Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 11
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 30/01/2026
1 Views
Episode No 11
#محبت_بازیِ_آخر #ہما_قریشی #قسط_نمبر_11 _________ "ٹائیگر یار ایک مسٔلہ ہوگیا ہے۔"وہ ابھی واپسی آتا،سیدھا ٹائیگر کے پاس آیا تھا۔ "اب کیا ہوا۔"وہ صوفے پر نیم دراز،ڈرگز کے انجیکشن لگا کر نشے میں دهت پڑا تھا۔۔ "یار یہ جو اپنی رپورٹر ہے نا،اس کے ماں ،باپ دونوں اس دنیا سے لڑکھ گئے کچھ دن پہلے۔"وہ اس کے مقابل بیٹھتا تفشیش بھرے لہجے میں بولا۔۔ "تو۔۔"وہ ہوش میں ہی کہاں تھا۔۔۔ "بھائی مطلب،یہ اپنے ماں،باپ کی اكلوتی اولاد تھی۔اور تیرے اغوا کرنے کے بعد وہ اس صدمے سے دنیا سے چلے گے۔اب اس گھر میں کوئی نہیں رہتا،لاوارث ہے یہ۔اب کیا کرے گا تو۔"وہ ذرا پریشان سا بولا تھا۔نادر کے مطالبہ سے بھی وہ باخوبی واقف تھا۔ "ابے جا یار،مجھے نہیں پتہ،کچھ بھی کر اسے یہاں سے دفعہ کردے بس ۔۔"وہ نشے میں بھی بس اس سے جان چھوڑآنا چاہتا تھا۔۔ "ٹائیگر،ہوش میں آ۔تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے۔تو بھول رہا ہے کہ یہ کام کرنے کا ہمارا مقصد کیا تھا۔تیری وجہ سے ایک لڑکی کی زندگی خراب ہو گئی ہے۔کچھ ہوش ہے تجھے۔"چھوٹا جنون میں آپے سے باہر ہوتا،طیش میں دھاڑا تھا۔جو ہر بات سے غفلت برتے ہوۓ تھا۔۔ "اچھا جا یہاں سے دماغ نہیں خراب کر۔"وہ اس کی حالت دیکھ،کرب سے اپنی آنکھ سے نکلتے آنسو پونچھتا وہاں سے باہر نکل گیا۔ ۔۔ گھر خاندان کو کھونا کا درد کیسا ہوتا ہے۔اس سے وہ دونوں باخوبی واقف تھے۔مگر وہ تو جیسے اپنے غم میں ڈوب کر سب کی زندگياں برباد کرنے کے در پر تھا۔یا شاید اس کے دل سے اب ہمدردی بالکل ناپید ہو چکی تھی۔۔۔۔۔ ______ "سنو۔۔۔"اس کی جذبوں سے چوربھاری گھمبیر آواز پر وہ چونک کر پلٹی تھی۔اچانک رخ موڑنے کی وجہ سے کانوں میں پہنے لمبے اویز کی خوبصورت چھنكار نے اسے بھی آنکھیں کھولنے پر مجبور کر دیا۔۔ "کیا ہوا۔۔"آتشی گہرے رنگ کے جوڑے میں اس کی دودھیا رنگت بھی گلابی گلابی سی ہو رہی تھی۔ "اب بول بھی دو۔"نروٹھے پن سے آنکھوں میں ناراضگی سموۓ وہ ایسے خاموشی سے اپنی جانب ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا دیکھ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر بولی تھی۔ "کبھی دھوکا تو نہیں دو گی نا مجھے۔"اس کے لہجے میں عجیب وحشت سی تھی۔اُس کی آنکھوں میں ناسمجھی سے تحیر سمٹ آئی تھی۔ "کیا میں تمھیں بے وفا لگتی ہوں۔"اس کے شکوہ کناں انداز میں درد واضح تھا۔ "نہیں۔۔مگر کبھی کبھی ڈر لگتا ہے۔اس دنیا سے۔زمانے کے لوگوں سے ۔اگر مجھے میری محبّت نا ملی تو۔۔۔۔عجیب دیوانگی کے اعلم میں بولتا وہ اپنے الفاظ بھی مکمل نہیں کر سکا تھا۔آجاڑ سے حٌلیے میں وہ ٹوٹا ہوا سا لگ رہا تھا۔ "کیا مجھ پر یقین نہیں۔"وہ آہستہ سے قدم اٹھا کر چہرے پر آتی شریر لٹوں کو کان کے پیچھے آڑستی اس کے نزدیک آئی۔۔ "اپنی محبّت پر مجھے خود سے بھی زیادہ یقین ہے۔"سرخ آنکھیں اس کے حسین مکھڑے پر گاڑ کر بولتا،وہ کوئی دیوانہ ہی لگ رہا تھا۔۔ "تو پھر یقین رکھو۔میں تو تمہارا پیچھا قیامت تک نہیں چھوڑوں گی۔"وہ ذرا اس کے چہرے پر جھکنے کے سے انداز میں ذرا قریب ہوتی چھنک دار قہقاہ لگا کر ہنس پڑی تھی۔ منظر اوجهل سا ہوگیا تھا۔۔ماحول جو کچھ لمحوں پہلے خوش رنگ ،رنگوں سے سماں باندھے ہوا تھا۔وہ اب تاریک دھواں دھواں ہوا تھا۔۔ "کتنی صحیح تھیں نا تم۔۔اور میں کتنا بیوقوف۔اب شاید تم میرا پیچھا میری آخری آرام گاہ تک بھی نہیں چھوڑو گی۔۔۔"دل میں اٹھتے درد کے باعث وہ آنکھیں میچ کر بڑبڑایا تھا۔۔۔۔۔ _______ "ٹائیگر کہاں جا رہا ہے۔"وہ ٹائیگر کو بیگ میں ضروری سامان ڈالتا دیکھ،حیرت اور بے یقینی سے بولا۔۔ "اس رپورٹر کو اس کے گھر پھینکنے ۔۔"اس کے لہجے میں سنجیدگی واضح تھی۔ "تو شاید بھول رہا ہے میں نے تجھے کیا کہا تھا۔"وہ بھی سرد مہری سے اکھڑ لہجے میں گویا ہوا۔ "کیا کہا تھا،اور تو کیوں اتنا سر چڑ رہا ہے؟"وہ چونک کر سیدھا ہوا۔اس کا اکھڑ اکھڑا انداز ملاحظہ کر رہا تھا۔۔ "اس رپورٹر کے والدین اس دنیا سے جا چکے ہیں۔بھول گیا تو۔"وہ دانت پیس کر طیش میں بولا۔۔ "کیا،مگر کیسے۔""وہ جیسے ابھی ہوش میں آیا تھا۔ "کیسے کیا مطلب ہے۔جن کی بیٹی اتنے عرصے سے لاپتہ کسی غنڈے کی ہراست میں ہو،کیا وہ زندہ رہ سکیں گے۔"وہ تاسف سے نفی میں سر ہلاتا،طنزیہ مسکرایا۔۔ ٹائیگر چند لمحے غیر یقینی کے عالم میں کچھ بول ہی نہیں سکا تھا۔چند ثانیوں کے لئے جیسے ہر چیز اپنی جگہ ساکت ہوتی،تھم سی گئی تھی۔آنکھوں میں کسی لڑکی کی پُر شوخ ہنسی کی آواز گونجی تھی،کہیں کسی ماں کا چہرہ آنکھوں کے پردے پر لہرایا تھا،کہیں کسی باپ کی اپنے بیٹے کو نصیحت یاد آئی تھی۔بہت کچھ تھا،ماضی کی حسین یادیں تھیں۔جو دماغ کی سرحدوں پر ٹکریں مارتی اسے غلط گردان رہی تھیں۔مگر یہ باغی دل تھا کہ کچھ ماننے کے در پر نہیں تھا.وہ بار بار اسے صحیح ہونے کی تلقین کر رہا تھا۔۔ "ٹائیگر۔۔۔"چھوٹے نے اس کی غائب دماغی دیکھ جھنجھوڑ ڈالا ۔۔ "ہاں۔۔۔میں اپنے ساتھ ہی لے جا رہا ہوں اسے،اب سے میں نادر کے لئے کام نہیں کرونگا۔تو سوچ لے یہیں رہنا ہے۔یا میرا ساتھ دینا ہے۔"ٹائیگر نے چند لمحوں کی تاخیر سے یہ فیصلہ کیا تھا۔چھوٹے نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔۔ ""اور ہمارا جو مقصد تھا۔"وہ حیران ہوتا یا کیا،اسے خود سمجھ نہیں آیا۔۔ "تو یہاں رہ کر کونسا پورا ہو رہا ہے ہمارا مقصد،بس میں نے فیصلہ کرلیا۔اب سے میں اپنی جنگ خود لڑوں گا۔بہت فائدہ اٹھالیا۔لوگوں نے میرا،اب میرا وقت ہے۔"وہ غصّہ سے جبڑیں بھینچ کر کسی اور ہی سیناریوں میں بولا تھا۔ "تو اب تو اس لڑکی کا فائدہ اٹھائے گا۔"وہ بے یقینی سے بولا۔ "تو اپنا چھوٹا دماغ ذرا کم چلایا کر،جتنا کہا ہے۔اتنا ہی کر،زیادہ ہوشیاری دکھانے کی ضرورت نہیں۔" وہ غصّہ سے لتاڑ گیا۔ "ٹھیک ہے۔۔پر ابھی تو رات کے تین بج رہے ہیں۔"وہ جاتا جاتا،کچھ یاد انے پر چونک کر پلٹا۔ "ہاں تو تیرا کیا پروگرام ہے، پوری بارات کے ہمرا دلہن کی طرح بابُل کی دعاؤں کے ساۓ تلے رخصتی لینی کا ارادہ ہے کیا؟"وہ پستول بیگ میں رکھ کر، ایک آنکھ اور آئبرو اٹھا کر استہزایہ مسکرایا،جبکہ وہ جزبز ہو کر رہ گیا۔۔ "آرہا ہوں،آرہا ہوں ،تو جا کر اپنی ليلی کو سنبھال جو خونخوار شیرنی بنی ہوئی ہے۔۔"وہ دوسری گن کا رخ اپنی جانب ہوتا دیکھ،شرارت سے کہتا ڈور لگا گیا۔جبکہ وہ غصّہ میں بڑبڑا کر رہ گیا۔ "اب اس رپورٹر کے نخرے بھی برداشت کرو،دماغ کا دہی کر دیتی ہے۔ایک الٹے ہاتھ کا پڑا نہیں،دماغ ٹھکانے کا آجاۓ گا۔"بیگ میں گن اور ضروری چیزیں رکھتا وہ مسلسل چڑا ہوا بول رہا تھا۔۔ _________ ٹائیگر نے کمرے میں چھائی وحشت دیکھ قدم رکھا،،اقصیٰ کے لئے فوری متلاشی نظریں گھمائی تھیں،جہاں اقصیٰ ایک کونے میں سکڑی سمٹی سی بیٹھی سو رہی تھی۔گردن ایک طرف کو لڑھک گئی تھی،چہرے پربلا کی معصومیت رقصاں تھی۔ایسی تحمل مزاجی کی امید اس سے صرف بہوشی میں یا پھر نیند میں ہی کی جا سکتی تھی،ورنہ مکمل ہوش و حواس میں تو وہ ہر وقت جنگلی بلی کا روپ دهارے رکھتی تھی۔اپنی بے ساختہ سوچ پر اس کے لب کب مسکراہٹ میں ڈھل گئے۔اسے خود ہی خبر نہیں ہوئی تھی۔۔ وہ بنا چاپ کے قدم اٹھاتا اس کے نزدیک آیا تھا،جو نیند میں بھی کچھ بڑبڑا رہی تھی۔ ٹائیگر کے پاس اس کی بڑبڑاہٹ سننے کا وقت نہیں تھا،مگر پھر بھی اس کے الفاظ واضح تھے،جس میں وہ اپنے ماں،باپ کو یاد کر رہی تھی۔ ٹائیگر نے خاموشی سے ایک ہاتھ میں پکڑا انجیکشن
