Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 33
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 13/06/2026
0 Views
Episode no 33
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_33 شام کی خنک ہوا آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔ مصطفیٰ کی گاڑی پورچ میں آ کر رکی تو عریشہ نے بے دلی سے پرس سنبھالا اور گاڑی سے اُتری۔ مصطفیٰ نے ایک نظر اس کے چہرے کی تھکن کو دیکھا اور خاموشی سے ساتھ ہولیا۔ گیٹ پر حسبِ توقع ملازم کھڑے تھے مگر ثمرہ۔۔۔۔وہ نہیں تھی۔ عریشہ اور وہ ڈرائینگ میں داخل ہوئے تو عائشہ بیگم کو وہیں بیٹھے ہوئے پایا تھا۔۔ ’’السلام علیکم، کیسی ہیں آپ؟‘‘ ’’وعلیکم السلام، ٹھیک ہوں۔ " اُنہوں نے سرد سے لہجے میں جواب دیا اور تنقیدی نظروں سے اسے سر تا پیر دیکھا، آنداز میں کوئی گرم جوشی نہیں تھی۔۔ مصطفیٰ نے ہمیشہ کی طرح خوش دلی سے آگے بڑھ کر ان کا پرخلوص انداز میں حال احوال پوچھا تھا۔۔۔ "اسلام علیکم آنٹی، کیسی ہیں آپ؟‘‘ ’’بیٹا میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔آپ کیسے ہیں۔‘‘ ’’میں اللہ کا کرم!‘‘اس نے ثمرہ کی کمی شدت سے محسوس کی تھی۔ آپ یہاں آئیں،مجھے سچ میں خوشی ہوئی۔ اُمید ہے سفر آرام دہ گزراتھا؟" وہ ذرا نرم ہو کر بولیں، "جی، بس تھکا دینے والا تھا۔ مگر خیر، اللہ کا شکر ہے۔" ’’آپ مما کے ساتھ گپ لگائیں، میں ذرا ری فریش ہوجاؤں۔‘‘ عریشہ خاموشی سے آگے بڑھ گئی، اس کا ارادہ روم میں جاکر مجتبیٰ کے گھر جانے کا تھا۔۔ ’’ ثمرہ؟ وہ کہاں ہے؟ یہ اس کا معمول تھا کہ وہ گیٹ پر خود استقبال کرتی تھی، مگر آج... وہ نہیں آئی تھی۔۔اُسے کچھ عجیب لگا تھا۔۔ مصطفیٰ نے خود کو سنبھالا اور پھر مسکراتے ہوئے اندر کی طرف بڑھا۔ عریشہ کی ماں نے سرسری انداز میں کچھ باتیں کیں، جن کا جواب دیتا وہ اپنے روم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصطفیٰ کی بےچینی بَڑھتی جا رہی تھی۔ پورے گھر میں نظریں دوڑاتے ہوئے وہ اَندر داخل ہوا تو دل میں ایک انجانی سی گھبراہٹ سر اٹھا رہی تھی۔ اس نے ملازمہ سے پوچھا، "بی بی کہاں ہیں؟" مگر کوئی تسلی بخش جواب نہ ملا۔ قدم تیزی سے بڑھاتے ہوئے وہ اپنے بیڈروم کی طرف آیا۔ دروازہ ہلکے سے دھکا دیا تو وہ آہستہ سے کھل گیا۔ اندر کا منظر دیکھ کر مصطفیٰ کا دل دھک سے رہ گیا۔ ثمرہ کمرے کے کونے میں فرش پر بیٹھی تھی، اپنے گھٹنوں میں سر دیے ہوئے، بال بکھرے ہوئے، اور ساری روشنی جیسے اس کے اندر کی خاموشی میں دب سی گئی تھی۔ آنکھوں کے گرد سوجن اور چہرے پر نمی کے نشان صاف بتا رہے تھے کہ وہ بہت رو چکی ہے۔ مگر اب۔۔۔ ایک گہری خاموشی نے اسے جکڑ رکھا تھا۔ "ثمرہ۔۔۔" مصطفیٰ کی آواز ٹوٹ کر نکلی، وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اس کے قریب بیٹھ گیا۔ "یہ کیا حال بنا رکھا ہے تم نے؟" ثمرہ نے سر نہیں اٹھایا، بس ایک ہلکی سی لرزش اس کے شانوں میں دوڑ گئی۔ مصطفیٰ نے نرمی سے اس کا بازو تھاما، "ثمرہ، میری جان، دیکھو میری طرف۔۔۔کیا ہوا ہے؟ تم نے مجھے اتنا پریشان کر دیا ہے۔" ثمرہ نے آہستہ سے سر اٹھایا، آنکھیں سرخ تھیں اور چہرے پر ایسی تھکن تھی جیسے دل کا بوجھ اب زبان پر لانے کی سکت نہ بچی ہو۔ اس نے ہلکی سی نظر مصطفیٰ پر ڈالی اور پھر نظریں چرا لیں۔ مصطفیٰ نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما۔۔ "کیا بات ہے؟ کیوں رو رہی ہو؟ کچھ کہا کسی نے؟ یا مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی؟" ثمرہ نے دھیرے سے سر ہلایا، جیسے الفاظ کہیں گم ہو گئے ہوں۔ پھر بمشکل بولی، "نہیں... کچھ نہیں۔ بس۔۔۔مما اور بابا کی یاد آرہی تھی۔۔" مصطفیٰ کا دل جیسے مٹھی میں آگیا تھا۔۔۔شاید وہ خود د کو اکیلا محسوس کر رہی تھی۔ اس نے ثمرہ کو اپنے بازوؤں میں بھر لیا، نرمی سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا، "میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔ تم اکیلی نہیں ہو، ثمرہ۔ جو بھی بات ہے، بتاؤ مجھے۔ سب ٹھیک کریں گے۔" ثمرہ نے مصطفیٰ کے سینے پر سر رکھ دیا، اور آنکھیں موند لیں، اور ایک گہری سانس لی۔ کمرے کی خاموشی میں صرف دونوں کے دلوں کی دھڑکن سنائی دے رہی تھی… جیسے لمحہ بھر کو ساری دنیا تھم گئی ہو۔مصطفیٰ کو سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔ایسا کیا ہوا تھا جو ثمرہ اس طرح کا رئیکٹ کر رہی تھی۔۔ورنہ گھر میں مہمان آیا ہوا ہے اور وہ اس طرح کمرے میں بیٹھ کر آنسو بہائے وہ اس قسم کی لڑکی ہر گز نہیں تھی۔۔کچھ تو ایسا تھا جو اب ابھی کہہ نہیں سک رہی تھی۔ویسے تو زنیرہ نے اب ثمرہ سے کچھ بھی کہنا چھوڑ دیا تھا۔۔آگر وہ اس کے ساتھ اچھی نہیں تھیں تو اب بری بھی نہیں تھیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈائننگ ٹیبل پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صرف چمچوں اور پلیٹوں کی ہلکی ہلکی آوازیں اس سکوت کو توڑ رہی تھیں۔ مصطفیٰ، عریشہ، اس کی سوتیلی ماں، اور ثمرہ۔۔۔سب اپنی اپنی پلیٹوں پر جھکے ہوئے تھے، مگر ہر ایک اپنی سوچ میں تم تھا۔ ثمرہ نے نظریں جھکائے نوالہ منہ میں ڈالا مگر وہ گلے سے نیچے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ اس کے ہاتھ تھوڑے تھوڑے کانپ رہے تھے، دل کی دھڑکن بری طرح بے قابو ہو رہی تھی۔ آنکھیں بار بار نمی سے بھرنے لگتیں اور وہ ضبط کی انتہا پر بیٹھی تھی۔ سامنے وہ عورت۔۔۔ جو بظاہر عریشہ کی سوتیلی ماں تھی، مگر ثمرہ کی نگاہوں کے سامنے بار بار بچپن کی دھندلی تصویریں گھوم رہی تھیں۔ وہی چہرہ، وہی کڑی نظریں، وہی کڑوا لہجہ… وہی عورت جس نے برسوں پہلے اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔جس سے چہرے کی مشا بہت کے باعث اسکا باپ ہمیشہ اسے دھتکار دیا کرتا تھا۔۔اور وہ کیسی ماں تھی کہ اپنی اولاد کی خوشبو نہ پہنچان سکی تھی۔۔جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد وہ بھلے جتنی بھی بدل گئی تھی۔۔۔مگر ایک ماں اپنی اولاد کو کیسے بھول سکتی تھی بھلا۔۔۔ یہی بات تھی جو ثمرہ کو مسلسل کچوئے لگا رہی تھی۔۔۔ ثمرہ کی انگلیاں نپکن پر سختی سے گرفت کیے ہوئے تھیں۔ دل کر رہا تھا کہ سب کچھ چیخ کر کہہ دے، اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لے۔ مگر۔۔۔نہیں، یہ وقت نہیں تھا۔ یہ جگہ نہیں تھی۔ صرف اس کا دل جانتا تھا کہ وہ لمحے کیسے کاٹ رہی ہے۔ مصطفیٰ نے ایک نظر ثمرہ پر ڈالی تو اس کا زرد پڑتا چہرہ دیکھ کر ذرا چونکا۔ وہ نرمی سے قریب جھک کر کان میں بولا تھا۔۔۔ "ثمرہ، کچھ کھاؤ نا، تم نے تو کچھ بھی نہیں کھایا۔ ’’آپ فکر نہ کریں۔میں کھا رہی ہوں مصطفیٰ!‘‘ عریشہ کی ماں نے ایک تیکھی نگاہ ڈالی، جیسے کوئی خاص دلچسپی نہ رکھتے ہوئے، وہ اپنی پلیٹ میں مشغول رہیں۔ ان کے رویے میں وہی غرور اور لاپروائی تھی، جیسے وہ ہمیشہ سے کسی کے جذبات کو اہمیت نہ دیتی ہوں۔ ثمرہ کا دل کر رہا تھا کہ بس وہ لمحہ ختم ہو جائے۔ حلق میں ہر نوالہ کانٹے کی طرح چبھ رہا تھا۔ آنکھیں بار بار چھلکنے کو تیار تھیں، مگر وہ اپنی حد سے زیادہ مضبوطی دکھا رہی تھی۔ ڈائننگ روم کی خاموشی میں ایک عجیب سی کشمکش چھپی ہوئی تھی۔۔۔ایک ایسی سچائی جو صرف ثمرہ کے دل کی گہرائی میں دفن تھی۔ کھانے کے بعد جب سب اٹھے، تو ثمرہ نے ایک گہری سانس لی، جیسے دل کے بوجھ کو چند لمحوں کے لیے ہلکا کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہو۔ لیکن اس کی نظریں بار
