Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 29
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 09/06/2026
0 Views
Episode no 29
پر لب رکھ گیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمرے کی کھڑکیوں سے ہلکی ہلکی دھوپ اندر آ رہی تھی۔ سفید پردوں پر سورج کی کرنیں سنہری عکس بکھیر رہی تھیں۔ آئینے کے عین سامنے مصطفیٰ کھڑا ٹائی باندھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جبکہ ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگائے کھڑی ثمرہ، مسکراہٹ ضبط کیے، یہی دیکھ رہی تھی۔ اس نے محبت بھری نظروں سے مصطفیٰ کو دیکھا اور مسکرا کر بولی، "پھر اُلجھ گئے نا ٹائی کے ساتھ؟" مصطفیٰ نے ہنستے ہوئے ہار مان لی، "یار، میرے خیال سے تو اب یہ آپ ہی کا کام ہے تو بہتر ہے کہ آپ ہی کریں۔‘‘ وہ شرارت سے مسکرایا۔ ثمرہ مسکرا کر نفی میں سر ہلاتی اس کے پاس آئی، نرمی سے اس کے گریبان کے بٹن بند کیے، اور مہارت سے ٹائی باندھنے لگی۔ مصطفیٰ نظریں جھکائے، اس کی ہر حرکت محسوس کرتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی نرمی اور سکون تھا، جیسے دن کی تمام تھکن ابھی سے اتر گئی ہو۔ ’’ہوگیا۔۔‘‘ وہ یکدم پیچھے ہوئی تو مصطفیٰ نے ہمیشہ کی طرح اس کی پیشانی پر لب رکھے تھے۔ ’’چلیں۔۔‘‘ وہ مسکرائی۔ ’’بالکل چلیں۔۔ آج آفس میں فرسٹ ڈے ہے۔ بہت کام پینڈنگ پڑا ہے۔ شاید مجھے لیٹ ہو جائے تو آپ ایک کام کیجیے گا، مجھے لنچ میں آفس میں ہی جوائن کر لیجیے گا۔‘‘ وہ دونوں ساتھ میں ہی سیڑھیاں اُترتے باہر آئے تھے۔ ’’چلیں ٹھیک ہے۔ تو پھر بتا بھی دیں، کیا کھائیں گے؟‘‘ وہ عریشہ کو گڈ مارننگ کا جواب دیتا، کوٹ کرسی کی پشت پر ڈالتا، ثمرہ کے لیے کرسی گھسیٹتا، خود بھی نیپکن اپنی گود میں ڈالتا مزے سے بیٹھ گیا تھا۔ جبکہ عریشہ صاحبہ موبائل میں مصروف تھیں۔۔ ’’جو مرضی چاہیے، بنا لیجیے گا یار!‘‘ وہ اب عریشہ کی جانب متوجہ ہوا۔۔ ’’آپ ریڈی ہیں، میڈم!‘‘ مصطفیٰ نے گلا کھنکھار کر توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔۔ ’’آہاں!‘‘ وہ جو اپنی ماں سے بات کر رہی تھی، یکدم ٹھٹھک گئی تھی۔ ’’ناشتہ ہو گیا تو چلو۔۔‘‘ وہ اس وقت اسٹائلش سے ٹو پیس سوٹ میں ملبوس تھی۔ گلے میں اسٹالر لپیٹ رکھا تھا۔۔ ’’ہمم، بس چلتے ہیں۔۔ مام کہاں ہیں، وہ نہیں آئیں ناشتے پر؟‘‘ مصطفیٰ نے اس کی غیر موجودگی نوٹ کر کے پوچھا۔۔ ’’آنٹی نے ناشتہ ذرا جلدی کر لیا ہے۔۔ ابھی روم میں گئی ہیں۔۔ اور تمھیں بھی وہیں بلوایا ہے۔۔‘‘ وہ سر ہلا گیا۔۔ جبکہ اب وہ ہلکی پھلکی باتوں کے درمیان ناشتہ فنش کر چکے تھے۔ ’’میں ذرا مام سے مل لوں۔ تم گاڑی میں بیٹھو۔۔‘‘ وہ ہدایت کرتا، نیپکن سے منہ تھپتھپا کر کھڑا ہوتا، کوٹ پہن کر اپنی ماں کے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مام، خیریت آج آپ نے جلدی ناشتہ کر لیا؟‘‘ اس نے ذرا حیرت سے پوچھا تھا۔ ’’ہاں بیٹا بس! تم بتاؤ، آج میرا بیٹا خیر سے آفس جا رہا ہے۔۔‘‘ انھوں نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی چومی تھی۔ ’’جی!‘‘ وہ ان کے ہاتھ تھام کر لبوں سے لگا گیا۔ ’’میں عریشہ کو ساتھ لے کر جا رہا ہوں، ثمرہ گھر میں ہے۔۔‘‘ وہ آگاہ کر رہا تھا۔۔ ’’کوئی مسئلہ نہیں ہے بیٹا! خیر سے جاؤ۔۔‘‘ وہ ہولے سے مسکراتا روم سے باہر نکل آیا تھا، جہاں وہ ان کی پہلے سے منتظر تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مصطفیٰ! کل مما کی فلائٹ ہے پاکستان کی۔۔‘‘ وہ آفس کے راستے کی جانب گامزن تھے۔ ’’اوکے نو پرابلم! تم مجھے یہ بتاؤ کہ مجتبیٰ کے ساتھ تمھارا ریلیشن کیسا ہے؟‘‘ وہ اب سوالیہ لہجے میں بولا۔ ’’ویسا بالکل نہیں ہے جیسا تمھارا اور ثمرہ کا ہے۔‘‘ وہ شرارت سے لب دانتوں تلے دبا کر بولی تو مصطفیٰ نے گردن پھیر کر اُسے گھورا تھا۔۔ ’’اچھا بابا سوری!‘‘ وہ مسکراہٹ دبا گئی۔۔۔ ’’سخت زہر لگ رہی ہے مجھے تمھاری یہ حرکت!‘‘ وہ ذرا منہ بنا گئی۔۔ ’’بس بھئی اب وہ میرا شوہر ہے۔ آفس میں ذرا تمیز سے پیش آنا۔۔‘‘ وہ جان بوجھ کر بولی تھی۔ ’’اس سے پہلے میں نے کون سا مسٹر مجتبیٰ کو کچھ کہا تھا؟‘‘ اس نے آبرو اٹھائے۔ ’’جو بھی ہے۔۔۔ خیر اہان والے معاملے کا کیا کرنا ہے؟ کیونکہ مہروز انکل اب مزید خاموش نہیں بیٹھیں گے۔۔ جھوٹا نکاح نامہ ابھی تک ان کے پاس موجود ہے۔۔‘‘ اس بار وہ فکر مندی سے بولی تھی۔ ’’جھوٹا نکاح نامہ ہے نا، ویسے بھی اب تمھارا اصل شوہر خود ہی ہینڈل کر لے گا تمھارے جھوٹے شوہر کو۔۔‘‘ اس بار وہ بھی شرارت سے بولا تھا تو عریشہ سر جھٹک کر مسکرا دی۔۔ اتنی ہی دیر میں وہ آفس پہنچ گئے تھے، جہاں وہ پہلے ہی موجود تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں ساتھ میں آفس میں انٹر ہوئے تھے۔ پورا آفس ہی اسے وش کر رہا تھا۔ سب حال احوال پوچھ رہے تھے۔ اور مجتبیٰ، جو ان دونوں کو دیکھ ایک لمحے کے لیے ٹھہرا تھا، پھر سامنے سے آتی عریشہ کے گھورنے پر گڑبڑا کر اپنے کیبن کی جانب بڑھا تھا۔۔ ’’مسٹر مجتبیٰ میرے آفس میں آئیں۔۔‘‘ اس کے سلام کا جواب دیتا وہ حکم صادر کرتا اپنے آفس کی جانب بڑھا تھا۔۔ جبکہ عریشہ اس پر ایک نگاہ ڈالتی خود بھی مصطفیٰ کے آفس کی جانب بڑھی تھی۔ مجتبیٰ نے اردگرد نگاہ گھمائی تو سب اپنے اپنے کاموں میں مگن تھے۔ ایک گہری سانس بھرتا وہ ان کے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اہان، آپ اتنی اچانک دو دن کے لیے شہر سے باہر جا رہے ہیں، خیریت ہے نا؟‘‘ وہ اس کا سامان پیک کرتی ساتھ ساتھ سوالیہ انداز میں بولی تھی۔ ’’ہاں یار، سب ٹھیک ہے! کوئی ٹینشن والی بات نہیں ہے۔ بس کام کے سلسلے میں جا رہا ہوں۔‘‘ وہ عجلت میں کچھ ضروری ڈاکومنٹس ساتھ رکھتا مصروف دکھائی دے رہا تھا۔۔ ’’ویسے مجھے کچھ ٹھیک لگ تو نہیں رہا۔۔۔‘‘ وہ قیاس لڑا رہی تھی۔۔ ’’کچھ نہیں ہے یار، تمھیں صرف وہم ہو رہا ہے۔۔‘‘ وہ ٹالنے کو بول گیا تھا۔۔ ’’اچھا!‘‘ وہ سر ہلا کر اس کی چیزیں پیکنگ میں ہیلپ کر رہی تھی، جو ایک چھوٹے سائز کے سوٹ کیس میں سب کچھ بھر چکا تھا۔ ’’اپنا خیال رکھنا۔ اور فضول کی ٹینشن نہیں لینا، آئزل!‘‘ وہ خبردار کر رہا تھا۔ کیونکہ بہت جلد وہ دونوں پیرنٹس بننے والے تھے۔ ’’افف اللہ، اہان! میں کیوں ٹینشن لوں گی۔۔ کام کے لیے ہی جا رہے ہیں نا آپ۔۔‘‘ وہ مسکرا کر بولی تو اس نے سنجیدہ تاثرات سمیت اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔۔۔ ساتھ ہی اس کی پیشانی پر ہونٹ رکھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مے آئی کم اِن سر۔۔‘‘!‘‘ ’’کم آن۔۔۔‘‘ وہ مسکرا کر بولا۔ ’’کیسے ہیں مسٹر مجتبیٰ!‘‘ وہ مسکرا کر سوالیہ انداز میں بولا تھا۔ ’’الحمدللہ! آئی ایم گُڈ!‘‘ اس نے ایک نظر خود سے بے نیاز بیٹھی عریشہ پر ڈالی، جو موبائل پر ایسے مصروف تھی جیسے اس سے اہم کوئی کام ہی نہ ہو۔ ’’جاب کیسی جا رہی ہے؟‘‘ وہ خوش اخلاقی سے پوچھ رہا تھا۔ ’’اچھی جا رہی ہے۔۔۔‘‘ ’’بیٹھو یار، کھڑے کیوں ہو؟‘‘ اس بار وہ عریشہ کو ذرا گھور کر بولا، جو لاپرواہ سی بیٹھی تھی۔ ’’تھینک یو سر! آپ بتائیں، کوئی خاص کام۔۔۔؟‘‘ ’’ہاں۔۔۔ میں چاہ رہا تھا کہ آپ اور عریشہ فلیٹ میں شفٹ ہو جائیں۔۔۔‘‘ مجتبیٰ کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’سوری سر! مگر الحمدللہ میرے پاس اپنا گھر موجود ہے۔‘‘ مصطفیٰ نے خاموش نگاہ ڈالی تھی۔ ’’مجتبیٰ! وہ فلیٹ میرا ہے۔‘‘ عریشہ نے گردن گھمائی۔ ’’اور میں آپ کو نکاح سے پہلے ہی بتا چکا تھا کہ آپ وہیں رہیں گی
