Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 19
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 29/05/2026
1 Views
Episode no 19
پھر سے زہر اگلنے لگی تھیں۔۔ ’’کیا آپ خاموش رہ سکتی ہیں؟‘‘شارق کو انکی باتیں حد سے زیادہ ناگوار گزر رہی تھیں۔۔ ’’بھئی ہم تو خاموش ہی ہیں۔۔تم دیکھ لو اپنا۔۔‘‘انہوں نے ناگوار لہجے میں کہتے سر جھٹکا۔۔۔جبکہ جبران صاحب ہنوز خاموشی سادے ہوئے تھے۔۔۔ ’’بابا مجھے آپ سے یہ اُمید ہر گز نہیں تھی۔۔‘‘وہ ناراض لہجے میں بولتا اپنے رُوم میں چلا گیا تھا۔۔۔قصویٰ بھی باپ کو ناراض نگاہوں سے دیکھتی اپنے روم کی جانب چل دی تھی۔۔ ’’ہماری تو ایک بھی اولاد ہماری سگی نہیں ہے۔۔۔‘‘فرناز نخوت بھرے لہجے میں جلے دل کے چھالے پھوڑتیں اپنے روم کی جانب چل دی تھیں،جبکہ جبران کی موجودگی بالکل ایسی تھی گویا وہ وہاں موجود ہی نہ ہوں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمرہ کافی کا مگ لئے آہستہ سے قدم اٹھاتی اسٹڈی میں آئی تھی۔۔جہاں مصطفیٰ چیئر پر بیٹھا سامنے رکھے لیپ ٹاپ پر بڑے انہماک سے اسکرین پر نظریں جمائے کام میں غرق تھا۔۔۔ ’’مصطفیٰ آپ کی کافی!‘‘وہ اسکی موجودگی پہلے ہی محسوس کر چکا تھا،مگر پھر بھی نگاہ اٹھا کر دیکھنا گوارہ نہیں کیا تھا۔۔جبھی ثمرہ نے پکار کر توجہ اپنی جانب مبذول کرانی چاہی۔۔ ’’ہمم!یہیں رکھ دیں۔۔‘‘اس نے ہنکارا بھرتے کہا۔۔ثمرہ کچھ لمحے یونہی کھڑی اسے دیکھتی رہی تھی۔۔ ’’ آپ کو سونا نہیں ہے۔۔رات کافی ہوگئی ہے۔۔‘‘اس نے لب چباتے ایک بار پھر مصطفیٰ کو اپنی جانب متوجہ کیا۔۔۔ ’’کچھ دیر قبل میں نے کہا تھا کہ مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔۔‘‘اس بار مصطفیٰ نے بھی لحاظ نہیں کیا تھا۔۔ ’’تو میں آپ کو ڈسٹرب تھوڑی کر رہی ہوں۔۔بس پوچھ رہی ہوں۔۔‘‘ثمرہ کو اسکے تپے تپے تاثرات مزاح دے رہے تھے۔جبھی وہ ذرا شرارتی لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔ ’’نہیں۔۔مجھے نیند نہیں آرہی۔۔آپ جاکر سوجائیں۔۔اور پلیز میرے سر پر نہ سوار رہیں۔۔‘‘مصطفیٰ نے دانت کچکچا کر کہتے کافی کا ایک سپ لیا تھا۔۔جو کھولتے اعصابوں کو پرسکون کر گئی تھی۔۔ ’’میں کیا کہہ رہی تھی۔۔‘‘وہ اسے یونہی لاپراوہ دیکھ، بات کو تول دیتی گھوم کر اسکی چئیر کے پیچھے آکھڑی ہوئی تھی۔۔۔مصطفیٰ سیدھا ہوگیا تھا۔۔۔جو اب کندھوں پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔۔ ’’ جی فرمائیے اب کونسسی نئی خرافات آئی ہے آپ کے زہن میں۔۔‘‘اس نے جیسے خود کو اسکی فضول گوئی سننے کے لئے تیار کیا تھا۔۔ ’’پہلے آپ بہت کول مائینڈڈ بندے تھے۔۔ مگر اب آپ بہت زیادہ روڈ اور نک چڑے ہوگئے ہیں۔۔ہر وقت غصے میں ہی رہتے ہیں۔۔‘‘ذرا جھک کر کان میں سرگوشیانہ مسکراتے لہجے میں بولتی وہ مصطفیٰ کو بھی مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی۔۔جو اُسکی اپنے عقب میں موجودگی محسوس کر پہلے ہی لیپ ٹاپ لڈ گرا چکا تھا۔۔۔ ’’ مگر مجھ جیسے کول مائینڈڈ بندے کو بھی آپ اپنی باتوں سے غصے سے لال بھبھوکا ہونے پر مجبور کر دیتی ہیں۔۔‘‘وہ رخ پھیرتا،اسکا داہنا ہاتھ پکڑ کر اپنے سامنے لایا تھا۔۔جو مسکراہٹ ضبط کر رہی تھی۔۔ ’’وہ یاد ہیں آپ کو مصطفٰی ۔۔۔ کمپنی میں ایک مسٹر اشفاق صاحب تھے۔۔ایجڈ سے۔۔‘‘اس نے تمہید باندھی ،مصطفیٰ نے ذرا ناسمجھی سے دیکھ اثبات میں سر ہلایا۔۔ ’’ وہ کہتے تھے نا کہ بیوی کا غصہ تو اچھے اچھوں کا دماغ گھما بھی دیتا ہے۔اور سرپھروں کو راہ راست پر بھی لے آتا ہے۔۔۔۔تو بس آپ کمر کس لیں، اب آپ بھی آہستہ آہستہ عادی ہو ہی جائیں گے۔۔۔‘‘وہ اپنی بات کہتی ،خود ہی لطف اندوز ہوتی، قہقہہ لگا کر ہنسی تھی۔ مصطفٰی نے بھی مسکراہٹ دباتے ذرا خشمگین نظروں سے گھورا تھا۔۔ ’’اچھا اب مجھے گھوریں نہیں۔۔اپنا کام کریں۔۔میں جارہی ہوں سونے۔۔۔‘‘وہ مزے سے بولتی اب پلٹنے لگی تھی۔جبھی مصطفیٰ نے اسکی کلائی پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تھا۔۔اور وہ سیدھی اسکے حصار میں آگری تھی ۔۔ ’’مصطفیٰ!‘‘وہ اس اچانک افتاد پر ایک لمحے کو سٹپٹا کر اسے فاصلہ قائم کرنے لگی،جو آنکھوں میں معنی خیز سی چمک لئے اسکے گھبرائے چہرے کو بڑی دلچسپی سے نہار رہا تھا۔۔ ’’جی جانِ مصطفیٰ!‘‘اس طرزِ تخاطب پر ثمرہ مزاحمت ترک کرتی اسے ہونقوں کی مانند تکنے لگی تھی۔۔منہ ذرا کھلا ہوا تھا۔۔آنکھوں میں بے یقینی تھی۔۔ ’’منہ تو بند کرلیں یار ،،اب ایسا بھی کیا کہہ دیا میں نے۔۔‘‘اس کے اس قدر عجیب ریکشن پر وہ خفا ہوا۔۔پہلے ثمرہ کتنی ہی دیر تک اسٹل یونہی اسکے حصار میں بیٹھی رہی تھی۔۔پھر یکدم ہی قہقہہ لگا کر ہنس پڑی تھی۔۔۔ ’’نہیں۔۔نہیں۔۔۔آپ جیسے گریس فل بندے کے منہ سے یہ والے الفاظ بالکل اچھے نہیں لگ رہے مصطفیٰ۔۔یہ تھوڑا چیپ ہوگیا۔۔‘‘وہ مسکراہٹ دباتی شرارتی لب و لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔ جاری ہے
