Meray Pass Tum Ho — Part 02(Last Part)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 05/01/2026
79 Views
Part 02(Last Part)
اپنا بیٹا نہیں کہا بلکہ “ہمارا” کہا تھا۔ ابراہیم نے لمحہ بھر توقف کے بعد بات آگے بڑھائی، “اور ہاں۔۔۔۔ آج تم وہ سرخ ساڑھی پہنو گی، جو میں کچھ روز قبل لے کر آیاتھا۔۔وہ رکھنے کے لئے نہیں تھی۔” پری وش کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ سرخ ساڑھی اس نے کبھی نہیں پہنی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ وہ اس رنگ میں بہت نمایاں لگے گی، جیسے سب نگاہیں صرف اس پر مرکوز ہو جائیں گی۔ “میں۔۔۔۔ وہ ساڑھی؟ ابراہیم، وہ تو۔۔۔۔” “ہاں وہی،” ابراہیم نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا، “تم پر اچھی لگے گی۔” پری وش کے گالوں پر لالی ابھر آئی۔ دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔ اس کے لبوں پر انکار آیا، مگر اس کے لہجے کی نرمی نے انکار کو کمزور کر دیا۔ آہستگی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔ کچھ دیر بعد جب وہ واقعی سرخ ساڑھی پہن کر آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی تو خود کو پہچان نہ سکی۔ لمبے بال کھلے، ماتھے پر چھوٹی سی بندیا، اور ہلکا سا میک اپ۔ دل جیسے بار بار کہہ رہا تھا کہ یہ سب ابراہیم کی فرمائش پر ہے۔ جب وہ ڈریسنگ روم سے باہر نکلی تو ابراہیم صوفے پر بیٹھا فون دیکھ رہا تھا۔ نظر اٹھائی تو لمحے بھر کو آنکھیں ٹھہر گئیں۔ وہ جمی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا، جیسے پہلی بار دیکھا ہو۔ “چلو۔۔۔۔” وہ بس اتنا ہی کہہ سکا، مگر اس کی آواز میں دبیز سی گھبراہٹ چھپی تھی، جسے شاید وہ خود بھی نہ سمجھ پایا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Part 04 ریسٹورنٹ کی روشنیاں اور ہلکی موسیقی ماحول کو مزید دلکش بنا رہی تھیں۔ سماعیل ہائی چیئر پر بیٹھا چھوٹی سی پلیٹ میں کھلونا چمچ سے کھیل رہا تھا۔ پری وش مسلسل اس پر نظر رکھے ہوئے تھی، مگر کبھی کبھی نگاہیں غیر ارادی طور پر ابراہیم کی طرف اٹھ جاتیں، جو آج نسبتاً خوش اور پرسکون دکھائی دے رہا تھا۔ ویٹر نے کھانے کا آرڈر لیا تو ابراہیم نے ایک لمحے کو پری وش کی طرف دیکھا۔ “تم کیا کھاؤ گی؟” پری وش نے جھجکتے ہوئے کہا، “جو بھی آپ لیں گے، وہی میرے لئے ٹھیک ہے۔” ابراہیم نے پہلی بار ہلکی سی ڈانٹ بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “ہمیں ساتھ رہنا ہے، پری۔ اپنی پسند بھی بتانا سیکھو۔” یہ جملہ پری وش کے دل کو چھو گیا۔ وہ خاموش رہی مگر دل کے کسی کونے میں نرم سی خوشبو پھیل گئی۔ کھانے کے دوران ابراہیم نے اسماعیل کو اپنی گود میں اٹھا لیا۔ وہ بچہ ابراہیم کی جیب سے کھیل رہا تھا اور بار بار ہنس کر کہہ رہا تھا، “بابا۔۔۔۔” پری وش نے چونک کر بیٹے کو دیکھا۔ پہلی بار اس نے ابراہیم کو اس لفظ پر مسکراتے دیکھا تھا۔ ڈنر کے بعد واپسی پر گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھتی پری وش کے کانوں میں ابراہیم کی گہری آواز گونجی۔ “پری۔۔۔۔ آج تم بالکل ویسی لگ رہی تھیں، جیسی میرا دل چاہتا ہے۔” پری وش کا دل ایک بار پھر دھڑکا۔ وہ کچھ نہ کہہ سکی، صرف ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر کھیل گئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا پہر تھا، اور کراچی کی سڑکوں پر بارش نے جل تھل کر دیا تھا۔ منشن کی کھڑکیوں سے جلتی بجھتی روشنیوں کا عکس پانی میں جھلک رہا تھا۔ گاڑی گیٹ میں داخل ہوئی تو بارش کی بوندیں تیز ہو گئیں۔ ابراہیم نے جلدی سے پری وش اورا سماعیل کو اندر بھیج دیا۔ اسماعیل کو کمرے میں سلا کر جب پری وش نے دوپٹہ کندھے پر رکھا تو باہر کی ہوا نے جیسے اسے کھینچ لیا۔ کھڑکی کے قریب کھڑی ہوئی تو بارش کی خوشبو سانسوں میں گھلنے لگی۔ دل بے اختیار چاہا کہ اور قریب سے اس کو محسوس کرے۔ آہستہ قدموں سے بالکنی میں آئی، مگر دل کا سکون وہیں نہیں ملا۔ اگلے ہی لمحے، ہنستی ہوئی ٹیرس کی طرف بھاگ گئی۔ سرخ ساڑھی کی پلو بارش کی ہوا میں لہرا رہی تھی۔ وہ بھیگی زمین پر کھڑی بازو پھیلا کر بارش کے قطروں کو اپنے چہرے پر محسوس کرنے لگی۔ بارش اس کے چہرے، بالوں اور ساڑھی پر بکھر کر جیسے ایک نیا رنگ بھر رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں ابراہیم بھی بالکنی میں آیا۔ لمحے بھر کو وہ ٹھٹک گیا۔ یہ وہی لڑکی تھی جسے اس نے ضد اور زبردستی میں اپنا لیا تھا۔ مگر آج وہ آزاد پرندے کی طرح بارش میں کھلکھلا رہی تھی۔ وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آہستہ آہستہ ٹیرس پر آیا۔ بارش اس کے مضبوط شانے اور بالوں پر پڑ رہی تھی۔ پری وش نے پلٹ کر دیکھا تو وہ مسکراتے ہوئے بس اسے دیکھ رہا تھا۔ “آپ بھی۔۔۔۔ بارش انجوائے کرتے ہیں؟” اس نے شرما کر کہا، آواز بارش کی ٹپ ٹپ میں مدھم ہو گئی۔ “اب تک نہیں کرتا تھا۔۔۔۔” ابراہیم نے گہری آواز میں جواب دیا، “لیکن لگتا ہے، اب کروں گا۔” پری وش کے گالوں پر بارش کی بوندوں کے ساتھ شرم کی لالی بھی بکھر گئی۔ وہ رخ موڑ کر آگے بڑھ گئی، مگر دل کی دھڑکن بے قابو تھی۔ ابراہیم نے ایک لمحے کو آسمان کی طرف دیکھا، پھر بارش کے قطروں کے ساتھ اس کی طرف بڑھا۔ سڑکوں کی لائٹس دور سے چمک رہی تھیں، اور ٹیرس پر بارش کے قطروں کے بیچ کھڑے یہ دونوں ایسے لگ رہے تھے جیسے کائنات نے انہیں قریب لانے کا بہانہ بنایا ہو۔ ابراہیم نے اچانک ہاتھ بڑھا کر اس کا ساڑھی کا پلو تھام لیا تاکہ ہوا اڑا نہ لے۔ پری وش نے چونک کر پیچھے دیکھا، آنکھوں میں سوال تھے، مگر لب خاموش تھے۔ “بیمار ہو جاؤ گی۔۔۔۔” ابراہیم نے آہستگی سے کہا، مگر لہجے میں ایک عجیب سی نرمی تھی۔ “اور آپ؟ آپ بھیگ نہیں رہے؟” پری وش کے لبوں سے بےساختہ نکلا۔ ابراہیم نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا، “ نہیں مجھے بارش میں بھیگنا پسند نہیں۔۔۔ لیکن تمہارے بیمار ہونے سے ڈرتا ہوں۔” پری وش کا دل جیسے کسی نے اپنی مٹھی میں تھام لیا ہو۔ وہ نظریں جھکا کر بارش میں خاموش کھڑی رہی۔ ابراہیم نے پہلی بار اس کے قریب کھڑے ہونے کو بوجھ نہیں بنایا، بلکہ ایک سکون بھرا لمس دے دیا تھا۔ بارش رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی، اور ان دونوں کے درمیان کی خاموشی بھی آہستہ آہستہ ایک نئے رشتے کی بنیاد رکھ رہی تھی۔ ’’اس کے پاس پری وش تھی۔شاید مزید کسی غم کی گنجائش باقی نہیں تھی۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی کی روشن شامیں ابراہیم اور پری وش کے لئے سکون کا دوسرا نام بن گئی تھیں۔ اسماعیل کے قہقہوں سے منشن کے کمرے گونجتے تھے۔ کبھی لان میں شام کی چائے، کبھی ویک اینڈ پر ڈنر باہر،دونوں کے درمیان ایک اجنبی سا فاصلہ جو پہلے موجود تھا، اب دھیرے دھیرے مٹنے لگا تھا۔ ابراہیم سخت مزاج ضرور تھا، مگر پری وش کی نرمی اور سلیقہ مندی نے اس کے اندر کا طوفان تھام لیا تھا۔ وہ پہلی بار زندگی کو ہنسی خوشی کے ساتھ گزارنے لگا تھا۔ پری وش بھی اب اس کے ساتھ ہچکچاہٹ کے بجائے سکون محسوس کرتی تھی۔ وہ دونوں ایک مکمل فیملی کی طرح لگتے تھے۔ لیکن زندگی ہمیشہ سیدھی لکیر نہیں بنتی۔۔۔۔ ایک رات ابراہیم اپنے اسٹڈی روم میں بیٹھا فائلیں دیکھ رہا تھا۔ باہر تیز ہوا چل رہی تھی، کھڑکی کے شیشے ہل رہے تھے۔ اچانک موبائل کی ا سکرین پر ایک پیغام آیا۔۔۔۔ایک نمبر جو انجانا تھا۔ پیغام میں صرف
