Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 09
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
0 Views
Episode No 09
دعا کرتیں،آنکھیں موند گئیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ________ صبح کی کرنیں پھوٹتے ہی دیوار سے ٹیک لگا کر زمین پر بیٹھی اقصیٰ کی آنکھ روشنی دیکھ کر کھولی تھی۔ ٹائیگر نے اس کو آزاد کمرے میں بند کر رکھا تھا،ایک ماہ ہونے کو آیا تو اسے باہر کی دنیا کی کوئی خبر نہیں تھی۔سب ہی اپنی دنیا میں مگن شاید اسے بھول گئے تھے۔جن کی لئے وہ آواز اٹھاتی تھی۔شاید ان میں سے کسی نے بھی اس کے لئے آواز اٹھانا گوار نہیں کی تھی۔اس کے پاس ایسا کوئی آلہ موجود نہیں تھا،جس کا استعمال کر وہ یہاں سے آزاد ہو سکتی۔اب محض اسے شگفتہ بیگم کی فکر تھی۔جو اس کی طرح اس بھری دنیا میں اکیلی ہی تھیں۔۔ وہ سوچوں میں گم بیٹھی تھی۔کہ ٹائیگر دو دن بعد اس کمرے میں داخل ہوا تھا۔نظر اٹھا کر سامنے دیکھا،جو مسكرآتی آنکھوں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔۔ "کیسی ہو رپورٹر!!!"آئبرو اٹھا کر شوخی سے پوچھا۔چیخ چلا چلا کر اب اس میں بولنے کی بھی ہمّت باقی نہیں رہی تھی۔۔ "افففف!!!رپورٹر اتنا غصّہ۔۔"وہ قریب پنجوں کے بل بیٹھتا،وحشت سے مسکرایا۔۔ اقصیٰ کو اس سے خوف ساآرہا تھا۔وہ ڈر دب کر سمٹ کر دیوار سے چپک گئی۔اس کے تیور اسے بری طرح کھٹک رہے تھے۔۔ "الے الے رپورٹر تو ڈر رہی ہے۔۔"وہ جیسے مذاق اڑا رہا تھا۔۔ اقصیٰ ہنوز خاموش تھی۔۔ "یہ لو موبائل،چلو شاباش ویڈیو بناؤ،اور میں تمہارا کیمرہ مین۔"خوف سے لرزتی اقصیٰ کو وہ کوئی نفسیآتی ہی لگا تھا۔ اقصیٰ ڈر سے نفی میں سر ہلاتی مزید پیچھے کو ہوگئی۔سامنے ہی دروازہ مکمل کھُلا ہوا تھا۔اقصیٰ کا دماغ ایک بار پھر یہاں سے بھاگنے کے لئے راہ فرار ڈھونڈھنے لگا۔ "باہر جانا ہے،اؤ میں تمھیں لے کر چلتا ہوں۔"اس کی نگاہوں کا مرکز دیکھ،وہ زبردستی ہاتھ سے کھینچتا ہوا کمرے سے باہر لے جانے لگا۔جو مسلسل مزامت کر رہی تھی۔۔ "چلو نا گھبرا کیوں رہی ہو۔"اقصیٰ نے وحشت سے گھر میں چھاۓ موت کے سے سناٹے کو دیکھا تھا۔۔ صبح کا سورج مکمل طلوع ہوتا،ہر سو اپنی کرنیں پھیلا رہا تھا۔اقصیٰ کا دھیان ٹائیگر سے ہٹ کر اس گھر کی جانب اگیا تھا۔۔ سامنے کھلی بڑی سی کھڑکی کے باہر نظر آتے مناظر دیکھ،اس کا خون تک خشک ہوگیا۔باہر کا منظر نہایت ہی خوبصورت اور دلفریب تھا۔پہلی بار اس جگہ کو دیکھنے والا شخص شاید مہبوت رہ جاتا۔مگر اقصیٰ کو تو ان اونچے ہیبت ناک پہاڑوں میں صرف اپنی موت ہی دکھائی دے رہی تھی۔۔ دور تک پھیلا سبزہ،اونچے اونچے پہاڑ،پہاڑوں پر بھاگتے پہاڑی جانور،مشرق سے طلوع ہوتا سورج سوا نیزے پر تھا۔ ہر سو قدرت کے حسین مناظر بکھرے ہوۓ تھے۔یہ وادی سی لگ رہی تھی۔اور یہ کوئی لكڑی کا چھوٹا سا ہٹ تھا۔جس پر اقصیٰ آج غور کر رہی تھی۔ووڈن فلور پر کالین بچھا ہونے کے باعث پيروں کی دھمک محسوس ہی نہیں ہو رہی تھی۔۔ "پھر کیسا لگا تمھیں یہ قید خانہ۔"قریب سے ابھرتی سرگوشی پر اقصیٰ خوف سے اوچھل پڑی۔۔ اقصیٰ نے خوف اور بے یقینی سے اسے دیکھا تھا،وہ اسے جانے کس علاقے میں لے آیا تھا۔یہاں سے اگر بھاگتی بھی تو کہاں جاتی۔"اقصیٰ بے بسی سے غصّہ اور طیش میں ،ناک پھلآتی یکدم اس پر جهپٹ پڑی تھی۔۔۔ "جانے دو مجھے یہاں سے،ورنہ جان سے ماردونگی تمھیں حیوان۔۔"اس کی تیز چیخیں،پورے ہٹ میں گونج رہی تھیں۔جبکہ ٹائیگر نے غصّہ سے اسے قابوں کیا تھا۔جو اپنے لمبے لمبے ناخون اس کی گردن میں چبھو چکی تھی۔۔ "سکون سے بیٹھی رہو یہاں پر،زیادہ پھڑپھڑاؤ نہیں۔۔"وہ طیش میں اس کے منہ پر غرآیا۔۔۔ "مجھے یہاں سے جانا ہے۔جانے دو۔مجھے یہاں سے آخر کیوں اغوا کیا ہے۔تم نے مجھے،میں نے تمہارا بگاڑا کیا تھا۔۔"وہ مسلسل روتے ہوۓ مذامت کر رہی تھی۔جو اسے کھینچتا ہوا۔واپس کمرے کی جانب لے جارہا تھا۔ ۔۔ "رپورٹر۔۔چپ چاپ خاموشی سے اس کمرے میں پڑی رہو۔اور یہاں سے بھاگنے کا خیال بھی اپنے دل سے نکال دو،زیادہ ہیرو پنتی دیکھانے کی ضرورت نہیں۔ورنہ یاد رکھنا،میں رحم نہیں کھاؤں گا،بلکہ سیدھا ٹھوک ڈالوں گا۔وہ بھی بغیر کسی لفڑے کہ۔"ٹائیگر اسے کمرے میں جھٹکے سے پٹکتا ہوا قریب آکر اس کی کنپٹی پر پستول رکھ، سرخ آنکھیں نکال کر غرایا۔جو کچھ زیادہ ہی پھڑپھڑا رہی تھی۔بڑے سے بڑے سورما کو ڈرانے کے لئے اس کی دہشت کی کافی تھی۔مگر یہ رپورٹر اس کی نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی تھی۔ "میں۔۔۔۔میں ۔۔میرا کیا قصور ہے۔پلیز جانے دو مجھے یہاں سے ۔۔"آنسوں سے لبریز آنکھیں بہت امید سے اس کی جانب دیکھ رہی تھیں۔۔۔ "ارے رپورٹر کو تو گھر جانا ہے۔اتنی جلدی ڈر گئیں۔ویڈیو نہیں بنانی ٹآئیگر گینگسٹرز کی۔"اس کہ خوف سے سفید پڑتے چہرے،کپکاتے ہونٹوں،لرزتے وجود پر ایک نظر ڈال کر بندوق سركا کر اس کہ ماتھے پر رکھ کر زور دار قہقہہ لگاتے پوچھا۔۔ "نہیں ۔۔نہیں پلیز مجھے معاف کردو۔آیندہ میں کبھی تمہارے سامنے نہیں آونگی۔اور ۔۔اور پولیس کو بھی تمہارے یا پھر تمہارے گینگ کہ بارے میں کچھ نہیں بتاؤں گی۔بس مجھے یہاں سے جانے دو۔تمھیں اللّه کا واسطہ۔"نفی میں سر ہلا کر رو کر بولتی ایک ہاتھ سے خود ہی آنسو پونچھتی جیسے وہ اسے یقین دلانا چاہتی تھی۔۔ "ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔کمرے کی وحشت میں ایک زور دار قہقہہ بلند ہوا تھا۔۔ "تمھیں کیا لگتا ہے رپورٹر، میں ان پولیس والوں سے ڈرتا ہوں۔ٹآئیگر ۔۔ٹآئیگر نام ہے میرا۔جتنی تمہاری عمر نہیں اتنا مجھے ان وردی والوں کو چکما دینا کا تجربہ ہے۔"ٹآئیگر اپنے لمبے بالوں کو ہاتھ سے ایک جھٹکے سے پیچھے کر کہ اس کہ منہ پر غرایا۔جو خوف سے کپکپا اٹھی تھی۔سب کچھ کر کے دیکھ لیا تھا۔۔مگر وہ شاید رحم کرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ "میری ماں۔۔میری ماں گھر پر میرا انتظار کر رہی ہوگی۔اس کا میرے سوا اور میرا اس کہ سوا اس دنیا میں اور کوئی سہارا موجود نہیں۔پلیز رحم کھاؤ مجھ پر۔"اقصیٰ نے ایک نئی امید کے تحت ہاتھ جوڑ کر ایک بار پھر التجا کی۔۔ "دیکھ بھئی رپورٹر یہ ماں واں کہ بارے میں تو تجھے اپن کو بے ضمیر،بے حس،درندہ بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔یاد رکھ تو ٹآئیگر کہ قبضے میں ہے ۔میری اجازت کہ بغیر یہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تو تو یہاں سے بھاگنے کا خیال اپنے دل سے بالکل ہی نکال دے۔"ایک آخری امید بھی دم توڑ گئی تھی،اس کی خوف سے پھٹی پھٹی آنکھیں اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔جس کا لہجہ آج کچھ زیادہ ہی سخت تھا۔یا پھر وہ خود اپنے آپ سے انجان تھا۔۔ "تمھیں اللّه کا واسطہ۔۔تمھیں تمہاری کسی نیکی کا واسطہ جو تم نے کبھی کی ہو۔مجھے جانے دو یہاں سے۔تمہارے گھر میں بھی تو ماں۔۔بہن۔۔۔۔۔" "خاموش۔۔خبردار جو میرے سامنے اپنی مظلومیت کا رونا رویا۔۔۔۔"وہ رو کر گڑگڑاتی ہوئی بے بسی سے کچھ بولنے ہی لگی تھی۔وہ یکدم غصّہ سے دھاڑا،۔۔ اقصیٰ کی خوف سے چیخ بلند ہوگئیں۔جو غصّہ میں دور ہوتا کرسی دیوار پر مار کر ٹوڑ چکا تھا۔اقصیٰ پھٹی پھٹی نگاہوں سے تک رہی تھی،رونے کہ باعث ہلکے ہلکے کانپتے ہچکولے کھاتے وجود سے پیر سمیٹ کر بیٹھی وہ ااب اپنی قسمت پر ماتم کناں تھی۔اب تو اس کی ہچکی بندہ گئی تھی۔ "وہ سنا تو ہوگا ریپوٹر؟نیکی کر دریا میں ڈال ۔۔"وہ ٹھٹھک کر ٹہرتا قدم قدم چلتا ٹرانس کی سی کفیت میں بولتا اقصیٰ کے نزدیک آیا،جو کسی دوسرے ہی خیال میں پہنچ گیا تھا۔۔ "مگر ٹآئیگر نیکی کر کہ سیدھا کھڈے میں ڈالتا ہے۔تو تو اپن کو یہ واسطہ نا ہی دے تو بہتر ہے۔ٹآئیگر بے حسی میں اتنا سخت ہے کہ تکلیف میں خود پر بھی رحم نہیں کھاتا تو تو کیا چیز
