Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 25
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 05/06/2026
0 Views
Episode no 25
ہو۔۔‘‘ وہ اسے سمجھانے کی غرض سے بولا۔۔ ’’جانتی ہوں مگر تم یہ بھی تو دیکھو آنٹی روز مجھے واپس آنے کو بولتی ہیں وہ تمہیں یاد کر رہی ہیں آہان۔۔اس طرح اچھا نہیں لگتا۔۔‘‘وہ سمجھانے کی غرض سے بولی۔ ’’مطلب تمہیں سب کی فکر ہے بس اگر کسی کی فکر نہیں ہے تو وہ تمہارا شوہر ہے رائٹ؟‘‘وہ ناگوار لہجے میں گویا ہوا،جبکہ اسے ناراض ہوتا محسوس کر وہ یکدم سیدھی ہوئی تھی۔۔ ’’میں نے ایسا کب آہان۔۔‘‘وہ اسکا ہاتھ تھام گئی۔۔جس کے چہرے پر اب خفگی سی تھی۔۔ ’’آئزل تمہیں میری محبت کی ذرا قدر نہیں ہے۔جب دیکھو بس شکوے ہی کرتی رہتی ہو۔۔‘‘وہ غصے سے شرٹ کے اُپری بٹن کھولتا ، بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹا تھا۔۔۔ ’’ "اب میں نے ایسا بھی نہیں کہا میں تو بس اس لئے کہہ رہی تھی کہ کہیں آنٹی بُرا نہ مان جائے۔۔"وہ لاڈ سے بولتی اس کا ہاتھ کھینچ کر خود بھی سر رکھ گئی تھی۔۔ "ہاں بس آپ ہر معاملے میں ٹھیک ہیں ۔۔"وہ منہ بسور کر گویا ہوا تھا۔۔ "سو تو ہے۔۔"وہ شرارتًا گویا ہوئی تو آہان نے گردن موڑ کر اسکی جانب دیکھتے آئی برو اٹھائے۔۔۔ "چلو آؤ بیچ پر چلتے ہیں۔۔۔"وہ ایک بار پھر موڈ میں آیا آئزل بری طرح سٹپٹائی۔۔ "یعنی آپ جناب کا ابھی بھی پاکستان جانے کا دل نہیں ہے۔۔"اُس نے تاسفی لہجے میں پوچھا تو وہ مسکراتی آنکھوں سے نفی میں سرہلاگیا۔۔۔ بےبی ہم ہنی مون پر ہیں تو بہتر یہی ہے کہ آپ میرا موڈ خراب نہ کریں۔۔"وہ ایک لمحے میں اسے حصار میں لئے باہر کی جانب بڑھا تھا جبکہ وہ پیچھے سے چیختی رہ گئی تھی۔۔۔۔جبکہ وہ قہقہہ لگاتا مسلسل اسے ٹیز کر رہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مصطفیٰ! ‘‘زنیرہ بیگم تاریکی میں ڈوبے کمرے میں داخل ہوئیں تو انکا دل منہ کو آگیا تھا۔۔ وہ زخمی ہاتھ لئے دوسرے ہاتھ میں سگار تھامے ،اپنی سوچوں میں محو بیٹھا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ! اتنا ناراض ہو مجھ سے کہ اپنی ماں سے بات بھی نہیں کروگے۔۔‘‘وہ دکھ سے بولتی کمرے کی لائیٹس جلاتیں اسکے نزدیک آئی تھیں۔۔جبکہ وہ ان کی آواز پر بھی یونہی جامد و صامت ہی بیٹھا رہا تھا۔ ’’میں کیوں ناراض ہوں گا آپ سے۔۔۔ آخر میرا ناراض ہونے کا جواز کیا بنتا ہے۔۔‘‘ وہ تلخ ہوا تو زنیرہ اسکے قریب آکر بیٹھی تھیں۔۔ ’’ایسے نہ کہو مصطفیٰ! میں جانتی ہوں تم ثمرہ کی وجہ سے اداس ہو۔۔۔بیٹا اسکی زندگی بس اتنی ہی تھی۔۔‘‘ وہ حد سے زیادہ رنجیدگی سے بولیں تو مصطفیٰ نے دکھ سے آنکھیں میچ لی تھیں۔۔ ’’ نہیں ماں،زندگی تو بہت لمبی تھی مگر شاید انکے نصیب میں خوشیوں کی مدت بڑی مختصر سی تھی۔۔‘‘ زنیرہ کی آنکھ سے آنسو جھرنے کی مانند بہنے لگے تھے۔اور یہ دکھ درد ثمرہ کے لئے بلکہ اپنے بیٹے کے لیا تھا۔۔۔جس کا جسم اس وقت زخموں سے چور تھا۔مگر اصل تکلیف تو دل پر لگا گھاؤ پہنچا رہا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ! صبر کرو بیٹا۔۔۔‘‘وہ زیادہ نہیں بول سکی تھیں۔۔ ’’ماں صبر ہی تو نہیں آرہا مجھے۔۔۔آپ کو معلوم ہے آسٹریلیا میں گزرے پانچ سالوں میں سے کوئی ایسا دن نہیں تھا جب میں نے سیم کو یاد نہ کیا ہو۔۔وہ بہت خوبصورت لڑکی ہر گز نہیں تھیں مگر مجھے ان سے محبت تھی،بلکہ محبت نہیں پتہ نہیں یہ کونسا جذبہ تھا جو اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود بھی کبھی مجھے انکے خلاف ہونے ہی نہیں دیا ۔۔وہ صرف میری محبت نہیں تھیں،وہ میری بیوی تھیں ماں،آپ کے بیٹے کی خوشی تھیں،کیا کروں اگر بدقسمتی سے شارق ثمرہ کا بھائی تھا۔۔کیا کروں میں۔۔۔۔میں نے۔۔۔آپ سے کتنی بار کہا۔۔۔کہ ثمرہ کی طرف سے اپنا دل صاف کرلیں نہ میں آپ کو چھوڑ سکتا ہوں اور نہ ہی انہیں محبت کرنا چھوڑ سکتا ہوں،وہ میری خوشی ہیں آپ کے بیٹے کے جینے کی وجہ ہیں لیکن نہیں۔۔آپ بس کسی بھی طرح انہیں مصطفیٰ کی زندگی سے نکالنا چاہتی تھیں،اب آپ خوش ہوجائیں کیونکہ نہ ثمرہ رہی اور نہ ہی مصطفیٰ زندہ رہا۔۔‘‘وہ کڑیل جوان سال مرد انتہائی رنج کے عالم میں بولتا زنیرہ کا دل ہلا گیا تھا۔۔ "ماں مجھے بس ایک بار ثمرہ سے ملوادیں۔۔میں نہیں رہ سکتا انکے بغیر۔۔پلیز دعا کریں کہ کوئی معجزہ ہوجائے اور ثمرہ میرےپاس واپس آجائیں ۔۔۔میں جی نہیں سکونگا ماں۔۔مجھے لگ رہا ہے میری سانسیں بھی ثمرہ کی موجودگی سے جڑی تھیں۔اس کمرے میں میرا دم گھٹ رہا ہے جہاں ہر جگہ انکا احساس موجود ہے۔۔۔"وہ اس قدر جذباتی ہوتا زنیرہ کی سانس روک چکا تھا۔۔۔۔ ’’مصطفیٰ ایسا مت کہو تم میرے جینے کا واحد سہارا ہو۔۔ایسا مت کہو تمہاری ماں مر جائے گی۔۔‘‘وہ اچانک روتی ہوئی بیٹے کو سینے سے لگا گئیں،جو الٹا انہیں اپنے حصار میں لے گیا تھا۔۔ ’’فکر نہ کریں جب تک میری سانسیں میرے ساتھ ہیں میں ہمیشہ آپ کے پاس رہونگا،آپ سے آپ کے جینے کی آخری وجہ نہیں چھینوں کا ماں،مگر میرے جینے کی وجہ تو آپ نے مجھ سے چھین لی۔۔۔‘‘ زنیرہ کو لگا مصطفیٰ نے یہ لفظ خود پر انتہا کا ضبط کرکہ بولے تھے۔۔وہ ماں کو حصار میں لئے بیٹھا اس وقت خود حد سے زیادہ بکھرا ہوا تھا۔۔۔ ’’کیا ۔۔۔کیا تمہاری نظر میں ماں کی کوئی ویلیو نہیں ہے مصطفیٰ۔۔‘‘وہ اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر گئیں۔۔ ’’آپ سے بہت محبت کرتا ہوں میں۔۔کہہ تو رہا ہوں کہ میں کبھی آپ سے آپ کے جینے کی واحد وجہ نہیں چھینوں گا۔۔‘‘وہ دکھ بھرے لہجے میں بولا تو زنیرہ کو لگا آج انہوں نے اپنے دوسرے بیٹے کو بھی کھو دیا تھا اور اس نقصان پر وہ دھاڑے مار کر رو رہی تھیں۔۔ ’’مصطفیٰ میرے بچےایسا نہ کہو۔۔۔تمہاری ماں مر جائے گی۔۔۔‘‘ ’’آپ مائیں اتنی ظالم کیوں بن جاتیں ہیں،آپ نے بچپن سے مجھے اور مزمل کو دنیا کی ہر خوشی دی منہ سے نکلنے سے پہلے ہماری ہر خواہش پوری کی،آپ دنیا کی بہت اچھی ماں ہیں،مگر جب میں نے آپ سے اپنے منہ سے اپنی خوشی مانگی تو آپ نے دینے سے انکار کردیا،ماں کیا چلا جاتا اگر آپ ثمرہ کو اپنا لیتیں انکے ساتھ وہ سب نہ کرتیں جس کی وہ مستحق نہیں تھیں۔۔‘‘وہ انتہائی دکھ بھرے لہجے میں بولتا زنیرہ کو پانی پانی کر گیا۔۔ ’’مجھے معاف کردو مصطفیٰ!میں نہیں کر سکی اپنا ظرف اتنا بڑا۔۔۔جس لڑکی کے بھائی نے میرے جوان بیٹے کو موت کے گھاٹ اتار دیا تم خود بتاؤ میں کیسے اس لڑکی کے لئے اپنے دل میں جگہ بناتی،مجھ سے نہیں ہوا یہ مصطفیٰ۔۔اپنی ماں کو معاف کردو۔۔مگر میں نے ایسا کبھی نہیں چاہا تھا۔‘‘وہ پھپھک پھپھک کر رو پڑی تھیں۔۔مصطفیٰ خاموش بیٹھا تھا۔۔سگار وہ پہلے ہی بجھا چکا تھا۔لیکن وہ خود ٹوٹا ہوا تھا۔۔ثمرہ کی موت کا صدمہ اس قدر تھا کہ وہ ابھی تک اس حقیقت کو قبول نہیں کر سکا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجتبیٰ کو یہ جاب کرتے ہوئے ایک ماہ سے زائد ہونے کا آیا تھا،مگر اب تک اسکا سامنا اپنے بوس سے نہیں ہوا تھا،مگر وہ اتنا ضرور جانتا تھا کہ اس پر جان لیوا حملہ ہوا تھا جس کے بعد وہ شدید زخمی تھا اور بیڈ ریسٹ پر تھا۔۔۔ نیوز کے مطابق اس حادثے میں ا نکی بیوی کی موت ہوچکی تھی۔۔۔ ’’مے آئی کم ان میم!‘‘وہ آج پہلی سیلری کے بعد سیدھا عریشہ کے آفس آیا تھاْ۔۔ ’’یس کم ان۔۔‘‘اس نے مصروف سے انداز میں جواب دیا تھا۔۔ مصطفیٰ کے ایکسیڈینٹ کے بعد سے وہ زیادہ تر آفس میں ہی رہتی تھی۔۔ احد کی فیملی کی یہ
