Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 18
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 28/05/2026
1 Views
Episode no 18
پر تو جیسے جنون طاری ہوگیا تھا۔۔ جبکہ اسکرین پر ابھرتے مصطفیٰ کے چہرے کو دیکھ انہیں مزید دکھ ہوا تھا۔۔جو میڈیا کے سوالوں سے بچتا اپنے گاڑی میں جابیٹھا تھا۔۔۔۔ ثمرہ۔۔۔۔ثمرہ۔۔۔‘‘وہ وہیں سے بیٹھے بیٹھے یکدم ہی چلائی تھیں۔۔ ’’جی۔۔جی آنٹی۔۔کیا ہوا؟‘‘وہ یکدم دُوڑی ڈوری سی باہر آئی تھی جہاں وہ طیش اور غصے کے ملے جلے تاثرات چہرے پر سجائے اسکی آمد پر اُٹھ کھڑی ہوئیں تھیں۔۔ ’’بد بخت یہ سب تمہاری وجہ سے ہور ہا ہے۔۔ یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے۔۔۔تم ہو اصل فساد کی جڑ میرا بیٹا تمہاری وجہ سے یہ سب کر رہاہے۔۔میں تمہیں نہیں بخشونگی۔۔بے غیرت بے حیا بے شرم۔۔‘‘وہ ایک ہی جست میں اسکے نزدیک آتیں بالوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ چکی تھیں۔۔ثمرہ کی چیخیں بے ساختہ تھیں۔۔ ’’آنٹی۔۔۔‘‘اس نے اپنے بال انکی گرفت سے نکالنے چاہے۔۔ ’’تمہارا بھائی آج رہا ہوگیا۔۔۔مصطفیٰ نے کچھ نہیں کیا۔۔وہ تمہاری محبت میں اندھا ہوگیا ہے۔۔اسے اپنے معصوم بھائی کا خون بھول گیا ہے۔۔بے شرم عورت۔۔۔‘‘وہ غصے میں آپے سے باہر ہوتیں اسکے منہ پر پے در پے تھپڑ رسید کرتی گال سُرخ کر چکی تھیں۔۔۔ ’’آنٹی۔۔میں کچھ نہیں جانتی۔۔‘‘اس نے روتے ہوئے اپنی صفائی دی۔۔سارے ملازمین جما ہوگئے تھے۔۔ ’’بیگم صاحبہ یہ کیا کر رہی ہیں آپ۔۔۔ دلہن بی بی کو مار کیوں رہی ہیں۔۔اگر احد صاحب کو پتہ چلا تو وہ بہت خفا ہونگے۔۔‘‘ الماس خالہ کو خبر لگتے ہی وہ بھاگ کر آتیں ثمرہ کو انکی گرفت سے آزاد کرانے لگیں۔۔ ’’دور ہٹ جاؤ تم۔۔خبردار جو میرے بیچ میں آئیں یا اس کو بچانے کی کوشش بھی کی تو۔۔‘‘وہ اچانک ہی آپے سے باہر ہوئیں تھیں۔۔ ’’مگر بیگم صاحبہ۔۔‘‘ ’’چپ خاموش۔۔۔اور تم سارے یہاں کھڑے کونسا تماشہ دیکھ رہے ہو سب دفعہ ہوجاؤ یہاں سے۔۔‘‘وہ غصےٰ سے غرائی تھیں۔۔ثمرہ کے بال ابھی بھی انکی گرفت میں تھے۔۔ ’’یہی چہرہ ہے نا جس کا جادو تم نے مصطفیٰ پر چلا رکھا ہے۔۔‘‘بولتے بولتے انکا تنفس پھول گیا تھا۔۔ ’’مجھے معاف کردیں۔۔میں نے مصطفیٰ سے کچھ نہیں کہا ہے آنٹی۔۔پلیز میری بات کا یقین کریں۔۔‘‘اس نے دہائی دی۔۔ وہ سنی ان سنی کرتی اسے گھسیٹی ہوئی باہر لائی تھیں۔۔اسکا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔۔ہونٹ پھٹ گیا تھا۔۔دوپٹہ کہیں پیچھے ہی فرش پر گر چکا تھا۔۔ ’’آنٹی پلیز۔۔ایسا نہ کریں۔۔‘‘وہ تیز قدموں سے اسے لیکر گھر سے باہر آئیں تھیں۔۔ ’’ تم یہاں نہیں رہوگی سنُا تم نے۔۔دفعہ ہوجاؤ یہاں سے۔۔‘‘وہ نفرت سے غراتی اسے دھکا دے چکی تھی۔۔وہ کار پورچ میں منہ کے بل گر پڑی تھی۔۔ کہنیاں چھل سی گئیں تھیں۔۔دروازے پر کھڑے گارڈز نگاہیں جھکا چکے تھے۔۔ ’’آنٹی پلیز۔۔۔میں کہاں جاؤنگی۔۔‘‘ثمرہ نے روتے ہوئے التجا کی۔۔جبکہ وہ انتہائی سفاکیت سے اسے گھور رہی تھیں۔۔یہ وہی لڑکی تھی جس کی وجہ سے انکا بیٹا بدل گیا تھا۔۔ اتنے میں صدر دروازہ کھلا تھا۔۔اور مصطفیٰ کی گاڑی گھر میں داخل ہوئی تھی۔۔ مصطفیٰ جو پہلے ہی غصے سے بھپرا ہوا تھا۔۔ثمرہ کو یوں دہلیز پر گرا پڑا دیکھ،اسکی آنکھیں حیرت کی زیادتی سے کھلی کی کھلی رہ گئیں تھیں۔۔اسکی ماں کسی فرعون کی مانند کھڑی اسے ہی گھور رہی تھیں۔۔ ثمرہ۔۔‘‘وہ تیزی میں ڈرائیونگ سیٹ چھوڑ کر باہر نکلا تھا۔۔۔اور آگے بڑھ کر روتی سسکتی ثمرہ کو اٹھا کر سینے سے لگایا۔۔جو شدتوں سے رو پڑی تھی۔۔ ’’کیا ہوا؟‘‘اس نے ماں کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا۔۔ثمرہ کی حالت دیکھ وہ ایک لمحے میں سمجھ گیا تھا یہاں کیا ہوا تھا۔۔۔اسکا بکھرا حلیہ دیکھ اسکی دماغ کی نسیں تک پھول گئی تھیں۔۔جلدی سے اپنا کوٹ اتار کرا سکے سراپے پر ڈالا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ۔۔آنٹی بول رہی ہیں۔۔میں یہاں سے چلی جاؤں۔۔میں کہاں جاؤں گی۔۔‘‘اسکی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑکر اسنے سسکتے لہجے میں کہا تھا۔۔مصطفیٰ کو اسکی حالت دیکھ دیکھ کر طیش آرہا تھا۔۔سرخ چہرہ،بکھرے بال،بے ترتیب لباس، ہونٹ سے بہتا خون، سوجھی ہوئی آنکھیں۔۔۔۔اس پر گزری ازیت کو چیخ چیخ کر بیان کر رہی تھیں۔۔۔۔ ’’یہ آپ کا گھر ہے۔۔۔آپ کیوں یہاں سے جائیں گی۔۔‘‘اس بار وہ اپنی ماں کی طرف رُخ پھیرتااپنے لہجے پر ضبط کئے غصے سے بولا تھا۔۔ ’’یہ لڑکی یہاں نہیں رہ سکتی مصطفیٰ۔۔۔اس لڑکی کو میری نظر کے سامنے سے دور کردو۔۔۔آج اسکا بھائی بھی جیل سے رہا ہوگیا۔۔تمہیں اپنی ماں کی تکلیف نظر نہیں آرہی۔۔‘‘وہ مصطفیٰ کا اس لڑکی کو سینے سے لگانا دیکھ برداشت نہیں کر پائی تھیں۔۔۔ ’’الماس خالہ!‘‘احد مصطفیٰ کی چنگھاڑتی ہوئی آواز پر وہ تیز قدموں سے بھاگتی ہوئی باہر آئی تھیں۔۔ ’’ جی جی بابا۔۔۔‘‘انہوں نے سہم کر دیکھا۔۔ ’’ثمرہ کو اندر لے کر جائیں۔۔۔‘‘انہوں نے روتی ہوئی ثمرہ کو انکے حوالے کیا۔۔ ’’مگر بابا بیگم صاحبہ!‘‘انہوں نے ذرا ڈرتے ڈرتے اپنی مالکن کی جانب دیکھا۔۔ ’’آپ سے میں کہہ رہا ہوں نا ثمرہ کو اندر لے کر جائیں آپ رُوم میں۔۔‘‘ اِس بار اسکا لہجہ سخت تھا۔۔۔ ’’مصطفیٰ!میں نہیں۔۔۔‘‘ اس نے نرم لہجے میں انکار کرنا چاہا۔۔ ’’ثمرہ میں نے آپ سے کہا۔۔اپنے روم میں جائیں۔۔‘‘اس نے زبردستی اسکا ہاتھ الماس بیگم کے ہاتھ میں تھمایا تھا جو اسے زبردستی روم میں گھسیٹتی ہوئی ساتھ لے گئیں تھیں۔۔ ’’یہ سب کیا تھا ماں۔۔‘‘اس بار وہ دو سیڑھیاں پھلانگ کر ماں کے نزدیک آیا۔۔جو بیٹے کے نرم لہجے پر بکھر گئیں تھیں۔۔ ’’مصطفیٰ!میرا بیٹا۔۔۔میرا بیٹا۔۔۔۔تم نے اسکے قاتل کو رہا کرا دیا۔۔صرف اس لڑکی کے کہنے پر۔۔‘‘اس بار وہ شکوہ کناں لہجے میں گویا ہوئیں تھیں۔۔جس نےانہیں سینے سے لگایا۔۔ ’’صرف ضمانت ہوئی ہے ماں۔اور آپ فکر نہ کریں وہ جلد اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔۔آپ پلیز اس سب کی سزا ثمرہ کو نہ دیں۔۔انکا کوئی قصور نہیں ہے۔۔‘‘و ہ اب ماں کو سمجھا رہا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ!مجھے یہ لڑکی اپنے گھر میں برداشت نہیں ہورہی۔۔تم سمجھو میری بات کو۔۔‘‘انہوں نے اس بار درشتگی سے کہا۔۔تو وہ فی الحال انہیں بڑی مشکل سے سمجھا بجھا کر گھر کے اندر لے گیا۔۔وہ کتنی ہی دیر انکے پاس کمرے میں بیٹھا انکی دلجوئی کرتا رہا تھا۔۔ ’’ماں پلیز تھوڑا سا برداشت کرلیں بس۔۔۔۔‘‘وہ کڑے دل سے بولا تھا۔۔۔ابھی اس نے ثمرہ کو بھی سمجھانا تھا پتہ نہیں وہ بیوقوف لڑکی اپنی کیا حالت بنا کر بیٹھی ہوگی۔۔۔۔ …………………….. مجتبیٰ ایک بار پھر انٹرویو دیتا اپنی سی وی تھامے منہ لٹکائے واپس لوٹ رہا تھا۔۔جبھی سامنے سے عریشہ نزاکت سے چلتی اپنی جانب آتی دکھائی دی۔۔وہ ذرا حیران ہوا۔۔حیران تو عریشہ بھی ہوئی تھی۔۔وہ غریب آدمی یہاں کر کیا رہا تھا ۔۔۔ ’’ہیلو غریب آدمی۔۔کیا میرے آفس میں جاب انٹرویو دینے آئے تھے۔۔‘‘عریشہ کے لہجے کی شوخی پر کچھ آس پاس کے اسٹاف نے ٹھہر کر دیکھا مگر اِس کے بلیک سَن گلاسز سر پر لگاتے آئی برو اُچکا کر دیکھنے پر گڑبڑا کر سیدھے ہوئے تھے۔۔ ’’نہیں۔۔‘‘مجتبیٰ اسکی ڈریسنگ اور پھر یہان موجودگی محسوس کر سمجھ گیا تھا کہ وہ یقیناً یہاں پر کسی اچھی پوسٹ پر تھی پھر اسکا یوں استحقاق سے بولنا بہت کچھ جتا گیا تھا۔۔ ’’لاؤ سی وی دیکھاؤ اپنی۔۔اور میرے آفس میں آؤ۔۔۔‘‘عریشہ اسے کافی دن سے جاب کے لئے مارا مارا گھومتا دیکھ رہی تھی۔۔۔ ’’اس کی ضرورت نہیں ہے میڈم۔۔‘‘اس نے انکار کرنا چاہا۔۔ ’’کیوں ؟‘‘اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔۔ ’’ نہیں تو مطلب نہیں۔۔‘‘ مجتبیٰ کو اپنی انا بہت پیاری تھی۔۔ ’’بہت مسئلے ہیں تمہارے ساتھ غریب آدمی۔۔۔‘‘اس نے تاسف بھرا سانس کھینچا،اور تیزی سے اسکے ہاتھ سے سی وی کھینچ کر اپنے سامنے کی۔۔مجتبیٰ لب بھینچ گیا۔۔مگر چاہ کر بھی کچھ نہیں بولا۔۔ ’’آفس میں آؤ میرے۔۔‘‘اس بار سنجیدگی سے اسکی سی وی پر ایک طائرانہ نگاہ گھماتی حکم سناتی ہیل کی ٹک ٹک کرتی
