Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 30
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 10/06/2026
0 Views
Episode no 30
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_30 ’’کیا ہوا؟‘‘مصطفیٰ مسکراہٹ ضبط کرتا اسکا سرخ پڑتا چہرہ دیکھا رہا تھا۔۔’’یار تم دیکھ رہے ہو اس بندے کو۔۔ایک تو مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔۔دوسری چیز یہ کہ اب کال ریسیو نہیں کر رہا۔۔الٹا کال کٹ کر دی۔۔‘‘وہ حیران ہورہی تھی۔۔مصطفیٰ نے مسکراہٹ ضبط کی تھی۔۔ ’’ تو کیا پتہ تمھارا ہزبینڈ تم سے ناراض ہو۔۔‘‘ چئیر سے پیچھے کو ٹیک لگائے اب وہ شرارت سے بولا۔۔ ’’اس باڈی گارڈ ہزبینڈ کی تو ایسی کی تیسی۔۔۔میں نے یہ شادی یہ ناراضی دیکھنے کے لئے کی ہے کیا۔۔‘‘اس نے آنکھیں گھمائیں تھیں۔۔ ’’اب یہ تو تم ہی بہتر جانتی ہوگی۔۔‘‘وہ مسلسل شرارت کے موڈ میں تھا۔۔ ’’مصطفیٰ یار تنگ نہیں کرو۔۔‘‘وہ زچ ہوئی۔ساتھ ہی اپنا ہینڈ بیگ اُٹھا کر کندھے پر ڈالا تھا۔۔ ’’کہاں؟‘‘اس نے خود ہی کھڑ ے ہوکر کوٹ جھٹکتے آبرو اُٹھائے۔ ’’ اپنے باڈی گاڑی شوہر کے گھر جا رہی ہوں۔۔‘‘وہ فل تپی ہوئی تھی۔۔ ’’چلو میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔‘ ‘ اس نے آفر کی۔ ’’ نہیں رہنے دو۔۔میں نے کیب بک کرالی ہے۔۔تم آرام سے گھر جاؤ۔۔۔تمھاری اپنی طبیعت ابھی ٹھیک نہیں ہے۔۔آنٹی اور ثمرہ کو ٹائم دو۔۔‘‘وہ عجلت میں بولی تو وہ کندھے اچکا گیا تھا۔۔۔’’چلو ٹھیک ہے مسز مجتبیٰ جیسی آپ کی مرضی! مگر پلیز بچارے کو اکیلا سمجھ کر اس پر کسی قسم کا تشدد نہ کیجیے گا۔‘‘اب وہ اسکی حالت سے خظ اٹھا رہا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ باز آجاؤ تم۔۔‘‘ اس نے گھور کر دیکھا تو وہ قہقہہ لگا گیا۔۔’’اچھا اچھا سوری!‘‘ وہ ہاتھ کھڑے کرتا سرینڈر کرنے والے آندر میں بولا ساتھ ہی قدم آفس سے باہر کی جانب بڑھائے تھے۔۔ وہ گھر آیا تو ہمیشہ کی طرح فریش سی ثمرہ اسے ریسیو کرنے کار پورچ میں ہی کھڑی تھی۔۔و ہ اسے دیکھ کر مسکرایا۔۔ ’’السلام علیکم!کیسا دن گزرا آج کا۔۔‘‘ وہ اسے حصار میں لئے ہی گھر میں انٹر ہوا تھا۔۔ ’’اچھا گزرا۔۔۔یہ بتایں کہ آپ لنچ کے لئے آ فس کیوں نہیں آئیں۔۔‘‘ صوفے پر بیٹھتے اس نے آئی برو اٹھائے۔’’عریشہ نے مجھے بتایا کہ آپ ایک اہم میٹنگ میں بز ی ہیں۔۔تو پھر میں وہاں آکر کیا کرتی۔‘‘و ہ مزے سے بولی تو مصطفیٰ نے گھورا۔۔’’لنچ کرتیں اور کیا کرتیں۔۔اور عریشہ صاحبہ کی تو رِہنے ہی دو فی الحال۔۔‘‘وہ گردن دائیں بائیں جھٹکتا ذرا خفگی سے بولا۔۔ ’’ اچھا آپ ری فریش ہو جائیں ، میں کھانا لگواتی ہوں۔۔‘‘ وہ ساتھ ہی اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔ ’’ہاں یار کھانا لگوادو۔۔ویسے مام کہاں ہیں نظر نہیں آرہی ہیں؟‘‘ اس نے ملازمہ کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیتے سوالیہ آنداز میں پوچھا تھا۔۔ ’’آنٹی یہیں ہیں۔۔شاید ابھی روم میں گئی ہیں۔۔میں بلا کر لاتی ہوں۔۔‘‘ وہ خود ہی کھڑی ہوئی تھی۔۔ ’’ہاں بلا لیں کھانا ساتھ کھائیں گے پھر۔۔‘‘وہ اُپر کی جانب بڑھا تھا۔۔جبکہ ثمرہ ملازمہ کو ہدایت کرتی اسکے کپڑے وغیرہ دیکھنے کی غرض سے اُپر والے پورشن کی جانب بڑھی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے گھر پہنچتے پہنچتے اندھیرا ہوگیا تھا۔سمت کا تعین کرتی وہ اتنی مشکل سے گھر تک پہنچی تھی۔۔۔ اُپر سے گلی کے نکڑ پر بیٹھے کتے کو دیکھ کے ویسے ہی اسکی جان ہوا ہو رہی تھی۔۔۔ عریشہ دونوں ہاتھوں سے مسلسل دروازہ پیٹ رہی تھی۔ اُس کے چہرے پر پسینہ، پیشانی پر اُلجھن اور آنکھوں میں غصے اور بےبسی کی ملی جلی سی کیفیت تھی۔۔مجتبیٰ! دروازہ کھولو!" وہ زیرِ لب بڑبڑائی، مگر آواز میں تھکن واضح تھی۔۔۔ اندر، مجتبیٰ نہا رہا تھا۔ شاور کی گرتی بوندیں، سوچوں میں الجھے دماغ کو سکون دے رہی تھیں۔ اُسے کچھ خبر نہ تھی کہ باہر، عریشہ دروازہ بجا بجا کر ہلکان ہوگئی تھی۔۔اس نے دو بار بیل بھی بجائی تھی۔۔مگر وہ ہمیشہ کی طرح خراب تھی۔۔۔ کافی دیر بعد، پانی بند ہوا۔ اس نے ٹاول کندھے پر رکھا اور واشروم سے باہر آیا۔ جیسے ہی قدم صحن میں رکھا، تو ایک بار پھر کسی نے تیزی سے درواز ہ پیٹ ڈالا تھا۔۔۔ "کون ہو سکتا ہے اس وقت؟"وہ ذرا چونکا۔۔ساتھ ہی اس قدر دل دہلانے والے آنداز میں بجتے گیٹ کو دیکھ،ماتھے پر شکیں ابھری تھیں۔ وہ کوئی بھی جواب دئیے بغیر غصےٰ سے دروازہ کھول چکا تھاْْ۔ دروازہ کھُلا، اور سامنے وہ کھڑی تھی۔۔۔سانس پھولی ہوئی تھی۔چہرہ ضبط سے سرخ پڑ رہا تھا۔۔ آنکھوں میں غصےٰ کی لہر واضح تھی۔۔وہ آگے بڑھتی سیدھی اسکے سینے سے جا لگی تھی۔۔ ’’مجتبیٰ مجھے بچاؤ۔۔۔‘‘وہ خوفزدہ سی اس میں چھپنا چاہ رہی تھی۔۔جبکہ وہ جو گڑبڑایا سا ہڑبڑاہ گیا تھا کہ اس کے لفظوں پر پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔۔ ’’کون ہے؟؟کیا ہوا؟مجھے بتاؤ؟‘‘ اس کے آندر غصےٰ کا طوفان اٹھنے لگا تھا۔۔ بھلا کون تھا جو اسکی بیوی کو ڈرا رہا تھا۔۔ ’’وہ۔۔۔وہ کتا۔۔وہ گلی کے کونے پر۔۔۔۔وہ مجھے ایسے دیکھ رہا ہے۔۔جیسے کھا جا ئے گا۔۔۔‘‘سانس بھال ہونے پر وہ بڑی دقت سے بولی تھی۔۔۔ جبکہ مجتبیٰ نے اسے حیرت سے دیکھا تھا۔۔ ’’آپ کتے کی بات کر رہی ہیں؟‘‘اب وہ ذرا فاصلے پر جا کھڑا ہوا تھا۔۔ ’’ظاہر ہے۔۔یہ دروازہ تو بند کرو۔۔۔آگر آندر آگیا تو۔۔‘‘مجتبیٰ کو ہونق بنا کھڑا دیکھ، وہ خود ہی آگے بڑھ کر دروازہ بند کر چکی تھی۔۔ ’’نہیں آرہا کتا! ریلیکس کریں۔۔۔‘‘اب وہ نارمل ہوگیا تھا۔۔ ’’ہاں۔۔۔اور اِتنی دیر سے دروازہ کیوں نہیں کھول رہے تھے۔۔۔دروازہ بجا بجا کر میرے ہاتھ سرخ ہوگئے ہیں۔۔یہ دیکھو ذرا۔۔‘‘اسے کالر سے پکڑ کر نزدیک کھینچتی وہ اس کے سامنے اپنے ہاتھ کر چکی تھی۔۔جو مزید بوکھلایا تھا۔ ’’ بولو؟؟کہاں تھے اتنی دیر سے؟‘‘وہ سوالیہ غرائی۔۔ ’’ایکسکیوز می میڈم! تمیز سے ،میں آپ کا پرسنل باڈی گاڑد ہوں ،اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ مجھ پر بدتمیزی پر اُتر آئیں۔۔‘‘وہ تو پہلے ہی اپنی اس باس بیوی سے ناراض تھا،کجاکہ اس کا یہ رویہ، ایک جھٹکے سے اپنا گریبان اسکی گرفت سے آزاد کرایا تھا۔۔ ’’ یار!وہ ہونق ہوئی۔ ’’کیا؟‘‘اس نے آئی برو اُٹھائے۔ ’’کچھ نہیں۔۔مگر پلیز! یہ رویہ مجھے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ وہ ناراض ہوئی۔۔ ’’اب آندر چلو، پانی ہی پلا دو۔۔ویسے ہی مجھے چھوڑ کر آگئے۔۔اتنئ بھوک لگ رہی ہے مجھے۔۔‘‘وہ مجتبیٰ کو سرد رویہ نظر آنداز کرتی اپنی ہی بولتی چلی گئی تھی۔۔۔ساتھ ہی قدم آندر کی جانب بڑھائے تھے۔۔جبکہ اس بار وہ بھی سر جھٹکتا آندر آیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچن سے لاکر ملکہ عالیہ کو پانی پیش کیا تھا۔۔اور دل ہی دل میں خود کو لعنت ملامت کی تھی۔۔بیوی کے ہاتھ سے کھانا کھانے کی عمر میں وہ ، بیوی کو ملازم بنا اسے پانی پلا رہا تھا۔۔ ’’ یہ بھی بتا دیجئے کہ کیا کھانا پسند فرمائیں گی؟اب وہ استہزائیہ لب ولہجے میں سوالیہ بولا۔۔ ’’زہر! مل جائے گا؟‘‘وہ اس کے آنداز پر تپی تھی۔۔ ’’ ضرور مل جائے گا! آپ کھانے والی بنیں۔۔‘‘اب وہ ا سکے چہرے کے تاثرات دیکھ محظوظ ہوا۔۔ ’’تمھارا یہاں کیا بِیویوں کو زہر دے کر مار نے کا رواج ہے؟‘‘ وہ تپ کر بولی۔ ’’ ہاں زبان چلانے والی بیوی کو۔۔۔‘‘ وہ اب مخالف سمت میں صوفے پر ہی بیٹھ گیا تھا۔۔ ’’ بھوک لگ رہی ہے مجھے۔۔‘‘کچھ دیر خاموشی رہی۔۔پھر وہ ذرا بے چارگی سے بولی تھی۔۔ ’’ابھی میں بہت تھکا ہوا ہوں۔۔ابھی صرف پیاز ٹماٹر ڈال کر انڈہ بنا سکتا ہوں۔۔‘‘عریشہ نے بے چارگی سے دیکھا تھا۔۔ ’’باہر سے آرڈر کردو۔۔‘‘اس نے حل پیش کیا۔۔ ’’تقریباً ایک گھنٹے میں ڈلیوری ہوگی اس ایریا میں۔۔‘‘اس نے پہلے ہی خبردار کیا۔ ’’ایک گھنٹہ؟‘‘اس کا منہ کھل گیا تھا۔۔تو اسے نے بھی کندھے اچکائے۔۔کہ اس کے سوا کوئی آپشن نہیں۔۔ ’’ اچھا آرڈر بھی کردو۔۔ اور املیٹ بھی بنا
