Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 25
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 05/06/2026
0 Views
Episode no 25
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_25 ’’دور رہے ہم دونوں بہن بھائیوں کی پرسنل گفتگو میں کان نہ لگا۔۔‘‘اس نے جھڑکنا ضروری سمجھاآئزل نے بھی ساتھ ہی گھوری سے نوازہ تھا۔۔ ’’اچھا بھئی تم دونوں بہن بھائی لگے رہو۔۔میں کار میں ویٹ کر رہا ہوں۔۔‘‘وہ منہ چڑا کر بولتا وہاں سے واک آوٹ ہوگیا ۔۔ ’’مجتبیٰ نہ چھیڑا کرو میرے بچارے شوہر کو۔۔ا‘‘ٓس بار اسنے بھائی کو تنبیہ کرنا ضروری سمجھا تھا۔ ’’ارے مذاق کر رہا تھا۔۔پیچھلے ایک ماہ سے اس نے میرا دماغ خراب کر رکھا ہے۔۔اب ذرا میری باری۔‘‘آئزل نے مسکراہٹ چھپائی۔ ’’خیر۔۔صحیح کہہ رہا ہے اہان ۔۔اب تم خود ہی اپنے لئے کوئی لڑکی دیکھ لو۔۔۔گھر کی حالت دیکھو ذرا بالکل ویران سا لگ رہا ہے۔۔میں اس گھر کو ہمیشہ آباد دیکھنا چاہتی ہوں۔تمہاری بیوی آجائے گی تو گھر سنبھال لے گی۔۔‘‘مجتبیٰ نے فی الحال مسکرانے پر اکتفا کیا تھا،۔اب وہ اسے کیا کہتے کہ وہ جس گھر کو آباد کرنے کی باتیں کر رہی تھی وہ اسے گروی رکھ چکا تھا۔۔ ’’چلو خیر سے جاؤ۔۔۔اور ہاں وہاں جاکر اہان کو پریشان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔شوہر ہے تمہارا اب مجھ پر نہیں تھوڑا اس پر بھی دھیان دو۔۔‘‘ وہ بہن کا ماتھا چومتا محبت بھرے لہجے میں گویا ہوا تھا۔جبھی وہ مسکراتی ہوئی وہاں سے نکل آئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’بس سکون آگیا بھائی سے مل کر۔۔‘‘وہ لوگ اس وقت سکندر ولا کے راستے کی جانب گامزن تھے۔ ’’بالکل۔۔آفٹر آل میرا اکلوتا بھائی ہے۔۔‘‘اس نے مزے سے کہا۔۔ ’’ویسے مجھے جلدی سے بتائیں اہان کہ آپ نے اس لڑکی کا نمبر کیوں مانگا تھا۔‘‘اس نے تنگ کرنا اپنا فرض سمجھا تھا۔ ’’ یار تم ابھی بھی اسی بات میں آٹکی ہوئی ہو ۔ایک نمبر کا جھوٹا ہے تمہارا بھائی۔‘‘وہ ناگواری سے گویا ہوا تھا۔ ’’کوئی جھوٹا نہیں ہے۔۔ بلکہ آپ جھوٹ سے کام آپ لے رہے ہیں جناب۔‘‘وہ کڑے تیوروں سمیت گویا ہوئی۔ ’’شک کر رہی ہو مجھ پر۔‘‘وہ سنجیدہ ہوگیا تھا۔ ’’سوال کر رہی ہوں۔۔۔‘‘اس نے درستگی کی۔ ’’جواب یہ ہے کہ وہ صرف مزاق کر رہا تھا۔۔‘‘اس بار اہان نے نرم لہجے میں کہا۔ ’’اچھی بات ہے یہ صرف مذاق ہی ہونا چاہئے۔میرے علاوہ تمہاری نگاہیں ادھر ادھر گئیں نا پھر دیکھنا تم۔۔‘‘وہ سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود سرخ چہرے سمیت تنبیہ کرنا نہیں بھولی تھی۔ڈرائیو کرتے اہان نے ذرا حیرانگی کے عالم میں آئی برو اٹھا کر اِسکی جانب دیکھا تھا۔۔ ’’بھائی پر اتنا ٹرسٹ؟اور شوہر کی محبت پر ذرا بھی نہیں۔۔‘‘اُسنے یونہی بیٹھے بیٹھے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تھا۔۔ ’’تو ظاہر سی بات ہے۔۔میرا بھائی۔۔‘‘ابھی وہ اپنے الفاظ مکمل کرتی کہ وہ اسکے ماتھے پر لب رکھتا خاموش کرا گیا۔۔ ’’میری زندگی میں تمہارے سوا کسی کی جگہ نہیں ہے ایزی۔۔یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا۔۔‘‘ وہ اُسے سینے سے لگاتا گھمبیر لہجے میں گویا ہوا تھا۔آئزل اس بار خاموشی سے اسکا لمس محسوس کرنے لگی تھی۔۔ ’’آئی لو یو۔۔‘‘وہ محبت سے بولا تو آئزل سینے پر تھوڑی ٹکائے بیٹھی چہرہ اُٹھا کر مسکرا کر اسکی جانب دیکھنے لگی۔ہاتھ اسکی ہلکی داڑھی میں الجھے ہوئے تھے۔۔ ’’آئی لو یو ٹو بولنا چاہ رہی ہو۔‘‘وہ اسکی آنکھوں میں پناہ محبت کا اپنا مطلب نکالتا شرارتی آنداز میں سوالیہ گویا ہوا۔۔ ’’ تمہیں کیا لگتا ہے؟‘‘وہ آئی برو اٹھاتی بات کو طول دینے لگی۔ ’’مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ میری متاعِ جان مجھ سے بہت محبت کرتی ہے۔‘‘اسکے لہجے مین ایک مان تھا۔ ’’اور میں تم سے محبت سے زیادہ یقین کرتی ہوں۔۔مجھے کبھی دھوکا نہ دینا اہان ورنہ میں برداشت نہیں کرسکونگی۔۔‘‘وہ کسی احساس کے تحت اس بار سنجیدہ لہجے میں بولی تھی۔وہ گاڑی کی اسپیڈ سلو کر گیا تھا۔۔ ’’یار کیا ہوگیا ہے جان۔۔میں ایسا کیوں کرونگا۔۔تم تو میری جان ہو۔۔‘‘وہ اسے سینے سے لگاگیا،تو وہ ذرا مطمئن ہوئی تھی۔۔جبکہ باقی کا تمام سفرہلکی پھلکی باتوں کے درمیان گزر گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مصطفیٰ!کس وارڈ میں ہے۔۔‘‘وہ بھاگتی ہوئی رسپشنسٹ سے پتہ پوچھتی سیدھی ایمرجنسی وارڈ میں آئی تھی۔۔ ’’ڈاکٹر۔۔۔مصطفیٰ،اور ثمرہ کیسے ہیں؟‘‘وہ گھبراہٹ میں سوالیہ گویا ہوئی۔۔ ’’ان کا اپریشن چل رہا ہے۔پیٹ میں دو گولیاں لگی ہیں۔ دعا کریں اور ہمیں بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ انکے ساتھ موجود فیمل کو بھی ایک گولی لگی تھی مگر یہاں پہنچنے سے قبل ہی پوری باڈی برن ہوچکی تھی۔۔وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گئیں تھیں۔ڈرائیور کی حالت بھی تفشیش ناک ہے۔‘‘عریشہ نے دیوار کا سہارا لیتے خود کو گرنے سے بشمکل بچایا تھا۔۔ کچھ ہی دیر میں وہاں پولیس بھی آگئی تھی۔۔مصطفیٰ اور ثمرہ کے پر جان لیو حملے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔۔ عریشہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ اچانک سے ہو کیا گیا تھا۔۔ملازمہ سے کہہ کر اسنے گھر کے سارے موبائل فون آف کرا دیئے تھےاور لینڈ لائن کا کنکشن کٹ کر دیا گیا تھا۔۔ زنیرہ بیگم کو نیند کی گولی دے کر سلا دیا تھا۔۔جبکہ وہ اب تک مصطفیٰ کی فکر مین ہلکان ہوگئی تھی۔۔جبکہ ثمرہ کو لے کر اسکا دماغ بالکل ماؤف ہوچکا تھا۔۔پولیس اپنی انوسٹیگیشن کر رہی تھی۔۔مگر وہ مصطفیٰ کے ہوش میں آنے کی منتظر تھی۔۔جس کا آپریشن کامیاب رہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصطفیٰ کو اڑتالیس گھنٹے بعد ہوش آگیا تھا۔۔اور اس نے ہوش میں آتے ہی سب سے پہلے ثمرہ کے متعلق پوچھا تھا۔۔۔ ’’عریشہ میں کب سے پوچھ رہا ہوں یار۔ثمرہ ٹھیک ہیں نا۔۔انہیں زیادہ چوٹ تو نہیں لگی۔۔‘‘وہ بمشکل بول پا یا تھا۔۔ ڈرائیور آپریشن کے دوران ہی دم توڑ گیا تھا۔۔ ’’وہ ٹھیک ہے مصطفیٰ۔۔مگر ابھی اس قابل نہیں ہے کہ تم سے ملنے آسکے۔۔‘‘عریشہ نے کڑے دل سے یہ جھوٹ بولا تھا۔۔مگر وہ جانتی تھی کہ وہ زیادہ دیر اس جھوٹ کو چھپا نہیں سکے گی۔۔ ’’پلیز مجھے ثمرہ کے پاس لے چلو۔۔‘‘وہ نیم غنودگی میں مسلسل ضد کرتا ہوش کھو گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دودن بعد۔۔۔۔ مصطفیٰ پر یہ خبر کسی قیامت کی طرح ٹوٹی تھی۔۔ ثمرہ اس دنیا سے جا چکی تھی اور سب نے اسے لاعلم رکھا تھا۔۔۔ ’’ثمرہ کی تدفین ہو گئی تھی۔ مصطفیٰ شاکڈ میں تھا۔۔اسے سمجھ نہین آرہا تھا کہ یہ ہوا کیا تھا۔۔اچانک سے دو روز میں سب بدل گیا تھا۔۔۔ ’’مصطفیٰ یہ تھوڑا سا سوپ پی لو۔۔‘‘ زنیرہ بیگم تو اپنے دوسرے بیٹے کی بھی اس حالت پر لرز کر رہ گئیں تھیں۔۔ ’’مجھ کچھ نہیں پینا ماں۔۔پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔۔‘‘وہ بستر پر چت لیٹا تھا۔۔ نظریں ہسپتال کی چھت پر مرکوز تھیں۔۔ ’’مصطفیٰ اپنی ماں پر تھوڑا سا ترس ہی کھالو۔۔‘‘وہ پھپھک پھپھک کر بولتی رو پڑی تھیں۔جبکہ وہ خود میں اتنی بھی ہمت نہی مجتمع کر سک رہا تھا کہ اپنی ماں کو دلاسہ ہی دے دیتا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آہان پلیز نہیں کریں یار۔۔‘‘وہ اس وقت ہوٹل کے کمرے میں موجود تھے۔جبکہ آئزل اس سے خفگی ظاہر کرتی فاصلے پر جا بیٹھی تھی،جبکہ وہ مسلسل منانے میں کوشاں تھا۔۔ ’’کیا کر رہا ہوں میں۔۔‘‘وہ سمجھ کر بھی انجان بنا۔۔آئزل نے خفگی سے گھورا۔۔ ’’ہمیں ہنی مون پر آئے پورا ایک ماہ ہونے کو آیا ہے اور تمہارا واپس جانے کو دل ہی نہیں کر رہا ۔۔جبکہ اب میں بور ہونے لگی ہوں۔۔‘‘وہ یورپ کی کافی ساری کنٹریز گھومتے گھماتے اب واپسی کے راستہ مالدیپ میں تھے۔۔ ’’تو تم کیا چاہتی ہو؟‘‘وہ اس وقت اپنے بک کرائے گئے ریزورٹ میں موجود تھے۔ ’’بس اب گھر چلتے ہیں۔‘‘اس نے منہ بنایا تو آہان ہولے سے مسکرایا۔۔ ’’یار یہ ہمارا گولڈن پیریڈ ہے۔۔یقین کرو تم بعد میں بہت مس کرنے والی
