Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 30
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 10/06/2026
0 Views
Episode no 30
ہے اسی لئے کہہ رہا ہوں،پہلی بارش میں نہیں نہانا چاہئے خاص کر پاکستان جیسے ملک کے شہر کراچی میں تو بالکل نہیں۔کیونکہ ابھی کی برسات آسمان کا سارا گرد آلود لے کر نیچے آئیے گی۔جب دوسری بارش ہوگی تو مطلع صاف ہوجائے گا۔پھر نہا لیجئے گا۔ ابھی یہ پولشن زدہ بارش ہو رہی ہے۔‘‘ عریشہ نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔ ’’ ایک بار پانی نیچے آگیا نا یہ ہوا کی ساری گند بلا نیچے لے آیا، اب جو بارش ہو رہی ہے یہ صاف ہے! تم مجھے نہا نے دو،،ابا نہ بنو میرے۔۔‘‘وہ ذرا منہ بلا کر بولی،مجتبیٰ نے فوراً استغفار کیا تھا۔ جبکہ اب وہ صحن کے بیچ و بیچ کھڑی،گول گول گھومتی بارش میں بھیگ رہی تھی،جبکہ وہ ٹکٹکی باندھے بس اُسے ہی دیکھے جا رہا تھا۔جو اِرد گرد سے لاپرواہ سِی تھی۔۔اور وہ خود سے بیگانہ۔ ’’افف مجتبیٰ تم بھی آؤ نا! دیکھو کتنا مزہ آرہا ہے۔۔‘‘ وہ ایکسائیٹڈ سے ذرا زور سے بولی تھی تو مجتبیٰ بوکھلا کر اس کے نزدیک گیا۔اب وہ بھی بھیگ گیا تھا۔۔ ’’کیا ہوگیا ہے عریشہ تھوڑا آہستہ بولیں۔یہاں سب گھر بہت قریب قریب ہیں۔ارد گرد والوں کو آواز جائے گی۔۔‘‘وہ زبان دانتوں تلے دباتی مجتبیٰ کو کیوٹ لگی تھی۔وہ یونہی مسکر ا دیا تھا۔۔ ’’سوری سوری! دیکھو کتنی ٹھنڈی بارش ہے۔۔جب میں آ خری بار بابا کے ساتھ پاکستان آئی تھی۔جب بھی ایک ایسی ہی بارش ہوئی تھی۔اور میں گول گول گھوم کر نہا رہی تھی۔بابا نے کہا تھا عریشہ اتنا نہ بھیگو ورنہ بیمار ہوجاؤ گی۔ اور میں صبح واقعی بیمار ہوگئی تھی۔۔‘‘ اپنے باپ کو یاد کرتے اسکا گلہ رَندھ گیا تھا۔اور وہ یکدم ہی آگے کو ہوتی ساتھ کھڑی مجتبیٰ کے گلے سے لگتی ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔۔وہ اس اچانک افتاد پر بری طرح سے سٹپٹایا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’عریشہ ریلیکس کیا ہوگیا ہے!‘‘اس نے اسے الگ نہیں کیا تھا۔مگر اسکا سر سہلاتا وہ اسے کالم کرنا چاہ رہا تھا۔۔احساس ہونے پر وہ یکد م پیچھے ہوئی تھی۔۔ ’’سوری!‘‘وہ خفت ذدہ سی الگ ہوئی۔پورا بدن بھیگا ہوا تھا۔بھیگ تو مجتبیٰ بھی گیا تھا۔۔ ’’کوئی بات نہیں! آپ آکر چینج کرلیں!‘‘ٹراؤزر شرٹ اس کے بدن سے چپک گئے تھے،بالوں کی لمبی موٹی لٹیں بھی گردن پر چپک سی گئی تھیں۔۔وہ ذرا شرمندہ شرمندہ سی سینے کے گرد بازو لپیٹتی اسکے ہم قدم ہوئی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجتبیٰ اپنے کمرے میں بستر پر لیٹا! مسلسل کروٹیں بدل رہا تھا۔۔۔ بارش ابھی بھی ہو رہی تھی۔۔وہ عریشہ کو اپنا ایک سوٹ نکال کر دیتا اب اپنے روم میں آگیا تھا۔مزید ضبط کرنا محال لگا تھا۔ایک تو محرم ،پھر تنہائی۔۔ وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھا کہ یکدم لائٹ چلی گئی تھی۔ وہ چونک کر اٹھا۔۔ ’’اوہ شٹ! ساری مصبتیں آج ہی آنی تھی۔۔وہ بڑبڑا کر عریشہ کے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔ اس کے نوک کرنے پر کوئی آواز نہیں آئی تھی۔۔ ’’عریشہ!‘‘اس بار اس نے آواز لگائی۔ ’’میں آندر آرہا ہوں۔لائٹ چلی گئی ہے۔‘‘اس نے موبائل کی ٹارچ والا ہاتھ نیچے کرتے اسے تلاش کرنا چاہا تھا۔ ’’عریشہ!‘‘اس بار اس نے ذرا پریشانی سے پکارا۔ ’’میں یہاں واشروم میں ہوں مجتبیٰ! پلیز مجھے کوئی لائٹ دو۔۔۔۔یہاں اتنا اندھیرا ہے،میرا تو دم ہی گھٹ جائے گا یہاں۔۔‘‘آندر سے اسکی روہانسو سی آواز آئی تھی،تو مجتبیٰ نے بے ساختہ پیشانی کو مسلا تھا۔۔۔ ’’آپ یہ میرا موبائل لے لیجئے!‘‘اس نے دروازے کی آڑ میں آتے کہا تھا۔ ’’نہیں بھئی! موبائل فونز کا کچھ بھروسہ نہیں ہے۔۔تم کوئی ایمرجنسی لائٹ وغیرہ دے دو۔۔‘‘وہ اسمارٹ فون تھا۔یعنی اپنے آپ میں ہی ایک خطرناک آلہٰ ، اسے اپنے ساتھ واشروم میں لے جانا بالکل بھی سیو نہیں تھا۔۔ ’’دو منٹ صبر کریں!‘‘وہ اس بار واپسی کمرے میں آیا ،سب جگاہیں کھنگالیں مگر ایمرجنسی لائٹ کا تو نام و نشان بھی نہیں تھا۔ ’’اب میں ان مادام کو کیا دونگا!‘‘وہ پریشان ہوا،پھر ساتھ ہی قدم کچن کی جانب بڑھائے شاید وہیں سے کچھ مل جائے۔نارملی اس علاقے میں لائٹ جاتی نہیں تھی۔آج بارش کی وجہ سے چلی گئی تھی۔ ’’اِس نے اِرد گرد میں نگاہ گھمائی تو سلیب پر ایک مٹی کا چراغ رکھا دکھائی دیا تھا۔۔ ’’افف ! نہیں بھئی! کیا عزت رہ جائے گی میری۔اب اتنا گیا گزرا ہوں میں۔۔جبھی اسے یکدم یاد آیا تھا کہ اس کے پاس ایک پرانا نوکیا کو کی پیڈ موبائل بھی تو پڑا تھا۔۔ ’’مجتبیٰ کیا سو گئے ہو۔۔‘‘اس کی پکارتی آواز پر وہ تیز قدموں سے واپس اپنے رُوم میں آیا تھا۔ساتھ ہی دراز کھول کر موبائل نکالا تھا،اور تیز قدموں سے آئزل کے کمرے کی جانب بڑھا تھا،جو آج کل اس کے زِیر استعمال تھا۔۔ ’’یہ لیجئے! اس موبائل کی روشنی بہت معمولی سی تھی،مگر کام چل سکتا تھا۔ ’’تھینک یو! مجھے تو لگا تھا آج تم مجھے مار کر ہی دم لوگے!‘‘اس نے آنکھیں گھمائیں۔ ’’اب ایسا بھی کچھ نہیں ہے!‘‘وہ ناراض ہوا۔ ’’ایسا ہی کچھ ہے!‘‘اس نے کہتے ساتھ ہی سر جھٹکا تھا۔اور قدم اُٹھا کر سامنے ہی صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔۔ موبائل کی روشنی ہی تھی واحد ،جس کی وجہ سے کمرہ جگمگ کر رہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’افف! یار کیسے انسان ہو تم! یہاں میری خوف سے جان نکل رہی ہے اور تم پتہ نہیں کہاں غائب ہو گئے تھے۔‘‘اس نے باہر آتے ہی اسے خفگی سے گھورا تھا۔ ’’وہ ایکچوئیلی میں لائٹ ڈھونڈ رہا تھا۔مگر سب چیزیں آئزل رکھتی تھی۔اب مجھے تو کچھ مل ہی نہیں رہا۔۔‘‘وہ سمجھ کر سر جھٹک گئی۔ ’’خیر جانے دو! اب کیا کرنا ہے۔‘‘مجتبیٰ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔ ’’کیا کرنا ہے؟‘‘ اس نے آئی برو اٹھائے۔ ’’وہی تو میں پوچھ رہی ہوں۔‘‘ اس نے آئی برو اٹھا کر سوالیہ پوچھا۔۔ ’’سوجائیں! صبح آفس جانا ہے!‘‘ا س نے جیسے یاد کرایا! ’’وہ تو جانا ہی ہے! مگر میں مصطفیٰ سے کہہ کر صبح اپنی ایک گاڑی منگوا لونگی۔سوری مجتبیٰ مگر میرا گاڑی کے بغیر گزرا نہیں ہے۔۔‘‘ اس نے ہاتھ اٹھا کر کہا تو وہ خاموش رہ گیا۔۔ ’’تم نے مائینڈ تو نہیں کیا؟‘‘اب اس نے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھنے چاہے تھے۔ جاری ہے
