Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 33
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 13/06/2026
0 Views
Episode no 33
بار اس عورت کے چہرے پر ٹھہر رہی تھیں۔۔۔ماں۔۔۔جس نے آج تک اس کا نام بھی نہیں لیا تھا۔عریشہ کو بھی اپنی اس سوتیلی ماں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔۔۔مگر ثمرہ وہ اپنے دل کا کیا کرتی۔۔۔۔۔کل شارق کی پیشی تھی۔۔مصطفیٰ نے اس سے کچھ بھی ڈسکس نہیں کیا تھا۔۔تاکہ وہ پریشان نہ ہوجائے مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتی بھلا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔ آسمان پر تاروں کی جھرمٹ چھائی ہوئی تھی، مگر عریشہ کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان نہ تھا۔ کمرے میں ہلکی ہلکی روشنی جل رہی تھی، وہ کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔ باہر کی ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے کو چھو رہی تھی، مگر دل کے اندر ایک عجیب سی اُداسی پھیل رہی تھی۔ اس نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا،رات کے بارہ بجنے کو تھے۔ دل نے ایک بار پھر مجتبیٰ کی یاد دلا دی۔ وہی مجتبیٰ، جو اس کا شوہر تھا۔۔۔چاہے کونٹریکٹ ہی سہی۔۔۔مگر اس رشتے کی ڈور نے کب کا دل کی دیواروں میں جگہ بنا لی تھی۔ ’’پتہ نہیں مصطفیٰ ،کیا کر رہا ہوگا ، اس وقت؟" دل نے آہستہ سے سرگوشی کی۔ ایک پل کے لیے وہ ہچکچائی، مگر پھر دل کی ضد کے آگے ہار گئی۔ فون اٹھایا، اور کانٹیکٹس میں مجتبیٰ کا نمبر تلاش کرنے لگی۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی۔ پھر... کال ملا دی۔ دوسری جانب مجتبیٰ بھی اپنی چھت پر بیٹھا خاموشی سے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ دل عجیب سی بےچینی میں مبتلا تھا، جیسے کوئی کمی سی محسوس ہو رہی ہو۔ فون کی بیل بجی تو اس نے چونک کر موبائل کی اسکرین دیکھی۔ عریشہ…! دل نے ایک لمحے کو اچھل کر سینے میں زور سے دھڑکا مارا۔ اس نے فوراً کال ریسیو کی۔ "ہیلو…" عریشہ کی مدھم آواز آئی۔ "عریشہ؟ سب خیریت تو ہے؟" مجتبیٰ کی آواز میں فکرمندی اور حیرانی صاف جھلک رہی تھی۔ کچھ لمحے خاموشی رہی، پھر عریشہ نے آہستہ سے کہا، "ہاں۔۔۔سب ٹھیک ہے۔۔ بس۔۔۔ نیند نہیں آ رہی تھی، تو سوچا تم سے بات کر لوں۔" مجتبیٰ کا دل پر جیسے ٹھنڈی پھوار سی پڑ گئی ہو۔۔۔ "اچھا کیا تم نے کال کر کے۔ میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔۔۔پتہ نہیں کیوں آج دل بہت بےچین ہے۔‘‘عریشہ ہلکی سی مُسکرائی، مگر آنکھوں میں نمَی تیرنے لگی۔ ’’ لگتا ہے بارش ہونے والی ہے۔‘‘ وہ بات پلٹ گئی۔۔ ’’ہمم!‘‘وہ سر جھٹک گیا۔۔کچھ دیر تک ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد وہ دونوں ہی را بطہ منقطع کر گئے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا سورج نکلا تو گلیوں میں معمول کے دن کی چہل پہل شروع ہو چکی تھی، مگر جبران صاحب کے گھر کا ماحول ایک عجیب سی خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہر طرف تناؤ کی کیفیت تھی، جیسے دیواریں بھی سانس روک کر اس گھڑی کو دیکھ رہی ہوں۔ ڈرائنگ روم میں جبران صاحب صوفے پر بیٹھے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں گتھی کیے سر جھکائے ہوئے تھے۔ ان کی آنکھوں کے گرد گہرے حلقے اور پیشانی کی لکیریں واضح کر رہی تھیں کہ رات بھر کی نیند ان سے کوسوں دور رہی تھی۔ فرناز بیگم کچن اور کمرے کے بیچ بےچینی سے چکر َلگا رہی تھیں۔ وہ بار بار ٹی وی کی طرف دیکھتیں، جیسے کوئی تازہ خبر سننے کی امید ہو، پھر بےبس ہو کر پھر سے صوفے کے قریب آ جاتیں۔ "آپ نے وکیل صاحب سے بات کر لی ہے؟" فرناز نے دبے دبے لہجے میں پوچھا، آواز میں گھبراہٹ صاف جھلک رہی تھی۔ جبران صاحب نے سر ہلایا، مگر ان کی آواز میں گہرا بوجھ تھا۔ "کی ہے… وہی کہہ رہے ہیں کہ کیس کمزور ہے، لیکن میڈیا اور پولیس کا دباؤ ہے… شارق کا کل کا ریکارڈ بھی سامنے رکھا جا رہا ہے…" "ہمارا بچہ قاتل نہیں ہے، جبران۔۔ بس کار ریسنگ کا شوق تھا اس کا۔ وہ لڑکا خود جلد بازی میں حادثے کا شکار ہوا ہوگا۔‘‘ وہ خاموش رہے۔۔قتل تو ان کے بیٹے سے ہوا تھا اور یہ بات وہ جھٹلا نہیں سکتے تھے۔مصطفیٰ نے اس پر ثمرہ کو قید رکھنے اور حملہ کرانے کا بھی کیس فائل کردیا تھا،ایسی صورت حال میں وہ کر ہی کیا سکتے تھے۔ ’’اللہ سے دعا کرو ثمرہ۔۔۔میرا ایک ہی بیٹا ہے۔۔۔‘‘ وہ ناچار لہجے میں گویا ہوئے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کورٹ سے سیدھا گھر واپس آیا تھا۔۔مصطفیٰ جیسے ہی گھر کے گیٹ سے اندر داخل ہوا تو اس کے چہرے پر دن بھر کی تھکن صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نیند اور فکرمندی کا امتزاج تھا۔ ہاتھ میں فائل اور چہرے پر سنجیدگی کی چھاپ لیے وہ سیدھا لاونج کی طرف بڑھا، جہاں صوفے پر ثمرہ چپ چاپ بیٹھی تھی۔ ’’السلام علیکم!‘‘ مصطفیٰ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، مگر اس کی آواز میں تھکن چھپی ہوئی تھی۔ ثمرہ نے چونک کر سر اُٹھایا اور زَبردستی مُسکرائی۔۔۔ ’’وعلیکم السلام۔۔۔۔آپ آگئے؟‘‘ مصطفیٰ نے فائلیں ٹیبل پر رکھیں اور جوتے اُتارتے ہوئے تھکے انداز میں بولا۔ "ہاں، کیس ختم ہوتے ہی سیدھا آ گیا۔ کافی لمبی پیشی تھی آج۔" اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے گہری سانس لی اور ثمرہ کی طرف دیکھا، "شارق کا کیس ابھی بھی پیچیدہ ہے، مگر وکیل نے کہا ہے کہ کچھ امید ہے۔کہ یہ کیس ہم ہی جیتیں گے۔کیونکہ ہم حق پر ہیں۔‘‘ ثمرہ نے بس سر ہلا دیا۔ اس کے چہرے پر عجیب سی خالی مسکراہٹ تھی۔ مصطفیٰ نے غور سے دیکھا، جیسے اس کی آنکھوں میں کوئی چھپی بات پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ’’ثمرہ، آپ ٹھیک ہیں؟ لگ رہا ہے آپ کچھ پریشان ہو۔ صبح سے دیکھ رہا ہوں میڈم کا موڈ کچھ عجیب ہے۔" ثمرہ نے فوراً نظریں چرا لیں۔ "نہیں… کچھ خاص نہیں۔ بس ذرا تھکی ہوئی ہوں۔" مصطفیٰ نے ہلکا سا ماتھا سکوڑا۔ "ثمرہ، آپ مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو؟ دیکھو، میں جانتا ہوں کہ تم بہت مضبوط ہو لیکن اگر دل میں کوئی بات ہے تو شیئر کر لو۔" ثمرہ نے زبردستی مسکراہٹ سجائی اور کہا، "مصطفیٰ، واقعی کچھ نہیں ہے۔ آپ خوامخواہ فکر کر رہے ہیں۔ بس تھوڑا سر درد ہے، شاید نیند پوری نہیں ہوئی۔" مصطفیٰ نے اس کی بات کا یقین تو نہیں کیا مگر دباؤ ڈالنا مناسب نہیں سمجھا۔ وہ آہستہ سے اس کا ہاتھ تھام کر بولا، "ٹھیک ہے۔۔ اگر کچھ کہنا ہو تو جانتی ہیں نا میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں۔" ثمرہ کی آنکھیں نم ہو گئیں، مگر اس نے جھٹک کر ان آنسوؤں کو پیچھے دھکیلا ۔۔ ’’شکریہ مصطفیٰ۔۔۔ آپ بہت اچھے ہیں۔‘‘ مصطفیٰ نے ہلکی سی مسکراہٹ دی اور کہا، ’’چلیں پھر ذرا ملازمہ سے کہہ کر چائے بنوا لیں۔ اور آپ بھی ذرا آرام کرو، ٹھیک ہے؟ ثمرہ نے اثبات میں سر ہلایا، مگر دل کے اندر جو طوفان تھا، وہ ابھی بھی بےچین تھا۔ مصطفیٰ چلا گیا مگر وہ اپنی جگہ بیٹھی، دیوار کو خالی نظروں سے تکتی رہی، جیسے کوئی ان کہی بات اس کے سینے میں قید ہو جو زبان تک آنے سے ڈرتی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گاڑی دھیمی رفتار سے سڑک پر رواں دواں تھی۔ عریشہ کھڑکی کے پار دیکھتے ہوئے اپنے خیالوں میں گم تھی، جبکہ ڈرائیور خاموشی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ اچانک سامنے سے ایک کالے رنگ کی تیزی سے آ کر بالکل ان کی گاڑی کے سامنے آ کر رکی، ڈرائیور نے گھبرا کر بریک مارا۔جبکہ مجتبیٰ بھی بری طرح سے چونکا تھا۔
