Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 25
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 05/06/2026
0 Views
Episode no 25
حالت دیکھتے ہوئے فی الحال اسنے اپنی سوتیلی ماں کو ہوٹل میں ٹھہرایا ہوا تھا۔جو باضد تھیں کہ وہ اسکے ساتھ رہنا چاہتی ہے مگر فی الحال وہ اس مشکل وقت میں احد کو مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ ’’یس مسٹر مجتبیٰ ! کہیے۔‘‘وہ سوالیہ لہجے میں بولی۔جو ذرا تذبذب کا شکار دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ ’’ وہ میں نے آپ کا شکریہ ادا کرنا تھا۔۔‘‘وہ بولتے ہوئے مسلسل جھجھک کا شکار تھا۔جبکہ وہ کتنی ہی دیر خاموش نگاہوں سے اسکی جانب دیکھتی رہی تھی،مجتبیٰ کو اسکی نظروں سے الجھن سی ہوئی تھی۔۔ ’’میرے خیال سے آپ کو کام پر توجہ دینی چاہیئے۔‘‘وہ یکدم ہی خاصی سنجیدگی سے بولی تھی۔ ’’ سوری میڈم۔۔‘‘وہ گڑبڑا ہٹ میں بس اتنا ہی بول کر آفس کے کمرے سے نکل آیا تھا۔۔دل میں ہزار بار خود کو ملامت کی تھی۔۔پیچھے عریشہ جو پہلے ہی اچھی خاصی پریشان تھی، زہنی ازیت سے دوچار اپنا سر ہاتھ میں گرا گئی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہان اور آئزل کل رات کی فلائٹ سے ہی پاکستان واپس آئے تھے۔ آہان اس وقت اپنے نیندیں پوری کر رہا تھا،جبکہ وہ اچھے سے تیار ہونے کے بعد نیچے تحمینہ اور مہروز سے ملنے کی غرض سے نیچے کی جانب بڑھی تھی۔۔ ’’السلام علیکم آنٹی۔۔‘‘وہ صبح صبح معمول کے مطابق ناشتے کی میز پر موجود تھے۔۔آئزل دھیرے سے سلام کرتی اپنا سر جھکا گئی۔مہروز نے آگے بڑھ کر اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ڈھیروں دعاؤں سے نواز ہ تھا۔۔۔ ’’وعلیکم السلام نیند پوری ہوگئی میری بیٹی کی۔۔‘‘ وہ محبت بھرے لہجے میں سوالیہ گویا ہوئے تو آہستگی سے اثبات میں سر ہلاتی انہیں مطمئن کر گئی۔۔ ’’ آپ دونوں کیسے ہیں۔۔‘‘وہ ایک چئیر گھسیٹ کر ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی۔۔ ’’بھئی ہم تو بہت اچھے ہیں اور یہ وقت اپنی بیوی کے ساتھ گزار کر مزید نکھر گئے ہیں۔‘‘انہوں نے ہمیشہ کی طرح لاتعلق بنی بیٹھی تحمینہ کو چھیڑنا اپنا فرض سمجھا تھا۔وہ دھیرے سے مسکرائی۔۔ ’’پھر یہ تو بہت اچھی بات ہے انکل۔۔‘‘وہ نرم خوئی سے بولی تو تحمینہ نے سر جھٹکا۔ ’’تمہارا مزاجی خدا کہاں غائب ہے؟‘‘ اس بار انہوں نے اپنے لاڈلے کے بابت استفسار کیا۔۔ ’’وہ تو سو رہے ہیں بابا۔۔۔‘‘ وہ ازلی دھیمے انداز میں بولی تھی۔ ’’ایک تو میرا یہ نالائق بیٹا۔۔اس کی نیند ہی پوری نہیں ہوتی۔۔‘‘انہوں نے سر جھٹکا۔۔ ’’چلو آپ ناشتہ شروع کرو۔۔بھئی بیگم آج اتنے دن بعد بہو بیٹا ہنی مون ٹرپ سے واپس لوٹے ہیں کچھ خاطر مدارت تو کیجئے ہمارے بچوں کی۔۔‘‘انہوں نے اس بار بیگم کو متوجہ کیا جو ہوں ہاں میں جواب دیتیں سیدھی ہوئیں۔ ’’ کیا لوگی ناشتے میں کک کو بتا دو وہ بنا دیں گا۔‘‘وہ بادل نخواستہ بولیں ۔ ’’جی میں دیکھتی ہوں آنٹی۔۔آپ فکر نہ کریں۔۔‘‘وہ نرمی سے مسکراتی نشست چھوڑ کر کچن کی جانب بڑھی تھی،جبکہ مہروز نے اپنی بیوی کو گھور کر دیکھا جو کندھے اچکا گئیں۔۔ ’’تمہارے بیٹے کو تمہارا یہ رویہ ایک آنکھ نہیں بھاتا ہے بہتر ہے کہ تم اپنا قبلہ درست کرلو۔۔‘‘اخبار کھولنے سے قبل انہوں نے اپنی بیوی کو تنبیہہ کرنا ضروری سمجھا تھا جو ہمیشہ کی طرح سنی ان سنی کر گئیں تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مصطفیٰ!‘‘ وہ دروازے پر ہولے سے دستک دیتی روم میں آئی جو بیڈ پر نیم دراز موبائل میں ثمرہ کی تصویر دیکھ رہا تھا۔۔عریشہ کی آواز پر چونکا جو مسکراتی ہوئی اسکی جانب قدم اٹھارہی تھی۔۔ ’’کیسے ہو؟‘‘وہ صوفے پر جا بیٹھی تھی۔۔ ’’زندہ ہوں۔۔‘‘وہ پاؤں پر بندھی سفید پٹی کو ایک نظر دیکھ مایوس لہجے میں بولا تھا۔۔ ’’ایسے تو نہ بولو مصطفیٰ۔۔۔اللہ نے تمہیں نئی زندگی دی ہے ورنہ یقین کرو میرے ہاتھوں سے تو سب نکل گیا تھا۔۔‘‘وہ یکدم جذباتی ہوئی تھی۔۔ اس دنیا میں باپ کے بعد مصطفیٰ جیسا دوست کسی نعمت سے کم ہرگز نہیں تھا، اگر اسے کچھ ہوجاتا تو وہ یقیناً ٹوٹ جاتی۔۔ ’’کیا تم نے ثمرہ کو دیکھا تھا۔۔ان سے ملاقات ہوئی تھی۔۔۔تم مجھے کچھ بتاتی کیوں نہیں ہو یار۔۔‘‘اس نے ہمیشہ والا سوال دہرایا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ تم سن نہیں سکو گے اور میں تمہیں تکلیف نہیں دینا چاہتی۔۔‘‘بولتے ہوئے اسکی اپنی آواز رندھ سی گئی تھی۔۔ ’’سب سن لونگا میں۔۔جب ثمرہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کھو کر زندہ ہوں تو باقی کوئی اذیت میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔۔‘‘وہ انتہائی رنج کے عالم میں بولا تھا۔۔عریشہ نے دکھ سے اسکی جانب دیکھ تھا۔۔ ’’جس روز ہماری پاکستان کی فلائٹ تھی وہ بہت خوش تھیں عریشہ۔۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار سیم کو اتنا خوش اور مطمئن دیکھا تھا،مگر اچانک ان سے ساری خوشیاں چھن گئیں۔۔وہ اچانک مجھ سے اتنی دور چلی جائیں گی مجھے یقین نہیں آتا۔۔‘‘وہ آج پھر اپنے زخم کریدنے لگا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ! یوں خود کو اذیت نہیں دو۔۔ ثمرہ کی شاید بس اتنی ہی زندگی تھی۔۔‘‘ عریشہ تو اسے آگے بڑھ کر دلاسہ بھی نہیں دیتی تھی کیوں ثمرہ کے جانے کے بعد سے اسے ہر شخص سے چڑ ہونے لگی تھی،جو اسکے قریب جاتا تھا وہ اسے جھڑک دیتا تھا۔۔ ’’’یہ اذیت تو اب شاید زندگی بھر کے لئے ہے۔۔‘‘وہ مایوس کن لہجے میں بولا تو عریشہ کو اس پر ترس آیا تھا۔۔ ’’ثمرہ کی باڈی پوری طرح سے برن ہوچکی تھی۔۔یہاں تک کے شناخت بھی ناممکن تھی۔۔‘‘مصطفیٰ یکدم چونکا دماغ نے کام کرنا شروع کیا تھا۔ ’’کیا ہماری گاڑی میں آگ لگ گئی تھی؟‘‘وہ سوالیہ بولا کیونکہ اگر ایسا تھا تو پھر باڈی تو اسکی بھی جلنی چاہیئے تھی۔۔ ’’نہیں۔۔۔مگر۔۔‘‘وہ سوچتی خود بھی ایک لمحے کو ٹھہری۔۔ جاری ہے
