Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 09
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
0 Views
Episode No 09
ہے معصوم قیدی چڑیا۔۔"اس کہ لفظوں پر اقصیٰ کہ چہرے پر ایک رنگ آکر گزرا۔۔۔اقصیٰ کو وہ کوئی پاگل لگ رہا تھا۔جس کا لہجہ پل پل میں بدل رہا تھا۔۔ "مجھے یہاں رکھ کر تمھیں کیا ملے گا۔پلیز جانے دو مجھے یہاں سے۔۔۔"وہ کچھ دیر یونہی ساکت سی بیٹھی رہی،پھر اچانک اس کا گریبان ایک بار پھر اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں میں جکڑ کر ڈر اور خوف ایک طرف کر کہ غصّہ سے چیخ پڑی ۔اب بات اس کی ذات پر،عزت پر آگئی تھی۔جو لڑکی کئی ہفتوں سے گھر سے غائب ہو۔کیا اسے یہ معاشرہ قبول کرتا ہے۔ "سکون۔۔سکون ملے گا۔تجھے اس پنجرے میں قید کر کہ، یقین کرو تم کسی بے بس چڑیا کی طرح پھڑپھڑاتی میرے دل کو بہت بھا رہی ہو۔"اس کا لہجہ عجیب پراسرار سا تھا۔ "نہیں ۔۔۔نہیں ۔۔۔معصوم چڑیا آنسو نہیں۔۔یہ عورت ذات کہ آنسو سارا کھیل خراب کر دیتے ہیں۔اس بار ٹآئیگر ان آنسو کہ چکر میں نہیں آۓ گا۔"وہ نفی میں سر ہلاتا خود ساختہ ہی بڑبڑآیا تھا۔۔ "تو پھر مجھے مار دو۔کیوں کہ اب ویسے بھی میری کوئی زندگی نہیں۔۔"اقصیٰ کی اب بس ہوئی تھی۔۔ "ابھی تو بہت ضرورت ہے تمہاری ۔جب ضرورت ختم تو سمجھ لیوں اس دن تیرا کھیل بھی ختم۔"عجیب پراسرار لہجے میں بولتا وہ اسے واپسی کمرے میں بند کر کہ چلا گیا جبکہ وہ دیوار سے ٹیک لگا کر نیچے بیٹھتی اس ظلم پر محض خاموش آنسو ہی بہا سکی۔۔۔ میں بھی اب خود سے ہوں،جواب طلب وہ مجھے بے سوال چھوڑ گیا جون ایلیا ______ "سیف بیٹا آج شام میں فری ہو تم ۔۔"وہ اس کے کمرے میں داخل ہوتے مسکرا کر گویا ہوۓ، جو پولیس کی وردی میں ملبوس تھانے جانے کی تیاری کر رہا تھا۔۔ "جی بابا !!آپ کو کوئی کام تھا۔بتائیں آپ؟"وہ سر پر کیپ پہنتا ازلی نرمی سے گویا ہوا۔ "ہاں بیٹا،میں نے کچھ لوگوں سے تمہارے لئے لڑکی دیکھنے کی بات کی تھی،بس اسی سلسلے میں جانا ہے۔"انہوں نے نارمل انداز میں کہا تھا،مگر اس کے مصروف ہاتھوں کی حرکت ٹھٹھک کر رک گئی تھی۔۔ "لیکن کیوں۔"نہآیت ہی فضول سوال تھا۔ "کیا مطلب کیوں؟"انہوں نے اسے گھورا۔۔ "مطلب،میں ابھی اپنی جاب میں مصروف ہوں،میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا۔"وہ ذرا چڑ کر بولا۔۔ "کیوں بھئی۔۔"انہوں نے تعجب سے اپنے بیٹا کا انداز دیکھا۔ "کیوں کیا کچھ نہیں،بس ابھی نہیں کرنی،ابھی میں ایک بہت اہم کیس میں پھنسا ہوا ہوں۔"اس نے خود پر قابوں پاکے صاف انکار کیا۔ "ہاں تو ٹھیک ہے،ابھی چل کر لڑکی دیکھ لیتے ہیں۔"انہوں نے رسانیت سے حل پیش کیا۔۔ "ابھی نہیں کرنی بابا،جب شادی کرنی ہوگی۔تو لڑکی بھی دیکھ لیں گےاور شادی بھی ہو جائے گی۔فلحال ابھی نہیں۔"وہ جھنجھلا کر انکار کرتا کمرے سے باہر نکل گیا۔جبکہ وہ پرسوچ انداز میں اس کے کمرے میں ہی موجود تھے۔ _______ "ہاں چھوٹے بول،وہاں کہ اب کیا حالات ہیں۔"ٹائیگر موبائل کان سے لگاۓ، اپنے کمرے میں اوندها لیتا تھا۔ "اچھا ٹھیک ہے،تو فکر نہیں کر،میں ایک دو دن میں خود نادر سے ملاقات کرتا ہوں۔"چھوٹے کو پریشان ہوتا دیکھ،وہ آنکھیں موند کر بولا۔۔ "اچھا چل ٹھیک ہے،تو رکھ یار فون۔"وہ فون ایک طرف پھینک کر آنکھیں موند گیا۔یہ لڑکی تو اس کے لئے مشکل ہی بنتی جا رہی تھی۔اب اسی سمجھ نہیں آرہا تھا۔کہ اسے کہاں پھینک کر اپنا پیچھا چھوڑاۓ، جیسے وہ بغیر سوچے سمجھے اٹھالایا تھا۔۔۔ _____ رات کا دوسرا پہر چل رہا تھا۔ٹائیگر ہٹ کے اس کمرے میں داخل ہوا،جہاں اقصیٰ سکڑی سمٹی سی ایک کونے میں سو رہی تھی۔اس کی نشہ اور دوا اس پر کام کر گئی تھی۔چند گھنٹوں تک اسے ہوش نہیں آنا تھا۔اب وہ آرام سے اس سے اپنا پیچھا چھوڑا سکتا تھا۔کیوں کے ٹائیگر گینگ کو اب اس کی ضرورت نہیں۔اس کی مزید گمشدگی نادر کے لئے مشکلات کھڑی کر سکتی تھی۔ وہ دروازہ آہستہ سے بند کرتا قدم قدم چلتا ہوا،اس کے نزدیک آیا۔چند لمحے اس کے سر پر کھڑا رہا،پھر پنجوں کے بل اس کے قریب ہی بیٹھ گیا۔اقصیٰ جمشید۔۔زیر لب نام بڑبڑا کر آہستہ سے اس قریب ہی بیٹھ گیا۔۔ چند لمحے بے تاثر نگاہوں سے اسے گھورتا رہا،اس نے اقصیٰ کو اغواہ کر کے کس بات کا بدلہ لیا تھا۔اس کا علم تو اسے خود بھی نہیں تھا۔وہ بس اس کی صورت کہیں کی ازیتوں کا بدلہ کہیں اور سے لے رہا تھا۔ایک خاموش آنسو آنکھ سے ٹوٹ کر اس کے گال پر پھسلتا بے مول ہوگیا تھا۔۔ وہ آہستہ سے اسے اٹھاتا کمرے سے باہر نکل آیا تھا،ہٹ کی سیڑھیاں عبور کر اسے باہر کھڑی جیپ میں ڈالا،اور خود واپس لوٹ کر دروازہ میں تالا لگاتا۔فرنٹ سیٹ پر آکر بیٹھا۔اپنے برابر والی سیٹ پر نگاہ ڈالی،جہاں اقصیٰ دنیا و مافیہ سے بے خبر بےہوش پڑی تھی۔۔ ایک سرد اہ فضا کے سپرد کر،وہ اپنی گاڑی ایک نئی منزل کی جانب گھما چکا تھا۔جہاں صرف راہ میں کانٹے ہی کانٹے اس کے منتظر تھے۔ ______ جاری ہے کمینٹ میں دو لائن ہی لکھ دیا کریں۔تاکہ پتہ لگ سکے کہ آخر سٹوری آپ کو سمجھ بھی آرہی ہے۔۔ اب ٹائیگر اقصیٰ کے ساتھ کیا کرے گا؟کوئی تکّا۔
