Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 09
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
0 Views
Episode No 09
#محبت_بازیِ_آخر #ہما_قریشی #قسط_نمبر _09 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "ہاں بول چھوٹے کیا ہوا۔۔"مسلسل بجتے موبائل کو کان سے لگا کر وہ مصروف انداز میں بولا۔۔ "چیتے لوڈنگ شپ ڈوب جانے کے باعث باس کو بڑا نقصان ہوا ہے۔اُپر سے تو بھی غائب ہوگیا ہے۔وہ تجھے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا ہے یار۔۔واپس آجا۔۔"چھوٹا سرگوشی کے انداز میں بات کر رہا تھا۔اس کے ڈائری پر چلتے ہاتھ ٹھٹھک کر رکے۔۔ "نادر واپس کب آیا۔"وہ چونک کر متوجہ ہوا۔ "ابھی دو دن پہلے ہی آیا ہے۔۔اور آتے ساتھ ہی تیری تلاش شروع کردی۔۔" "کسی کو اڈے سے باہر نہیں جانے دے رہا۔میں بھی بہت مشکلوں سے بات کر رہا ہوں تجھ سے۔"ارد گرد میں نگاہ ڈال کر وہ بہت دهیمی آواز میں بات کر رہا تھا۔۔ "همم۔۔۔"اس نے محض ہنکار بھرنے پر اتفاق کیا۔۔جبکہ نظریں دائری پر لکھے لفظوں پر مرکوز تھیں۔۔ "اور وہ رپورٹر!!!!یار بھائی تو نے ایسا کیوں کیا۔اس بیچاری لڑکی کی ہم سے کیا دشمنی۔۔مجھے لگا تھا تو صرف اس ڈرا دھمکا کر کھیل رہا ہے۔۔مگر تیرے ساتھ اس کی گمشدگی کی خبریں ہر چینل پر گردش کر رہی ہیں۔۔"اس کے لہجے میں افسوس تھا۔مگر اس کا دماغ کہیں اور ہی الجھا ہوا تھا۔ "چل میں تجھ سے بعد میں بات کرتا ہوں۔شاید کوئی آرہا ہے۔۔"وہ اپنے پیچھے کسی کی آہٹ محسوس کر موبائل بند کر کے جیسے ہی پلٹا۔۔سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ کچھ لمحوں کے لئے بالکل حواس باختہ رہ گیا۔۔ ______ اقصیٰ کو اس قید خانے میں صبح سے شام ہوگئی تھی۔مگر اس کی خبر گیری کو ٹائیگر دوبارہ لوٹ کر نہیں آیا تھا۔رو رو کر اب تو آنکھوں کا پانی بھی خشک ہونے لگا تھا۔مگر دل کا درد تھا کہ کسی حال کم ہی نہیں ہو رہا تھا۔وہ رو رو کر خاموش ہوتی بے تاثر نگاہوں سے زمین گھور رہی تھی۔بیچ میں ایک دم سسکی سی بھر لیتی مگر پھر خاموش ہو جاتی۔ٹائیگر نے اسے کس مقصد کے لئے اغواہ کیا تھا۔دماغ یہ سوچ سوچ کر معاوف ہوا جارہا تھا۔۔۔ وہ ابھی سوچوں میں گم خاموش تھی۔کہ چرچراہٹ کے ساتھ دروازہ کھولنے کی آواز آئی۔اقصیٰ نے نگاہ اٹھاکر اس کی جانب دیکھا،جو ہاتھ میں کھانے کی ٹرے پکڑے اس کے نزدیک آیا تھا۔۔ خاموشی سے آکر اس کے ہاتھ کھولے۔اقصیٰ حیرانی سے اس کا عمل دیکھ رہی تھی۔جس کی خود کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔اس کے وجود سے اٹھتی شراب کی سمیل سے اقصیٰ کو کراہیت سے ابکائی سی آئی تھی۔اور بیک وقت خوف بھی،مگر وہ خاموشی سے اپنا کام جاری رکھے ہوۓ تھا۔۔ وہ آخری گرہ کھول کر اٹھنے ہی لگا تھا کہ اقصیٰ نے اس کی مدہوشی کا فائدہ اٹھا کر اچانک سے اسے گريبان سے پکڑا۔۔ اس نے طیش میں غصّیلی نگاہ اٹھائی،جو نڈر انداز میں اسے پیچھے دھکیل کر باہر بھاگنا چاہتی تھی۔ ٹائیگر نے اقصیٰ کی مذامت دیکھ،اس کا گريبان پر آیا ہاتھ پکڑ کر موڑ کر کمر سے لگایا۔وہ اچانک حواس باختہ ہوئی۔ "اہ ہ ہ۔۔۔"رات کی وحشت زده خاموشی میں اقصیٰ کی بُلبلاتی آواز دور تک گونجی۔۔ "زیادہ ہوشیاری دیکھانے کی ضرورت نہیں ہے رپورٹر!!چپ چاپ سے یہاں پڑی رہو،ورنہ اس بندوق کی ساری گولياں تمہارے بھیجے میں اتار دونگا۔"وہ اچانک اس کا جبڑا اپنے ہاتھوں میں ،دبوچ کر منہ پر غرایا۔۔ اقصیٰ کی خوفزدہ نظریں اس کی چٹان سی سختی لئے چہرے پر مرکوز تھیں،جو کمر پر لگی گن اچانک اس کی کنپٹی پر رکھ گیا تھا۔۔ حلق میں کانٹے سے چبھتے محسوس ہوۓ ۔اس کی نشے سے بھاری ہوتی آواز نے اس کا سارا اعتماد جھاگ کی طرح بیٹھا دیا تھا،اب تو تکلیف سے آنسو بھی نکلنے لگے تھے۔مگر کمر کی جانب موڑا ہاتھ اب بھی اس کی سخت گرفت میں تھا۔۔ "خاموشی سے یہاں پڑی رہو،مجھے سختی پر مجبور مت کرو سمجھیں۔۔"وہ جانے کیسے خود پر ضبط کر رہا تھا ۔۔ "آخر میں نے تمہارا بگاڑا کیا ہے۔پلیز مجھے جانے دو۔"وہ ایک بار پھر منتوں پر اتر آئی۔۔ "کہاں نا خاموش رہو۔۔"وہ اپنے بھاری ہوتے سر کو تھامتا کمرہ لاک کر کے باہر نکل گیا۔جبکہ پیچھے وہ روتی سسکتی اپنی آزادی کی بھیک مانگتی رہ گئی،مگر اسے رحم نہیں آیا تھا۔۔ _____ "کس سے بات کر رہے تھے۔"چھوٹے نے مقابل کھڑے نادر کے آدمی کو دیکھ،جلدی سے اپنے حواس بحال کئے۔۔ "وہ وہ،ایک دوست سے۔" اس نے تھوک نگلا۔ "زیادہ ہیرو بننے کی ضرورت نہیں،جانتے ہو نا کہ ٹائیگر لاپتہ ہے۔تو اپنا دماغ اسے ڈھونڈنے میں لگاؤ۔باتیں بھگارنے میں نہیں۔"وہ گھور کر بولا تو چھوٹے نے جلدی سے سر ہلایا ۔ "چل نادر سیٹھ بلا رہا ہے تجھے۔"وہ لمحوں کہ توقف کے بعد بولا تو چھوٹے نے بھی اس کی پیروی کی۔ اس کی تقلید میں چلتے اس نے شکر کا سانس خارج کیا تھا۔۔ _____ "بیٹا مجھے بتاؤ تو آخر معاملہ کیا تھا،جب تک تم مجھے مکمل حقیقت سے آگاہ نہیں کروگی۔میں انصاف کیسے دلاؤں گا۔۔"سیف سامنے بیٹھی لگ بھگ بیس سال کے قریب بیٹھی لڑکی کو دیکھ،نرمی سے استفسار کر رہا تھا۔۔ "مجھے کچھ نہیں پتہ،بس اتنا پتہ ہے۔میں میرے ماں باپ سب بے قصور تھے۔ہمارے گھر میں اگ نہیں لگی تھی۔بلکہ لگائی گئی تھی۔اس لڑکی کہ قتل میں ہمارا کوئی عمل داخل نہیں۔"وہ چادر کے ہالے میں چھپے چہرے پر نقاب رکھے۔مسلسل رو رہی تھی۔۔ "جانتا ہوں،مگر ہمارے پاس وہاب خٹک کے بیٹے کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں،وہ اس شہر کے ایک ناموار بزنس مین کا بیٹا ہے۔ہم اس پر بغیر کسی ثبوت کے ہاتھ بھی نہیں ڈال سکتے۔کجا کہ جب یہ واقعہ ہوا۔جب تو وہ کومہ میں تھا۔"سیف بے پریشانی سے پیشانی مسل کر کہا۔۔۔ "میرے پاس،کوئی ثبوت نہیں،اور ناہی میں یہ ثابت کر سکتی ہوں۔مگر میں اور میرا خاندان بے قصور تھا۔یہ قتل وہاب خٹک کے بیٹے نے ہی کیا تھا۔۔"وہ مسلسل رو رہی تھی۔۔ "اچھا اچھا!!آپ رو نہیں،ہم ان سے آپ کے ماں باپ کے خون کا حساب ضرور لیں گے۔اور یہی عدالت ہمارے حق میں فیصلہ کرے گی۔جس نے اس کیس کی فائل بند کردی ہے۔یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔۔"وہ اس سے زیادہ تو جیسے خود کو یقین دلا رہا تھا۔۔جبکہ وہ معصوم سی لڑکی جو اپنے خاندان والوں کے بعد تن تنہا رہ گئی تھی،مسلسل ہچکیاں بھر رہی تھی۔۔ ______ شگفتہ بیگم کی طبیعت کافی دنوں سے ناساز تھی،غموں کے پہاڑوں نے انہیں بستر سے لگادیا تھا۔۔دیکھتے ہی دیکھتے دو ماہ گزر گئے تھے۔مگر اقصیٰ کاکچھ آتا پتہ نہیں تھاجمشید صاحب کے بعد تو سب نے اپنے ہاتھ اٹھا لئے تھے۔وہ بھی صرف محلے والوں کے رحم و کرم پر تھیں۔ "بھابھی اٹھ جائیں،کب تک ایسے ہی لیٹی رہیں گی،کیا آپ کو اقصیٰ بیٹی کو نہیں ڈھونڈنا۔جانے ہماری بچی کہاں ہوگی۔"محلے کی ایک عمر رسیدہ خاتون شگفتہ بیگم کے سرہانے بیٹھیں دکھ سے ان کی حالت دیکھ رہی تھیں۔ جبکہ شگفتہ بیگم خاموش تھیں،بے تاثر نگاہوں سے چھت کو ہی گھور رہی تھیں۔چند ایک رشتہ دار تھے۔جو جمشید صاحب کے وزر کے لئے آۓ بھی تھے۔باقی کسی نے ان کی مدد کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔شگفتہ بیگم،اور جمشید صاحب دونوں ہی اپنے والدین کی اکلوتی اولادیں تھیں۔ایسے میں کوئی قریبی رشتہ نہیں تھا،جو ان کے بعد دنیا میں اس کا سہارا بنتا۔اور اب تو انہوں نے اس کی واپسی کی امید بھی چھوڑ دی تھی۔ایک ماہ میں وہ جانے کہاں سے کہاں گئی تھی۔وہ اگر واپس ابھی جاتی تو دنیا اسے کبھی چین سے جینے نہیں دیتی۔۔ وہ خاتوں دروازہ بند کر کے جاچکی تھیں۔جبکہ وہ مسلسل چھت کو گھورتی اقصیٰ کی کبھی ناواپسی آنے کی
