Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 18
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 28/05/2026
1 Views
Episode no 18
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_18 آئزل اور اہان کی شادی کی تیاریاں زورو شوروں سے جاری تھیں۔۔دو دن بعد بارات تھی اور پھر ولیمہ اہان اپنی شادی کو لے کر اچھا خاصہ پرجوش تھا۔۔مگر اتنی تیاریوں کے باوجود یہ شادی سادہ سی ہی تھی۔۔ ’’مجتبیٰ بس کردو اب میری شادی کے بعد جاب ڈھونڈ لینا۔۔‘‘اس نے گھر گروی رکھ کر آئزل کو شاندار سا جہیز اور ہر قسم کی خوشی دینے کی مکمل کوشش کی تھی۔۔ ’’یار جاب تو ضروری ہے نا۔۔ ویسے بھی ابھی صرف انٹرویو دینے جارہا ہوں۔۔‘‘اس نے نرمی سے کہا۔۔ ’’اور اگر کل سے جوائننگ دینی پڑی تو؟‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔ ’’تمہارے بھائی کی اتنی اچھی قسمت کہاں؟‘‘وہ ہولے سے مسکرایا۔۔ ’’کیوں بھئی۔۔کیا ہوگیا تمہاری قسمت کو۔۔‘‘اس نے بھائی کو مشکوک نظروں سے گھورا۔۔ ’’جو بھی کہو مگر اتنی جلدی کچھ نہیں ہونے والا۔۔ابھی صرف انٹرویو دینے جارہا ہوں۔۔‘‘ آئزل نے ذرا ناراضگی سے دیکھا۔۔ ’’تم مجال ہے جو کبھی اچھا گماں رکھو۔۔کہتے ہیں کہ اچھا گماں رکھنے سے سب اچھا ہوتا ہے۔۔اور اگر گماں ہی برا رکھو گے تو پھر قسمت سے کیسا شکوہ۔۔۔‘‘ اس نے بھائی کا ہاتھ تھام کر نرمی سے کہا۔۔ ’’ فلسفہ نہ جھاڑو۔۔‘‘اس نے ناک سے مکھی اڑائی۔۔ ’’اچھا میری خاطر صرف اتنا سوچ کر جاؤ کہ جہاں جا رہے ہو وہاں سے کچھ اچھا رسپانس ملے گا۔۔تم دیکھنا وہ تمہیں ضرور جاب دے دیں گے۔۔عمل کا دارومداد نیتوں پر منحصر ہوتا ہے مجتبیٰ۔۔‘‘وہ ہولے سے مسکراتا اسکا سر تھپتھپا کر گھر سے نکل آیا تھا۔۔کہنے کو شادی کا گھر تھا مگر آئزل اکیلی ہی تھی۔۔جتنے بھی رشتہ دار تھے وہ سیدھا فنکشنز پر تشریف لانے والے تھے۔۔ویسے بھی اب ان دونوں بہن بھائیوں کو کسی کی ضرورت بھی نہیں رہی تھی۔۔۔ …………………. مجتبیٰ صبح صبح ہی جاب کی تلاش میں نکل گیا تھا۔۔اور اب اسکا رُخ دوسرے آفس کی جانب تھا۔۔وہ پہلے ہی دو انٹرویوز دے کر آرہا تھا۔۔مگر ہر جگہ کوالیفیکشن کی وجہ سے مار کھا جاتا۔۔ ’’اوہ ہیلو ہیرو کہاں؟‘‘عریشہ اتنے دونوں بعد اسے سگنل پر کھڑا دیکھ ذرا ایکسائیٹڈ سی گاڑی سے باہر آئی تھی۔۔ ’’افف! یہ چلتی پھرتی آفت لڑکی کہاں سے نازل ہوگئی۔۔‘‘اس نے نخوت بھرے لہجے میں سوچا۔۔ ’’خیر دفعہ کرو مجھے کیا۔۔‘‘وہ سوچ کر سر جھٹک گیا ساتھ ہی قدم ذرا پیچھے کو لئے تھے۔۔ ’’تم سے بات کر رہی ہوں۔کیا بیوقوفوں کی طرح خود سے بات کئے جا رہے ہو۔۔‘‘اس نے گھرکا۔۔ ’’اچھا مجھ سے مخا طب ہیں آپ؟‘‘وہ انجان بنا عریشہ نے طنزیہ آئی برو اٹھائے۔۔۔بس اسٹاپ پر کھڑے ایک بزرگ شخص نے سکین کرتی نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔ ’’ نہیں تو یہاں کوئی اور نظر آرہا ہے؟‘‘اس نے چڑ کر پوچھا۔۔ ’’مجھے لگا یہ انکل بھی آپ کے رشتہ داروں میں سے ایک ہیں۔۔جبھی آپ ان سے مخاطب ہیں۔۔‘‘وہ طنزیہ بولا،عریشہ نے ہلکا سا مسکرا کر سن شیڈز ماتھے پر چڑھائے۔۔نجانے اس لڑکے کو تپا کر اسے کونسی خوشی ملتی تھی۔۔ ’’میڈم آپ یہاں کیوں ٹھہر گئی ہیں؟‘‘اس بار مجتبیٰ کو اس بوڑھے شخص کی نگاہوں اور عریشہ کے اب تک یہاں پر جما رہنے پر طیش آیا تھا۔۔ ’’میری مرضی۔۔ویسا کہاں جارہے ہو ۔۔آؤ میں چھوڑ دوں۔۔‘‘وہ بے شرموں کی طرح بولی تھی۔اس بار مجتبیٰ نے ایک گہری نگاہ اسکے سراپے پر ڈالی تھی۔۔۔ جو لانگ کافتان زیبِ تن کئے سنہری بالوں کو پشت پر بکھرائے اپنے غیر معمولی حسن کے باعث کسی کی بھی توجہ اپنی جانب کھینچنے کے سارے ہتھیاروں سے لیس تھی۔۔ آپ جائیے۔۔‘‘مجتبیٰ نے نگاہیں پھیر کر کہا۔۔ ’’پہلے تم بتاؤ ۔۔جا کہاں رہے ہو؟‘‘وہ اس کے سر ہوئی۔ ’’آپ شوق سے یہاں کھڑی رہیں۔۔میں جارہا ہوں۔۔‘‘وہ غصےٰ سے بولتا آج بھی اپنے پیسوں کی قربانی دیتا رکشہ میں بیٹھ گیا تھا۔۔اتنا تو وہ سمجھ گیا تھا کہ ڈھیٹ لڑکی۔۔۔یہاں سے جب تک نہیں جائے گی جب تک وہ یہاں سے چلا نہیں جائے گا۔۔ ’’ارے ارے سنو تو کہا جا رہے ہو۔۔۔لیڈیز۔۔۔‘‘وہ کچھ بولنے ہی لگی تھی کہ اب بس کے انتظار میں کھڑے اس بوڑھے کو خود کو دیکھ کر مسکراتا دیکھ اس کی مسکراہٹ سمٹی ساتھ ہی زبان کو بریک لگا۔۔ ’’ ہونہہ اتنا گندا ٹیسٹ۔۔یخ۔۔۔‘‘وہ جھرجھری سی لیتی جلدی سے واپس گاڑی میں بیٹھی تھی۔۔دل کیا اس انکل کو اسکی عمر کا لحاظ ہی کرا دے پھر خیال آیا یہ پاکستان تھا کہیں فضول میں یہ پاگل شخص گلے ہی نہ پڑ جائے۔۔فی الحال اس نے وہاں سے بھاگنے میں ہی عافیت جانی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عریشہ لنچ ٹائم میں ہوٹل جارہی تھی کہ ایک بار پھر سے مجتبیٰ راستے میں ٹکرا گیا تھا۔۔جو معمول کے مطابق کسی رکشہ والے سے الجھا اپنی قسمت کو رُورہا تھا۔۔۔۔۔ "اوہ ہیلو دنیا کے سب سے غریب اور منحوس قسمت آدمی ۔۔کنگلے ہونے کے ساتھ ساتھ عقل سے بھی فارغ ہو کیا ؟؟"عریشہ ایک ہی دن میں اس دوسرے ٹکراؤ پر آنکھوں پر سے سن گلاسز اتارتی ذرا طنزیہ بولی۔۔وہ جو روڈ كراس کرنے ہی لگا تھا سامنے کھڑی جوالامكهی کو دیکھ ٹھرا۔۔۔۔۔ "اب بولو بھی یا صرف خود سے باتیں کرنے کی بیماری ہے ؟"اسے خاموش دیکھ وہ زچ ہوئی۔۔۔ "میڈم کار میں بیٹھ جائیں ورنہ کراچی کی دھوپ میں جل کر کالا کوئلہ بن جائیں گی۔۔۔"وہ نگاہ اس سفید چمڑی نازک سی نواب زادی پر ڈال ذرا استہزائیہ مسکرایا جبکہ اب نگاہیں بس کا نمبر دیکھ رہی تھیں ۔۔ابھی اسکی مطلوبہ بس نہیں آئی تھی۔۔ "ڈونٹ وری میں نے سن کريم لگا رکھی ہے۔۔تم اپنی فکر کرو لیڈیز طبیعت۔۔۔"مجتبیٰ یوں مجمعے میں ایک بار پھر اس کے طرز تخاطب پر پورے وجود سے اُچھلا تھا ۔آخر وہ کس اینگل سے زنانہ دکھتا تھا۔۔۔باڈی بلڈر جیسی بوڈی بنانے میں اسکی چولے ہل گئیں تھیں اور یہ بگڑی نواب زادی۔۔۔۔ "محترمہ میں اس وقت جاب انٹرویو کے لئے جارہا ہوں ۔۔اور فی الحال آپ کی کوئی بھی بکواس سُننے کے موڈ میں ہرگز نہیں ہوں۔"اس نے ذرا ناگواری سے دیکھتے رُخ پھیر لیا تھا۔۔ "اوہ مل ہی نہ جائے تمھیں جاب ۔۔ویسے کیا جاب ڈھونڈنے جارہے ہو چپڑاسی کی ؟؟"اس نے ایک نگاہ اس کے حلیے پر ڈالی تھی،وہ جینز کی پینٹ اور شرٹ میں انٹرویو دینے جارہا تھا۔۔ "نہیں کباڑیے کی ۔۔مگر آپ کو کیا تکلیف ہے ۔۔جا کیوں نہیں رہیں ۔۔کالی بلی کی طرح ہر اسٹاپ پر ٹکرائے جارہی ہیں ۔۔اللّه کرے بس سہی سلامت آفس پہنچا دے۔ کیا معلوم آپ کے سایہ پڑجانے کے باعث بس ہی آگے جاكر لڑکھ جائے۔۔۔"مجتبیٰ نے چلچلاتی گرمی سے تنگ آکر ذرا تپ کر جواب دیتے سر پر ہاتھ کا چھجا سا بناتے فٹ پاتھ سے اتر کر دو قدم آ گے بڑھائے تھے۔۔۔جبکہ وہ منہ کھولے ہونق بنی کھڑی رہی۔۔ "یوایڈیٹ ۔۔اللہ کرے تمہارا بوس کوئی کھڑوس بڈھا یا بڑھیا ہو ۔۔پاگل ،سنکی ،لیڈیز طبیعت۔۔۔"وہ مٹھیاں بھینچ کر بڑبڑاتی پاؤں پٹخ کر واپس کار میں جابیٹھی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج شارق کی عدالت میں پیشی تھی۔مصطفیٰ صبح سے ہی گیا ہوا تھا۔جبکہ ثمرہ روٹین کے مطابق گھر کے کاموں میں مصروف تھی۔۔انکا رشتہ یونہی بیچ منجھدار میں اٹکا ہوا تھا۔۔۔ جبکہ زنیرہ ناشتہ کے بعد ٹی لاؤنج میں بیٹھی اسکرین پر نیوز سُن رہی تھیں۔۔ جبھی اچانک سے اسکرین پر بریکنگ نیوز چل پڑی تھی۔۔ ’’مزمل قتل کیس میں بڑی پیش رَفت۔۔ عدالت کے مطابق ملزم شارق جبران علوی گزشتہ چار ماہ سے ڈپریشن کے مریض ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔۔ کیس کی کارروائی اور شارق علوی کی صحتیابی تک ملزم کی ضمانت۔۔۔‘‘نیوز کاسٹر اور بھی بہت کچھ چیخ چیخ کر بول رہی تھی۔۔مگر زنیرہ
