Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 11
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 30/01/2026
1 Views
Episode No 11
تھا،دوسرا پینٹ کی پاکٹ میں آڑسا ہوا۔جبکہ لمبے بالوں کی پونی بندهی ہوئی تھی۔وہ شکل سے ہی مولی لگتا تھا۔اقصیٰ کو اس چہرے سے نفرت سی ہوئی۔ "رپورٹر کل تمہارا نکاح ہے۔تیار رہنا۔"وہ سیگرٹ کا ایک گہرا کش لگا کر اس قدر اطمینان سے بولا،جیسے کوئی بات ہی نا ہو۔ "کیا بکواس ہے یہ۔"پہلے وہ حیرت کی زیادتی سے بے یقینی سے اسے تکتی رہی پھر اچانک چیخی اٹھی۔ "بکواس نہیں نکاح ہے،میرا اور تمہارا سمجھ گئیں نا؟ہاں!!یہ بات جو ہے نا اپنے بھیجے میں اچھی طرح بیٹھالو،کیا سمجھی رپورٹر۔"وہ اس کی دماغ پر انگلی ٹھوک کر، اس کا جبڑا سختی سے ہاتھوں میں قید کر اس کے منہ کے قریب آتا سرگوشی میں پھنکارا۔دوسرے ہاتھ میں دبے سیگرٹ کا چیکا بازو پر محسوس کر اقصیٰ بوکھلا کر پیچھے ہوئی تھی۔جبکہ وہ بھی ذرا پیچھے ہوا۔۔یہ ایک غیر ارادی عمل تھا۔ "میں یہ نکاح نہیں کرونگی،ہرگز بھی نہیں کرونگی،تم جیسے لچے لفنگے سے نکاح سمجھے۔تم ۔"وہ اس سے زیادہ تیز لہجے میں دھاڑی۔ "اچھا،میں بھی دیکھتا ہوں،کیسے نہیں کرتی۔"وہ سیگرٹ عنابی لبوں میں دباتا بال مٹھی میں جکڑکر طیش میں غرایا۔ اقصیٰ کی درد سے "سی "نکلی تھی۔وہ ایک جھٹکے سے اس کے بال آزاد کرتا،دو قدم کا فاصلہ بناتا،اسے یونہی روتا چھوڑ کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔وہ کوشش کے باوجود نرمی نہیں کر سک رہا تھا۔وہ ہر بار اسے طیش دلا کر اپنی شامت کو دعوت دے رہی تھی۔مگر ابھی کی نرمی برتنا مطلب یہ بے لگام جنگلی رپورٹر قابوں میں ہی نہیں آنی تھی۔ ۔۔۔ ________ "ناظرین یہاں آپ کو بریکنگ نیوز سے آگاہ کرتے چلیں،کہ شہر کے جانے مانے بزنس مین وہاب خٹک کے اكلوتے فرزند زوہان خٹک کے خلاف ایف آئی ار درج،تقریب ً تین سال قبل الیکٹرک شارٹ سرکٹ کی وجہ سے گھر میں اگ لگ جانے کے باعث جان بحق ہونے والے تین افراد میں سے ایک کی زندہ سلامت واپسی کے بعد زوہان خٹک کے خلاف قتل کی رپورٹ درج،جس میں ان پر دو لوگوں کے قتل کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ساتھ ہی بتایا جا رہا ہے،وہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی،جس میں ان کی پوری فیملی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔پولیس کی جانب سے فوری ایکشن،چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ملزم کو ارسٹ کرنے کا وارنٹ جاری۔ذرائع کے مطابق ایف آئی ار درج کروانے والی،مقتول کی چھوٹی بیٹی جو اللّه کی کرنی سے اس حادثے میں جل گئی تھیں ،مگر جلد ہی زندگی کی جانب لوٹ آئیں۔ایسے میں ان کے الزام نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ساتھ ہی آپ کو بتاتے چلیں کہ جس روز یہ حادثہ پیش آیا تھا،اس روز وہاب خٹک لندن کے ہسپتال میں کومے جیسے درد ناک پیریڈ سے گزر رہے تھے۔یہ الزام سچا ہے یا جھوٹا،پولیس مکمل تفشیش کر رہی ہے۔"وہاب خٹک کے بنگلے کے سامنے موجود میڈیا رپورٹر چیخ چیخ کر خبریں پڑ رہے تھے۔جبکہ پولیس کی ایک بھاری نفری نے خٹک ہاؤس کو گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ "ساتھ ہی آپ کو آگاہ کرتے چلیں کہ زوہان خٹک کے خلاف پہلے بھی بھی قتل کا مقدمہ درج تھا۔جس سے اڑھائی سال قبل عدالت انہیں باعزت طور پر بری کر چکی ہے۔کیا اس کیس کا تعلق بھی اسی کیس سے ہے یا پھر پس منظر ہے کچھ اور ۔۔"اس وقت یہ نیوز ہر گھر کے ٹی سکرین کی زینت بنی ہوئی تھی۔سب آنکھیں کھولے بڑی بے چینی سے دیکھ رہے تھے۔ "ناظریں یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ شہر کی مہذب شخصیت کہ بیٹے زوہان خٹک کو ہراست میں لینے میں یہاں پولیس کی ایک بھاری نفری موجود ہے۔جن کے پاس فوری گرفتاری کا وارنٹ بھی موجود ہے۔"کیمرہ پرسن نے سیدھا بنگلے کو ہی فوکس میں لیا ہوا تھا۔جہاں سے زوہان خٹک ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنے پولیس کے ہمرا منہ نیچے کئے،کیمرے کی آنکھ اور میڈیا کے سوالوں سے دامن بچاتا ہوا پولیس وین میں بیٹھ رہا تھا۔جبکہ وہاب خٹک نے جان توڑ کوشش کر ڈالی تھی کہ فوری گرفتاری نا دینی پڑے مگر اس بار کیس بہت سالڈ بنایا گیا تھا۔اُپر سے آرڈر تھے کہ اس رپورٹ کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔ _______ گہرے بادلوں کے پار نظر آتے سورج کی مدھم کرنوں کے باعث صبح کا تازگی بخشتا یہ دلفریب منظر آنکھوں کو ایک الگ ہی سرور سے روشناس کرارہا تھا۔ہر سو ایک الگ ہی چمک سی بکھری ہوئی تھی۔روز کی بانسبت آج کا موسم ذرا ٹھنڈا ٹھنڈا سا دماغ کو ایک الگ ہی تقویت بخش رہا تھا۔ موسم ِبہار کا آغاز تھا۔دن کے خوبصورت سے اُجالے میں ایک امید سی تھی کہ اب کالے بدل چھٹنے کو تھے۔ابَر رحمت برسنے کو تھا۔بنجر زمین سیراب ہونی ہونے کو تھی،باغ میں لگی نئی پھولوں کی بیلیں اور ہوا کے دوش پر مدہوش سے لہراتے رنگ برنگی پھول،اور نئی بڑوان کی انگڑآئیاں بھرتے پیڑ پودے آنکھوں اور دل دونوں کو تازگی بخشتے تشنگی سی مٹا رہے تھے۔ سیف اس وقت شہر میں واقع اس خوبصورت سے ہوسٹل کے گارڈن ایریا میں موجود چہل قدمی کرتا،کسی کا انتظار کر رہا تھا۔یہاں کا منظر اسے بار بار کئی سال پیچھے ماضی میں لے جا رہا تھا۔جہاں سے وہ پیچھا چھوڑآنا چاہتا تھا۔ سفید شلوار،قمیض پر ہلکے بیگنی رنگ کا پرنٹڈ دوپٹہ سر پر ڈالے،پر وقار چال چلتی ،چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی،لگ بھگ بائیس سال کے قریب وہ لڑکی سیف سے ذرا دور ایک بنچ پر جا بیٹھی تھی۔ پینٹ کی پاکٹ سے ہاتھ نکالتا،وہ خود بھی متوازن چال چلتا ہوا،اس کے قریب ہی ذرا فاصلے پر بیٹھ گیا تھا۔ "کیسی ہیں بیٹا آپ۔"اس نے نرمی سے بات کا آغاز کیا۔ سیف آج قتل کیس کی کچھ اہم معلومات لینے کے باعث خود ہوسٹل آیا تھا۔ "میں بالکل ٹھیک ہوں۔"وہ سر پر دوپٹہ درست کرتی سپاٹ سی آواز میں بولی تھی۔ وہاب خٹک کے بیٹے کے خلاف آپ کی جانب سے عدالت میں کیس درج ہو چکا ہے۔زوہان ابھی پولیس کسٹڈی میں ہے، چار دن بعد اس کیس کی پہلی شنوائی ہے۔ہمیں اس کی بیل سے پہلے ہی،عدالت کی پہلی شنوائی میں ہی اس کے خلاف پکّے ثبوت پیش کرنا ہیں۔تاکہ ہمارا کیس مضبوط رہے۔"وہ دونوں کہنیاں گھٹنے پر رکھ کر سنجیدگی سے گویا ہوا تھا۔ "لیکن اس سب میں کیا مدد کر سکتی ہوں آپ کی۔"وہ متعجب سی اس کی جانب پلٹی تھی۔ "آپ اس کیس کی وہ اہم گواہ ہیں،جیسے ہم ملزم اور مجرم کے سامنے آجانے کے بعد عدالت میں پیش کریں گئے۔"اس سوچوں میں ڈوبا سنجیدگی سے بولا۔ "فلحال کوئی خاص مدد درکار نہیں،بس ہمیں اس کھیل کے اس اہم مہرے کو ڈھونڈھنا ہے۔جس کی آمد پوری بساط پلٹ سکتی ہے۔۔"وہ اس کی جانب ترچھی گردن کر عجیب لہجے میں بولا۔ اپ کا مطلب ہے۔۔"وہ چونک کر سیدھی ہوئی ۔۔ "جی صحیح سمجھیں آپ،یہ کیس تو صرف مجرم کو سامنے لانے کے لئے ہیں،اصل لڑآئی شروع ہونے کا وقت ہوتا ہے اب۔"وہ مسلسل دو معنی باتیں کر رہا تھا۔۔ "خیر تم پریشان مت ہو،میں نے یہاں سیکورٹی ٹائٹ کروادی ہے۔کسی سے بھی ملنے کی ضرورت نہیں ہے۔وہاب خٹک خاموش تو ہر گز نہیں بیٹھے گا۔وہ ضرور تمھیں ڈھونڈنے کی کوشش کرے گا۔"وہ سر ہلا کر رہ گئی تھی۔ "امید ہے کہ اس کیس کی فائل بھی جلد کُھل جائے گی۔"وہ قریب ہی بینچ پر ذرا فاصلے سے بیٹھتا،نرمی سے گویا ہوا۔ "مجھے عدالت کی کروائی کا انتظار رہے گا۔"وہ اسی مخصوص اکھڑ انداز میں بولی تھی۔ "هممم۔۔۔اب میں چلتا ہوں۔تم جاؤ،اور اپنا تم خیال رکھنا۔"وہ
