Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 30
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 10/06/2026
0 Views
Episode no 30
دو۔۔۔‘‘مجتبیٰ نے آنکھیں گھمائیں۔۔ ’’یعنی مجھ سے لازمی کام کرانا ہے۔‘‘ ’’ظاہر ہے پرسنل باڈی گارڈ ہو میرے۔۔۔ اب کام تو کرنا پڑے گا۔۔‘‘وہ اترائی۔ ’’یہ سامنے میرا کمرہ ہے۔۔یہاں واشروم ہے۔۔فریش ہوجائیں۔‘‘اس نےاسکے ادا نظر آنداز کرتے ، راستہ دکھایا۔ ’’میرا کمرہ کہاں ہے؟‘‘ اس نے اسکی بات سرے سے نظر آنداز کی تھی۔ ’’آپ کا تو خیر یہاں کوئی کمرہ نہیں ہے۔۔ہاں یہاں میری بہن کو کمرہ ضرور ہے۔آگر آپ وہاں رہنا چاہیں تو شوق سے رہیں۔۔‘‘وہ کندھے اچکا کر بولا تھا۔۔ ’’اوکے باس!‘‘وہ منہ بناتی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔جبکہ وہ مسکراتا ہوا، میڈم صاحبہ کے لئے املیٹ بنانے کی تیاری کرنے لگا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی دو منٹ ہی گزرے تھے۔۔کہ وہ باہر آئی تھی۔۔ ’’مجتبیٰ!‘‘اُسے پکارتی ہوئی وہ کچن میں آئی۔ ’’ہمم!‘‘وہ پیاز اور کٹنگ بورڈ لئے کھڑا تھا۔۔ ’’مجھے ایک ڈریس چاہئے۔۔ابھی تو میں اپنا سامان بھی نہیں لائی ہوں۔۔‘‘ ’’آپ ایک کام کیجئے آئزل کا کوئی سوٹ لے لیں۔۔۔ کب بورڈ میں اِیسے کافی ڈریسز ہیں،جو شادی کے لئے لئے تھے،مگر وہ ابھی تک لے کر نہیں گئی۔یوز بھی نہیں کئے ہیں۔۔‘‘ اس نے آگاہ کیا۔۔۔ ’’چلو ٹھیک ہے۔۔۔میں دیکھتی ہوں۔۔تم ذرا ہاتھ جلدی چلاؤ۔۔۔‘‘وہ شرارت سے بولتی ہنستی ہوئی نکل آئی تھی۔۔جبکہ مجتبیٰ نے آنکھیں گھمائیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یار مجتبیٰ!‘‘وہ دس منٹ بعد پھر سے آئی تھئ۔۔ ’’اب کیا ہوا؟‘‘وہ ٹماٹر کٹ کر رہا تھا۔۔ ’’تم اتنے لمبے کھمبے جیسے ہو۔مگر کیا تمھاری بہن چھوٹے قد کی خاتون ہے۔۔ اس کے کپڑے تو میرے سائز کے ہی نہیں ہیں۔۔‘‘اس نے ایک اور مسّلہ کشمیر بیان کیا تھا۔۔ ’’افف! تو اب کیا کروں میں۔۔۔‘‘مجتبیٰ کو سمجھ نہیں آئی۔۔ ’’ اپنا کوئی ٹراؤزر سوٹ دے دو۔۔ آور سائز کو تو میں کسی طرح ایڈجسٹ کرلونگی،مگر یہ اسمال سائز کیسے پہنوں۔۔‘‘اس نے آنکھیں چلائیں۔۔ ’’اچھا جی! آجائیں میڈم۔۔۔‘‘وہ اب اپنے روم کی جانب بڑھا تھا۔۔پیچھے پیچھے وہ بھی آگئی تھی۔۔۔ ’’ یہ ٹھیک ہے؟‘‘اس نے بلیک کلر کا ٹراؤزر سوٹ اس کے حوالے کیا تھا۔۔ ’’ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔ تھینک یو۔۔۔‘‘وہ اس کے ہاتھ سے تھامتی وہاں سے نکل آئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کپڑے تبدیل کرنے کے بعد سیدھی مجتبیٰ کے پاس کچن میں آئی تھی۔ جہاں وہ انہماک سے املیٹ بنانے میں مگن تھا۔ ’’ بن گیا کیا؟‘‘وہ سلب سے ٹیک لگائے کھڑی ہوگئی تھی۔وہ چونکا مگر اپنے کام میں مصروف رہا۔ ’’جی بس پانچ منٹ اور دے دیں۔‘‘وہ مصروف سا بولا۔ ’’اوکے! تم کہتے ہو تو پانچ منٹ اور دے دیتے ہیں۔‘‘ وہ سر ہلا کر وہیں کھڑی ہوگئی۔اس نے ایک سرسری سی نگاہ اس پر ڈالی،اور پھر چونک کرا سکی طرف دیکھا،جو اس کے ٹراؤز ر شرٹ میں ذرا اپنی اپنی سی لگی تھی۔ ’’کیا ہوا؟ پیاری لگ رہی ہوں؟‘‘وہ اسکا یوں دیکھنا بغور نوٹس کرتی ذرا شریر لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔ ’’جی ۔۔‘‘وہ یکدم گڑبڑایا۔ ’’ویسے تمھارے گھر میں بہن کے علاوہ کون کون ہوتا ہے؟‘‘اب وہ مزید استفسار کر رہی تھی۔ ’’فی الحال تو بس میں ہی ہوتا ہوں۔‘‘ وہ کندھے اچکا گیا۔ ’’اوہ اچھا اچھا!‘‘جبکہ وہ املیٹ پلیٹ میں نکال کر ٹرائے میں رکھتا ساتھ روٹی بھی رکھ چکا تھا۔۔جو وہ اتنی دیر میں باہر سے لے آیا تھا۔ ’’ہم یہاں بیٹھ کر کھائیں گے؟‘‘وہ اس کے ساتھ ہی صحن میں پڑے تخت پر آبیٹھی تھی۔ ’’جی کیونکہ اندر بہت گرمی ہو رہی ہے۔‘‘وہ خاموشی سے بیٹھ گئی تھی۔مگر اب اس کو بیٹھنے میں دشواری کا سامانہ تھا۔کبھی اس طرح کھانا کھایا جو نہیں تھا۔ ’’کیا ہوا؟‘‘ وہ کچھ لمحے خاموشی سے دیکھتا رہا تھا۔ ’’ پاؤں اُ پر کر کہ آلتی پالتی مار کر بیٹھ جائیں،جس طرح یوگا میں بیٹھتی ہونگی آپ۔۔‘‘عریشہ نے ذرا ناک چھڑا کر اس کی ہدایت پر عمل کیا تھا۔۔اب وہ واقعی ذرا کمفرٹیبل پوزیشن میں آگئی تھی۔ ’’اب ٹھیک ہے؟‘‘وہ ہنکار بھر کر سر ہلا گئی۔ ’’جلدی کھا لیں! مجھے لگ رہا ہے بارش ہونے والی ہے۔‘‘ ’’تو کیا تم نے باہر سے کچھ آرڈر نہیں کیا؟ مجھے تو رات میں بھر بھوک لگ جائے گی۔۔‘‘اسے الگ ہی ٹینشن ہوئی تھی۔ ’’فی الحال تو کچھ آرڈر نہیں کیا۔ ’’آپ بتائیں کیا کھائیں گی؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا۔ ’’پزا منگوا لو جلدی سے۔‘‘ مجتبیٰ نے آنکھیں گھمائیں تھیں،ساتھ ہی آرڈر کنفرم کیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیز ہوا نے یکدم رخ بدلہ تھا،اور اب آندھی سی آگئی تھی۔۔۔ مجتبیٰ نے کال کی تو پتہ چلا کہ ابھی اس ایریا کا کوئی رائیڈر اویلیبل نہیں تھا۔ساتھ ہی کچھ دیر لگ جانی تھی۔وہ سر جھٹک گیا۔ جبکہ عریشہ مصطفیٰ سے کال پر مصروف تھی۔۔ مجتبیٰ تیز ہاتھ چلاتا پلیٹس واش کرنے کے ساتھ ساتھ، ان کی باتیں بھی سُن رہا تھا۔۔جو اس کے ساتھ اچھی خاصی فرینک لگ رَہی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کیا ہوا اب سونا نہیں ہے کیا؟‘‘مجتبیٰ نے اسے یونہی صحن میں بیٹھا دیکھ کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھتے استفسار کیا۔ ’’ہمم سونا ہے! ضرور سونا ہے!‘‘اس نے سر ہلایا۔۔ ’’تو پھر؟ صبح آفس بھی تو جانا ہے۔میڈم آپ آفس کی باس ہیں۔لیکن میں ایک معمولی سا امپلائی ہوں،یہ بات آپ بار بار کیوں بھول جاتی ہیں؟‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔ ’’ ارے یار کیا ہوگیا ہے؟ نہیں بھولی ہوں۔۔‘‘وہ خفا ہوئی۔ ’’نئی جگہ ہے! مجھے اتنی جلدی نیند نہیں آتی۔۔‘‘اس بار اس نے لب دبائے۔ ’’ کوشش کریں ،آجائے گی۔مگر آگر آپ یہ بہانے صرف اس لئے کر رہی ہیں کہ آپ واپس اپنے فرینڈ کے گھر جانا چاہتی ہیں تو معذرت ! میں آپ کو اس کی اجازت نہیں دے سکتا!‘‘وہ منہ بنا گیا۔ ’’تو اجازت مانگ کون ر ہا ہے؟ مجھے جانا ہوگا تو میں خود ہی چلی جاؤنگی۔۔‘‘اس نے بے نیازی سے کندھے جھٹکے تو مجتبیٰ نے اسے خاموش نگاہوں سے دیکھا تھا۔ ’’اچھا اچھا ! اب گھورو مت مجھے!‘‘اس نے لب دبائے۔ ’’اچھا ابھی یہاں آ کر بیٹھ جاؤ نا! میں بور ہو رہی وں۔۔‘‘تیز ٹھنڈی ہوا کے باعث اس کے بال پھڑپھڑا سے رہے تھے۔ ’’اچھا جی!‘‘وہ ساتھ آکر نشست سنبھال گیا۔جبکہ اب وہ پتہ نہیں کون کون سی باتیں کر رہی تھی۔اور وہ بڑی تو جیہی سے سُن رہا تھا۔ ’’تم بھی تو کچھ بولو۔۔‘‘وہ ایک پل کو خاموش ہوئی۔ ’’آپ بولتی رہیں! میں آپ کو سُن رہا ہوں!‘‘وہ دھیمی مسکراہٹ سمیت بولا تھا۔تو وہ ہولے سے مسکرا کر سر جھٹک گئی۔ ’’تمھیں پتہ ہے مجتبیٰ! میرا جو کزن ہے نا وہ دل کا بُرا ہر گز نہیں ہے۔ بس تایا کی وجہ سے مجبور ہے۔‘‘وہ استہزائیہ لب و لہجے میں بولتی مسکرائی تھی۔ ’’آگر وہ برا نہیں ہوتا تو کسی عورت کو تنہا سمجھ کر اسکا فائدہ نہ اٹھاتا!‘‘اس نے باور کرایا۔تو وہ خاموش رہ گئی۔ ’’سننے میں آیا ہے کہ اس نے شادی کرلی ہے! اور جس لڑکی سے شادی کی ہے،وہ اسکی پسندید ہ عورت ہے۔‘‘ وہ بتا رہی تھی۔ ’’تو پھر وہ جھوٹا نکاح نامہ اس کی بیوی کو دکھا دینا چاہئے! تاکہ موصوف کی عقل ٹھکانے آجائے!‘‘ مجتبیٰ کو سوچ کر ہی طیش آیا تھا۔ ’’ نہیں نہیں! یہ اچھی بات نہیں ہے۔فضول میں گھر خراب ہوگا،مسلہ پراپرٹی کا ہے۔اب ہم سیدھا عدالت میں ہی ملیں گے!‘‘مجتبیٰ خاموش ہوا،اتنی ہی دیر میں ایک جھونکے کے ساتھ بارش برسنے لگی۔۔ ’’مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ بارش ہوگی،اور اس رائیڈر کا بھی ابھی تک کچھ پتہ نہیں ہے! آ پ آندر چلیں،ورنہ بھیگ جائیں گی۔۔‘‘وہ فکر مندی سے گویا ہوا تھا۔ ’’نہیں مجتبیٰ! گرمیوں کی پہلی بارش ہے،مجھے انجوائے کرنے دو۔۔‘‘وہ پر جوش ہوئی۔اس نے تاسفی نگاہوں سے دیکھا تھا۔ ’’یہ گرمیوں کی پہلی بارش
