Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 04
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 04/01/2026
19 Views
Episode No 04
کرنے پر نرمین کچھ پریشان سی نظر آرہی تھی۔ "کیا مطلب ہے مس آپ کا بی بریو!!آپ ایک رپورٹر ہیں۔اور رپورٹر کا تو کام ہی خطروں سے کھیلنے کا ہوتا ہے۔"زمان صاحب کا لہجہ بالکل سادہ سا تھا۔جبکہ وہ پریشان سی صورت بناۓ مسلسل اپنے ناخون منہ میں لئے کھڑی تھی۔۔ "پر سر !!آپ یہ بھی تو دیکھیں،آپ جن لوگوں کا راز فاش کرنے کی بات کر رہے ہیں۔وہ تو پوری مافيا ہے۔اگر میں نے کسی ایک کے خلاف آواز اٹھائی۔اور انہیں اس طرح میڈیا پر لے کر آئی تو وہ لوگ تو میرے جانی دشمن بن جائیں گے۔"نرمین کے لہجے میں خوف واضح تھا۔ "مس نرمین آپ کو اپنا کیریئر بنانا ہے کہ نہیں۔"زمان صاحب نے پیپر پر چلتے قلم سے ہاتھ روک کر اچانک سے سوال کیا۔ "بنانا ہے سر۔"نرمین ہنوز پریشان تھی۔ "ایک کامیاب انکر بننا ہے یا نہیں۔۔"اب کے انہوں نے سیاست سے کام لیا تھا۔ وہ بھی بننا ہے سر مگر۔۔۔نرمین کا لہجہ التجایہ تھا۔ "نو اگر مگر مس نرمین۔آپ کا شو منڈے کو ان ایئر ہوگا۔جو آپ کل ہر حال میں ٹیم کے ہمرا اسی مقام پر جا کر کریں گی۔۔۔"زمان صاحب نے حکم صادر کرتے جیسے بات ہی ختم کر دی تھی۔ "مگر سر اگر کوئی مسٔلہ ہوگیا تو۔"وہ اب تک پس و پیش کا شکار تھی۔ "تو ہم یہاں بیٹھے تو ہیں مس نرمین۔۔پھر پریشانی کس بات کی ہے۔ویسے بھی آپ کا شو کل صرف ریکارڈ ہوگا۔اگر کوئی مسٔلہ ہوا تو ہم اسے نشر ہی نہیں کریں گے۔سمپل۔۔"زمان صاحب نے ہلکے پھلکے لہجے میں کہ کر بات ہی ختم کردی تھی۔۔ کتنی ہی دیر نرمین تذبذب کا شکار پریشانی سے اپنے ہونٹ چباتی رہی۔جبکہ اب زمان صاحب اسے اس قدر سوچ بیچار کرتا دیکھ ناگواری سے ماتھے پر بل ڈالے اس کے جواب کے منتظر تھے۔ "چلیں ٹھیک ہے۔مس اگر آپ۔۔۔" "سر میں کل شو کرنے کے لئے تیار ہوں۔"نرمین بہت سوچ بیچار کے بعد سمجھ کر گویا ہوئی۔فی الحال حامی بھرنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ "ویری گڈ مس مجھے آپ جیسی ہونہار لڑکی سے اسی جواب کی امید تھی۔بیسٹ اف لک۔"زمان صاحب تفخر سے مسکرا کر گویا ہوۓ۔ "تھنک یو سر!!نرمین شکریہ بجالانے والے انداز میں حامی بھرتی آفس سے باہر آگئی تھی۔مگر چہرے پر سوچ کی گہری لکیریں واضح تھیں۔۔کسی کے اڈے میں گھس کر کیمرے کے سامنے راز فاش کرنا اتنا بھی آسان کام نہیں تھا۔جتنا سکرین کے پار بیٹھے لوگوں کو نظر آتا ہے۔کسی کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے جگر کی ضرورت ہوتی ہے۔اور ایسا حوصلہ اور جگر والا کام کرنے کی ہمّت فی الحال نرمین میں نہیں تھی۔وہ حامی تو بھر آئی تھی مگر اب مستقل پریشانی کا شکار تھی۔۔۔ _____ "چیتے نادر کو گئے اتنا عرصہ ہوگیا۔اس نئی جگہ پر کام کی سیٹنگ نہیں بنی ہے کیا ابھی تک۔"ٹآئيگر اپنے وہی موالیوں جیسے مخصوص حٌلیہ میں نشے میں دهت کرسی پر سر گراۓ پڑا تھا۔ "ہیں۔۔کیا۔۔بول رہا ہے۔۔۔"اس کے لہجے کی لڑکھڑاہت سے واضح تھا کہ وہ ہوش میں نہیں ہے۔ "میں کہ رہا ہوں۔نادر نے ابھی تک نئی جگہ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تجھے کب تک سیٹنگ بن جائے گی وہاں۔"اڈے پر موجود ایک ساتھی نے ذرا نزدیک ہوکر تیز آواز میں استفسار کیا۔ "ابے سیٹنگ کیسی بے۔۔ہم جہاں کھڑے ہوتے ہیں لائن وہیں سے شروع ہوتی ہے۔۔۔"ٹآئيگر یکدم ہی سر اٹھا کر نشیلی سرخ انگارا ہوتی نگاہ اس کے چہرے پر گاڑتا فل مدہوش تھا۔ جبکہ ارد گرد میں بیٹھے مزید لڑکے اس کے انداز پر مسکرا اٹھے تھے۔جو اپنے لئے بھی وہی محلول تیار کر رہے تھے۔ "ابے چھوٹے آکر سنبھال اپنے چیتے کو۔برداشت اس سے ہوتی نہیں۔اور چلا ہے ڈبل پیک لگانے۔۔"ان میں سے ایک خود بھی نشے میں جھومتا ہوا بولا۔۔ "ہیں ہیں۔۔ابے کیا بکواس کی تو نے اپن کے بارے میں۔"۔وہ لڑکھڑاتے قدموں سے کرسی کے سہارے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ "چیتے اس کے سر پر چڑ گئی ہے۔تو تو سمجھدار ہے نا بیٹھ جا۔۔"دوسرا آدمی فوراً آگے آیا تھا۔ورنہ اس چیتے کو اپے سے باہر ہونے میں ذرا دیر نہیں لگتی تھی۔ "ہاں۔۔۔یہ میرا شیر۔۔بلکل صحیح پہچان ہے۔میں تو سمجھدار ہوں بہت۔۔ "وہ لڑکھڑا کر واپسی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔آنکھوں میں عجیب وحشت لئے بدحواسی میں بولتا۔وہ واقعی اپنے ہوش سے بیگانا تھا۔۔ "میں سمجھدار ہوں۔۔میں سمجھدار ۔۔صرف ٹائیگر ہی سمجھدار ہے اس گینگ میں۔باقی تو سارے بیوقوف ہیں۔کسی کام کے نہیں ہیں۔نكمے کہیں کے۔۔۔ایک رپورٹر کا منہ نہیں بند کرواسکے تھے یہ۔۔۔"اب وہ نیم بے ہوشی میں جاتا مسلسل کچھ نہ کچھ بڑبڑا رہا تھا۔۔ جبکہ اُسے بڑبڑاتا دیکھ باقی سارے ایک گہری سانس بھر کر خود بھی ایسی کام میں مشغول ہو گئے تھے۔ _____ نک سک سے تیار اقصیٰ لوکل بس میں سفر کرتی آج پورے دیڑ ماہ بعد اپنی روٹین کے مطابق نیو جاب کی جانب گامزن تھی۔ایک نئے سفر نئی منزل کی جانب ،جہاں بہت سے چلینجز ،اس کے منتظر تھے۔ وہ ایک بار پھر سب کچھ الف سے شروع کرنے والی تھی۔عموماً فریش،غیر تجربہ کار لوگ چھوٹے موٹے غیر شناسہ چینلز سے اپنے کیریئر کا آغاز کر کے آہستہ آہستہ بلندی کی جانب بڑھتے ہیں۔مگر اقصیٰ نے اپنے والد کے توسط سے اپنے کیریئر کا آغاز ایک ناموار چینل سے کیا تھا۔مگر آج حالات کچھ یوں تھے۔کہ ایک غیر معروف چینل میں ایسے ایک بہت چھوٹی سی پوسٹ پر ایزآ رپورٹر ہایئر کیا گیا تھا۔جہاں سے کامیابی کا سفر طے کرتے کرتے جانے مزید کتنی منزلیں طے کرنی تھی۔۔ جينز اور لانگ لینن کی شرٹ کے ساتھ گلے میں اسٹولر ڈالے تیز رفتاری سے سڑک پر ڈورتی بس کے ساتھ اقصیٰ کا دماغ بھی بہت تیزی سے ڈور رہا تھا۔اچانک سڑک پر انے والے کھڈوں کے باعث کتنی ہی بار اقصیٰ کو جھٹکا لگا تھا۔مگر بروقت ہنڈل تھام لینے کے باعث وہ خود کو گرنے سے بچا چکی تھی۔ مطلوبہ بلڈنگ کے آتے ہی اقصیٰ بس کنڈیکٹر کو کرایہ ادا کرتی بس کی سیڑھیاں اترتی روڈ کراس کر کے بلڈنگ کے عین سامنے کھڑی تھی۔جہاں وہ دیڑ ماہ پہلے اپنی سی وی ڈراپ کرنے آئی تھی۔ تیز دھوپ کی تپش سے اقصیٰ کی دودھ جیسی رنگت سرخ پڑگئی تھی۔ماتھے پر پسینے کے چند قطرے نمودار ہوۓ تھے۔جنہیں وہ رومال سے تھپتھپاتی ایک نئی امید اور عزم کے ساتھ قدم اٹھا کر بلڈنگ کے اندرونی حصّہ کی جانب بڑھی تھی۔۔ ریسیپشینسٹ پوسٹ کے بابت اگاہی لیتی وہ پر اعتمادی سے ایک ایک قدم اٹھاتی اپنے کیبن کی جانب جانے سے پہلے وہ اس چینل کے ہیڈ کے آفس کی جانب بڑھی تھی۔جنہوں نے اسکی آمد پر فوراً ہی ایسے آفس میں طلب کیا تھا۔۔ "مے آۓ کم ان سر۔۔"اقصیٰ ان سے اجازت لیتی آفس میں داخل ہوئی۔ "آئیے آئیے مس اقصیٰ،ویلکم ویلکم،تشریف رکھیئے۔" اشرف صاحب نے اقصیٰ کو مدِمقابل دیکھ مسکراکر خوش آمدید کہا۔۔ "شکریہ سر!!"اقصیٰ دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ سیٹ سمبھال کر بیٹھ گئی۔ تو مس اقصیٰ ہمارے چینل میں آج آپ کا پہلا دن ہے۔امید ہے کہ آپ کا اور ہمارا یہ ساتھ مستقبل میں ہم دونوں کے لئے ہی فائدہ مند ثابت ہوگا۔"اشرف صاحب کے انداز پر وہ دھیرے سے مسکائی۔ ان شاءالله !!اقصیٰ نے محض ایک لفظ میں سب کہ دیا تھا۔ "آج آپ کا پہلا دن ہے۔اور ماشاءالله سے آپ کی قابلیت سے تو ہم سب ہی واقف ہیں۔بس میری ایک ایڈوائس ہے آپ کو ،رپورٹنگ کرتے وقت خیال رہے۔کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہیے جس کا اثر ہمارے چینل
