Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 33
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 13/06/2026
0 Views
Episode no 33
’’یہ کیا بکواس ہے؟" عریشہ چونک کر سیدھی ہوئی۔جبکہ مجبتیٰ بھی الرٹ ہو گیا تھا۔۔۔ دروازہ کھلتے ہی ایک مانوس سا چہرہ سامنے آیا۔ ’’اہان! اس کے چہرے پر غصے اور بےچینی کی ملی جلی کیفیت تھی۔ عریشہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ مجتبیٰ نے حیرت زدہ نگاہوں سے اسے پہچانتے ہوئے کہا،اہان ابھی اسے نہیں دیکھ سکا تھا۔۔جبھی مجتبیٰ نے کچھ سمجھتے ہوئے غیر مانوس آنداز میں چہرے کا رخ دوسری طرف پھیر لیا تھا۔۔تاکہ اہان کی نظریں اس پر نہ پڑ سکے۔۔عریشہ غصےٰ میں کار سے باہر نکلی تھی۔مجتبیٰ ابھی تک گاڑی میں ہی بیٹھا تھا۔۔ ’’اہان؟ تم؟‘‘ اہان کی نظریں براہ راست عریشہ پر مرکوز تھیں، جیسے اس کی آنکھوں میں سوالوں کا طوفان ہو۔ "مجھے تم سے بات کرنی ہے، ابھی اور اسی وقت! " اس کی آواز میں سختی اور گھبراہٹ دونوں تھیں۔ عریشہ نے ضبط سے کہا، "یہ طریقہ ہے بات کرنے کا؟ راستہ روک کر؟" مجتبیٰ اب تک الجھن میں تھا، وہ گاڑی سے باہر نکلا، "تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو؟ اور… اہان، تم یہ کیا کر رہے ہو؟" اہان کی نظریں اس لمحے مجتبیٰ پر پڑیں، اور اس کا چہرہ لمحے بھر کو بدلا، جیسے اس کی حقیقت کھل رہی ہو۔ "مجتبیٰ… تم یہاں؟" اس کی آواز میں حیرانی چھپی ہوئی تھی، اور اس کے تاثرات میں ایک جھجک آ گئی۔ مجتبیٰ کا ماتھا شکن آلود ہو چکا تھا۔ وہ قدم بڑھا کر قریب آیا اور غصے سے بولا۔۔ "یہ سب تم کر رہے تھے نا؟ وہ بلیک میلنگ، فائرنگ۔۔۔یہ سب کچھ تمہاری پلاننگ تھی؟" اہان نے ایک لمحہ خاموشی اختیار کی، اس کے چہرے پر شدید کشمکش تھی۔اہان تو اپنے سامنے مجتبیٰ کو دیکھ بوکھلا ہی گیا تھا۔پھر فوراً سنبھل بھی گیا تھا۔۔۔ جبکہ عریشہ ابھی تک سمجھ نہیں پائی تھی کہ دونوں کے مابین کیا تعلق تھا۔۔۔ وہ میں۔۔۔۔دراصل مجتبیٰ میری مجبوری تھی۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ بات یہاں تک پہنچے۔‘‘عریشہ نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا۔۔ "مجبوری؟ تم نے ہماری زندگی اجیرن کر دی، اور اب کہہ رہے ہو مجبوری تھی؟" اہان کی آنکھوں میں ندامت تھی لیکن وہ خود بھی حواس باختہ نظر آ رہا تھا۔ "میرا مقصد تمہیں نقصان پہنچانا نہیں تھا، میں بس۔۔۔ڈرانا چاہتا تھا۔ کچھ چیزیں میرے ہاتھ سے نکل گئیں۔" مجتبیٰ نے سخت لہجے میں کہا، "تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے اہان۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ تم…" اہان نے بیچ میں کاٹتے ہوئے کہا، "مجھے افسوس ہے مجتبیٰ، لیکن پلیز میرا یقین کرو۔۔میں بس ویسے ہی عریشہ کو۔۔۔ ’’شٹ اپ!‘‘بے غیرت انسان۔۔۔میرا بس نہیں چل رہا میں تمھارا قتل کردو۔تم میری بہن کے جذبات کے ساتھ کھیلتے رہے۔۔‘‘مجتبیٰ نے اسے پیچھے کو دھکا دیا تھا۔۔۔وہ خاموش رہا۔۔۔ ‘‘عریشہ نے غصے سے گاڑی کا دروازہ کھولا، ’’نہیں مجتبیٰ ایسے مت بولو پلیز!‘‘ وہ تڑپ کر رہ گیا۔۔آئزل تو اس کی روح میں بستی تھی۔۔وہ اسے دھوکا دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔ "تمہاری وضاحتوں کا اب کوئی فائدہ نہیں۔ ہٹو راستے سے۔" اہان نے ایک آخری نظر ڈالی، اور تھکے قدموں سے واپس اپنی گاڑی کی طرف گیا۔ مجتبیٰ اور عریشہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھےآنکھوں میں بےیقینی، حیرت اور غصہ۔ ’’یہ سب کیا تھا مجتبیٰ! تم اہان کو کیسے۔۔۔‘‘وہ حیران تھی۔ ’’گاڑی میں بیٹھو۔میں سب بتاتا ہوں۔۔۔ عریشہ نے گہری سانس لیتے ہوئے سر ہلایا، اور گاڑی آگے بڑھ گئی، مگر اس رات کی تلخی دونوں کے دلوں میں گھر کر چکی تھی۔اسکا کزن مجتبیٰ کی بہن کا شوہر تھا۔۔ یہی چیز تھی وہ عریشہ کو پریشان کر رہی تھی۔۔کیا مجتبیٰ بھی اس سازش کا حصہٰ تھا؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آفس میں شام کی رُوشنی دِھیرے دھیرے مدھم ہو رہی تھی۔ عریشہ اپنے کیبن میں بیٹھی کچھ فائلز دیکھنے میں مگن تھی کہ دروازہ ہلکے سے ناک ہوا۔ سر اُٹھایا تو نظر سامنے گئی تھی، مصطفیٰ چہرے سے سنجیدگی سجائے کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔ چہرے پر ہلکی سی سنجیدگی تھی، اور آنکھوں میں کچھ الجھن بھی۔ ’’عریشہ،فری ہو؟ مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے،" وہ آ کر سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ عریشہ نے فائل بند کی اور اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا، ’’جی مصطفیٰ صاحب!سب خیریت ہے؟‘‘وہ سوالیہ آنداز میں گویا ہوا تھا۔ مصطفیٰ نے گہری سانس لی، ’’دیکھوعریشہ ، تمہیں پتہ ہے آج جو کچھ ہوا ہے… وہ کوئی چھوٹی بات نہیں تھی۔ فائرنگ کا واقعہ آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اب تمھارا کزن اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آیا ہے۔بہتر یہی ہے کہ اس کو لگامیں ڈالی دی جائیں۔‘‘" عریشہ نے لب بھینچتے ہوئے ہلکا سا سر ہلایا، "ہاں، میں جانتی ہوں۔ مگر وہ یہ سب صرف ڈرانے کی کوشش میں کر رہا ہے، کچھ اور نہیں۔‘‘ مصطفیٰ نے نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑ دیں۔۔ ’’چاہے جو بھی تھا، احتیاط ضروری ہے۔ اس لیے میں پوچھنے آیا ہوں کہ تم آج میرے ساتھ گھر چلو گی یا مجتبیٰ کے ساتھ واپس جاؤ گی؟‘‘ عریشہ کچھ پل کے لیے خاموش ہو گئی۔ ایک طرف دل میں مجتبیٰ کے ساتھ واپسی کی عادت سی ہوگئی تھی، دوسری طرف مصطفیٰ کی فکر۔ باہر ہلکی ہلکی بارش پھر سے شروع ہو گئی تھی، کھڑکی پر پانی کی بوندیں تھپ تھپ کی آواز کے ساتھ گر رہی تھیں۔رات کے بعد سے ایک بار پھر موسم کے تیور بگڑنے لگے تھے۔ ’’تمہیں لگتا ہے کہ ابھی بھی خطرہ باقی ہے؟‘‘عریشہ نے آہستگی سے پوچھا۔ مصطفیٰ نے فوراً جواب دیا۔۔۔ ’’بالکل۔ جب تک ہم لوگ لیگل ایکشن نہیں لیتے اور پولیس حرکت میں نہیں آتی، تب تک احتیاط بہتر ہے۔‘‘ عریشہ نے نظریں جھکا کر میز پر انگلیاں چلائیں، پھر ہلکے سے بولی، ’’مجتبیٰ بھی تو ساتھ ہے مصطفیٰ نے نرمی سے کہا، "ہاں، میں جانتا ہوں۔ مگر وہ اکیلا تمہیں پروٹیکٹ نہیں کر سکتا، نہ ہی اس کی ذمہ داری ہے۔ دیکھو، یہ تمہارا معاملہ ہے، اور تمہاری سیفٹی میری پہلی ترجیح ہے۔ اس لیے بتاؤ، کیا فیصلہ ہے؟" عریشہ نے گہری سانس لی، "اچھا، ایسا کرتے ہیں آج تو مام بھی آئی ہوئی ہیں میں تمھارے ساتھ چلتی ہوں مگر پھر بعد میں مجتبیٰ کے ساتھ ہی جاؤں گی، لیکن اس بار تم اپنے سیکورٹی گارڈز کو بھی ہمارے ساتھ بھیج دو۔ تاکہ دونوں طرف سے احتیاط رہے۔" مصطفیٰ کے چہرے پر ہلکی سی تسلی کی جھلک آئی، "ٹھیک ہے، یہی بہتر ہے۔ میں ابھی انتظام کرتا ہوں۔ اور پلیز… کل کے بعد تم ہرگز اکیلی کہیں نہیں جاؤ گی، یہ میری سخت ہدایت ہے۔" عریشہ نے ہلکا سا مسکرا کر سر ہلایا، "ٹھیک ہے باس، جیسا آپ کا حکم۔" مصطفیٰ نے مسکرا کر اٹھتے ہوئے کہا، "باس صرف آفس میں ہوں، باہر تو دوست ہوں… اور دوست کی حیثیت سے تمہاری حفاظت میرا فرض ہے۔" عریشہ نے مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں سر ہلایا، دل میں ایک عجیب سی طمانیت اور الجھن کا امتزاج سا محسوس کرتے ہوئے۔۔۔پھر وہ سر جھٹک گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھر کی فضا میں بےچینی سی چھائی ہوئی تھی۔ جبران صاحب کے بنگلے کے ڈرائنگ روم میں ہلکی سی مدھم روشنی جل رہی تھی، مگر ماحول میں گھٹن سی محسوس ہو رہی تھی۔ فرناز صوفے پر دونوں بازو سینے پر لپیٹے بیٹھیں تھیں، آنکھوں میں غصے کی چمک اور ماتھے پر بل صاف جھلک رہے تھے۔ "آپ کو ذرا پرواہ بھی ہے؟" وہ اچانک دھاڑیں، "ہم سب کس حال میں ہیں، آپ کو صرف کورٹ کی پیشی کی فکر ہے جبران صاحب، جو
