Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 29
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 09/06/2026
0 Views
Episode no 29
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_29 ’’کم آن آئزل !یار یہ کوئی روایتی شادی نہیں ہے،بس ایک کنٹریکٹ میرج ہے،پہلے تم بیٹھ تو جاؤ پھر بتاتا ہوں،اس بے ہودہ انسان نے تمھیں پتہ نہیں کیا کچھ بتایا ہے۔‘‘وہ معصوم صورت لئے کھڑے اہان کو ناگواری سے گھورتا آئزل کو اپنے بازؤں کے حصار میں لئے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اوہ !کیسے کیسے لوگ ہیں دنیا میں۔۔‘‘وہ افسوس کا اظہار کر رہی تھی۔۔اہان ایک ارجنٹ کال آجانے کے باعث ،اُٹھ کرصحن میں نکل آیا تھا۔ ’’ہاں بھئی!تم دونوں بہن بھائیوں کی باتیں ہوگئیں؟‘‘وہ روم میں داخل ہوا تھا۔وہ تمام تر تفصیل سننے سے محروم رہ گیا تھا۔۔ ’’ہاں!چلو تم دونوں بیٹھو،میں ذرا کھانا لگاتا ہوں۔۔‘‘وہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھتا کھڑا ہونے لگا،کچھ دیر قبل ہی فوڈ ڈیلیور ہوا تھا،جو وہ پہلے ہی کر چکا تھا۔ ’’مجتبیٰ تمھیں کتنی بار کہا ہے کہ یہ سب مت کیا کرو،مگر تم باز نہیں آتے۔خیر،آپ دونوں بیٹھو،کھانا میں لگاتی ہوں۔‘‘آئزل بھائی کو خفگی سے گھورتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ’’میں لگا رہا ہوں نا آئزل۔۔‘‘ ’’بیٹھ جا بھائی،کرنے دے اسکااپنا ہی گھر ہے۔۔ ‘‘اہان نے اسے فضول میں تکلف میں دیکھ ڈپٹ دیا تھا۔۔ ’’اور سناؤ!جاب کیسی جارہی ہے؟‘‘وہ سوالیہ آنداز میں بولا ،وہ پھر باتوں میں مگن ہوگئے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عریشہ جب گھر آئی تو اسکا پہلا سامنا زنیرہ بیگم سے ہوا تھا،جو اسے دیکھ ذرا حیران ہوئی تھیں۔۔ ’’عریشہ تم یہاں؟‘‘وہ آگے بڑھ کر انکے گلے سے لگی تھی۔جو ذرا حیران تھیں۔ ’’کیاآپ بھی مجھ سے ناراض ہیں؟‘‘ ’’بیٹا اتنا بڑا قدم اٹھالیا ،کم از کم ہمیں بتا تو دیتیں۔۔‘‘وہ ذرا ناراضی سے بولی ں۔۔ ’’خیر ثمرہ کیسی ہے؟‘‘سب سے پہلے اسکا ہی خیال آیا تھا۔ ’’ٹھیک ہے۔۔تم بیٹھو،میں بلاتی ہوں مصطفیٰ کو۔‘‘وہ بولتی ہوئی مصطفیٰ کمرے کی جانب بڑھی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آجائیں۔‘‘کمرے کے دروازے پر ہوتی دستک پر ذرا مصروف آنداز میں اجازت دی تھی۔ ’’آئیں مام۔۔‘‘ثمرہ ابھی واشروم سے باہر آئی تھی۔سینے پر دوپٹہ پھیلاتی و ہ خاموش ہوگئی تھی۔ان دونون کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔ ’’عریشہ آئی ہے۔‘‘مصطفیٰ کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔ ’’بیٹھائیں اسے۔ہم آتے ہیں۔‘‘وہ سر ہلاتی واپس پلٹ گئیں تھیں۔ ’’عریشہ کہیں گئی ہوئیں تھیں کیا؟‘‘ثمرہ نے ذرا اچنبھے سے پوچھا۔ ’’محترمہ نے شادی کرلی ہے۔‘‘وہ تاسفی سانس خارج کرتا ہوا بولا۔ ’’کیا؟اتنی اچانک؟‘‘وہ حیرانی سے بولئ۔ ’’جی کیونکہ محترمہ کو لگ رہا تھا کہ ،اب مصطفیٰ تو اس قابل رہا نہیں کہ انکی حفاظت کر لیتا اس لئے ایک راہ چلتے کو پکڑ کر اس کے ساتھ نکاح کرلیا ہے۔‘‘اس کے لہجے میں غصہٰ تھا۔ ’’تو اب پھر؟‘‘وہ ذرا پریشان ہوئی۔ ’’فی الحال چلیں میرے ساتھ۔‘‘وہ اسے ساتھ چلنے کا اشارہ کرتا خود بھی روم سے باہر آیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کیسی ہیں آپ مسز مجتبیٰ!‘‘درائیونگ روم میں آتے ہی مصطفیٰ نے ذرا طنزیہ آنداز میں بولا تھا،جبکہ وہ اسے نظرآنداز کرتی ثمرہ کی جانب بڑھی تھی۔۔ ’’ثمرہ کیسی ہو یار!تم ٹھیک ہو۔ہم اتنا پریشان ہوگئے تھے۔‘‘وہ جھٹ کھڑی ہوتی اسکے گلے سے لگی تھی۔ ’’میں بالکل ٹھیک ہوں،آپ کیسی ہیں؟‘‘اسکا ہولے سے مسکرا کر اسکا ہاتھ دباتی محبت بھرے لہجے میں سوالیہ گویا ہوئی۔ ’’میں تو ٹھیک ہو۔۔‘‘اب وہ صوفوں پر بیٹھ چکے تھے۔ ’’تم کیسے ہو مصطفیٰ!‘‘وہ رسمی آنداز میں بات کر رہی تھئی۔ ’’بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘اس نے دانت کچکچائے۔ ’’مجھے معلوم ہے تم مجھ سے ناراض ہو۔مگر مصطفیٰ میں مجبور تھی۔۔‘‘اس نے لب چبائے۔ ’’کیسی مجبوری؟‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔ ’’تم جانتے ہو۔۔اہان مسلسل مجھے تنگ کر رہا ہے،جھوٹا نکاح نامہ بنوا رکھا ہے،ایسے میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تو نہیں بیٹھ سکتی تھی۔‘‘وہ شکوہ کناں لہجے میں بولی۔ ’’یار!میں ا ابھی کیا بولوں تمھیں،اس شخص کے خلاف میں جلد قانونی کارروائی کرنے والا تھا،مگر تمھیں تو جلد بازی کی عادت ہے۔‘‘وہ ذرا ناراض ہوا تھا۔ ’’جانے دو اب جو بھی ہوا،بے فکر رہو ،مجتبیٰ بہت اچھا انسان ہے۔‘‘اس نےا سے مطمئن کیا۔ ’’اتنا تو مجھے بھی معلوم ہے۔شریف سا بندہ ہے،تم نے اسے اپنے چکر میں پھنسا دیا ہے۔‘‘وہ ذرا خفگی سے بولا تھا۔ ’’اچھا بس نا!‘‘وہ ذرا ناراض ہوئی۔ ’’اچھا !آج رات میں یہیں ہوں۔اب ناراض نہ ہو۔‘‘ ’’اور تمھارا شوہر؟‘‘مصطفیٰ نے بھونیں اٹھائیں۔ ’’میں بتا کر آئی ہوں۔خیر مجھے تم سے ایک فیور اور چاہئے۔‘‘مصطفیٰ نے ذرا نارض نظروں سے دیکھا۔ ’’اچھا تم چھوڑوں،میں ثمرہ سے لے لیتی ہوں۔‘‘اب وہ خاموش بیٹھی ثمرہ کی جانب متوجہ ہوئی۔ ’’ہاں!میری اجازت کے بغیر جیسے ثمرہ نے مان جانا ہے۔‘‘اس نے جتایا۔ ’’ہاں ثمرہ کیا تم مصطفیٰ سے اتنا ڈرتی ہو؟کہ اسکی اجازت کے بغیر کچھ نہ کرو۔‘‘وہ ذرا حیرانی سے بولی۔ ’’مذاق کررہیں مصطفیٰ!آپ بتائیں کیا کہنا چاہتی ہیں؟‘‘وہ ہولے سے مسکرا کر سوالیہ بولی۔ ’’دراصل ممی پاکستان آرہی ہیں۔اب میں انھیں کہاں رکھو،اتنے شورٹ ناٹس پر کوئی گھر بھی ارینج نہیں ہوسکتا،مجتبیٰ کے گھر میں لے جانا نہیں چاہتی۔‘‘وہ لب چبا کر بے چارگی سے بولی۔ ’’تو کوئی بات نہیں وہ ہمارے ساتھ یہاں رہ لیں گی،کیوں مصطفیٰ!‘‘اس نے عریشہ کو پریشان دیکھ،مصطفیٰ کی جانب دیکھا جو سر کو خم دیتا کندھے اچکا گیا۔ ’’بس آپ فکر نہ کریں،آنٹی ہمارے پاس رہ لیں گی،اور سنڈے آپ دونوں ہمارے ساتھ ڈنر کیجئے گا،بھئ ہم بھی تو ملیں نا ،آخر بقول مصطفیٰ کے کس کو الو بنایا ہے آپ نے۔‘‘وہ شرارت سے بولی تو عریشہ نے مصطفیٰ کو گھورا جبکہ وہ مسکراہٹ دبا گیا۔۔۔ ’’چلیں لیڈیز آپ بیٹھیں،مجھے کچھ کام ہے،میں روم میں جارہا ہوں،اور میڈم صبح آپ میرے ساتھ آفس چلیں گی۔کیونکہ کل سے میں بھی جوائیننگ دے رہا ہوں۔اب میں بالکل فٹ ہوں۔‘‘وہ عریشہ کو باور کراتا مسکرا کر وہاں سے نکلتا چلا گیاتھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمرے میں ہلکی ہلکی روشنی پھیل رہی تھی، سورج کی نرم کرنیں کھڑکی کے شفاف شیشوں سے چھن کر اندر آ رہی تھیں۔ ہوا میں تازہ پن تھا، جیسے قدرت بھی آج کچھ خاص کہنا چاہتی ہو۔ پردے ہوا کے ہلکے جھونکوں سے ذرا ذرا ہل رہے تھے، اور ان کے پیچھے سے جھانکتی سنہری دھوپ نے کمرے کو ایک خواب ناک سا رنگ دے رکھا تھا۔ ثمرہ مصطفیٰ کے محبت بھرے حصار میں گہری نیند میں ڈوبی ہوئی تھی، اس کے چہرے پر ایک عجیب سی سکون بھری معصومیت تھی۔ بکھری زلفیں اس کے نرم گالوں کو چھو رہی تھیں، اور وہ کروٹ لیے مصطفیٰ کے حصار میں بےخبر سو رہی تھی۔ وقت جیسے رک سا گیا تھا۔ نیند میں ہی اسے چہرے پر نظروں کی تپش محسوس ہوئی تھی، پلکوں میں ہلکی سی لرزش ہوئی، اور وہ آہستہ آہستہ آنکھیں کھولنے لگی۔ سامنے مصطفیٰ تھا ! جو کروٹ کے بل لیٹا،بہت خاموشی سے محبت بھری نظروں سے، بس اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ ’’کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟؟‘‘وہ سوالیہ بولی،تو مصطفیٰ نے کچھ ہی کہے بغیر،اسے خود میں بھینچ لیا تھا،جیسے اسکے ہونے کے احساس کو محسوس کر رہا ہو۔۔وہ بھی اسکے حصار میں بالکل خاموش پڑی تھی۔۔ ’’ثمرہ میں نے اور کمرے نے آپ کو بہت مس کیا۔۔‘‘کندھے میں ذرا تکلیف سی اٹھی تھی،جسے نظرندازکرتا وہ محبت سے لبریز لہجے میں گویا ہوا۔۔ ’’میں نے بھی آپ کو بہت مس کیا ۔۔‘‘وہ گزرا وقت یاد کر آنکھوں میں در آئی نمی چھپا گئی تھی۔۔ ’’شارق ،اب تک حوالات میں ہے ،اور عنقریب وہ مستقل طور پر حوالات میں جانے والا ہے۔‘‘اس بار وہ ذرا سنجیدگی سے بولا،تو ثمر ہ لمحہ بھر کے لئے خاموش رہ گئی۔ ’’مصطفیٰ جو آپ کو بہتر لگے،آپ وہ کیجیے گا۔۔‘‘وہ کڑے دل سے بولتی فیصلہ ،مصطفیٰ پر چھوڑ چکی تھی۔وہ اسکے ماتھے
