Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 29
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 09/06/2026
0 Views
Episode no 29
جہاں میں رہوں گا۔ اگر آپ فلیٹ میں شفٹ ہونا چاہتی ہیں تو شوق سے جائیے، مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے۔۔۔ میں چلتا ہوں، مجھے کام کرنا ہے۔ پرسنل ڈسکشن گھر میں بھی ہو سکتی ہے۔۔۔‘‘ وہ خفگی سے عریشہ کو دیکھتا آفس سے نکلتا چلا گیا، جبکہ اس بار مصطفیٰ نے مسکراہٹ دبائی تھی۔ ’’یار، یہ بندہ سمجھتا کیا ہے خود کو۔۔۔؟‘‘ وہ حیران ہوئی۔ ’’خدار ہے یار! میں تو بس اس کا امتحان لے رہا تھا، اور جس طرح اس کے چہرے کے ایکسپریشنز چینج ہوئے تھے، مجھے تو لگ رہا تھا ابھی ہاتھ پکڑ کر ساتھ لے جائے گا تمہیں۔۔۔‘‘ مصطفیٰ اب اس کی حالت سے خوب لطف اندوز ہو رہا تھا۔ ’’ہے تو خدارا! بس اسی لیے میں نے اسے چُوز کیا تھا۔‘‘ اب وہ ذرا اترائی۔ ’’آپ کی تو کیا ہی بات ہے بھئی!‘‘ وہ ہولے سے مسکرایا۔ اب دونوں کام میں مصروف تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’جبران صاحب! کچھ کریں۔۔۔ شارق جیل میں ہے۔۔۔‘‘ فرناز ان کے سر پر کھڑی مسلسل کچھ نہ کچھ بول رہی تھیں۔ ’’تو ماما! یہ سب ہوا بھی تو آپ کی وجہ سے ہے نا۔۔۔ اگر آپ لوگوں نے یہاں ثمرہ کو قید نہ کیا ہوتا، تو احد مصطفیٰ کبھی ایسا نہ کرتا۔۔۔‘‘ وہ باور کراتے لہجے میں بولی تھی۔ ’’کیوں نہ کرتا؟ وہ ایسا ہی کرتا۔۔۔ وہ اپنے بھائی کو قتل اتنی آسانی سے معاف نہیں کرے گا۔۔۔‘‘ وہ درشتگی سے بولیں۔ ’’مجھے تو آپ لوگوں کی بالکل سمجھ نہیں آتیں۔۔۔ خیر مجھے یہ بتانا تھا کہ میں نے ترکیہ میں ماسٹرز کے لیے اسکالرشپ کے لیے اپلائی کیا تھا۔۔۔ میرا ایڈمیشن ہو گیا ہے، اسکالرشپ بھی مل گئی ہے۔۔۔ دس تاریخ کی میری فلائٹ ہے۔۔۔ بس کچھ ضروری ڈاکومنٹیشن کرنی ہے۔۔۔‘‘ وہ آگاہ کر رہی تھی۔ اس بار جبران صاحب اس کی جانب متوجہ ہوئے۔ ’’قصویٰ بیٹا! ہم تو آپ کی شادی۔۔۔‘‘ ’’بابا پلیز! ایک بیٹی کی کردی نا شادی، پہلے آپ لوگ اِس کے مسئلے سے نمٹ لیں، اور جس طرح کا اس گھر کا ماحول ہو گیا ہے۔۔۔ میں مزید یہاں رہ کر اپنا وقت نہیں ضائع کرنا چاہتی۔۔۔‘‘ وہ لب بھینچ گئے۔ یہ حقیقت تھی کہ انھوں نے اُس پر توجہ دینا ہی چھوڑ دیا تھا۔ ’’مگر بیٹا!‘‘ انھوں نے کچھ کہنا چاہا تھا۔ ’’بس بابا جان! میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔۔۔‘‘ وہ فیصلہ کن لہجے میں بولی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام کا وقت تھا۔ کراچی کی سڑکوں پر معمول کی چہل پہل تھی، موسم بھی پل بھر کے لئے تبدیل ہوتا اور پھر سے سورج کی کرنیں لوٹ آ تیں۔۔سورج کی نارنجی کرنیں، بلند عمارتوں کی دیواروں سے ٹکرا کر جیسے سنہری عکس بکھیر رہی تھیں۔دفاتر سے چھٹی کا وقت ہو چکا تھا۔ سڑکوں پر رش بڑھنے لگا تھا۔ ہر طرف گاڑیوں کے ہارن، رکشوں کی کھڑکھڑاہٹ، اور فٹ پاتھ پر چلتے لوگوں کی تھکن سے لبریز چہرے۔۔۔۔مجتبیٰ بھی آفس سے چھٹی کے فوراً بعد آفس سے نکلتا بس اسٹاپ کی جانب بڑھا تھا۔۔اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔عریشہ کی منتیں ترلے کرنے کا۔۔ویسے بھی اس سے اسے صرف باڈی گارڈ رکھا تھا۔۔۔آگر اسے واقعی اسکی ضرورت محسوس ہوگئی تو وہ خود ہی چلی آئی گی۔۔اتنا تو اب وہ بھی سمجھ ہی گیا تھا۔۔۔۔ بس اسٹاپ پر کھڑے لوگ تھکے ہوئے چہروں کے ساتھ آنے والی بس کا انتظار کر رہے تھے۔ کچھ لوگ فون پر مصروف، کچھ کھوئے کھوئے سے، اور کچھ اپنے ذہن میں پلتی سوچوں سے جان چھڑانے کو زیرِ لب بڑبڑاتے خود سے ہی باتوں میں مگن تھے۔ہوا میں نمی کی خوشبو واضح تھی، جیسے سمندر اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہو۔ دور کہیں اذان کی آواز فضا میں گونجنے لگی تھی، اب کہ سب میں برق سی دوڑ گئی تھی۔جاتی ہوئی سردیوں کے دن تھے۔دن چھوٹے تھے،رات لمبی تھیں۔۔ بس کے انتظار میں کھڑے کھڑے جب ٹانگیں دکھنے لگیں تو وہ بھی چہل قدمی کرتا، ذرا آگے بڑھنے لگا تھا۔۔جبھی بس آتی دکھائی دی تھی۔اور وہ بغیر دیری کئے ہی بس میں چڑھ گیا تھا۔۔۔جگہ بنا کر وہ ابھی بیٹھا ہی تھا کہ اسکا موبائل تھرتھرا نے لگا۔۔مجتبیٰ نے ذرا ٹھہر کر موبائل اسکرین پر نگاہ ڈالی تو ، دوسری جانب عریشہ تھی۔۔جس کی کال وہ کاٹ چکا تھا۔۔۔ جاری ہے
