Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 04
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 04/01/2026
19 Views
Episode No 04
#محبّت_بازیِ_آخر #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_04 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستمبر کے اوائل دنوں کا آغاز تھا۔شہر میں خُنکی سی ہوگئی تھی۔ایسے میں رات کے دوسرے پہر پولیس کی وردی میں موجود عملا اپنی ڈوٹیز سر انجام دینے میں مصروف تھا۔۔۔رات کے اس پہر ماحول میں ٹھنڈک سی ہو گئی تھی۔حد نِگاہ تک رات کا اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔بس پولیس کی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس کی روشنی ہی تھی۔جس کے باعث اِرد گرد میں اُجالا سا تھا۔سرد ہواؤں کے جُھونکیں جسم کو چُھوتے جُھرجُھری لینے پر مجبور کر رہے تھے۔ایسے میں قوم کے رکھوالے آدھی رات کو سڑکوں پر کھڑے اپنا فرض ادا کر رہے تھے۔۔جب ساری دنیا غفلت کی چادر اٌوڑھ کر خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہوتی ہے۔ایسے میں ہماری قوم کے رکھوالے سرحدوں پر گلی کوچوں سخت سردی ،اور شدّت کی گرمی میں اندھیری راتوں میں اپنے گھر والوں سے دور اپنی جان کی بازیِ لگا کر ہمارے جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں۔ ہائی وے سے کچھ مسافت پر بنی پولیس چوکی پر ایس پی سیف آغا اپنی ٹیم کے ہمرا چوکنا ساکھڑا تھا۔ہر جانب اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ہاتھ میں بندهی رسٹ واچ میں وقت دیکھتا وہ نادر کے ٹرک کا انتظار کر رہا تھا۔مگر اب تک کوئی سراغ ہاتھ نہیں لگا تھا۔چیک پوسٹز پر محض چوکنا رہنے کا کہا گیا تھا۔مگر شاید دشمن کو ان کے ان اقدامات کی خبر لگ چکی تھی۔ کچھ دوری پر چند ایک کنٹینر کھڑے تھے۔جنہیں چند کاغذات کی چیکنگ کے بعد ریلیز کر دیا گیا تھا۔آدھی رات کا وقت تھا۔اس وقت روڈ پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔کئی کئی دیر بعد کوئی گاڑی گزر جاتی تو ماحول میں ارتعاش سا برپا ہوجاتا۔ہائی وے جانے والی ٹھنڈی سڑک پر دھیمی رفتار سے گزرتے ٹینکرز اور کنٹینرز میں اب تک نادر کا کوئی بھی ٹرک نہیں گزرا تھا۔ "سر مجھے لگتا ہے۔ہمیں اس طرح ہائی الرٹ نہیں جاری کرنا چاہئے تھا۔کیا پتہ نادر کے کسی خبری نے اسے خبر کردی ہو۔آخر کالی بھیڑیں بھی تو ہم میں ہی موجود ہیں۔"انسپکٹر فواد نے پولیس موبائل سے ٹیک لگاۓ کھڑے سیف کے قریب اکر خدشہ ظاہر کیا۔۔ "هممم۔۔صحیح کہ رہے ہو تم۔مگر اگر ہائی الرٹ نہ جاری کرتے تو بھی نادر کے مال کو پکڑنا اتنا آسان نہیں تھا۔"سیف آغا نے پرسوچ انداز میں کہا۔ "پھر اب۔۔"انسپکٹر نے سوال کیا۔ "چیکنگ جاری رکھو۔نادر کے علاوہ بھی اس ملک و قوم کے بہت سے دشمن ہیں۔وائرلیس پر سب کو ایزی ہونے کی تاقید کردو۔اب دشمن کو دشمن کے انداز میں ہی گھیرے گے۔۔"سیف نے ہاتھ میں پکڑی کیپ سر پر پہنتے چاروں جانب نظر گُھما کر پر سپاٹ تاثرات سے کہا۔۔ "اوکے سر۔۔"وہ سلوٹ کرتا لائن سے لگی تین گاڑیوں کی جانب بڑھا جن کی چیکنگ جاری تھی۔ سیف آغا اپنی ناکامی پر لب بھینچے پولیس موبائل میں بیٹھتا وہاں سے نكلتا چلا گیا۔رات کے اس ہلچل والے ماحول میں دور کہیں دو مسکراتی آنکھوں نے اس بیوقوف کو دیکھ ایک جاندار قہقہہ لگایا تھا۔۔ وہ رات کے ہی انتظار میں رہے تھے۔جبکہ نادر کا مال دو دن پہلے ہی پورٹ سے روانہ ہو چکا تھا۔یہ سارا معاملہ صرف گمراہ کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔تاکہ نادر بغیر کسی اضافی چیکنگ کے آسانی سے باہر نکل سکے۔اور جب ٹآئيگر کی سپورٹ اس کے ساتھ تھی۔تو پھر کیسا اور کہاں کا ڈر۔۔ ______ "ٹآئيگر کیا کر رہا ہے یار۔۔"چھوٹے نے ٹآئيگر کو آپارٹمنٹ میں موجود بجلی کے بورڈ کے ساتھ زور آزمائی کرتے دیکھ چڑ کر پوچھا۔۔ جبکہ وہ ہنوز خاموش نیوٹل اور فیز کا تار جوڑنے میں مشغول تھا۔جیسے اس سے زیادہ اہم کام دنیا میں موجود ہی نہ ہو۔ "چیتے ہو کیا گیا ہے تجھے؟ابے یار کیا کر رہا ہے۔"چھوٹا اس کی ان حرکات سے عاجز آچکا تھا۔جو آج کل خود پر نئے نئے قسم کے تجربات کر رہا تھا۔ "ابے تو اپنا منہ بند نہیں رکھا سکتا۔جب سے آیا ہے سالا بولے ہی جا رہا ہے۔اگر اب تو نے میرا بھیجا گرم کیا نا تو بتا رہا ہوں۔یہ دونوں تار تیری زبان سے لگا دونگا۔"اپنے کام میں خلل پڑ جانے کی باعث وہ اچانک طیش میں بولتا اس پر چڑھ ڈورا تھا۔۔ "پر چیتے۔۔"وہ اس کے نزدیک آتا ابھی کچھ بولنے ہی لگا تھا۔۔ "آہ ہ ہ۔۔۔۔ابے پاگل ہوگیا ہے کیا۔لگتا ہے رات والا نشہ تیرے سر پر چڑ گیا ہے۔۔"ٹآئيگر نے بلا تاخیر چند لمحوں کی دیری سے اپنے لفظوں پر عمل کیا تھا۔اور دونوں تاریں اس کا ہاتھ سے لگا کر بجلی کا ایک زبردست جھٹکا دیا تھا۔جس سے اس کے حواس تک جھنجھنا اٹھے تھے۔۔ بجلی کے اس اچانک لگنے والے شاک پر وہ نڈھال سا خود کو گھسیٹ کر صوفے تک لایا تھا۔جبکہ وہ جھکّی انسان پھر سے تاروں کے ساتھ زور آزمائی کرنے میں مصروف ہوگیا تھا۔۔ "تو۔۔واقعی میں نفسیاتی ہے۔ابے بجلی کا تار کون لگاتا ہے،انسانی جسم سے۔۔"چھوٹا تو جیسے رو دینے کو بیٹھا تھا۔ "اب آئندہ میرے کام میں دخل اندازی مت کرنا۔سمجھ گیا نا۔"ٹآئيگر مسکراتے لہجے میں بولتا ہنوز اپنے کام میں مصروف تھا۔جبکہ چھوٹے کو ایسا لگ رہا تھا۔جیسے کسی نے جسم سے سارا خون ہی نچوڑ لیا ہو۔ "میرے باپ کی بھی توبہ۔جو تجھ جیسے جھکی کے معاملات میں داخل اندازی کروں تو۔۔"چھوٹا منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔جبکہ وہ سائنسدان بنا بڑی دلچسپی سے تارو کے اُلجھے سلجھانے میں مصروف تھا۔۔ _____ اقصیٰ کی جاب کو گئے ایک ماہ ہونے کو آیا تھا۔مگر اب تک کہیں سے کوئی خاطر خواں جواب موصول نہیں ہوا تھا۔ آج کل اقصیٰ کا دماغ دوسری طرف ہی چل رہا تھا۔سارا سارا دن بند کمرے میں لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کر وہ ساری انفارمیشین اکھٹا کرنے میں ہی مصروف تھی۔ ایک ہاتھ میں بلیک کافی کا مگ تھامے دوسرے سے سپیس بار پریس کر کے ویڈیو پلے کرتی وہ گہری دلچسپی سے سکرین دیکھ رہی تھیں۔جہاں کچھ سال پہلے کے بم دھماکے کی نیوز چل رہی تھیں۔ چہرے پر سوچ کی گہری پرچھائیاں رقم تھیں۔دماغ کئی سال پہلے کے مناظر میں گم معاملات کی جانچ کرتا کڑی سے کڑی ملانے میں مصروف تھا۔ آنکھوں کو چندھیا کرجانچتی ہوئی نظروں سے بڑے غور سے سکرین کی جانب متوجہ اب وہ مختلف ویب سائٹس سے گزرے دس سالوں تک کا ڈیٹا نکال رہی تھی۔سکرول ڈاؤن کرتے کرتے درجنوں کیسز پر نظر پڑ چکی تھی۔کتنے ہی کرمنلز کی تصویریں سامنے آگئی تھیں۔مگر گزرے دو سالوں کے علاوہ پیچھے کہیں بھی ٹآئيگر کا نام نشان تک نہیں تھا۔ یہ بات قابل غور تھی۔اب تک کے ریکارڈ میں ٹآئيگر کا صرف دو سال کا کرائم ریکارڈ اقصیٰ کو بری طرح کھٹک رہا تھا۔سوشل میڈیا ٹآئیگر اور اس کے گینگ کے خلاف چلائی گئی مہم کے ہیش ٹیگ سے بھرا پڑا تھا۔مگر یہ ساری کروائیاں محض دو سال تک ہی محدود تھیں۔جبکہ گزرے ایک سال میں یہ گینگسٹرز اُبھر کر سامنے آۓ تھے۔ آخر ایسا کیسے ممکن تھا کہ سالوں سے بیٹھی مافیا کے بیچ میں کوئی نیا مجرم سر اٹھاۓ اور اس قدر دہشت زدہ کر دے مگر ہر طرف سے خاموشی رہے۔اندر خانہ کچھ تو گڑ بڑ ضرور تھی۔جو اقصیٰ کو چین نہیں لینے دے رہی تھی۔۔ پر سوچ انداز میں لڈ گرا کر اب وہ باریک بینی سے ہر ایک پہلو کا تفصیلی جائزہ لے رہی تھی۔کہیں نا کہیں کچھ تو مسنگ ضرور تھا۔آخر ٹآئيگر کے اُپر کس کا ہاتھ ہے۔جو وہ اب تک کسی کے ہاتھ نہیں لگ سکا۔۔ ______ "سر یہ آپ کیا کہ رہے ہیں۔"زمان صاحب کے اسرار
