Meray Pass Tum Ho — Part 02(Last Part)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 05/01/2026
79 Views
Part 02(Last Part)
دو جملے درج تھے: "تمہاری بیوی جانتی ہے قاتل کون ہے۔۔۔۔ بس چھپاتی رہی ہے۔" ابراہیم کا دل ایک دم تیز دھڑکنے لگا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اپنی پہلی بیوی کا خون آلود وجود گھوم گیا۔ وہ حادثہ نہیں تھا، وہ کھلا قتل تھا، اور وہ آج تک قاتل کو ڈھونڈنے میں مصروف تھا۔ مگر یہ انکشاف کہ پری وش۔۔۔۔جو اب اس کے ساتھ سکون سے زندگی گزار رہی تھی۔۔۔۔قاتل کو جانتی تھی، اس کے وجود کو جھنجھوڑ گیا۔ ابراہیم کے ہاتھ کانپنے لگے۔ وہ فوراً اٹھا اور بیڈ روم کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھولا تو منظر بالکل مختلف تھا۔ اسماعیل ہنسی ہنسی میں پری وش کے گلے سے لپٹا ہوا تھا، اور پری وش اسے کہانی سنا رہی تھی۔ اس کے چہرے پر وہی سکون، وہی مامتا اور نرمی تھی۔ Part 5 ابراہیم چند لمحے دروازے پر کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ دل دو حصوں میں بٹ گیا تھا۔ ایک طرف محبت اور سکون، دوسری طرف دھوکے کا بوجھ۔ “پری وش۔۔۔۔” اس نے گہری اور بھاری آواز میں پکارا۔ پری وش نے چونک کر سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں ابراہیم کی سختی دیکھ کر دل لرز گیا۔ وہ آہستگی سے اسماعیل کو بیڈ پر لٹا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ “جی۔۔۔۔؟” ابراہیم آگے بڑھا، ہاتھ میں موبائل تھا۔ “یہ۔۔۔۔ یہ سب کیا ہے؟ کیا یہ سچ ہے کہ تم جانتی ہو قاتل کون ہے؟” پری وش کے قدم ڈگمگائے، آنکھیں نم ہو گئیں۔ وہ ایک لمحے کو خاموش رہی، پھر نظریں جھکا لیں۔ “ابراہیم۔۔۔۔ میں۔۔۔۔” “بس!” ابراہیم نے گرجدار آواز میں کہا۔ “ابھی جواب دو۔ کیا تم جانتی ہو؟” پری وش کے ہونٹ کانپے۔ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ “ہاں۔۔۔۔ میں جانتی ہوں۔” یہ سننا تھا کہ ابراہیم کے قدم زمین میں دھنس گئے۔ اس کے اندر ایک خوفناک طوفان برپا ہوا۔ اس عورت پر، جس پر اب وہ بھروسہ کرنے لگا تھا، جس کے ساتھ وہ سکون محسوس کرنے لگا تھا، آج اس نے اعتراف کیا کہ وہ حقیقت چھپاتی رہی۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ صرف باہر تیز ہوا کے جھونکے کھڑکی ہلا رہے تھے۔ ابراہیم کی آنکھوں میں غصہ، دکھ اور دھوکہ سب ایک ساتھ اُبھر آیا۔ “کیوں۔۔۔۔؟ کیوں چھپایا مجھ سے؟” پری وش پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ “میں ڈری ہوئی تھی۔۔۔۔ میں نے سوچا تھا اگر آپ کو سب بتا دیا تو۔۔۔۔ سب برباد ہوجائے گا۔۔۔میں چاہتی تھی کہ یہ دشمنی سب ختم ہو جائے، تم سکون میں رہو۔۔۔۔ مگر۔۔۔” ابراہیم کا دل تڑپ اٹھا، مگر غصے کی آگ اس کے لہجے میں بھڑک رہی تھی۔ “پری، تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم نے میرے ساتھ کتنا بڑا دھوکہ کیا ہے؟ تم وہ راز جانتی تھیں جس کے لئے میں دن رات جلتا رہا ہوں، اور تم۔۔۔۔ تم خاموش رہیں؟” پری وش زمین پر بیٹھ گئی، ہاتھ جوڑ دیے، آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہ لے رہے تھے۔ “میں مجبور تھی ابراہیم۔۔۔۔ بس ایک بار میری بات سن لیں۔۔۔۔” لیکن ابراہیم کا دل پتھر سا ہو گیا تھا۔ وہ ایک لمحے کے لئے اس پر نظریں گاڑ کر کھڑا رہا، پھر رخ موڑ کر اسٹڈی کی طرف واپس چلا گیا۔ اس رات منشن کے کمروں میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی تھی۔ باہر طوفان تھا، اور اندر بھی ایک طوفان برپا ہو چکا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی کے پوش علاقے کا وسیع و عریض منشن۔ بارش کے بعد کی خاموشی میں ہوا کے جھونکے صحن کے بڑے درختوں سے ٹکرا رہے تھے۔ کمرے کے اندر فضا بھاری تھی۔ ابراہیم کے چہرے پر غصے اور بے یقینی کے تاثرات تھے۔ سامنے، سرخ آنکھوں اور کانپتے ہونٹوں کے ساتھ پری وش کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ ابھی تک لرز رہے تھے جیسے الفاظ زبان سے نکالنے میں اس کے جسم نے ساتھ دینا ہی چھوڑ دیا ہو۔ ابراہیم نے گرجدار آواز میں کہا "پری! تمہیں یہ سب پہلے ہی بتانا چاہیے تھا۔ میری بیوی کی موت کوئی حادثہ نہیں تھی، یہ قتل تھا۔۔۔۔ اور تم جانتی تھیں قاتل کون ہے؟ تم نے مجھ سے کیوں چھپایا؟" پری وش کا دل جیسے سینے میں دھڑکنے سے انکار کرنے لگا۔ وہ آنکھیں جھکا کر، آنسو ضبط کرتے ہوئے بولی "میں نے چھپایا نہیں۔۔۔۔ میں بس۔۔۔۔ ہمت نہیں کر پائی۔" ابراہیم کا وجود جیسے آگ میں لپٹ گیا۔ "ہمت نہیں کر پائی؟ میرا گھر اجڑ گیا، میرا بیٹا ماں کے بغیر رہ گیا۔۔۔۔ اور تم خاموش رہیں؟" پری وش سسک پڑی۔ وہ گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گئی، جیسے اپنے دل کی ساری گرہیں کھولنے پر مجبور ہو: "ابراہیم۔۔۔۔ وہ قاتل میرے اپنے دھدیال میں ہے۔۔۔۔ میرا سگا دادا۔" ابراہیم کے قدم جیسے زمین میں جڑ گئے۔ "کیا؟" اس کی آنکھوں کا رنگ بدل گیا۔ پری وش نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا "جی۔۔۔۔ میرے دادا۔ آپ کو یاد ہے؟ بابا نے محبت کی شادی کی تھی۔ اماں ان کے خلاف تھیں، پورا خاندان ان کے فیصلے پر چیخ اٹھا تھا۔ دادا نے اس شادی کو کبھی معاف نہیں کیا۔ برسوں کی خاندانی دشمنی کا بدلہ انہوں نےپہلے ماما ،ماموں اور پھر آپ کی بیوی سے لیا۔" ابراہیم کا سانس بھاری ہونے لگا۔ "تو اس لیے تم شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں؟" پری وش نے اثبات میں سر ہلایا، آنکھوں کے آنسو تیزی سے رخساروں پر بہہ نکلے۔ "جی، اسی لیے۔ میں جانتی تھی کہ اگر یہ راز کھلا تو آپ میرے خون کے رشتوں کو معاف نہیں کریں گے۔ بابا کی محبت اور دادا کا خوف مجھے چپ کرا دیتا تھا۔ میں چاہ کر بھی کچھ نہیں بول پاتی تھی۔ میں خود اس کشمکش میں جل رہی تھی۔مگر بابا نے جان کر آپ کے رشتے کے لئے ہاں کردی،تاکہ وہ آپ کو بھی ختم کر سکیں،اور پھر یہ ساری جائیداد انکی ہوجائے۔" ابراہیم کا چہرہ غصے سے سرخ تھا مگر آنکھوں میں ایک عجیب سا صدمہ بھی جھلکنے لگا۔ وہ اپنے ہاتھ کی مٹھی بھینچ کر دیوار پر دے مارا، دیوار پر ایک تیز دھبہ سا بن گیا۔ "تو قاتل۔۔۔۔ تمہارے اپنے خون میں ہے۔" پری وش نے لرزتی آواز میں کہا "میں آپ کو دھوکا نہیں دینا چاہتی تھی، ابراہیم۔ بس وقت چاہتی تھی۔۔۔۔ سوچ رہی تھی کہ کوئی اور راستہ نکل آئے۔ مگر اب یہ راز مجھ سے چھپا نہیں رہا گیا۔" ابراہیم نے آنکھیں میچ لیں، گہری سانسیں لیتا رہا۔ لمحے بھر کو کمرے میں ایسی خاموشی چھا گئی جیسے وقت تھم گیا ہو۔ پھر اس نے آہستہ سے سر اٹھایا اور پری وش کو گھورا۔ "پری، اب یہ جنگ صرف میری نہیں رہی۔ یہ تمہاری بھی ہے۔ میں اس قاتل کو چھوڑوں گا نہیں۔ مگر یاد رکھو۔۔۔۔ جب خون کی لڑائیاں کھلتی ہیں تو سب رشتے داؤ پر لگ جاتے ہیں۔ تم تیار ہو؟" پری وش نے اپنے آنسو پونچھے اور ٹوٹے ہوئے مگر مضبوط لہجے میں کہا: "ہاں، ابراہیم۔ میں تیار ہوں۔ بس اب اور خاموشی نہیں سہہ سکتی۔ اگر میرا دادا قاتل ہے تو وہ دادا نہیں، قاتل ہی ہے۔" ابراہیم نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی، جیسے پہلی بار اسے دل سے پرکھ رہا ہو۔ وہ لمحہ ایک فیصلہ خیز موڑ بن گیا۔ کمرے کی ہوا میں بارش کے قطرے اور آنے والے طوفان کی بو محسوس ہو رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی کی پوش منشن کی ایک پر سکون رات۔ ہوا ہلکی ہلکی چل رہی تھی، اور بارش کے چند قطروں نے پچھلی شام کے سنجیدہ ماحول کو دھو دیا تھا۔ منشن کے اندر چراغ مدھم روشنی
