Meray Pass Tum Ho — Part 02(Last Part)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 05/01/2026
79 Views
Part 02(Last Part)
دے رہے تھے، اور صحن میں ہلکی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ ابراہیم اپنے اسٹڈی روم میں بیٹھا سوچ رہا تھا۔ ایک ماہ گزر گیا تھا اور اس کے دل میں اب بھی پری وش کے لیے غصے کی باقیات موجود تھیں۔ ایک طرف وہ اس پر ناراض تھا، لیکن دوسری طرف اس کا دل بار بار اسے پری وش کی یاد دلاتا۔ پری وش کی کوششیں، اس کی نرمی، اور اس کے چہرے کی وہ جھلکیاں جو کبھی اسے خوش کر دیتیں، سب کچھ اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا۔ پری وش نے آج کا دن خاص طور پر اس لمحے کے لیے منتخب کیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ ابراہیم کے دل کی دیواریں ٹوٹ سکتی ہیں، بس اسے صحیح انداز میں اپنے جذبات دکھانے تھے۔ شام کے وقت اس نے سماعیل کو آرام دہ نیند سلا کر کمرے سے باہر چپکے سے نکلنے کا منصوبہ بنایا۔ ابراہیم کے سامنے آ کر وہ تھوڑا جھکی، پھر خود اعتمادی سے بولی: “ابراہیم۔۔۔۔ میں جانتی ہوں ،آپ ایک مہینہ ناراض رہے۔۔۔۔ اور میں ہر روز سوچتی رہی کہ آپ کو کیسے مناؤں۔ مگر آج میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے سنو۔” ابراہیم نے سخت لہجے میں کہا “پری وش۔۔۔۔ تم نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی میرے جذبات کو کیوں دھوکہ دیا؟” پری وش نے گہری سانس لی اور آہستہ سے اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔ “میں نے آپ کو کوئی دھوکہ نہیں دیا۔۔۔۔ میں صرف چاہتی تھی کہ جب آپ کا دل تیار ہو، تب میں اپنے جذبات کے ساتھ آؤں۔ آج وہ دن ہے۔ میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ اب آپ کے بغیر میری زندگی ادھوری ہے، اور آپ کے ساتھ ہی میں مکمل ہوں۔اور اب تو سب قاتل اپنے کیفرِ کردار کو پہنچ چکے ہیں۔سب کو سزا ہوگئی،تو آپ مجھے اور خود کو کس بات کی سزا دے رہے ہیں۔” ابراہیم کے چہرے پر غصہ آہستہ آہستہ گھلنے لگا۔ وہ پری وش کی آنکھوں میں جھانکا، اور دیکھنے لگا کہ وہاں صرف سچائی، محبت اور پچھلے ایک مہینے کی جدوجہد کا عکس ہے۔” ابراہیم کی سانسیں تیز ہو گئی تھیں، دل دھڑک رہا تھا، لیکن اس بار غصے کی جگہ محبت نے جگہ بنا لی۔ وہ قریب آیا، اور پری وش کے گالوں پر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنا ہاتھ رکھا۔اور گالوں پر اپنے لب رکھ دئیے۔۔وہ آگے بڑھتی اسکے سینے سے جا لگی تھی۔۔۔ ۔” پری وش کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔ ابراہیم نے بھی اسے مضبوطی سے اپنے بازو میں جکڑ لیا تھا۔ ’’یعنی اب تمھیں اس رنڈوےپلس بڈھے شخص سے محبت ہوگئی ہے۔‘‘وہ کان میں سرگوشیانہ بولا تو وہ گردن میں منہ چھپا گئ۔ ’’پری۔۔‘‘اس نے ہنوز پکارا۔ ’’جی۔۔‘‘ ’’ہمیں اب اسماعیل کے بہن بھائیوں کے بارے میں سوچنا چاہئے۔کیا کہتی ہو۔۔‘‘وہ لب دبا کر شرارت سے مسکرایا تو وہ مسکرا دی۔۔ ’’تھینک یو،میری زندگی میں آکر،مجھے مکمل کرنے کے لئے۔‘‘وہ اب روم میں آگئے تھے،۔جہاں اسماعیل جاگ چکا تھا ،اور اب ان کی جانب ہمک رہا تھا۔اور ابراہیم نے مسکرا کر آگے بڑھ کر اسے گود میں اٹھا لیا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد۔۔۔
