Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 11
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 30/01/2026
1 Views
Episode No 11
اس کے بازو میں لگا دیا،وہ اچانک سی کرتی آہستہ آہستہ بےہوشی میں جانے لگی۔اس انجیکشن کا اثر اس پر چوبیس گھنٹوں تک رہنا تھا،جب تک وہ اپنا کام آرام سے کر سکتے تھے۔۔ ایک ہاتھ سے اقصیٰ کا دوپٹہ اٹھا کر اس کے سر پر رکھا،اور دوسرے ہی لمحے وہ وہ اٹھاتا بڑے بڑے قدم اٹھاتا،اپنی گاڑی کی بیک سیٹ پر لیٹا چکا تھا۔اس کے باہر آتے ہی چھوٹا بھی باہر آیا تھا۔اپنا بیگ ڈگی میں رکھتا وہ آگے آکر بیٹھا۔ ٹائیگر ایک خشک نگاہ اس اڈے پر ڈال کر گاڑی کو ریس دیتا ،وہاں سے نکلتا چلا گیا۔رات کی اس گہری خاموشی میں گاڑی کی زن کرتی آواز سے ایک ارتعاش سا برپا ہوگیا تھا۔۔مگر وہ اپنے فیصلوں کا پکاّ، انجام کی فکر کئے بغیر نئے راستوں کی جانب گامزن تھا۔۔۔ __________ "کیا بکواس کر رہے ہو تم لوگ؟رات کی تاریکی میں وہ تم سب کی آنکھوں میں دھول جھوک کر اس لڑکی کو لے کر نکل گیا،تم سب جھک مار رہے تھے کیا ؟"صبح سویرے ہی ایک اور بری خبر نادر کی منتظر تھی۔ "سیٹھ ہمارے سامنے تو وہ نشے میں دهت اپنے کمرے میں گیا تھا،پتہ نہیں رات کے کس پہر نکل گیا۔۔"وہ دونوں سر جھکا کر منمناۓ تھے۔۔ "تم نے چڑھائی ہوئی ہوگی،وہ کیا نشے میں تھا،سالے ک** تم خود ٹن پڑے ہوگے۔"ان میں سے ایک کے گال پر طماچہ رسید کرتا،وہ غصّہ سے چنگھاڑا تھا۔ "بہت برا کرلیا چیتے تو نے اپنے ساتھ،بہت برا۔۔"ہال میں پڑے قیمتی صوفوں پر دونوں ہاتھ پیچھے رکھ کر بیٹھتا،وہ خود ساختہ جبڑے بھینچ کر بڑبڑآیا تھا۔ "کھڑے کھڑے میری شکل کیا دیکھ رہے ہو،اب دفعہ ہو تم تینوں یہاں سے۔"وہ ہنوز انہیں کھڑا دیکھ،طیش سے غراتا،اپنے نائٹ گاؤن کی ڈوریاں کستا اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔ پیچھے وہ تینوں سر جھکا کر بنگلے سے نکلتے چلے گئے تھے۔۔۔ ________ "ہاۓ چیتے رب دی قسم کیا سُندر جگہ ہے۔تیرے پاس کہاں سے آئی۔"چھوٹا پورے ہٹ کا جائزہ لیتا،دهپ سے صوفے پر گر کر اشتیاق سے بولا۔۔ ٹائیگر اقصیٰ کو اسی کمرے میں ایک مٹریس پر لٹاکر سیدھا نیچے آیا تھا۔جہاں وہ چھوٹے بچوں کی طرح اندر باہر ہر جگہ کا جائزہ لے چکا تھا۔سارے راستے تو وہ سوتا ہوا ہی آیا تھا۔ورنہ رات میں بھی کان کھاتا۔۔ "چل اٹھ،بعد میں گھوم لیو اب،سیدھا اٹھ وہ دیکھ سامنے کچن ہے،جاکر کچھ کھانے پینے کا انتظام کر۔"اسے دھکا مار کر نیچے گراتے،وہ خود پیٹ کے بل صوفے پر اڑا ترچھا لیٹ گیا تھا۔ "اوہ بھائی،تیری غلامی کرنے نہیں آیا ہوں میں،میں تو چلا سونے اٹھ کر ناشتہ بنا میرے لئے بھی شاباش۔۔"ٹائیگر کے سامنے اتنی بات کرنے کی جرات بھی صرف اس میں تھی۔اس کی لن ترانیوں پر ٹائیگر نے تیز نظروں سے گھورا تھا۔جو نظر اندز کرتا،دوسرے صوفے پر ڈھے گیا تھا۔۔ "گاڑی میں چلا کر لایا ہوں،کمر اس کی ٹوٹ رہی ہے۔چل نکل یہاں سے نیستی،کمرے میں جا کر مر۔۔"وہ اسے سخت نظروں سے گھورتا،ایک بار پھر دھکا مار کر ووڈن فلور پر گرا چکا تھا۔۔ "ابے چیتے،ایسا سلوک کرے گا اب تو بھائی کے ساتھ۔"نا نظر انے والے آنسو صاف کرتاوہ دہائی دینے والے انداز میں بولا۔۔ چل دفع ہو۔۔"وہ غصّہ سے جھڑک گیا "ہاں!!ہاں یتیم ہوں نا۔""وہ ایک بار پھر بول کر پچھتایا تھا،کیونکہ ٹائیگر کے ہاتھ میں پکڑا گلاس سیدھا اس کے منہ پر آکر لگا تھا۔وہ ایک دم بوکھلا کر اُپر بھاگا۔ _______ "آج میری زندگی کا ایک اور باب شروع ہونے کو ہے۔نئے راستے،نئی منزل،اور بہت کچھ۔آپ کا کہا ایک ایک لفظ یاد ہے مجھے۔مگر۔۔۔ جب اس دنیا میں بڑھتی بے حسی،درندگی،اور مطلب پرستی دیکھتا ہوں تو نا جانے کیوں میرا دل بھی کرتا ہے کہ میں انہی جیسا ہو جاؤں۔انہی سفاک لوگوں کے رنگ میں رنگ جاؤں۔جو تیرے منہ پر تیرے اور میرے منہ پر میرے،بہت میٹھے سے ہیں۔مگر ان کے وار۔۔۔"وہ آنکھ میچ گیا تھا۔۔ اور پتہ ہے کیا میں ایسا ہو رہا ہوں۔اسی رنگ میں رنگتا چلا جا رہا ہوں۔اس کالی دنیا کے اثرات مجھے پر بھی مرتکب ہونے لگے ہیں۔میں نے بہت کوشش کی خود کو اس دلدل سے آزاد کروانے کی مگر کیا کروں۔میں نا چاہتے ہوۓ بھی اسی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔اور اب اتنی گہرآئی میں اتر ہوں۔جہاں سے واپسی ناممکن سی ہو گئی ہے۔اب میں وہ نہیں رہا جو کبھی تھا۔آپ کا بیٹا تو مر گیا۔اس قتل میں صرف مقتول ہی نہیں قاتل بھی اپنی جان کی بازی لگا گیا تھا۔ان آتی جاتی سانسوں کا اب صرف ایک ہی مقصد ہے وہ ہے انتقام اور بس انتقام،یہاں محبّت کی بازی لگانے کے لئے اب چار دن ہی باقی تھے۔دو لڑنے میں گزار دئیے،اور دو ۔۔۔۔۔۔۔۔"ڈائری پر بال پین کی تیز رفتاری لفظوں کا ذخیرہ ختم ہوتے ہی تھم سی گئی تھی۔آنکھ سے ایک اور آنسو ٹوٹ کر صفحہ پر گرتا،اس کا درد کا گواہ بن گیا تھا۔جہاں سے ایک نیا باب شروع ہونے کو تھا۔۔ _______ "اففف دیکھ کر نہیں چل سکتے ہیں آپ؟؟"سامنے سے تیز گام کی سی رفتار سے اندھی بھکلی بھاگتی آتی وہ کامنی سی سرمئی رنگ میں ملبوس لڑکی اچانک اس سے ٹکرا گئی تھی۔۔ "میڈم میں تو دیکھ کر ہی چل رہا ہوں،مگر آپ شاید آنکھیں گھر ہی بھول آئیں ہیں۔"وہ سامنے کھڑی لڑکی کا چہرہ غصّہ سے تمتماتا دیکھ،مخصوص نرم لہجے میں گویا ہوا تھا۔ "میں ۔۔دیکھ کر نہیں چل رہی۔"اقصیٰ نے حیرانی سے آنکھیں بڑی کر پوچھا۔ "جی۔"اس نے ازلی نرمی سے جواب دیا۔ "یو۔۔۔"اقصیٰ غصّہ سے دانت کچکچا کر مزید بحث کا ارادہ ترک کرتی،تنفر سے سر جھٹکتی یونیورسٹی کا مین گیٹ عبور کرتی باہر نکل گئی۔جبکہ اس کی پرشوق نگاہوں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔ پیاری ہے نا۔"کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تھا۔ ہاں بہت۔۔"وہ ٹرانس میں بے ساختہ ہی بول اٹھاتا۔۔ "بی ایس میڈیا سائنس کا تیسرا سال ہے۔مائیگریشن پر حال ہی میں یونیورسٹی آئی ہے۔۔"اس نے جگری یار کی طرح اطلاع دی تھی۔جبکہ وہ اب چونک کر سیدھا ہوا تھا۔ اقصیٰ جمشید،نام ہے اس کا۔۔"وہ اس کا جونیئر تھا۔جو آنکھیں چلاتا شرارت سے پتہ کی بات بتا رہا تھا۔ جبکہ وہ نام پر ذرا چونک سا گیا تھا۔یادوں کے دریچوں پر کچھ تلخ یادیں لہرائی تھیں۔ "تمھیں بڑا پتہ ہے۔"سر جھٹک کر وہ اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر زور سے دباتا ہوا مصنوعی غصّہ سے پھنکارا تھا۔ "میرے پاس تو اس کے گھر کا بھی پتہ ہے۔کیا بولتا ہے دوں کیا۔"وہ اس کے شکنجے سے اپنی گردن آزاد کرتا،مزے سے بولا۔اسسے پہلے کے سیف آگے بڑھ کر اسے پکڑتا،وہ تیزی سے ڈور کر باہر نکل گیا تھا۔جبکہ وہ مسکرا کر اِرد گِرد میں نظر ڈالتا بالوں میں ہاتھ پھیر کر لفٹ کی جانب آیا تھا۔۔ وہ یونیورسٹی پاس آوٹ ہونے کے قریبً چھ ماہ بعد پروفیسر کے بلانے پر آج یونیورسٹی آیا تھا۔اور یہاں اس کا ٹکراؤ پہلی بار اقصیٰ سے ہوا تھا۔اقصیٰ وہ پہلی لڑکی تھی۔جو اسے پہلی ہی نظر میں پیاری لگی تھی۔جس کے دیدار کو وہ اب اکثر ہی بنا مقصد یونیورسٹی آنے لگا تھا۔مگر قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ "سیف سیف بیٹا۔۔"اپنے باپ کی آواز پر وہ چونک کر متوجہ ہوا۔۔ "جی بابا آرہا ہوں۔۔"ليپ ٹاپ لڈ گراتا،وہ بیڈ کے دوسری جانب سے پھلانگتا ہوا باہر کو بڑھا۔۔۔۔۔ ________ وہ کمرے میں داخل ہوا تو،ایک طرف کو بیٹھی اقصیٰ نے غصّہ سے رخ موڑ لیا تھا۔ٹائیگر نے سرہاتی نظروں سے دیکھ قدم اس کی جانب بڑھاۓ، ایک ہاتھ میں سیگرٹ
