Meray Pass Tum Ho — Part 02(Last Part)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 05/01/2026
79 Views
Part 02(Last Part)
میرےپاس تم ہو ازہماقریشی آخری حصہٰ پری وش کو ابراہیم کے گھر آئے ایک ماہ گزر چکا تھا۔ نکاح کی پہلی رات کا خوف اور اجنبیت اب بھی دل کی گہرائیوں میں موجود تھی۔ ابراہیم کا جلالی مزاج، اس کی سخت آواز اور چبھتی نگاہیں اسے اب بھی سہما دیتی تھیں۔ وہ کوشش کے باوجود اس کے سامنے کھل کر سانس نہیں لے پاتی تھی۔ مگر ایک وجود ایسا تھا جس نے اس کی دنیا بدل دی تھی،چھوٹا سماعیل۔ ڈیڑھ سالہ ننھا سا معصوم بچہ، جو اپنی ماں کی جدائی میں کبھی روتا تو کبھی خاموشی سے در و دیوار کو تکنے لگتا۔ پری وش جب پہلی بار اسے گود میں لے کر بہلانے لگی تھی، تو اس کے ننھے ہاتھ اس کے دوپٹے میں الجھ گئے تھے، اور وہ لمحہ پری وش کے دل میں ایسا رچ بس گیا کہ اب وہ اس کے بغیر ایک پل بھی سوچ نہیں سکتی تھی۔ ابراہیم اکثر رات گئے تک گھر نہیں آتا۔ وہ شہر کے اندھیروں میں، پولیس اسٹیشنوں اور وکیلوں کے چکر لگاتا، یا کبھی اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر سراغ ڈھونڈتا کہ آخر اس کی پہلی بیوی کے قتل کے پیچھے کون تھا۔ اس کی آنکھوں میں نیند کم اور انتقام کی آگ زیادہ رہتی۔ گھر کے وسیع و عریض لان میں اکثر رات کو پری وش سماعیل کو گود میں لئے بیٹھ جاتی۔ ننھے ہاتھوں والا بچہ اس کے کندھے پر سر رکھ کر سو جاتا اور وہ آنکھوں میں نمی لئے بس چپ چاپ آسمان کی طرف دیکھتی رہتی۔ کبھی دل میں شکر کہ اسے ایک معصوم ساتھی مل گیا، اور کبھی خوف کہ اگر ابراہیم کا غصہ اس پر اُتر آیا تو کیا ہوگا۔ ایک شام جب ابراہیم گھر لوٹا، اس کے کپڑے گرد سے اٹے تھے، چہرہ سختی سے تناؤ میں تھا۔ وہ سیدھا ڈرائنگ روم میں گیا اور فون پر کسی سے بھاری لہجے میں بولا: “میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتا۔ اٹھ ماہ ہوگیا ہے اور ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ملا۔ چاہے زمین کھودنی پڑے، مجھے میری بیوی کے قاتل چاہیے۔” پری وش دروازے کے کونے پر کھڑی یہ سب سنتی رہی۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا تاثر ابھرا۔ ایک طرف وہ اس کی سختی اور غصے سے ڈرتی تھی، دوسری طرف اس کے چہرے پر دکھ اور محرومی صاف جھلک رہی تھی۔ رات گئے جب وہ کمرے میں آیا تو سماعیل پری وش کی گود میں سو رہا تھا۔ ابراہیم کی نظریں ایک لمحے کو اپنے بیٹے پر ٹکیں، پھر پری وش کے جھکے چہرے پر۔ وہ کچھ لمحے یونہی رکا رہا، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو، مگر پھر خاموشی سے لیمپ آف کر کے صوفے پر جا بیٹھا۔ پری وش نے دھڑکتے دل کے ساتھ لمحہ بھر کے لئے اس کی طرف دیکھا۔ اس کے اندر ایک ہی جذبہ واضح تھا،یہ شخص جتنا سخت ہے، اندر سے اتنا ہی ٹوٹا ہوا ہے۔ اور شاید یہ ٹوٹ پھوٹ ہی ہے جو اسے مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Part 03 شام کا وقت تھا۔ کراچی کے جدید مگر پرانے انداز کے اس بڑے سے منشن کی بالکونی میں ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ لان میں نصب روشنیوں کے درمیان سماعیل اپنی چھوٹی سی بال گرا کر خوشی سے قلقاریاں مار رہا تھا۔ پری وش ذرا فاصلے پر کھڑی اس پر نگاہ رکھے ہوئی تھی۔ اس کا دوپٹہ ہوا میں لہرا رہا تھا اور چہرے پر ایک سکون سا چھایا تھا۔ ابراہیم آفس سے لوٹا تو حسبِ عادت دروازے کے قریب ہی رُک گیا۔ اس کی نظر سیدھی لان میں کھیلتے سماعیل پر نہیں بلکہ پری وش پر جا ٹکی۔ وہ دبلی پتلی سی لڑکی جو کبھی اس کے سامنے ہچکچاتی، روتی اور خائف رہتی تھی، آج ایک ماں کی طرح پُرسکون اور بااعتماد لگ رہی تھی۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، جیسے بچپن سے یہ بچہ اسی کی گود میں پلا ہو۔ ابراہیم کے قدم غیر ارادی طور پر لان کی طرف بڑھے۔ پری وش نے اسے آتا دیکھا تو دل کی دھڑکن بے قابو ہوئی، مگر اب وہ پہلے جیسی خوف زدہ نہیں تھی۔ اس نے فوراً نظریں جھکانے کے بجائے ایک لمحے کو اس کی طرف دیکھا، پھر سماعیل کو آواز دی: “بیٹا، بابا آگئے ہیں۔” سماعیل لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ دوڑتا ہوا ابراہیم کے پاس آیا اور اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔ ابراہیم نے اسے بازوؤں میں اٹھا لیا، لیکن نظر بار بار پری وش کی طرف پلٹتی رہی۔ “تم نے اسے بہت بدل دیا ہے۔” ابراہیم کی بھاری آواز میں نرمی کی جھلک تھی۔ پری وش چونک گئی، وہ سمجھ ہی نہ سکی کہ یہ تعریف تھی یا سوال۔ “کیا؟” اس نے دھیرے سے کہا۔ “سماعیل کو۔۔۔۔ پہلے یہ ضدی تھا، ہر وقت روتا رہتا تھا۔ مگر اب۔۔۔۔ تمہارے ساتھ خوش ہے۔” پری وش کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، لیکن اس نے جواب نہیں دیا۔ وہ خاموشی سے دوپٹہ درست کرنے لگی۔ ابراہیم نے پہلی بار دل کی بات کہنے کی ہمت کی۔ “پری وش، میں جانتا ہوں۔۔۔۔ میں سخت مزاج ہوں۔ لیکن تم نے۔۔۔۔ تم نے میرے گھر میں سکون لا دیا ہے۔” یہ الفاظ پری وش کے لئے بالکل انوکھے تھے۔ وہ شخص جس کے چہرے پر ہمیشہ غصہ اور آنکھوں میں سختی رہتی تھی، آج پہلی بار اس نے اسے نرمی سے مخاطب کیا تھا۔ دل نے ایک لمحے کو دھڑکنا بھول سا گیا۔ “میں نے کچھ نہیں کیا،” اس نے نظریں جھکا کر آہستگی سے کہا، “یہ تو سماعیل ہے۔۔۔۔ اس کے ساتھ وقت گزارتے گزارتے دل بدل جاتا ہے۔” ابراہیم نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا۔ اس کا جھکا ہوا سراپا، لرزتے ہوئے ہاتھ، مگر پھر بھی اس کے انداز میں پہلے جیسا خوف نہیں تھا۔ ابراہیم کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی، وہ مسکراہٹ جو شاید برسوں بعد اس کے چہرے پر آئی تھی۔ “شاید۔۔۔۔ تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ میں اب صرف سماعیل کے لئے نہیں، تمہارے لئے بھی گھر لوٹنے لگا ہوں۔” یہ جملہ سن کر پری وش کا دل تیزی سے دھڑکا۔ اس کے کانوں میں جیسے طوفان سا گونج گیا۔ وہ فوراً رخ موڑ کر سماعیل کے پیچھے چل دی، تاکہ ابراہیم اس کے چہرے پر ابھرتی لالی نہ دیکھ سکے۔ ابراہیم نے گہری سانس لی اور دور جاتے اس کے وجود کو دیکھا۔ دل کے اندر پہلی بار سکون اترا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہر کراچی کی شام، لائٹس اور ہلچل سے بھری ہوئی، ایک الگ ہی جادو رکھتی تھی۔ منشن کے وسیع ڈریسنگ روم میں کھڑی پری وش آئینے کے سامنے اپنے دوپٹے کے پلو سے کھیل رہی تھی۔ سامنے ابراہیم کھڑا تھا، بازو سینے پر باندھے، جیسے فیصلہ کر چکا ہو۔ “آج شام ہم سب باہر ڈنر پر جا رہے ہیں۔” اس نے آہستگی مگر پورے حکم والے لہجے میں کہا۔ پری وش نے چونک کر اسے دیکھا۔ شادی کو ڈیڑھ ماہ ہو چکا تھا مگر یہ پہلا موقع تھا کہ وہ اسے گھر سے باہر ساتھ لے جانے کی بات کر رہا تھا۔ دل میں انجانی سی گھبراہٹ دوڑ گئی۔ “میں؟۔۔۔۔ میرے ساتھ سماعیل بھی؟” اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ ابراہیم کے ہونٹوں پر ایک مدھم مسکراہٹ ابھری۔ “ہاں، تم اور ہمارا بیٹا۔” پری وش کا دل ایک لمحے کو رک سا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب اس نے سماعیل کو صرف
