Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 33
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 13/06/2026
0 Views
Episode no 33
چند لمحے پہلے سے چپ چاپ سامنے کرسی پر بیٹھے تھے، اپنی عینک اُتار کر ماتھے پر رکھی تھی۔۔ ان کی آنکھوں میں ایک تھکاوٹ اور بوجھ کی گہرائی نظر واضح تھی۔ "فرناز، پلیز۔۔۔۔ اَب تم مت شروع ہوجانا۔۔تم دیکھ رہی ہو نا کہ میں شارق کی وجہ سے کتنا پریشان ہوں،ثمرہ کی طرف سے مجھے الگ پریشانی لگی ہوئی ہے پھر قصویٰ وہ الگ ہی باغی ہو گئی ہے۔۔ تم دیکھ رہی ہو نا، میں خود کتنا پریشان ہوں۔ شارق کا معاملہ مذاق نہیں ہے۔ قتل کا کیس ہے، تم سمجھتی ہو؟" فرناز اُٹھ کھڑی ہوئی تھی، اَن کی آواز میں خفگی اور بےبسی گھل چکی تھی۔ "پریشان؟ آپ پریشان ہیں؟ آپ نے کبھی شارق کو سنبھالا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے! آپ کی لاپرواہی کی وجہ سے آج ہم عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔‘‘وہ غرائی تھیں۔!" جبران صاحب پر ماتھے پر ناگواری کی شکن سی ابھری تھی، مگر وہ خود پر قابو کر گئے تھے۔۔ "یہ وقت الزام دینے کا نہیں ہے فرناز۔ شارق ہمارا بیٹا ہے، اور ہمیں مل کر اس کی مدد کرنی ہے۔ صبح عدالت میں سب کچھ صحیح سے ہینڈل کرنا ہوگا۔ وکیل سے میری بات ہو گئی ہے، امید ہے کوئی راستہ نکلے گا۔" فرناز کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے، وہ عورت لیول کی ڈرامے باز تھی۔۔مگر اُن کی آواز سخت رہی۔۔۔ ’’آپ تو بس یہی کرتے رہیئ گا۔ اور آپ کا وہ داماد آپ کے بیٹے کو پھانسی کے پھندے پر چڑھا دے گا۔۔‘‘وہ پھنکار تھیں۔۔۔ "دعا کرو فرناز۔۔۔بس دعا کرو کہ کل کا دن ہمارے حق میں گزرے، ورنہ یہ لڑائی بہت لمبی ہو سکتی ہے۔" فرناز نے روتے ہوئے اپنے دوپٹے کے کونے سے آنکھیں پونچھیں، اور دھیرے سے صوفے پر بیٹھ گئیں۔ ساتھ ہی اب وہ جبران کو دلاسہ دے رہی تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام کی خنک ہوا آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔ مصطفیٰ کی گاڑی پورچ میں آ کر رکی تو عریشہ نے بے دلی سے پرس سنبھالا اور گاڑی سے اُتری۔ مصطفیٰ نے ایک نظر اس کے چہرے کی تھکن کو دیکھا اور خاموشی سے ساتھ ہولیا۔ گیٹ پر حسبِ توقع ملازم کھڑے تھے مگر ثمرہ۔۔۔۔وہ نہیں تھی۔ عریشہ اور وہ ڈرائینگ میں داخل ہوئے تو عائشہ بیگم کو وہیں بیٹھے ہوئے پایا تھا۔۔ ’’السلام علیکم، کیسی ہیں آپ؟‘‘ ’’وعلیکم السلام، ٹھیک ہوں۔ " اُنہوں نے سرد سے لہجے میں جواب دیا اور تنقیدی نظروں سے اسے سر تا پیر دیکھا، آنداز میں کوئی گرم جوشی نہیں تھی۔۔ مصطفیٰ نے ہمیشہ کی طرح خوش دلی سے آگے بڑھ کر ان کا پرخلوص انداز میں حال احوال پوچھا تھا۔۔۔ "اسلام علیکم آنٹی، کیسی ہیں آپ؟‘‘ ’’بیٹا میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔آپ کیسے ہیں۔‘‘ ’’میں اللہ کا کرم!‘‘اس نے ثمرہ کی کمی شدت سے محسوس کی تھی۔ آپ یہاں آئیں،مجھے سچ میں خوشی ہوئی۔ اُمید ہے سفر آرام دہ گزراتھا؟" وہ ذرا نرم ہو کر بولیں، "جی، بس تھکا دینے والا تھا۔ مگر خیر، اللہ کا شکر ہے۔" ’’آپ مما کے ساتھ گپ لگائیں، میں ذرا ری فریش ہوجاؤں۔‘‘ عریشہ خاموشی سے آگے بڑھ گئی، اس کا ارادہ روم میں جاکر مجتبیٰ کے گھر جانے کا تھا۔۔ ’’ ثمرہ؟ وہ کہاں ہے؟ یہ اس کا معمول تھا کہ وہ گیٹ پر خود استقبال کرتی تھی، مگر آج... وہ نہیں آئی تھی۔۔اُسے کچھ عجیب لگا تھا۔۔ مصطفیٰ نے خود کو سنبھالا اور پھر مسکراتے ہوئے اندر کی طرف بڑھا۔ عریشہ کی ماں نے سرسری انداز میں کچھ باتیں کیں، جن کا جواب دیتا وہ اپنے روم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصطفیٰ کی بےچینی بَڑھتی جا رہی تھی۔ پورے گھر میں نظریں دوڑاتے ہوئے وہ اَندر داخل ہوا تو دل میں ایک انجانی سی گھبراہٹ سر اٹھا رہی تھی۔ اس نے ملازمہ سے پوچھا، "بی بی کہاں ہیں؟" مگر کوئی تسلی بخش جواب نہ ملا۔ قدم تیزی سے بڑھاتے ہوئے وہ اپنے بیڈروم کی طرف آیا۔ دروازہ ہلکے سے دھکا دیا تو وہ آہستہ سے کھل گیا۔ اندر کا منظر دیکھ کر مصطفیٰ کا دل دھک سے رہ گیا۔ ثمرہ کمرے کے کونے میں فرش پر بیٹھی تھی، اپنے گھٹنوں میں سر دیے ہوئے، بال بکھرے ہوئے، اور ساری روشنی جیسے اس کے اندر کی خاموشی میں دب سی گئی تھی۔ آنکھوں کے گرد سوجن اور چہرے پر نمی کے نشان صاف بتا رہے تھے کہ وہ بہت رو چکی ہے۔ مگر اب۔۔۔ ایک گہری خاموشی نے اسے جکڑ رکھا تھا۔ "ثمرہ۔۔۔" مصطفیٰ کی آواز ٹوٹ کر نکلی، وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اس کے قریب بیٹھ گیا۔ "یہ کیا حال بنا رکھا ہے تم نے؟" ثمرہ نے سر نہیں اٹھایا، بس ایک ہلکی سی لرزش اس کے شانوں میں دوڑ گئی۔ مصطفیٰ نے نرمی سے اس کا بازو تھاما، "ثمرہ، میری جان، دیکھو میری طرف۔۔۔کیا ہوا ہے؟ تم نے مجھے اتنا پریشان کر دیا ہے۔" ثمرہ نے آہستہ سے سر اٹھایا، آنکھیں سرخ تھیں اور چہرے پر ایسی تھکن تھی جیسے دل کا بوجھ اب زبان پر لانے کی سکت نہ بچی ہو۔ اس نے ہلکی سی نظر مصطفیٰ پر ڈالی اور پھر نظریں چرا لیں۔ مصطفیٰ نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما۔۔ "کیا بات ہے؟ کیوں رو رہی ہو؟ کچھ کہا کسی نے؟ یا مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی؟" ثمرہ نے دھیرے سے سر ہلایا، جیسے الفاظ کہیں گم ہو گئے ہوں۔ پھر بمشکل بولی، "نہیں... کچھ نہیں۔ بس۔۔۔مما اور بابا کی یاد آرہی تھی۔۔" مصطفیٰ کا دل جیسے مٹھی میں آگیا تھا۔۔۔شاید وہ خود د کو اکیلا محسوس کر رہی تھی۔ اس نے ثمرہ کو اپنے بازوؤں میں بھر لیا، نرمی سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا، "میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔ تم اکیلی نہیں ہو، ثمرہ۔ جو بھی بات ہے، بتاؤ مجھے۔ سب ٹھیک کریں گے۔ جاری ہے
