی سے بولا۔جبکہ اس کا بس نہیں چل رہا تھا۔آقصیٰ سامنے آجائے اور وہ اس کا کچھ کر ہی ڈالے۔ ’’بہت غلط کرلیا رپورٹر نے اپنے ساتھ۔۔۔۔بہت غلط۔‘‘وہ طیش میں جبڑے بھینچ کر پھُنکارا تھا۔ ’’غصہ بعد میں کر لینا ٹائیگر ابھی آقصیٰ کو ڈھونڈنا بہت ضروری ہے۔چلو میرے ساتھ۔کہیں کسی جنگلی جانور نے حملہ نا کردیاہو ۔۔‘‘وہ زبردستی اُس کا ہاتھ تھام کر منت بھرے لہجے میں بولا۔۔ ایک ہاتھ میں گنز اور دوسرے میں چارجنگ لائیٹس پکڑے آقصیٰ کی تلاش میں نکل پڑے تھے۔۔ہر طرف گہری تاریکی کا راج تھا۔وہ دونوں اسے تلاش کرتے کرتے کافی دور نکل آۓ تھے۔مگر آقصیٰ کا کچھ پتہ نہین لگ رہاتھا۔اب ٹائیگر کو بے چینی سی ہونے لگی تھی۔ ’’آقصیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘وہ بے ساختہ ہی پوری شدت سے دھاڑا تھا۔تیز ہوا کے دوش پر آواز دور تک گئی تھی۔ ’’آقصیٰ کہاں ہو تم؟کیا تم میری آواز سن رہی ہو۔۔‘‘انجانے سے خوف کے زِیر آثر شاید اس نے پہلی بار اِسے اس کے اصل نام سے پُکارا تھا۔جو اسے کچھ خاص پسند نہیں تھا۔ ’’یار نہیں ہے وہ یہاں پر بھی۔اللّه نا کرے اگر کسی جانور کے شکار کا نشانہ تو نہیں بن گئی۔‘‘اس کے اپنے ہی خدشات تھے۔ ’’شٹ آپ۔۔بکواس بند کرو اپنی۔۔‘‘وہ سرد آواز میں اسے باز رہنے کی تمبیہ کرتا مُسلسل پکار رہاتھا۔۔مگر جواب ندار تھا۔۔ "پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے بیوقوف رپورٹر۔‘‘عجیب بد حواسی کے علم میں وہ دانت کچکچا کر طیش میں خود ساختہ بڑبڑایا۔۔ ’’یہاں یہاں ۔اس طرف چلتے ہیں۔‘‘عادل نے اسے غصّہ اور گهبراہٹ میں بڑبڑاتا دیکھ کہا۔معملے کی سنگینی کا آندازہ اسے بھی بہت آچھے سے ہورہاتھا۔۔مگر شاید وہ بیوقوف لاعلم تھی۔ وہ دونوں دوڑتے بھاگتے اس کی تلاش میں ناجانے کہاں سے کہاں نکل آئے تھے۔مگر اس کا کچھ پتہ نہیں تھا۔کان میں عجیب سے آوازیں آرہی تھیں۔جو کسی جنگلی جانور کی معلوم دے رہی تھیں۔جنگل میں عجیب جانوروں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ٹائیگر نے دوبارہ تیز دھاڑ جیسی آواز میں شدت سے اُس کا نام پُکاراتھا۔مگر اقصیٰ تک شاید اس کی آواز کی رسائی حاصل نہیں تھی۔ "وہ وہاں۔۔۔مجھے لگ رہا ہے یہاں یقیناً کوئی مسٔلہ ہے۔۔یہ آوازیں ؟سامنے نظر آتے جنگل میں سرسراہٹ اور مسلسل ہوتی ہلچل دماغ کو کچھ غلط ہونے کا سائرن دے رہی تھی۔۔وہ دونوں بغیر کسی تاخیر کے جلدی سے اِس جانب بھاگے تھے۔۔ ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ اقصیٰ جس ملائم شے سے ٹکرائی تھی۔وہ کوئی پتھر نہیں بلکہ کوئی خونخوار جنگلی جانور تھا۔کُھردری زمین پر گرنے کے باعث ہتھلیوں سمیت، بازو،گھٹنے سب چھل گئے تھے۔جلن کے باعث تکلیف ہونے لگی تھی۔وہ ابھی اپنی تکلیف میں ہی تھی کہ اچانک قریب سے کسی خونخوار جانور کی آواز اُبھری تھی۔اقصیٰ نے گڑبڑا
