Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 19
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 29/05/2026
1 Views
Episode no 19
کبھی بھی مجھے اپنے گھر میں برداشت نہیں کریں گی۔۔اور میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے آپ کے اور آنٹی کے تعلقات خراب ہوں۔۔‘‘نظریں جھکائے ،دونوں ہتھیلیاں آپس میں مسلتی وہ بہت دقت سے رندھے ہوئے لہجے میں بولی تھی۔۔مصطفیٰ کے چہرے پر چٹانوں سی سختی دَر آئی تھی۔۔ …………………… ’’کیا کہا آپ نے ثمرہ؟‘‘مصطفیٰ کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔سیاہ آنکھیں ضبط سے سرخ پڑگئی تھیں۔۔چہرے پر سختی در آئی تھی۔یہ لڑکی کتنی آسانی سے اسے چھوڑنے کی بات کر گئی تھی۔۔۔ ’’ مصطفیٰ یہی ہمارے حق میں۔۔‘‘مصطفیٰ کے بگڑے تیور دیکھ وہ لب چباتی، اپنا جملہ مکمل کرتی اِس سے قبل ہی مصطفیٰ ایک لمحے میں اسکا بازو جکڑ کر قریب کر گیا۔۔۔اپنے بے حد نزدیک مصطفیٰ کے غصّے سے بھرے تاثرات دیکھ ثمرہ کو اپنے جان ہوا ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔ ’’محترمہ یہ نکاح ہوا ضرور آپ کی مرضی سے تھا۔۔مگر اب نبھانا ہے یا ختم کرنا ہےاس کا فیصلہ میں کرونگا۔‘‘اسکی بیوہ قوفی پر مصطفیٰ کا دماغ جھنجھا اٹھا تھا۔۔ ’’ مگر مصطفیٰ آنٹی۔۔۔۔‘‘اُس نے اُسکے بگڑے تاثرات دیکھ کترا کر جواز پیش کرنے کی کوشش کی۔۔ ’’آنٹی کو سنبھالنے کے لئے آنٹی کا بیٹا مر تو نہیں گیا ناثمرہ۔۔۔ابھی میں زندہ ہوں۔۔سنبھال لونگا آپ کی آنٹی کو بھی۔۔آپ اپنا ہی چھوٹا سا دماغ ذرا کم چلائیں تو ہی بہتر ہے ۔۔۔‘‘ مصطفیٰ دانت کچکچا کر غرایا تھا۔۔وہ جب جب چاہتا تھا کہ اپنے اور ثمرہ کے اس عجیب و غریب سے رشتہ کو کوئی محبّت بھرا اعزاز ہی بخش دے ۔۔تبھی وہ لڑکی کچھ انوكها کر ڈالتی تھی ۔ ’’یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں مصطفیٰ۔۔۔اللہ نے کرے آپ کو کچھ ہو۔۔‘‘ثمرہ اسکے لہجے کی کڑواہٹ پر خوف زدہ لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔دل کی ڈھڑکنیں تیز ہوئیں تھیں۔۔ ’’تو پھر آپ نے اس قدر احماقانہ بات کی کیسے؟‘‘اسکا غصہٰ ہنوز برقرار تھا۔۔ ’’میں آپ کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی۔‘‘ وہ نظریں چرا کر شرمندہ سی گویا ہوئی۔۔ ’’اوہ تو آ پ نے کیا مجھے بے غیرت قسم کا مرد سمجھ کر رکھا ہے۔۔ جو مشکل وقت میں ماں کی خوشی کی خاطر ، اپنی بیوی کو تنہا چھوڑ دونگا۔۔‘‘مصطفیٰ کو اسکا یہ تقاضہ کسی ہتھوڑے کی مانند دماغ پر لگا تھا۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اپنے غصےٰ پر قابوں نہیں پاسکا تھا۔۔۔ ’’میرا وہ مطلب نہیں تھا مصطفیٰ!‘‘اس نے گڑبڑا کر صفائی دینی چاہی۔۔ ’’ تو پھر آپ کا مطلب کیا ہے ثمرہ؟‘‘وہ آنکھوں میں بے پناہ سرد مہری لیے غصے سے بولا تھا۔۔ ’’کوئی مطلب نہیں ہے میرا۔۔ہاتھ چھوڑیں میرا،اتنا سختی سے پکڑا ہے۔۔توڑیں گے کیا۔۔‘‘ثمرہ کو بھی غصہٰ آیا تھا ،اور اپنا ہاتھ اسکی سخت گرفت سے ایک جھٹکے سے آزاد کراتی خفگی سے بولتی ذرا فصلے پر ہوئی ۔۔اسکا جسم پہلے ہی درد کررہا تھا اور اب مصطفیٰ کا رویہ اسکا دل کیا چیخ مار کر رونا شروع کردے۔۔۔مصطفیٰ نے اسکے لہجے میں لاپرواہی محسوس کر سر ہاتھوں میں گراتے ایک سرد آہ خارج کی تھی۔۔۔۔۔ ’’میرے خیال سے میں نے اس رشتے کو سمجھنے کے لئے آپ کو جتنا وقت دینا تھا وہ اب زیادہ ہو چکا ہے۔۔‘‘ثمرہ نے ہنوز لاپرواہی سے نظریں پھیرتے اسکی بات کو سنا ان سنا کرنا چاہا تھا۔۔ ’’یہ برتن کچن میں واپس رکھ کر آئیں ۔۔اور کسی ملازم سے کہہ کر میرے لئے ایک کافی منگوا دیں پلیز۔۔۔آپ کی فضول گوئی نے میرا دماغ گھوما دیا ہے ۔۔میں اسٹڈی میں اپنے افس کا کام کرنے جارہا ہوں ،اور خبردار جو کسی نے بھی مجھے ڈسٹرب کیا۔۔‘‘ثمرہ کے رویے پر اسے ایک بار پھر تپ چڑھی تھی۔۔جبھی وہ خفگی سے کہتا سائیڈ ٹیبل پر رکھا اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر اسٹڈی میں بند ہوگیا تھا۔۔ثمرہ نے بھی نخوت سے سرجھٹکا تھا۔۔جبکہ دماغ آب نئے تانے بانے بننے میں مصروف تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’الماس خالہ آنٹی کہاں ہیں؟‘‘ثمرہ نے کچن میں آتے الماس خالہ سے استفسار کیا،جو سنک میں پڑے برتن دھو رہی تھیں۔۔ ’’بیٹا وہ تو صبح سے کمرے میں ہیں۔۔آپ کی طبیعت کیسی ہے اب؟‘‘انہوں نے افسوس سے ثمرہ کا پھٹا ہوا ہونٹ دیکھا تھا۔۔۔ ’’ٹھیک ہوں۔۔۔‘‘اس نے مسکرانے کی ناکام سعی کی تھی۔ ’’بیٹا بیگم صاحبہ!صاحب کے زمانے سے بہت سوبر اور نفیس خاتون رہی ہیں۔۔لڑائی جھگڑا کس بلا کا نام ہے یہ تو اس گھر کے فرد جانتے ہی نہیں،مصطفیٰ جیسے نفیس بیٹے کی تربیت زنیرہ خاتون نے ہی کی ہے۔۔۔لیکن جب سے چھوٹے صاحب اس دنیا سے گئے ہیں۔۔۔ بیگم صاحبہ کو معلوم نہیں کیا ہوا ہے۔۔مجھے یاد ہے آج بھی وہ دن جب مصطفیٰ بابا نے پہلی بار آپ کے لئے اپنی پسند کا اظہار کیا تھا۔۔وہ جلد از جلد آپ کو اپنی بہو بنانا چاہتی تھیں،مگر پھر پتہ نہیں کیا ہوا۔۔مصطفیٰ بابا آسٹریلیا چلے گئے۔۔۔۔پھر جب وہ وہاں سے واپس آئے پھر تو آپ کو سب پتہ ہی ہے۔۔۔حالات کا تقاضہ ہے ورنہ بیگم صاحب ہر گز بھی دل کی بُری نہیں ہیں۔۔۔‘‘ ثمرہ نگاہیں جھکائے خاموشی سے سن رہی تھی۔۔ ’’آپ کسی کام سے آئی تھیں؟‘‘کچھ لمحے دونوں کے مابین خاموشی حائل رہی تھی۔۔ ’’جی مصطفیٰ کے لئے کافی بنانی تھی۔۔‘‘دماغ میں یکدم جھماکا ہوا تھا کہ وہ اپنے ناراض شوہر کو رُوم میں اکیلا چھوڑ آئی تھی۔۔۔ ’’ میں بنا دوں؟‘‘انہوں نے پیشکش کی۔۔ ’’نہیں خالہ بہت شکریہ۔۔میں بنا لونگی۔۔مصطفٰی کو ویسے بھی میرے ہاتھ کی کافی پینی تھی۔۔۔‘‘وہ دھیمی مسکراہٹ سے گویا ہوتی اب تیزی سے ہاتھ چلاتی مصطفیٰ کے لئے کافی پھینٹ رہی تھی۔۔ ’’چلیں بیٹا جی پھر آپ کافی بنائیں۔۔۔‘‘ وہ بھی مسکراتی ہوئی اپنے کاموں میں غرق ہو گئی تھیں۔۔جب کہ ثمرہ کا دماغ مصطفیٰ میں ہی اٹکا ہوا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آئی مس یو سو مچ بھائی!‘‘قصویٰ کتنی ہی دیر سے بھائی کے سینے سے لگی بیٹھی تھی،جو آج صبح ضمانت پر گھر آیا تھا۔۔۔اسے جیسے ہی علم ہوا تھا وہ بھاگی بھاگی گھر واپس آئی تھی۔۔۔۔ ’’ثمرہ کی کوئی خیر خبر لی آپ لوگوں نے؟‘‘وہ صبح سے کوئی دس مرتبہ ایک ہی سوال دہرا چکا تھا۔۔ ’’بیٹا جی تمہاری بہن کی کیا خیر خبر لینی۔۔ اس نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے۔۔‘‘فرناز نے ذرا چڑ کر جواب دیا ۔۔۔ ’’آنٹی پلیز۔۔۔میں جانتا ہوں کہ آپ لوگوں نے مجبور کیا ہوگا۔۔‘‘ شارق نے ذرا ناگواری سے باپ کی جانب دیکھا۔۔ ’’ایگزیکٹلی۔۔اور سب غلطی مما کی ہے بھائی۔۔انہوں نے ثمرہ کو مجبور کیا۔۔اور وہ احد مصطفیٰ اور اسکا خاندان اس کے ساتھ ملازماؤں جیسا سلوک کرتے ہیں۔۔۔اور بابا؟؟بابا نے تو ثمره سے اس نکاح کی وجہ تک پوچھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔۔خیر خبر لینا تو دور کی بات۔۔‘‘قصویٰ نے ماں کی گھورتی نگاہیں نظر انداز کر جھٹ بھائی کو شکایت لگائی تھی۔۔جس نے لب بھینچ لئے تھے۔۔۔ ’’بہت غلط کیا ہے آپ لوگوں نے۔۔‘‘اس نے تاسفی نظروں سے باپ کی جانب دیکھا جو نگاہیں چرا گئے تھے۔۔۔۔ ’’بس قصویٰ ہم کل ہی وکیل کے ساتھ احد مصطفیٰ کے گھر جائیں گے۔۔میری بہن لاوارث نہیں ہے ،کہ جس کا جو دل چاہے وہ کر گزرے۔۔‘‘شارق کو باپ کی جانب سے کی گئی یہ زیادتی ایک آنکھ نہیں بھائی تھی۔۔وہ بھلے اس پر جتنا ہی غصہ کرتا تھا۔۔مگر وہ جانتا تھا کہ اس کی بہن اس سے کس قدر محبت کرتی تھی۔۔اور یہ قربانی بھی اس نے صرف اسی کی وجہ سے دی ہوگی۔۔ ’’مرضی ہے تمہاری ، ویسے تمہاری بہن بہت خوش ہے وہاں ۔۔۔فضول میں ہی جاؤ گے۔۔دیکھ لینا وہ واپس نہیں آئے گی۔۔کیونکہ اس نے تمہاری آڑ میں اپنی سابقہ محبت کو حاصل کیا ہے۔۔‘‘وہ ایک بار
