Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 19
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 29/05/2026
1 Views
Episode no 19
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_19 ’’ اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں ہے۔۔میں سمجھاؤنگا ماں کو۔۔‘‘وہ اب ہولے ہولے اسکا سر تھپک رہا تھا۔۔وہ روتی روتی نیم غنودگی میں چلی گئی تھی۔۔ ’’ثمرہ!‘‘اس نے اسے پکارا مگر گردن پر پڑتی گرم سانسوں سے محسوس ہوا وہ سو چکی تھی۔۔ ’’آئی ایم سوری سویٹ ہارٹ!‘‘وہ اسکے ماتھے پر پیار کرتا لیٹا کر کمبل برابر کر گیا ۔۔ساتھ ہی قدم اٹھا کر ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا۔۔اب اسکا آفس جانے کا کوئی خاص ارادہ نہیں تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام کے سائے گہرے ہورہے تھے۔۔ آج آئزل اور اہان کی مایوں تھی۔۔کمبائن فنکشن تھا۔۔ مایوں کا انتظام سکندر ہاؤس کے لان میں رکھا گیا تھا۔۔ نیلے رنگ کے غرارے میں ملبوس آئزل اپنے قدرتی حسن سے آراستہ سفید پجامہ سوٹ زیب تن کئے بیٹھے اہان کے برابر میں بیٹھی۔۔اسکی کسی نہ کسی معنی خیز بات پر مسلسل مسکرا رہی تھی۔۔ ’’آئزل مجھےسے صبر نہیں ہو رہا یار۔۔۔یہ دن کب گزریں گے۔۔‘‘ وہ ایک بار پھر کانوں میں سرگوشیانہ گویا ہوا۔۔آئزل نے ذرا گردن ترچھی کرا سے گھورا۔۔کیونکہ اسکا بھائی اسی کی جانب آرہا تھا۔۔ سفید شلوار سوٹ میں ملبوس ،بالوں کو پیچھے کی جانب سیٹ کئے وہ چہرے پر ازلی سنجیدگی سجائے ہوئے کتنی ہی لڑکیوں کی نظروں میں تھا۔۔۔ ’’مبارک ہو ۔۔‘‘اس نے نزدیک آتے اہان کو سینے سے لگایا تھا۔۔جو سالے کو گلے سے لگاتا کھل کر مسکرایا تھا۔۔ ’’خیر مبارک سالے صاحب۔۔‘‘وہ جو روہانسی ہوتی آئزل کو سینے سے لگائے کھڑا تھا کہ اہان کی شوخ آواز پر دھیرے سے مسکرایا۔۔ ’’سُدھر جاؤ تم۔۔‘‘اس نے ذرَا گھور کر دیکھا۔۔مگر اُسکی گھوریوں کا اس پر کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔ ’’میری بہن کا خود سے زیادہ خیال رکھنا۔۔اگر ذرا سی بھی تکلیف پہنچائی نا تو پھر سالا بن کر دکھاؤں گا تمہیں۔۔‘‘اس نے تنبیہ کرنا ضروری سمجھی تھی۔۔وہ کھل کر مسکرایا۔۔۔ ’’ یہ بھی کوئی کہنے والی بات ہے۔۔اپنی جان کا خیال میں ،خود سے زیادہ کرونگا۔۔‘‘وہ ہنوز شرارتی لہجے میں گویا ہوا۔۔ آئزل بھائی کے سامنے اسکی اس بے باکی پر جھینپ سی گئی تھی۔۔ ’’اچھا تم دونوں بیٹھو میں انکل وغیرہ سے مل کر آتا ہوں۔۔‘‘وہ آئزل کوپیار کرتا اسٹیج سے اُتر گیا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا سیاہ اندھیرا ہر سو اپنے پنکھ پھیلا چکا تھا۔۔۔۔وہ اور مجتبیٰ کچھ دیر قبل ہی گھر لوٹے تھے۔۔آئزل چہرے پر ایک حسین مسکراہٹ سجائے ہاتھوں کی چوڑیاں اتار رہی تھی۔۔جبھی سنگھار آئینے پر رکھا اسکا موبائل تَھرتَھرایا تھا۔۔۔اسکرین پر نگاہ پڑتے ہی اسکے لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ کھل گئی تھی۔۔ ’’السلام علیکم!‘‘کال ریسو کرتے اسنے لب دانتوں تلے دبائے۔ ’’وعلیکم السلام!کیسی ہیں ملکہ عالیہ!‘‘دوسری جانب سے اسکی شوخ سی آواز ابھری تھی۔۔ ’’میں بالکل ویسی ہیں جیسی کچھ دیر قبل تھی۔۔‘‘وہ بھی شوخی سے جواب دیتی اب وائپس سے چہرے پر لگے اوبٹن کے نشان مٹا رہی تھی۔۔ ’’مطلب حسین،اور میری۔۔۔‘‘وہ ذرا دلربائی سے گویا ہوا۔۔ ’’ہاہا۔۔۔اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو جناب ایسا ہی ہوگا۔۔‘‘اس نے بھی نفی نہیں کی تھی۔۔پھر قہقہہ لگا گیا۔۔ ’’افف آئزل یہ دو دن کب گزریں ے یار۔۔اب مزید انتظار نہیں ہورہا ۔۔‘‘اس کی بے چینی حد سے سوا تھی۔۔ ’’ اہان صاحب اتنا اتاولا پن اچھا نہیں ہوتا۔۔‘‘اسکا چہرہ حیا سے سرخ ہوا تھا۔۔ ’’یار صبر ہی تو نہیں ہورہا۔۔اب بس تم مجھے دلہن کے روپ میں اپنے روم میں چاہئے ہو۔۔‘‘وہ اپنی دلی کیفیت بیان کر رہا تھا۔۔۔ ’’ میں کال بند کر رہی ہوں۔مجھے نیند آرہی ہے۔۔‘‘اس نے جھٹ دامن بچایا تھا۔ ’’ سچ میں۔۔میری تو آپ کی یاد میں نیندیں ہی اڑی ہوئی ہیں۔۔‘‘وہ مزید شوخا ہوا۔۔ ’’اوکے بائے۔۔‘‘اس سے قبل کے وہ پٹری سے اُترتا وہ رابطہ منقطع کر گئی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمرہ کی آنکھ رات گئے دیر سے کھلی تھی۔کمرہ میں ہلکی ہلکی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔۔کچھ دیر تو وہ یونہی بے حس و حرکت بستر پر چت لیٹی رہی۔۔پھر نظر گھمائی تو سیدھی نِگاہ مصطفیٰ سے ٹکرائی تھی۔۔ جو لیپ ٹاپ گود میں رکھے انہماک سے جھکا ٹائپنگ میں مصروف تھا۔۔نیم اندھیرے میں لیپ ٹاپ کی روشن ہوتی کیز کے باعث اسکے چہرہ پر اچھی خاصی روشنی سی جمگما رہی تھی۔۔ماتھے پر بل ڈالے وہ اسکی جانب غافل تھا۔۔وہ کتنی ہی دیر یونہی مصطفیٰ کو تکتی رہی تھی۔محبوب کو اپنے سامنے دیکھ لینا ہی محب کے لئے سب سے بڑی دوا ہوتی ہے۔۔اور ثمرہ کی ہر تکلیف کی بہترین دوا مصطفیٰ کی موجودگی اور اسکا نرم خو انداز تھا۔۔جو کچھ بھی ہوجائے مگر ماتھے پر ایک بھی شکن لائے بغیر ویسا کا ویسا ہی رہتا تھا۔۔۔۔اور پتہ نہیں کتنی دِیر گزر جاتی وہ یونہی اسے دیکھتی رہتی۔۔گر جو مصطفیٰ کی نگاہ اس پر نہ پڑتی۔۔ ’’اٹھ گئیں آپ؟‘‘وہ کافی دیر سے ثمرہ کی نظروں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کر رہا تھا۔۔مگر اسے بے خودی میں تکتا پاکر اسنے ڈسٹرب کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔۔ ’’ہمم!آپ کیا کر رہے ہیں؟‘‘وہ کہنیوں کے بل اٹھ بیٹھی تھی۔ ’’کچھ خاص نہیں۔۔آپ بتائیں۔۔طبیعت ٹھیک ہے۔۔‘‘وہ سوتے میں ہی اسکے ہونٹوں پر جیل لگا چکا تھا۔۔ثمرہ کو اپنے ہونٹ سن سے محسوس ہوئے تھے۔۔اسنے ہاتھ لگا کر محسوس کرناچاہا تھا۔۔ ’’اہمم!رہنے دیجیے۔۔۔انٹمنٹ لگی ہے۔۔‘‘ اس نے اسے باز رکھا۔۔ ’’آپ آفس نہیں گئے کیا؟‘‘اسے یونہی کیجول سے حلیہ میں بیٹھا دیکھ اسے احساس ہوا۔۔نظر گھما کر دیکھا تو رات کا اندھیرا تقریباً پھیل چکا تھا۔۔ ’’نہیں۔۔کافی تھکن ہوگئی تھی۔۔بس اسی لئے۔۔آپ اٹھ جائیں۔۔فریش ہوجائیں پھر میں ڈنر روم میں ہی منگوا لیتا ہوں۔۔‘‘ مصطفیٰ کی ریکوئسٹ کرنے پر عریشہ نے کھانا زنیرہ کے ساتھ ہی کھا لیا تھا۔۔مصطفیٰ بھی ساتھ دینے کے لئے بیٹھ گیا تھا۔۔مگر اب اسکا ارادہ ثمرہ کے ساتھ کھانا کھانے کا تھا۔۔کیونکہ وہ صبح سے بھوکی سو رہی تھی۔۔ ’’نہیں۔۔ہم باہر ہی چل کر کھاتے ہیں۔۔‘‘وہ خود پر سے کمفرٹر اتارتی پاؤں فرش پر رکھتی جانے اب بکھرے بالوں کا جوڑا بنا رہی تھی۔۔۔ ’’ آہمم!آپ فریش ہوکر آجائیں۔میں یہیں منگوالیتا ہوں۔۔۔‘‘اس نے نفی کی تو وہ دوپٹہ گلے میں ڈالتی خاموشی سے اٹھ گئی تھی۔۔مصطفیٰ نے ایک گہری سانس بھرتے روم انٹرکوم اٹھا کر ملازمہ کو کھانا روم میں لانے کی تاکید کی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ فریش ہوکر روم میں آئی تب تک مصطفیٰ کھانا روم میں منگوا چکا تھا۔۔وہ صوفے پر بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا۔۔ جو کہنیوں سے آستین درست کرتی دھیرے سے قدم اٹھاتی نزدیک آئی تھی۔۔ ’’بیٹھیں۔۔‘‘وہ اسے آتا دیکھ اب نرمی سے بولا۔۔ثمرہ خاموشی سے بیٹھ گئی تھی۔۔جس نے ہمیشہ کی طرح پہلے اسکی پلیٹ میں کھانا ڈالا تھا۔۔اور پھر اپنے لیے نکالتا ساتھ ساتھ اسکی پلیٹ سے بھی لقمے اُٹھا رہا تھا۔۔۔ کھانا بہت خاموشی سے کھایا گیا تھا۔۔ثمرہ سر جھکائے بیٹھی تھی۔جبکہ مصطفٰی ڈیزرٹ پیالے میں نکالتا اس میں دوچمچہ لگا چکا تھا۔۔ ’’ثمرہ ۔۔‘‘اس نے پیالہ اسکی جانب بڑھایا۔۔ ’’مصطفیٰ میرا دل نہیں ہے۔۔‘‘اس نے بے چارگی سے کہا۔۔ ’’تھوڑا سا کھا لیں۔۔بہت مزے کا بنا ہوا ہے۔۔‘‘ایک چمچ بھر کر اسکے منہ کی جانب بڑھایا تو وہ اسکا دل رکھنے کی خاطر تھوڑا سا کھانے لگی۔۔اب وہ اپنے ساتھ ساتھ اسی چمچ سے اسکے منہ میں بھی ڈالتا جا رہا تھا۔۔۔جو ہلکی پھلکی باتیں کرتا اسکا موڈ اچھا کرنا چاہ رہا تھا۔۔مگر وہ تو کسی اور ہی سوچوں میں گم بیٹھی تھی۔۔۔ ’’مصطفیٰ میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔‘‘وہ جیسے کسی فیصلے پر پہنچی تھی۔۔۔اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔۔ ’’کیسا فیصلہ؟‘‘وہ متفسر لہجے میں گویا ہوا۔۔ ’’ میں اپنے گھر واپس جانا چاہتی ہوں۔۔جب شارق کی ضمانت ہوگئی ہے تو آنٹی
