Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 31
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 11/06/2026
0 Views
Episode no 31
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_31 ’’نہیں ! مرضی آپ کی۔میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کا اس مسلہ کو حل کرنے کے بارے میں کیا ارادہ ہے!‘‘اس نے حیرانی سے سوالیہ آنداز میں پوچھا تھا۔ ’’بس بہت جلد!‘‘وہ سمجھ کر سر ہلا گیا۔ ’’تم اسی روم میں ٹھہر جاؤ پلیز! مجھے تو یہاں اس اندھیرے میں ڈر لگ رہا ہے۔‘‘مجتبیٰ کا دل کیا ،اپنی اس باس بیوی کا دماغ درست کردے! جو آج رات پتہ نہیں کیا کرنا چاہ رہی تھی۔ ’’مگر یہاں صرف ایک ہی بیڈ ہے!‘‘اس نے یاد کرایا! ’’اوہ!تو تمھارے روم میں بھی صوفہ نہیں ہے کیا؟‘‘ ’’ہے! ایک کام کریں ۔وہیں آجائیں آپ۔۔‘‘وہ زیر لب بڑبڑاتا ہوا اب اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔ ’’کچھ کہہ رہے ہو تم؟‘‘وہ ساتھ آتی کان لگا کر بولی۔ ’’جی ! یہی کہ اب پلیز سو جائیے گا،ورنہ صبح میری چھٹی ہوجائے گی۔‘‘ وہ دانت کچکچا کر بولا۔ ’’ہاں تو کمرے میں جاکر اب کونسا کرکٹ کھیلنا ہے۔سو نا ہی ہم نے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمرے میں گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ صرف کھڑکی کے پردے کے کنارے سے کبھی کبھار بجلی کی چمک روشنی کی ایک جھلک ڈالتی اور پھر سب کچھ دوبارہ سیاہی میں ڈوب جاتا۔ باہر بارش کی تیز بوندیں شیشوں پر مسلسل دستک دے رہی تھیں، جیسے قدرت بھی دلوں کے بیچ پڑی دیوار کو گرا دینا چاہتی ہو۔ عرئشہ بیڈ پر کمبل میں لپٹی خاموشی سے چھت کو دیکھ رہی تھی، دل میں ایک عجیب سی بےچینی۔ مجتبیٰ کمرے کے دوسرے کونے میں صوفے پر نیم دراز تھا، ہاتھوں میں موبائل تھا مگر سگنلز نہ ہونے کی وجہ سے بار بار مایوسی سے اسکرین بند کر دیتا۔ "کب آئے گی لائٹ؟" عرئشہ نے ہلکی سی آواز میں کہا، گویا خود سے مخاطب ہو۔ مجتبیٰ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ "بارش تھمے گی تو شاید۔ ڈر لگ رہا ہے؟" عرئشہ نے پلکیں جھکا لیں۔ "ڈر تو عادت بن گئی ہے۔" مجتبیٰ نے گہری سانس لی اور تھوڑا سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ "ہم دشمن تو نہیں ہیں عریشہ… چاہو تو بات کر سکتے ہیں۔" عرئشہ نے ایک لمحے کو نظریں اٹھائیں، پھر کھڑکی کی طرف دیکھنے لگی۔ بجلی کی ایک تیز کڑک نے کمرے کو لمحہ بھر کو روشن کیا، اور دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔ دونوں کے چہرے پر وہی انجان سا تاثر تھا۔ایک انجانی قربت اور ایک انجانی دوری۔ "باتوں سے کیا بدل جائے گا؟" عرئشہ نے دھیرے سے کہا۔ مجتبیٰ نے مسکرا کر جواب دیا، "شاید موسم… یا شاید دل کا موسم۔" کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی، صرف بارش کی آواز اور دل کی دھڑکن سنائی دے رہی تھی۔مگر عریشہ دوسری ہی سوچوں میں گم تھی۔۔وہ فی الحال کسی بھی قسم کی بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔اُسی لئے رُخ پھیر گئی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمرے میں سورج کی روشنی تیز ہو چکی تھی، جب عریشہ کی آنکھ کھلی۔ گھڑی دیکھی تو گھبرا کر اُٹھ بیٹھی۔ "اوہ نو! آٹھ بج گئے؟" دوسری طرف مجتبیٰ بھی آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھا تھا،کہ گھڑی پر نظر پڑتے ہی بری طرح سے چونکا تھا۔۔ "کیا؟ آٹھ بج گئے؟" چادر ایک طرف کو پھینکتا وہ ایک جھٹکے سے اُٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔ "آج تو میٹنگ ہے تمہاری باس لیڈی!" اُس نے ہنستے ہوئے تپتے تپتے آنداز میں کہا تھا، جبکہ عریشہ نے منہ بنایا تھا۔۔۔ دونوں نے جلدی جلدی واشروم کا رخ کیا، اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش شروع ہو گئی۔ "پہلے میں جاؤں گی!" عریشہ نے ہاتھ میں تولیہ پکڑتے ہوئے کہا۔ "ارے تمہیں تو میک اپ کرنا ہوتا ہے، مجھے صرف شیونگ کرنی ہے!" مجتبیٰ نے مذاق میں زبان نکالی، مگر عریشہ نے تیز نظروں سے گھورا تو پیچھے ہٹ گیا۔ "ٹھیک ہے ٹھیک ہے، لیڈی باس پہلے آپ۔۔‘‘وہ مسکرا کر آئزل کے روم کی جانب بڑھا،جبکہ وہ ذرا تفخر سے مسکراتی ہوئی واشروم میں جاکر بند ہوگئی تھی۔۔۔!" کچھ دیر بعد خود وہ اپنی مکمل تیاری پر نگاہ ڈالتا روم میں آیا تھا،عریشہ ہنوز تیار ہونے میں مصروف تھی، اس نے اپنا کل والا ہی جوڑا پہنا تھا، جو وہ آفس پہن کر آئی تھی۔۔ورنہ اتنے عرصے میں اس نے،کبھی اسے ڈریس ریپیٹ کرتے نہیں دیکھا تھا۔۔۔مجتبیٰ نے کچن کا رخ کیا۔ وہ جلدی جلدی توے پر آملیٹ ڈال رہا تھا، دوسری طرف ٹوسٹ مشین میں سلائس رکھ رہا تھا، اور ساتھ ساتھ،ایک توس ساتھ ساتھ کھا بھی رہا تھا۔۔ "’’یار یہ باس لوگ تو بس آرڈر دینا جانتے ہیں، سارا کام تو بندہِ مزدور کے سر!افف مجتبیٰ کیا قسمت پائی ہے۔۔" اس نے آملیٹ پلٹتے ہوئے زیر لب کہا، پھر جلدی سے چاے کی کیتلی کا سوئچ آن کیا۔ "مجتبیٰ!" عریشہ کی آواز کمرے سے آئی، "کافی ریڈی ہے؟" مجتبیٰ نے جلدی سے جواب دیا، "جی باس! بلکل پانچ منٹ میں حاضر ہے!" اس نے دانت کچکچائے،باڈی گاڑڈ کے بجائے رات سے اپنا کک بنایا ہوا تھا۔۔۔ چند لمحوں بعد عریشہ پوری تیاری کے ساتھ کچن میں داخل ہوئی، بالکل پروفیشنل لک میں، مگر آنکھوں میں ہلکی سی سُستی کی جھلک واضح تھی۔شاید وہ رات ٹھیک سے سو نہیں پائی تھی۔ "واہ، تم نے تو ناشتہ بھ ی بنا دیا؟" اس نے حیرانی سے کہا۔ "جی باس، آج کے بعد میرا پروموشن تو بنتا ہے نا؟" مجتبیٰ نے شرارت سے کہا۔ عریشہ نے مسکراتے ہوئے ایک کپ اٹھایا۔۔۔ "آفس میں دیکھوں گی، تمہاری پرفارمنس۔۔!" دونوں جلدی جلدی ناشتہ کر رہے تھے، مگر ان کی ہنسی اور باتوں سے ماحول ایک دم ہلکا پھلکا لگ رہا تھا۔ باہر کار کا ہارن بجا، اور دونوں نے گھڑی دیکھی۔۔ "اوہ نو، دیر ہو گئی۔۔۔۔مصطفیٰ کی گاڑی ڈرائیور سمیت اسے پک کرنے آچکی تھی۔۔پتہ نہیں وہ ان گلیوں میں گاڑی کیسے لے کر آگیا تھا۔۔!" "چلو مجتبیٰ میں چلتی ہوں ، باس دیر نہیں کرتی!" عریشہ نے کہا اور تیزی سے باہر نکل گئی، مجتبیٰ اس کے پیچھے بھاگتا ہوا آیا تھا۔۔تاکہ اپنے سامنے گاڑی میں بیٹھا سکے۔۔۔ "باس! کم از کم لفٹ تو دے دو۔۔‘‘اس بار اس نے شرارت سے کہا تھا۔ ’’صرف پانچ منٹ ہیں تمھارے پاس، کار میں آکر بیٹھ جاؤ۔۔‘‘اس نے بھی مسکرا ہٹ دباتے حکم صادر کیا تھا۔ جبکہ مجتبیٰ نے ذرا خشمگیں نگاہوں سے گھورتے لوٹ کر تیزی سے پورا گھر لاک کیا تھا۔۔اور ساتھ ہی گاڑی میں آکر بیٹھا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گاڑی تیز رفتاری سے شہر کی سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ صبح کی ہلکی ٹھنڈی ہوا نے ماحول کو خوشگوار بنایا ہوا تھا، مگر عریشہ کی پیشانی پر فکر کی ہلکی لکیریں نمایاں تھیں۔ مجتبیٰ، اس کے ساتھ ہی بیک سیٹ پر بیٹھا ، مصروف سے آنداز میں ،موبائل پر میلز چیک کر رہا تھا۔ ’’آج کا دن کچھ عجیب سا لگ رہا ہے۔ایسا لگ رہا ہے،جیسے کچھ ہونے والا ہے۔۔‘‘عریشہ نے اچانک کہا۔ ’’کچھ بھی نہیں ہے عریشہ۔ ریلیکس کریں۔۔‘‘مجتبیٰ نے مسکرا کر جواب دیا۔ ابھی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا گاڑی کے دائیں طرف گولیاں لگیں۔ ڈرائیور گھبرا کر زور سے بریک لگا کر گاڑی کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔۔۔ ’’یہ کیا؟‘‘ عریشہ کے منہ سے گھبرائی ہوئی چیخ نکلی، اس نے جلدی سے اپنا بیگ پکڑ کر خود کو جھکا لیا۔ مجتبیٰ نے فوراً اُسے اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ساتھ ہی خود بھی تھوڑا نیچے کو جھک گیا تھا۔۔۔ ’’مجتبیٰ پلیز سر نیچے کرلو۔۔‘‘وہ جو باہر جھانکنے کی کوشش میں تھا کہ عریشہ کی آواز پر ٹھہرا۔۔۔ ڈرائیور نے حاضر دماغی
