Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 31
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 11/06/2026
0 Views
Episode no 31
دکھاتے ہوئے گاڑی کی اسپیڈ تیزی سے بڑھا دی۔ مجتبیٰ نے ایک بار پھر کھڑکی سے باہر جھانکنے کی کوشش کی تو دور ایک موٹر بائیک پر سوار دو افراد فائرنگ کرتے نظر آئے۔یہ سڑک خالی تھی۔ایک دکا ہی گاڑی گزر رہی تھی۔۔اور اب تو شاید سب نے اپنا روٹ تبدیل کر لیا تھا۔۔اب سڑک پر صرف انھی کی گاڑی نظر آرہی تھی۔۔ ’’یار یہ کیا مصیبت ہے!" مجتبیٰ نے دانت پیستے ہوئے کہا، اور عریشہ کو مزید نیچے دھکیل دیا۔ ‘‘کچھ نہیں ہوگا، پرسکون رہو۔ عریشہ کی سانسیں تیز ہو چکی تھیں، وہ کانپ رہی تھی۔ "یہ۔۔۔یہ کوئی عام حملہ نہیں تھا مجتبیٰ۔۔۔یہ میرا کزن ہوسکتا ہے۔۔۔پہلے بھی دھمکیاں دے چکا ہے۔۔‘‘ "کیا؟" مجتبیٰ نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھا، "تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟کہ وہ اس حد تک بھی جا سکتا ہے۔۔اور تم کہہ رہیں تھیں،کہ وہ ایک اچھا آدمی ہے۔‘‘وہ تاسفی آنداز میں بولا تھا۔" ڈرائیور نے گاڑی ایک مخالف سڑک پر چڑھا دی اور پوری طاقت سے رفتار تیز کر دی۔ پیچھا کرنے والی بائیک تھوڑی دیر بعد پیچھے رہ گئی، اور پھر ایک موڑ پر غائب ہو گئی۔ چند منٹ بعد جب سب کچھ پُرسکون ہوا، ڈرائیور نے گاڑی آہستہ کی۔ عریشہ اب بھی کانپ رہی تھی، اور مجتبیٰ نے اِس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ ’’بس، ختم ہوگیا۔ تم ٹھیک ہو؟‘‘ اس نے دھیرے سے پوچھا۔ عریشہ نے سر ہلایا مگر آنکھوں میں خوف صاف نظر آ رہا تھا۔ "یہ سب مجھے ڈرانے کے لیے تھا، مگر اب بہت ہوگیا۔۔۔میں خاموش نہیں بیٹھوں گی۔‘‘ مجتبیٰ نے گہری سانس لی اور سنجیدگی سے کہا۔۔۔ "تم اکیلی نہیں ہو، عریشہ۔ اس بار ہم دونوں مل کر جواب دیں گے۔" گاڑی شہر کی رونق میں دوبارہ داخل ہو چکی تھی، مگر اب دونوں کے دل میں ایک نیا عزم جنم لے چکا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گاڑی جیسے ہی آفس کی پارکنگ میں رُکی، عریشہ نے دروازہ کھولا اور جلدی سے اَندر کی طرف بڑھ گئی۔ اس کا چہرہ ابھی تک خوف اور غصے سے سُرخ ہورہا تھا۔ مجتبیٰ نے ایک لمحے کو اُسے دیکھا، مگر کچھ کہے بغیر اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف چل دیا۔ عریشہ سیدھا مصطفیٰ کے آفس میں پہنچی۔ ’’یہ کیا حال بنایا ہواہے تم نے؟ سب خیریت تو ہے؟" مصطفیٰ اپنی کرسی سے اٹھ کر حیرت ست استفسار کرتا نزدیک آیا۔ عریشہ نے گہری سانس لی اور کرسی پر بیٹھتے ہی ساری بات جلدی جلدی سنا دی۔ مصطفیٰ کا چہرہ لمحہ بہ لمحہ سرخ ہوتا جا رہا تھا۔ اس نے میز پر زور سے ہاتھ مارا، "کیا بکواس ہے یہ! تمہیں ڈرانے کی کوشش؟ اور تم اتنی بڑی بات لے کر ابھی آفس آ گئی ہو؟ پولیس میں رپورٹ کیوں نہیں کی؟" ’’میں۔۔۔ میں ڈر گئی تھی، مصطفیٰ۔ سوچا پہلے تم سے مشورہ کر لوں،" عریشہ نے کمزور لہجے میں کہا۔ مصطفیٰ نے غصے سے کمرے میں ٹہلنا شروع کر دیا تھا۔۔۔ایک کے بعد ایک مسلہ ،اس کی جان ہی نہیں چھوڑ رہا تھا۔۔۔ "یہ سب اب برداشت سے باہر ہے عریشہ ! یہ سیدھی سیدھی کرمنل ایکٹ ہے۔ ہم ابھی کے ابھی لیگل ایکشن لیں گے۔ تمہارے کزن کو اس کی اوقات دکھانی پڑے گی۔۔‘‘ عریشہ نے سر جھکا کر کہا۔۔۔ "وہ اپنے اَثرورسوخ کا فائدہ اُٹھا رہا ہے، تم جانتے ہو۔مصطفیٰ رک کر اُس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔۔۔ "اور تم جانتی ہو کہ میں قانون کی زبان بہت اچھے سے سمجھتا ہوں۔ تم بس مضبوط رہو، باقی سب مجھ پر چھوڑ دو۔" مجتبیٰ باہر ہال میں اپنی ڈیسک پر بیٹھا فائلوں میں الجھا ہوا تھا، سر جھکائے کام میں مگن۔ اس کا دماغ گلاس آفس میں موجود ان دو لوگوں میں الجھا ہوا تھا۔ کچھ سنائی تو نہیں دے رہا تھا۔مگر وہ جانتا تھا کہ آندر کا ماحول خاص مضطرب ہے۔۔۔وہ جان کر خود کو مصروف ظاہر کر رہا تھا۔۔۔جبکہ مصطفیٰ نے تیزی سے اپنا موبائل اُٹھا کر کان سے لگایا تھا۔۔ "میں ابھی اپنے لیگل ہیڈ سے بات کرتا ہوں۔ آج ہی ایف آئی آر درج ہوگی۔" عریشہ نے گہری سانس لی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ دل میں خوف تو تھا، مگر مصطفیٰ کے الفاظ نے اُسے تھوڑا حوصلہ ضرور دیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوپہر کا وقت ہو چکا تھا۔ آفس کا ماحول لنچ بریک کی وجہ سے تھوڑا پرسکون ہو گیا تھا۔ لوگ اپنے اپنے لنچ باکس کھول کر گپ شپ کر رہے تھے۔ عریشہ، جو صبح سے مسلسل تناؤ میں تھی، اپنی کرسی پر تھکی ہوئی سی بیٹھی تھی۔ اچانک اس کے دماغ میں جھٹکے کی طرح ایک خیال آیا۔ ’’اوہ نو!" اس نے ہڑبڑا کر فون اٹھایا، ’’آنٹی کی فلائٹ۔۔‘‘ وہ جلدی جلدی فون کی کانٹیکٹ لسٹ میں نمبرز ڈھونڈنے لگی۔ خود سے بڑبڑا رہی تھی۔۔ "آج آنٹی کی پاکستان کی فلائٹ تھی۔۔ اور وہ سیدھا مصطفیٰ کے گھر آ رہی تھیں۔۔ میں تو بھول ہی گئی تھی!" فون ملاتے ہوئے اس کی انگلیاں کپکپا رہی تھیں۔ دوسری طرف بیل جا رہی تھی مگر کوئی جواب نہیں آیا۔ اس نے جھنجھلا کر فون رکھا اور مصطفیٰ کے آفس کی طرف لپکی۔ مصطفیٰ اپنے آفس میں بیٹھا میلز چیک کر رہا تھا۔ دروازہ زور سے کھلا تو وہ چونک گیا۔ "کیا ہوا اب؟" مصطفیٰ نے گھبرا کر پوچھا۔ ’’مام کی فلائٹ! وہ آج آ رہی تھیں نا؟ میں تو بالکل بھول گئی!" عریشہ کی آواز میں گھبراہٹ صاف جھلک رہی تھی۔ مصطفیٰ نے فوراً اپنا فون اٹھایا اور گھر پر کال ملائی۔ تھوڑی دیر بعد فون اٹھایا گیا تو مصطفیٰ نے سکون کی سانس لی، ’’کیا ہوا؟‘‘اس نے موبائل بند کیا تو وہ ہونک ہوئی۔ ’’میں نے ڈرائیور کو ریمائینڈر دے دیا ہے۔۔وہ وقت پر آئیر پورٹ پہنچ جائے گاتم ریلیکس کرو۔۔۔‘‘ وہ گہری سانس بھر کر رہ گئی تھی۔۔۔کہ جبھی اس کے فون کی اسکرین پر مجتبیٰ کا میسج آیا۔۔ "لنچ نہیں کرو گی؟ کینٹین میں سب جا رہے ہیں۔" عریشہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ فون جیب میں رکھا اور کہا، ’’میں لنچ کر کے آتی ہوں، باقی باتیں بعد میں۔‘‘مصطفیٰ ذرا چونکا پھر شرارت سے مسکرایا۔۔کیونکہ اس نے اسے ساتھ چلنے کا نہیں کہا تھا۔۔۔ مصطفیٰ نے شرارت سے کہا۔۔۔ "ہاں ہاں، جاؤ۔۔۔اور اپنے شوہر صاحب کو بھی ساتھ لے جاؤ،بی چارے کو باڈی گارڈ ہی سمجھ لیا ہے تم نے تو۔۔‘‘وہ قہقہہ لگا گئی۔۔۔ "نخریلا باڈی گرڈ پلس شوہر ہے میرا۔۔۔ زبردستی ساتھ لے کر جانا پڑے گا۔۔‘‘وہ آفس سے باہر نکلتی جوابی کارروائی کرنا ہر گز نہیں بھولی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اسے میسج کرتی سیدھا آفس سے باہر نکل گئی تھی۔۔اسکا ارادہ قریبی رَسٹورینٹ میں جانے کا تھا۔البتہ عریشہ پہلے ہی لوکیشن پر پہنچ چکی تھی۔۔ ’’السلام علیکم مادام!‘‘وہ ساتھ آکر بیٹھتا خوشی دلی سے بولا تھا۔۔ ’’ وعلیکم السلام! کیا کھاؤ گے؟‘‘وہ مینو کارڈ کے صفحات پلٹ رہی تھی۔۔ ’’ آج آپ کی مرضی کا کھا لیتے ہیں۔مگر ہاں بل میں پے کرونگا۔‘‘اس نے پہلے ہی یقین دہانی کرائی تھی۔ ’’دیکھ لو۔۔بعد میں یہ مت کہنا کہ میں ایک غریب باڈی گارڈ ہوں۔۔‘‘وہ شرارت سے بولی تو اس نے ذرا خشمگیں نگاہوں سے گھورا تھا۔ ’’کم آن!‘‘و ہ سر جھٹک کر مسکرا دیا۔کچھ ہی دیر میں وہ اسکی جیب دیکھتے ہوئے جسٹ مین کورس کا آرڈر دے چکی تھی،ساتھ میں سادہ پانی۔تاکہ اسکے بجٹ پر گراں نہ گرے۔۔۔ ’’ سر سے بات کی آپ نے؟‘‘آرڈر سرو ہوچکا تھا،جبھی وہ سنجیدگی سے بولا۔ ’’ہاں! مصطفیٰ نے کہا ہے وہ دیکھ لے گا۔۔آج میری مما آرہی ہیں آسٹریلیا سے،تو
