Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 18
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 28/05/2026
1 Views
Episode no 18
اپنے گلاس روم آفس کی جانب بڑھی۔۔ ’’اللہ جانے مجھے یہ نواب زادی ہر جگہ کیوں ٹکرا جاتی ہے۔۔‘‘اس نے تاسفی سانس خارج کی ۔ساتھ ہی قدم اسکے آفس کی جانب بڑھائے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مے آئی کم ان۔۔‘‘وہ جو ریلکس ہوکر بیٹھتی اسکی سی وی پر ایک تفصیلی نگاہ دوڑا رہی تھی۔۔اسکے یوں اجازت لینے پر دھیرے سے مسکرائی۔۔ ’’آجائیں مجتبیٰ آصف !‘‘اب وہ سیدھی ہوکر بیٹھ گئی تھی۔۔ ’’بیٹھیں۔۔‘‘وہ خاموشی سے بیٹھ گیا تھا۔۔عجیب سی شرمندگی بھی تھی۔۔ ’’ میں نے آپ کی سی وی دیکھی۔۔۔ہمیں ویسے تو گرافک ڈئزانر کی ابھی نیڈ نہیں ہے۔۔بٹ آپ کی سی وی دیکھتے ہوئے میں آپ کو ہائر کر رہی ہوں۔۔‘‘عریشہ کی بات سن کر مجتبیٰ کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے تھے۔۔ ’’اس عنایت کی کوئی خاص وجہ؟‘‘ وہ خشک لہجے میں استفسار کر رہا تھا۔جبکہ اب وہ تیزی سے لیپ ٹاپ اسکرین پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔۔ ’’عنایت تو نہیں ہے۔۔بٹ ہمیں دو ماہ بعد آپ جیسے قابل بندے کی ضرورت پڑنے والی ہے۔۔اور آپ کا ایک کام بھی اچھا ہے۔میں نے ابھی آپ کا پروٹفولیو چیک کیا ہے۔کافی امپریسیو ہے۔‘‘اس نے سراہا تھا۔۔ ’’ویسے جب آپ کے پاس آنلائن جاب ہے تو پھر یوں خواری اٹھانے کی کوئی خاص وجہ۔۔‘‘اب وہ باز پرس پر اتری تھی۔۔جو نجانے کیوں خائف سا دکھائی دے رہا تھا۔۔ ’’ آنلائن جاب کافی تو نہیں ہوتی نا۔۔۔ایک مستقل جاب کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔۔‘‘وہ سمجھ کر سر ہلاتی،اب سیلری پیکج کے بابت ڈسکس کر رہی تھی۔ ’’کنوگریچولیشنز!آپ ہمیں کل سے جوائن کر سکتے ہیں۔‘‘مجتبیٰ ذرا کشمکش میں دکھائی دے رہا تھا۔۔ ’’اینی پروبلم!‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔۔ ’’اکچوئیلی کل میری بہن کی شادی ہے۔۔تو میں اس ہفتے جوائننگ نہیں دے سکوں گا۔۔‘‘اس بار وہ سیدھا مدعے پر آیا۔۔ ’’اوہ تو اس میں اتنا پریشان ہونے کی کیا بات ہے۔آپ ہمیں نیکست منتھ کی ٹین سے جوائن کرلیجئے گا۔۔‘‘ مجتبیٰ سر ہلاگیا۔۔ ’’تھینک یو سو مچ میم!‘‘اب وہ وہاں سے نکل آیا تھا۔۔عریشہ کی پرسوچ نگاہوں نے دور تک اسکا پیچھا کیا تھا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصطفیٰ زنیرہ بیگم کو نیند کی گولی دینے کے بعد دھیرے سے قدم اُٹھاتا اپنے روم میں واپس آیا تھا۔۔کمرہ اَندھیرے میں ڈُوبا ہوا تھا۔۔۔ثمرہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔۔ ’’ثمرہ!‘‘اس نے دھیرے سے پکارا۔۔۔مگر جواب ندار۔۔ ’’ثمرہ۔۔آپ مجھے سن رہی ہیں؟‘‘اس بار اسکی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔۔جبھی اسنے پلٹ کر واشروم کی جانب دیکھا ،واشروم کی لائٹ آف تھی مگر دوازہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا۔۔ ’’ثمرہ!‘‘وہ ایک بار نوک کرنے کے بعد سیدھا واشروم میں انٹر ہوا تھا۔۔ ’’ثمرہ!‘‘ثمرہ کو یوں ایک کونے میں سکڑا سمٹا سا بیٹھا دیکھ۔وہ واشروم کی لائٹ آن کرتا ،دوڑ کر قریب گیا تھا۔۔ ’’یہ کیا حالت بنا رکھی ہے آپ نے اپنی؟‘‘وہ ٹھنڈے فرش پر پاؤں سمیٹ کر بیٹھی شاید رُو رَہی تھی۔۔وہ اپنے آفس ڈریس کی پرواہ کئے بغیر قریب ہی پاؤں میں بیٹھ گیا تھا۔۔۔ ’’ثمرہ۔۔یہ کیا حالت بنا لی ہے۔۔۔آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں؟‘‘ اس نے اسکا چہرہ اٹھا کر اپنے سامنے کیا۔۔چہرہ آنسوؤں سے تَر تھا۔۔۔ بال بھیگے ہوئے تھے۔ ہاتھ پاؤں لرز رہے تھے۔۔ پھٹے ہوئے ہونٹ،وہ ابھی تک اسی لباس میں ملبوس تھی۔۔۔ مصطفیٰ نے اسے کچھ بھی کہے بغیر ایک جھٹکے سے اپنے حصار میں اٹھاتے قدم بیڈ روم کی جانب بڑھائے تھے۔۔ثمرہ یونہی ساکت و صامت رہی تھی۔۔۔اس کے وجود میں کوئی ہل چل نہیں ہوئی تھی۔۔۔ ’’وہ دھیرے سے قدم اُٹھاتا بیڈ پر بیٹھاتا اسکے قریب ہی بیٹھتا خاموشی سے اسکا چہرہ تکنے لگا۔۔جو نگاہیں فرش پر جمائے بالکل سن سی بیٹھی تھی۔۔ ’’آئی ایم سوری۔۔۔میں جانتا ہوں یہ سب میری غلطی ہے۔۔۔پلیز مجھے معاف کردیں۔۔‘‘اس نے آگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔۔جو اسکا نرم لمس پاتے ہی یکدم بکھر گئی تھی۔۔۔اور سسکیوں سے روئی تھی۔۔ ’’میرا کیا قصور ہے مصطفیٰ!میں نے تو آپ سے نہیں کہا تھا کہ شارق کی ضمانت کرائیں۔۔اب تو میں آ پ سے بھی کچھ نہیں کہتی۔۔پھر آنٹی مجھ سے کس بات پر غصہ ہیں۔۔‘‘وہ اسکی شرٹ مٹھیوں میں جکڑتی آنسوؤں سے رو پڑی تھی۔۔۔۔ جاری ہے
